Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • ٹیکساس: یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    ٹیکساس: یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    لندن :ٹیکساس: یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا ،اطلاعات کے مطابق اس وقت امریکہ میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہا ہےکہ امریکی ریاست ٹیکساس میں مسلح شخص نے یہودیوں کی عبادت گا ہ میں داخل ہو کر وہاں موجود متعدد افراد کو یرغمال بنانے والوں میں ایک برطانوی شہری ملک فیصل اکرم بھی تھے جس نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا

    ادھر اس حوالے سے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ٹیکساس کی عبادت گاہ میں چار افراد کو یرغمال بنانے کے بعد گولی مار کر ہلاک کرنے والے برطانوی شخص کا نام ملک فیصل اکرم ہے

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ بلیک برن سے تعلق رکھنے والا برطانوی 44 سالہ شخص ملک فیصل اکرم جو کہ ریاستہائے متحدہ میں نہیں رہتا تھا لیکن اس نے حال ہی میں وہاں کا سفر کیا تھا۔

    دوسری طرف اس حوالے سے ملک فیصل اکرم کے گھروالوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کی موت سے سخت پریشانی میں مبتلا ہیں بتا نہیں سکتے کہ ملک فیصل نے اگرایسا کیا ہے تواس کے ہمارے اوپر کتنے منفی اثرات ہ ی ں ، انہوں نے مزید کہا کہ "وہ اس کے کسی بھی عمل سے اتفاق نہیں کرتے اور نہ اس کے ساتھ ہونے والے اس واقعہ پر وہ افسوس کرتے ہیں اگرواقعی ایسا ہے

    گھر والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس جرم کی معافی مانگتے ہیں اور ملک فیصل اکرم کے اس قبیح فعل سے برات کا اعلان کرتے ہیں‌

    اس حوالے سے فیصل اکرم کے بھائی کا کہنا ہے کہ انہیں بھی یہ احساس ہے کہ ہمارے بھائی نے اس دوران اپنے رویے سے غلط تاثر دیا لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس قدرآگے جاسکتا ہے

    گلبر نے کہا، "ایسا کچھ بھی نہیں تھا جو ہم اس سے کہہ سکتے تھے یا کیا کر سکتے تھے جو اسے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرتا۔”

    میٹروپولیٹن پولیس کا انسداد دہشت گردی یونٹ "امریکی حکام اور ایف بی آئی کے ساتھیوں سے رابطہ کر رہا ہے”، جس نے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ اس حملے میں کوئی اور شخص ملوث تھا۔

    ادھر اس حوالے سے مزید تفصیلات بھی موصول ہوئی ہیں کہ فیصل اکرم نے ہفتے کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے کے قریب کولی وِل میں کنگریگیشن بیت اسرائیل کی عبادت گاہ کے اندر ایک ربی سمیت چار افراد کو یرغمال بنا لیا۔

    ایک کو چھ گھنٹے کے بعد رہا کر دیا گیا اس سے پہلے کہ FBI SWAT کی ایک ٹیم رات 9 بجے کے قریب عمارت میں داخل ہوئی، حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور باقی تین کو بغیر کسی نقصان کے رہا کر دیا۔

    امریکہ سیکورٹی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس دوران انہوں نے یرغمال بنانے والے کو عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سنا گیا، ایک پاکستانی نیورو سائنس دان جس کا القاعدہ سے تعلق کا شبہ ہے، جسے افغانستان میں زیر حراست امریکی فوجی افسران کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ وہ صدیقی سے بات کرنا تھا ، جنہیں 2010 میں سزا سنائے جانے کے بعد فورٹ ورتھ، ٹیکساس میں ایف ایم سی کارسویل میں رکھا گیا ہے۔

    عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسے اپنی بہن کہا، لیکن کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے جان فلائیڈ نے کہا کہ صدیقی کا بھائی اس میں ملوث نہیں تھا۔اس نے ایک مذہبی تعلق کو بنیاد بنا کر بہن کہا ہوگا

    انہوں نے کہا، "اس حملہ آور کا ڈاکٹر عافیہ، ان کے خاندان، یا ڈاکٹر عافیہ کے لیے انصاف کے حصول کی عالمی مہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”

    "ہم چاہتے ہیں کہ حملہ آور جان لے کہ اس کی حرکتیں برے ہیں اور ہم میں سے جو ڈاکٹر عافیہ کے لیے انصاف کے خواہاں ہیں ان کو براہ راست نقصان پہنچاتے ہیں۔”

    نیو یارک شہر میں ایک ربی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکساس میں یرغمال بنائے گئے ربی نے صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے،

    امریکی ریاست ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ کولی ولی کی بیتِ اسرائیل نامی یہودی عبادت گاہ (سائناگوگ) میں یرغمال بنائے گئے تمام افراد کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

    یاد رہےکہ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک شخص نے یہودی معبد میں راہب سمیت 4 افراد کو یرغمال بنایا تھا۔ 4 افراد کو یرغمال بنائے جانے کے بعد ایک یرغمالی کو رہا کیا گیا تھا۔ یہودی عبادت گاہ کی جانب سے دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

    پولیس چیف کے مطابق یہودی عبادت گاہ میں 10 گھنٹوں تک یرغمال رہنے والے تمام 4 افراد کو رہا کرا لیا گیا ہے،جبکہ تمام یرغمالی خیریت سے ہیں۔ یرغمال کرنے والا مشتبہ شخص ہلاک ہو چکا ہے، یرغمال بنائے جانے والے شخص کی شناخت ہو گئی ہے تاہم حکام کی جانب سے یرغمال شخص کی شناخت ابھی نہیں بتائی گئی۔یرغمال بنانے والے شخص نے دیگر مطالبات کے ساتھ پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

    واضح رہے عافیہ صدیقی افغانستان میں امریکی فوج اور حکومتی اہلکاروں پر مبینہ قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے 7 الزامات میں ٹیکساس کی جیل میں 86 برس کی قید کاٹ رہی ہیں۔

  • جاپان کےسمندر میں آتش فشاں پھٹ گیا،امریکا میں سونامی کا خطرہ

    جاپان کےسمندر میں آتش فشاں پھٹ گیا،امریکا میں سونامی کا خطرہ

    واشنگٹن: جنوبی بحرالکاہل میں واقع ٹونگا جزائر کے قریب زیرِ سمندر آتش فشاں پھٹنے سے امریکا کے ویسٹ کوسٹ میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے اور کیلی فورنیا سمیت کئی ریاستوں میں ساحلی علاقوں کو بند کر دیا گیا ہے، سونامی کے باعث ٹونگا جزائر میں کئی عمارتیں ڈوب گئیں۔

    سونامی کی یہ لہریں بحر الکاہل میں زیرِ سمندر آتش فشاں پھٹنے سے پیدائی ہیں، جس سے آنے والے زلزلے کی شدت 7 اعشاریہ 4 نوٹ کی گئی۔

    آتش فشاں پھٹنے کا منظر خلاء سے بھی دیکھا جا سکتا تھا، سیٹیلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریباً 5 کلومیٹر چوڑے علاقے پر پھیلی راکھ کا غبار فضا میں 17 کلو میٹر تک بلند ہو رہا ہے جس کے بعد سونامی وارننگ جاری کر دی گئی۔

    آتش فشاں پھٹنے کے بعد 20 فٹ بلند لہریں ٹونگا جزائر کی جانب بڑھنا شروع ہوئیں، جنہوں نے کئی عمارتوں اور رہائشی مکانات کو ڈبو دیا، سڑکوں پر اب بھی کئی فٹ تک پانی جمع ہے۔

     

     

    کیلی فورنیا میں سب سے زیادہ بلند لہریں پورٹ سین لوئی سے ٹکرائیں جو 4 فٹ 3 انچ تک بلند تھیں۔ اس صورتِ حال کے بعد ریاست کیلی فورنیا میں اورنج کاؤنٹی کے تمام ساحلی مقامات بند کر دیے گئے

    جبکہ بے ایریا تک کئی دیگر مقامات پر بھی لوگوں کو ساحل پر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ 1 سے 4 فٹ تک بلند لہروں سے لوگوں کی جانوں کو خطرات کے سبب یہ اقدام احتیاطی طور پر اٹھایا گیا ہے، بعض مقامات سے لوگوں کو انخلاء کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

    ہوائی میں بھی ایسی ہی صورتِ حال پیش آئی ہے جہاں 3 فٹ تک کی لہریں ساحلی علاقوں سے ٹکرائی ہیں، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  • دنیا  تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر کئی عجیب و غریب خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہیں انسان کے اندر خنزیر کا دل لگا کر اس کو نئی زندگی دے دی گئی ہے۔ تو کہیں ایک ویڈیو میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ چین نے مصنوعی سورج کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے جو اصل سورج سے کئی گنا زیادہ بڑا ہے۔ کہیں خلا سے ہی سائنسدان سٹوڈنٹس کو Space science
    پر لیکچر دے رہے ہیں تو کئی ممالک ایسے بھی ہیں جو کہ خلا میں جنگی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی طاقتور ترین دوربین کو خلا میں بھیجا گیا ہے تاکہ اس کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکے تو دوسری طرف اڑنے والی کاروں کا بھی تجربہ کر لیا گیا ہے۔

    لیکن جو خبر اس وقت سب سے زیادہ ڈسکس ہو رہی ہے وہ انسان کے اندر خنزیر کا دل لگانے کے حوالے سے ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس ٹیم میں ایک پاکستانی ڈاکٹر بھی شامل ہے جس نے یہ تجربہ کیا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس تجربے کے لئے خنزیر کا دل ہی کیوں منتخب کیا گیا کسی حلال جانور کا دل کیوں نہیں استعمال کیا گیا۔اس سوال کا جواب تو بہرحال سائنس کی روشنی میں ہی مل سکتا ہے لیکن میں جس بات کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج کل اس طرح کی عجیب و غریب خبریں اتنی زیادہ کیوں آ رہی ہیں۔اس وقت یہ تمام کام اتنی آسانی سے کیسے ہو رہے ہیں جو اب سے پہلے تک نا ممکنات میں سے تھے۔ اس کا آسان جواب تو یہ ہے کہ یہ سب اس لئے ممکن ہو گیا ہے کیونکہ سائنس نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے۔لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ سائنس کی یہ بے پناہ ترقی دراصل ہم انسانوں کے لئے ایک اشارہ بھی ہے کہ یہ دنیا اب بہت تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہے۔ سائنس کے یہ کرشمات دراصل وہ واقعات ہیں جن کا حوالہ ہمیں دجال کی آمد اور قیامت کی نشانیوں میں ملتا ہے۔دجال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ظہور کے بعد ہر طرف فتنہ و فساد برپا کردے گا۔ دجال کی شعبدہ بازیاںmesmarismدھوکے وغیرہ کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کو اس کے جن ہونے کا گمان ہوگا لیکن دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے مسیح، پھرنبی کہے گا اور اسکے بعد خدائی کا دعوی کرے گا۔ اور لاعلم لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کرکے ان کو پھانستا چلا جائے گا۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا۔۔
    جو دجال کی خبر سن لے وہ اس سے دور رہے، اللہ کی قسم! آدمی اپنے آپ کو مومن سمجھ کر اس کے پاس آئے گا اور پھر اس کے پیدا کردہ شبہات میں اس کی پیروی کرے گا۔
    قابل غور بات یہ بھی ہے کہ دجال اکیلا نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ اس کے ساتھی بھی ہوں گے یعنی یہ ایک ایسا فتنہ ہوگا جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
    دجال کے پیروکاروں کی اکثریت یہودی اورعورتیں ہوں گی۔۔۔
    دراصل یہودی جس مسیح کا انتظار کر رہے ہیں وہ وہی دجال ہوگا جس کے پاس غیر معمولی طاقتیں ہوں گی جس سے وہ لوگوں میں شر پھیلائے گا۔
    دجال کی طاقتوں کے حوالے سے احادیث میں لکھا ہے کہ۔۔
    اس کے پاس آگ اور پانی ہوں گے۔ جو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور جو پانی نظر آئے گا وہ آگ ہوگی۔۔۔
    اس دجال کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا۔۔ مطلب یہ کہ اس کے پاس پانی اور غذا وافر مقدار میں ہوں گے۔۔۔
    رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ وہ اس زمین پر کتنی تیزی سے چلے گا؟
    آپؐ نے فرمایا: جس طرح ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہوگا۔ اس گدھے کے کانوں کے درمیان چالیس ہاتھوں کا فاصلہ ہوگا۔
    اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین کوبھیجے گاجو لوگوں کے ساتھ باتیں کریں گے۔
    وہ ایک بدو سے کہے گا اگر میں تمہارے باپ اور ماں کو تمہارے لیے دوبارہ زندہ کروں تو تم کیا کروگے؟
    کیا تم شہادت دو گے کہ میں تمہارا خدا ہوں؟
    بدو کہے گا۔۔ ہاں۔۔ چنانچہ دو شیاطین اس بدو کے ماں اور باپ کے روپ میں اس کے سامنے آجائیں گے اور کہیں گے ہمارے بیٹے اس کا حکم مانو یہ تمہارا خدا ہے۔

    دجال کسی دیہاتی سے کہے گا کہ میں اگر تمہارے اونٹ کو زندہ کردوں تو کیا تم میرے رب ہونے کی گواہی دو گے؟
    وہ کہے گا: ہاں تو دجال کے ساتھی شیاطین اس دیہاتی کے اونٹ کی شکل اختیار کر کے آ جائیں گے۔
    دجال کسی علاقے میں سے گزرے گا اور اس علاقے کے لوگ دجال کی تکذیب کردیں گے تو اس کے نتیجے میں ان کا کوئی جانور نہیں بچے گا سب ہلاک ہو جائیں گے۔ دوسرے علاقے سے گزرے گا جہاں کے لوگ اس کی تصدیق کریں گے تو اس کے نتیجے میں دجال آسمان کو حکم دے گا اور وہ بارش برسانے لگے گا زمین کو حکم دے گا تو زمین خوب غلہ اگانے لگے گی ان ماننے والوں کے مویشی شام کو اس حال میں آئیں گے کہ وہ پہلے سے زیادہ بڑے اور فربہ ہوں گے ان کی کوکھ بھری ہوئی ہوں گی اور ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔
    دجال اپنے نہ ماننے والوں سے اس کا مال و متاع چھین لے گا اور اپنے ماننے والوں کو دنیا کے ہرایک ظاہری مال و دولت سے خوب نواز دے گا۔ مرے ہوئے انسانوں کو زندہ کر دے گا۔ پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو تندرست کر دے گا۔
    اس کا قبضہ ان تمام وسائل پر ہوگا جو زندہ رہنے کے لئے ضروری ہیں مثلا پانی آگ اور غذا پر۔۔ اس کے پاس بے تحاشہ دولت اور زمین کے خزانے ہوں گے اس کی دسترس تمام قدرتی وسائل پر ہوگی مثلا بارش فصلیں قحط اور خشک سالی وغیرہ۔ وہ ایک نقلی جنت اور دوزخ بھی اپنے ساتھ لائے گا۔
    یعنی یہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا فتنے کا دور ہوگا جس میں داخل ہونے سے لے کر باہر نکلنے تک بے شمار ہلاکتیں ہوں گی بھوک و پیاس کی آزمائشیں ہوں گی۔ بے انتہا سختیاں مصیبتیں پریشانیاں بیماریاں اور طرح طرح کے دھوکے ہوں گے۔ دجال کے ظاہر ہونے سے تین سال پہلے بارشوں کا سلسلہ ایسا ہوگا کہ پہلے سال آسمان سے ایک تہائی بارش رک جائے گی پھر دوسرے سال دو تہائی بارش رک جائے گی پھر تیسرے سال مکمل بارش رک جائے گی۔ اسی لیئے یہ فتنے بہت سخت ہو جائیں گے اور یہ آزمائشیں بھی سخت ہوں گی۔

    اب آپ ان تمام نشانیوں پر غور کریں تو وہ کونسا ایسا کام ہے جو اس وقت نہیں ہو رہا۔ ایک طرف انسان میں خنزیر کا دل ڈال کر زندگی اور موت کو اپنے ہاتھ میں لینے کا تجربہ ہو چکا ہے۔دوسری طرف انسانی دماغ میں چپ ڈالنے کی بات ہو رہی ھے۔چینی ساختہ ایک نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر جسے مصنوعی سورج کا نام دیا گیا ہے اس نے 17 منٹ سے زیادہ دیر تک مسلسل سورج سے پانچ گنا زیادہ گرم چلنے کے بعد بلند درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔اور اب مصنوعی سورج کے بعد وہ مصنوعی چاند پر بھی کام کررہے ہیں۔لیکن انسانی ترقی نے جہاں تیزی سے Ecosystem کو تباہ کر دیا ھے وہیں دنیا تیزی سے گلوبل وارمنگ کی تباہ کاریوں کی طرف بھی بڑھ رہی ھے سال2021 پانچواں لگاتار سال تھا جو گرم ترین رہا اور دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔ آسمان سے بارشیں برسنا پہلے ہی بہت کم ہو چکی ہیں اور اس سے ماحول پر جو اثر پڑ رہا ہے اس کو دور کرنے کے لئے مصنوعی طریقوں سے اب بارشیں برسائی جاتیں ہیں۔چین سال2021
    میں 55 خلائی مشنز انجام دے کردنیا میں سب سے زیادہ خلائی مشن مکمل کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی چین کا ہی کارنامہ ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ اپنے خلائی اسٹیشن سے تدریسی سرگرمیوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔اور اس
    Space classکی سب سے خاص بات یہ ہے کہ تینوں ٹیچرز زمین سے تقریبا چار سو کلومیٹر کی بلندی سے بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے اور چین کے پانچ مختلف شہروں میں قائم کئے گئے پانچ کلاس رومز میں کل 1420 سٹوڈنٹس نے ایک ساتھ اس خلائی لیکچر میں شرکت کی۔امریکہ، جرمنی، فرانس اور چین خلاء میں فوجی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ اڑنے والی گاڑیاں جو آج تک ہم نے فلموں یا کارٹونز میں دیکھیں تھیں مگر اب دبئی میں اس اڑنے والی سوپرگاڑی کا کامیاب تجربہ کرلیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ قدرتی وسائل پر پہلے ہی چند کمپنیوں کا قبضہ ہو چکا ہے پانی جیسی نعمت بھی اب عام انسانوں کو بازار سے خرید کر پینا پڑتی ہے۔ زراعت میں بھی مختلف تجربات کرکے مصنوعی طریقوں سے اب پیداواروں کو کئی گنا زیادہ کر لیا جاتا ہے۔ جانوروں کے فارم بنا کر اور مختلف Steroidsکا استعمال کرکے ان کو وقت سے پہلے کھانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ گائے بھینسوں کو انجیکشنز لگا کر ڈبل مقدار میں دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔جانور تو جانور انسانوں پر بھی Genetic تبدیلیوں کی طرف تیزی سے ریسرچ کرکے انسان کی ساخت میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ In shortیہ کہ وہ تمام نشانیاں جو کہ ہم دجال کی آمد کے ساتھ منسوب کرتے ہیں وہ ایک طرح سے پوری ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ ہم ان تمام فتنوں کا سامنا کر رہے ہیں جو کہ احادیث میں دجال کی نشانیاں بتائے گئے ہیں۔

    لیکن جہاں ہمیں ہماری احادیث کی کتابوں میں دجال کے فتنوں کے بارے میں بتایا گیا ہے وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دجال آئے گا لیکن اس کے لیے مدینہ میں داخل ہونا ممنوع ہوگا وہ مدینہ کے مضافات میں کسی بنجرعلاقے میں خیمہ زن ہوگا۔ اس دن بہترین آدمی یا بہترین لوگوں میں سے ایک اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ میں تصدیق کرتا ہوں تم وہی دجال ہو جس کا حلیہ ہمیں اللہ کے نبیؐ نے بتایا تھا دجال لوگوں سے کہے گا کہ اگر میں اسے قتل کردوں اور پھر زندہ کردوں؟ تو کیا تمہیں میرے دعوی میں کوئی شبہ رہے گا؟ وہ کہیں گے نہیں۔۔ پھر دجال اسے قتل کر دے گا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کر دے گا تب وہ آدمی کہے گا کہ اب میں تمہاری حقیقت کو پہلے سے زیادہ بہتر جان گیا ہوں۔ دجال اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن ایسا نہیں کرسکے گا۔ وہ اس مومن کو دوبارہ نہیں مار سکے گا اور دوبارہ مارنے کی طاقت کھو بیٹھے گا۔
    ایمان والوں کا وہ کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ جو سب ترقیاں ہو رہی ہیں وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہی ہیں۔ اور یہ ہم سب کے لئے آزمائش ہیں کہ ہم اس ترقی کو ہی سب کچھ نہ مان لیں بلکہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں کہ جو ہو رہا ہے وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہا ہے۔

  • افغانستان میں سخت انسانی بحران ہے:امریکا افغان اثاثوں کی بحالی پرعمل کرے:افغان حکومت

    افغانستان میں سخت انسانی بحران ہے:امریکا افغان اثاثوں کی بحالی پرعمل کرے:افغان حکومت

    کابل: افغانستان میں سخت انسانی بحران ہے:امریکا افغان اثاثوں کی بحالی پرعمل کرے:اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت نے جوبائیڈن انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ کے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے امریکا میں منجمد افغان فنڈز کی فوری بحالی کے مطالبے پر توجہ دے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان طالبان اور نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے امریکا انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے منجمد افغان فنڈز کو فوری طور پر بحال کرے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ذبیح اللہ مجاہد نے مزید لکھا کہ امریکا کو عالمی آواز کا مثبت جواب دینا چاہیے اور افغانستان کے فنڈز جاری کردینے چاہیئے تاکہ انسانی بحران کے شکار ملک اپنے عوام کو سہولیات اور آسانی فراہم کرسکے۔

    ترجمان طالبان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں رونما ہونے والے ڈراؤنے خواب کو روکنے کے لیے منجمد فنڈز بحالی میں پہل کرے۔

    گزشتہ برس اگست میں طالبان نے افغانستان کا اقتدار سنبھالا تھا جس کے بعد امریکا نے افغان مرکزی بینک کے تقریباً 9 ارب 50 کروڑ ڈالر کے اثاثے منجمد کردیئے جب کہ کئی مغربی ممالک، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بھی فنڈز اور ترقیاتی سرگرمیاں معطل کر دیں۔

    عالمی فنڈز منجمد ہونے اور معاشی سرگرمیاں نہ ہونے کے باعث افغانستان میں بھوک و افلاس نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔ غربت، مہنگائی اور بیروزگاری جیسے عفریت پر قابو پانے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے جس کے لیے طالبان حکومت اور اقوام متحدہ کئی بار عالمی برادری کو خبردار کرچکے ہیں۔

  • امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ

    امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ

    ماسکو:امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ ،اطلاعات کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اتحادیوں نے روس کو سخت سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا ہے ، شاید یہی وجہ ہےکہ امریکہ نے روس کی دھمکی دی ہے روس یوکرین کی سرحد پر کسی بھی حرکت سے باز رہے یا پھر جنگ کےلیے تیار رہے ،

    ادھر روس نے امریکہ کی اس دھمکی جا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرامریکہ کو جنگ کرنے کا بہت ہی شوق ہے تو ہم تیار ہیں‌، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادی اس وقت روس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے میں مصروف ہیں

    دوسری طرف روس نے امریکہ کی طرف سے پابندیوں کی دھمکیوں‌ کو بھی مسترد کردیا ہے ،امریکہ میں تعینات روسی سفیر اناتولی انتونوف نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتیں،

    روس کے سفیر اناتولی انتونوف کا میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کی جانب سے روس کے خلاف نئی پابندیوں کا مطالبہ بشمول ملک کی قیادت پر پابندیاں ماسکو کو خوفزدہ نہیں کریں گی۔

    روسی سفارت خانے کے فیس بک پیج پر شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کیپیٹل ہل پر روس مخالف پابندیوں کے ساتھ ساتھ روسی فیڈریشن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف ذاتی پابندیاں متعارف کروانے کے مطالبات اشتعال انگیز اور ناامید ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت امریکہ کی اپاہج پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں یوکرائنی تنازعے پر جینوا میں ہونے والے روس امریکا کے اعلیٰ سطح مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے تھے۔

    مزید پڑھیں : روس امریکا مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم
    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سلامتی کی ضمانتوں پر روس امریکہ کی مشاورت کے بعد کہا کہ روس اور امریکہ نیٹو کی مشرق کی جانب مزید توسیع کو روکنے کے معاملات پر کسی پیش رفت تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    بیجنگ:ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ ایران پرامریکا کی یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب حسین عامر سے ملاقات میں کہا کہ ایران پریکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جاری مشکلات کی ذمہ داری امریکا پرعائدہوتی ہے جس نے یکطرفہ طورپر2015میں کئے گئے ایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیارکی۔ چین ایران سے جوہری مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا حامی ہے۔

    دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے چین کے ساتھ 25 سالہ معاہدے پر عمل شروع ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    حسین امیر عبداللھیان نے چین کے دورے کے اختتام پر کہا: فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ جمعہ سے جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عملدرآمد کا اعلان کریں۔

    انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ تفصیلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سفر میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ طرفین 25 سالہ جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کا اعلان کریں۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ صدر جمہوریہ ایران کا مکتوب پیغام انکے چینی ہم منصب کے لئے لے کر گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چین دورے پر پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ویانا مذاکرات کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حسین امیر عبداللھیان نے بتایا کہ ویانا میں چین اور روس کے نمائندے اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی حقوق کی حمایت اور پابندیوں کے خاتمے کے لئے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ مغربی فریق بھی حقیقت پسندانہ اور ایک اچھے معاہدے کے حصول کے نکتہ نگاہ کے ساتھ ، ویانا مذکرات میں مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے، ایسا معاہدہ جس میں ایرانی قوم کے حقوق و مفادات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہو۔

    حسین امیر عبداللھیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کمترین مدت میں اچھے معاہدے کے حصول کا استقبال کرے گا لیکن یہ بات مغربی فریقوں پر منحصر ہے۔

  • کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں کے رہنماوں کو سخت کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ

    کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں کے رہنماوں کو سخت کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ

    واشنگٹن : کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں نے کیا:سخت قید کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی صدارتی فتح کی تصدیق کو روکنے کی کوشش میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے امریکی کانگریس کی عمارت، کیپیٹل ہل، پر دھاوا بولنے کو آج ایک سال ہوگیا ہے۔ اب تک سات سو سے زیادہ افراد پر وفاقی جرائم کا الزام لگایا جا چکا ہے۔

    سازشی نظریے کیو اینوں کے نام نہاد شامن جیکب چانسلی، جنہوں نے سر پر سینگ سجائے اور سمور دار کھال پہنے ہجوم کی قیادت کی، کو41 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ جینا رائن نامی خاتون، جو کیپٹل ہل میں بلوائیوں کا حصہ بننے سے قبل نجی جہاز پر واشنگٹن ڈی سی پہنچی تھی اور بعد میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس لیے جیل نہیں جائیں گی کیونکہ ان کے ’بال سنہرے ہیں‘ اور ’رنگ سفید‘ ہے، ان کو 60 دن قید کی سزا دی گئی ہے۔

     

    ادھر اس حوالے سے انتہائی دائیں بازو کے مسلح گروہ جیسے ’پراؤڈ بوائز‘ اور ’اوتھ کیپرز‘ کے اراکین کے خلاف مزید پیچیدہ مقدمات کی سماعت جاری تھی جس کے بعد ان کے حوالے سے باقاعدہ آج اعلان کیا گیا کہ تمام سازشیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے

    ادھر حکام نے جمعرات کو بتایا کہ انتہائی دائیں بازو کے اوتھ کیپرز ملیشیا گروپ کے بانی اور رہنما سٹیورٹ رہوڈز کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر 6 جنوری کو امریکی کیپیٹل پر حملے میں بغاوت کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    روڈس کسی انتہا پسند گروپ کا وہ اعلیٰ ترین رکن ہے جسے مہلک محاصرے میں گرفتار کیا گیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے جب محکمہ انصاف نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں بغاوت کی سازش کا الزام لگایا ہے۔

    رہوڈز پر اوتھ کیپرز کے ایک درجن سے زائد دیگر اراکین اور ساتھیوں کے ساتھ فرد جرم عائد کی گئی ہے، جو حکام کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کو روکنے کے ارادے سے واشنگٹن آئے تھے۔

    رہوڈز 6 جنوری کو کیپیٹل کی عمارت میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن ان پر الزام ہے کہ انہوں نے تشدد کو بھڑکانے میں مدد کی جس نے ووٹ کی تصدیق میں خلل ڈالا۔ اوتھ کیپرز کیس وفاقی حکام کی جانب سے 6 جنوری کو اب تک کا سب سے بڑا سازشی کیس ہے، جب ہزاروں ٹرمپ حامی فسادیوں نے پولیس کی رکاوٹوں پر دھاوا بول دیا اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے، درجنوں افسران کو زخمی کر دیا اور قانون سازوں کو بھاگنے پر مجبور کیا۔

    لیکن اب ایسے لگ رہا ہےکہ جیسے اب امریکی عدالتیں اس کیس کوانجام تک پہنچانے کےلیے کوشاں ہیں

  • امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    ماسکو : امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر ملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کرے اور اپنی فوجی صلاحیت کو روسی سرحدوں سے ہٹائے۔

    انہوں نے واضح الفاظ میں امریکہ کو متنبہ کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ گئے تو بصورت دیگر نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پیچھے ہٹنے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے اور نیٹو کی افواج روس کی سرحدوں تک پہنچ چکی ہیں۔

    ایلچی نے مزید کہا کہ امریکا روس کے خلاف نہ صرف زمینی بلکہ سمندر اور فضا میں بھی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاہم روس اپنے دفاع سے بالکل بھی غافل نہیں ہے۔
    .
    انتونوف نے میڈیا کو بتایا کہ امریکہ روس کے ساتھ مل کر بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک خصوصی ذمہ داری رکھتا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کیا گیا ہے۔

    روسی سفارت کار نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ غیرملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کر دیا جائے اور اس بارے میں سوچیں کہ آنے والی نسلیں کیسے ایک ساتھ رہیں گی۔

    ادھرچین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ جوہری جنگ پر فتح حاصل نہیں کی جا سکتی اور ایسی ہلاکت خیز جنگ کبھی شروع بھی نہیں ہونی چاہیے۔

    دنیا کی پانچ جوہری طاقتوں نے تین دسمبر پیر کے روز جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا عہد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری جنگ ہرگز کوئی متبادل نہیں ہے۔

    چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے مشترکہ طور پر جاری کردہ اپنے ایک غیر معمولی بیان میں کہا، ”ہم اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ایسے ہتھیاروں کے مزید پھیلاؤ کو روکنا بہت ضروری ہے۔” بیان میں مزید کہا گیا، ”جوہری جنگ جیتی نہیں جا سکتی اور کبھی لڑی بھی نہیں جانی چاہیے۔” پانچوں عالمی طاقتوں نے بیان میں اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ جب تک، ”جوہری ہتھیار موجود رہیں گے اس وقت تک وہ بس، دفاعی مقاصد کو پورا کرنے، جارحیت اور جنگ کو روکنے کے لیے ہی ہوں گے۔”

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان (پی فائیو) نے، ”جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو جلد از جلد ختم کرنے اور جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق موثر اقدامات پر نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔” سبھی نے سخت اور موثر بین الاقوامی کنٹرول کے تحت عمومی اور مکمل تخفیف اسلحہ کے معاہدے پر بھی اتفاق کیا۔”

  • دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا

    دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا

    ماسکو :دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا ،اطلاعات ہیں‌ کہ یوکرائنی تنازعے پر جینوا میں ہونے والے روس امریکا کے اعلی سطح مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے،

    دوسری طرف معتبر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگریہ معاملات درست نہ ہوئے تو روس اورامریکہ ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں جس کا نتیجہ دنیا کی تباہی کے سوا کچھ نہیں ،امریکہ اور روس کو معاملات بہم رضامندی سے حل کرنے چاہیں

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سلامتی کی ضمانتوں پر روس امریکہ کی مشاورت کے بعد کہا کہ روس اور امریکہ نیٹو کی مشرق کی جانب مزید توسیع کو روکنے کے معاملات پر کسی پیش رفت تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف اپنے وفد کے ہمراہ جنیوا میں قائم امریکی سفارتی مشن کے دفتر پہنچے جہاں ان کے امریکی نائب وزیر خارجہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا۔

    نیٹو کے سربراہ نے اپنے حالیہ بیان میں روس کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اسے یوکرائن پر حملے کی صورت میں سنگین قیمت چکانی پڑے گی۔

    روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا نے یوکرین کو نیٹو کی ممبرشپ نہ دینے کی ضمانت نہیں دی، روس کو مضبوط ضمانت چاہیے کہ یوکرین کو کبھی نیٹو کا حصہ نہیں بنایا جائے گا جبکہ روس یوکرائن پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ روس12 اور13 جنوری کو نیٹو اور او ایس سی ای کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد سلامتی کی ضمانتوں پر مزید اقدامات پر غور کرے گا۔

  • لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    نیوجرسی:لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور اطلاعات کے مطابق امریکہ کی شمال مشرقی ریاست نیو جرسی کی سینیٹ نے متفقہ طور پر ایک مذمتی قرارداد میں بھارت کی طرف سے 1984میں سکھوں کے قتل عام کو نسل کشیُ قرار دیتے ہوئے امریکی صدر اور دیگر حکام سے اس سلسلے میں آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سینیٹر سٹیفن ایم سوینی کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ بھارتی پنجاب کی سکھ برادری نے جس کے ارکان سو برس قبل ہجرت کر کے امریکہ آگئے امریکہ اور نیو جرسی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سکھوں کی نسل کشی یکم نومبر 1984کو نئی دلی میں بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال، ہماچل پردیش، راجستھان، اڑیسہ، جموں و کشمیر، چھتیس گڑھ، تریپورہ، تامل ناڈو، گجرات، آندھرا پردیش، کیرالہ، اور مہاراشٹرریاستوں میں شروع ہو ئی۔

    قرارداد میں سکھ مذہب کو دنیا کا پانچواں بڑا مذہب قرار دیا گیا ہے جس کے دنیا بھر میں تقریبا تیس کروڑ نوے لاکھ ماننے والے ہیں جن میں سے دس لاکھ امریکہ میں مقیم ہیں۔قرارداد کے مطابق تین دن تک جاری رہنے والی سکھوں کی نسل کشی میں تیس ہزار سے زائد سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔قرارداد میں16اپریل 2015کو کیلیفورنیا کی ریاستی اسمبلی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کی گئی ایک قراردادکا حوالہ دیاگیا ہے جس میں بھارتی حکومت کی طرف سے سکھوں کے منظم قتل عام کا اعتراف کیا گیاہے۔

    قرارداد میں 1984کے سکھ نسل کشی کے دوران اپنی جانیں گنوائیں۔17اکتوبر 2018کو پنسلوانیا کی دولت مشترکہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد HR-1160منظور کی جس میں نومبر 1984میںسکھوںپر ظلم و تشدد کو نسل کشی ُ قرار دیا گیا۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ عینی شاہدین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے اکٹھے کئے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار براہ راست اور بالواسطہ طریقوں سے سکھوں کے قتل عام میں ملوث تھے اور وہ یہ سلسلہ بند کرانے میں ناکام رہے۔2011میں بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقوں ہوند چلر اور پٹودی کے دیہات میں اجتماعی قبریںدریافت ہوئی ہیں۔

    نئی دہلی کے تلک وہار محلے کی "بیوہ کالونی” میں آ بھی ہزاروں سکھ خواتین انصاف کی منتظر ہیںجن کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اور ان کے شوہر، والد اور بیٹوں کو قتل کردیا۔سکھوں کے قتل عام میں زندہ بچ جانیوالی آخر کار ہجرت کر کے امریکہ چلے گئے اور انہوں نے فریسنو، یوبا سٹی، سٹاکٹن، فریمونٹ، گلینروک، پائن ہل، کارٹریٹ، نیو یارک سٹی اور فلاڈیلفیا میں سکونت اختیار کی اور بڑی سکھ برادریاں قائم کیں۔

    1984میں پورے بھارت میں ریاستی سرپرستی میں سکھوں پر وحشیانہ ظلم و تشدد اور انکے قتل عام کا اعتراف ، انصاف اور احتساب کی جانب ایک اہم اور تاریخی قدم ہے، جودیگر ممالک کی حکومتوں کیلئے ایک مثال بھی ہے ۔ریاست نیو جرسی کی سینیٹ کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔