Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان

    کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان

    الماتے :کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق قزاقستان کی حالیہ بدامنی میں مرنے والوں کی یاد میں پیر کو عام سوگ منایا جائے گا۔ دوسری جانب صدر توکایف نے، حالیہ بدامنی میں تباہ ہونے والی سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں کی فوری تعمیر نو کا حکم صادر کر دیا ہے۔

    قزاقستان کے صدر کے ترجمان کے مطابق صدر قاسم جامرت تاکایف نے حالیہ بدامنی میں مرنے والوں کی یاد میں پیر کے روز عام سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر تاکایف نے حالیہ بدامنی مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی اور عوام کو اطمینان دلانے کی خاطر، ایک روزہ سوگ منانے کا فیصلہ، اعلی سطی اجلاس کے دوران کیا۔ اس اجلاس میں ملک کے اٹارنی جنرل، قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ اور وزارت دفاع کے اعلی عہدیداران شریک تھے۔

    صدر تاکایف نے اس موقع پر حالیہ بدامنی کے دوران الماتی اور دیگر شہروں میں تباہ ہونے والے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کا حکم بھی صادر کیا۔

    دوسری جانب قزاقستان کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ حالیہ بدامنی میں ملوث کم سے کم چار ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار شدگان کی بڑی تعداد کا تعلق الماتی سے بتایا جاتا ہے۔

    وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان میں پیشتر کو عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مائع گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران دیگر شہروں کے مقابلے میں الماتی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    مظاہروں کے پرتشدد شکل اختیار کرجانے کے بعد ، سی ایس ٹی او ممالک کی امن فوج قزاقستان پہنچی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امن فوج کے آنے کے بعد قزاقستان کی کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    قزاقستان میں ایل پی جی قیمتوں میں دوگنا اضافے کے بعد دو جنوری کو بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ اگرچہ صدر توکایف نے ایل پی جی کی پرانی قیمت بحال کرنے سمیت دوسرے اقدامات کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے تھے۔

    ایران اور چین نے قزاقستان کے حالیہ واقعات میں بیرونی مداخلت کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چین نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مغربی ممالک ایک بار پھر قزاقستان میں انیس سو نوے جیسے رنگین انقلابات کا ڈرامہ دوبارہ رچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

    روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

    روس نے امریکی سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن کے بیان پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ قازقستان کو شاید روسی فوجیوں سے چھٹکارا پانے میں مشکل کا سامنا ہو۔

    امریکی سیکریٹری خارجہ کے بیان پر شدید ردِ عمل دیتے ہوئے روس نے کہا کہ انہیں اس کے بجائے دنیا بھر میں امریکی فوج کی مداخلت پر سوچنا چاہیئے۔

    جمعے کے روز بلنکن نے روس کی جانب سے کئی دنوں سے متشدد افراتفری کا شکار قازقستان میں فوج بھیجنے کی توجیہ پر سوال اٹھایا تھا۔

    بلنکن کا کہنا تھا ’ماضی قریب کا ایک سبق یہ ہے کہ ایک بار روسی آپ کے گھر میں آ جائیں، ان کا نکلا جانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔‘

    روسی وزیر خارجہ نے بلنکن کے بیان کو ’ناگوار‘ قرار دیا اور ان پر قازقستان میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعات پر مذاق کرنے کا الزام عائد کیا۔

    وزارت نے اپنے ٹیلی گرام سوشل میڈیا چینل پرکہا کہ ’اگر انتھونی بلنکن کو تاریخ کے اسباق اتنے پسند ہیں، پر ان کو یہ معلوم ہونا چاہیئے: جب امریکی آپ کے گھر میں آ جائیں، تو زندہ رہنا، نہ لُٹنا یا ریپ نہ کیا جانا مشکل ہو سکتا ہے۔‘مزید یہ بھی کہا گیا ’ہمیں یہ صرف ماضی قریب سے نہیں بلکہ امریکی ریاست کے 300 سالوں سے پڑھایا گیا ہے۔‘

    وزارت کا کہنا تھا کہ قازقستان میں تعیناتی قازقستان کی درخواست کا قانونی جواب تھا تا کہ Collective Security Treaty Organisation(CSTO) کے تحت سپورٹ کیا جائے۔

    روس کی وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں مختلف ملکوں منجملہ کوریا، ویتنام، شام اور عراق کی طرف اشارہ بھی کیا۔

    روس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے قزاقستان کے افسوسناک حالات کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ہے البتہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ انھوں نے اس قسم کا مداخلت پسندانہ بیان دیا ہے ۔

    CSTO سابق سوویت ریاستوں کا ایک اتحاد ہے جس میں روس شامل ہے۔

    قازقستان میں فوج کی تعیناتی ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات شدید تناؤ میں ہیں۔

    دونوں ممالک پیر کو یوکرین بحران پر شروع ہونے والے مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔

    ماسکو نے یوکرین کے قریب اپنی سرحد پر بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی ہے لیکن روس کی جانب حملہ کرنے کے منصوبے کے مغربی الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

  • ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی

    ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی

    تہران :ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی ،اطلاعات کے مطابق ایران نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی سمیت 50 سے زائد امریکی افراد پر پابندیاں عائد کر ‏دیں۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پابندی کے فیصلے کے تحت ایران میں موجود جنرل مارک ملی سمیت 50 ‏سے زائد امریکیوں کے اثاثے ضبط کیے جائیں گے۔

    مذکورہ افراد پر پابندی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں ملوث اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر عائد کی گئی ‏ہے۔ اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پابندی والے افراد میں دہشتگردی کو بڑھاوا دینے والے بھی ‏شامل ہیں۔

    وزارت خارجہ نے بیان میں بتایا ہے جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں زیادہ تر کا تعلق امریکی فوج ‏سے ہے۔ پابندی کے تحت ایران میں موجود ان کے اثاثے اور املاک ضبط کی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ امریکی جانب سے ایران پر کئی بار معاشی، اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ‏ایرانی کمپنیوں، تجارتی و کاروباری افراد سمیت اعلیٰ حکومت ارکان بھی پابندی والے افراد میں شامل ہیں۔

    ایران نے بھی ردعمل میں امریکی اہلکاروں، تاجروں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کو پابندی والی فہرست میں شامل ‏کر رکھا ہے۔

    جنوری 2020 میں عراقی دارالحکومت بغداد کے ایئر پورٹ پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی ‏جنرل سمیت 9 افراد ‏ہلاک ہوئے تھے۔ فضائی حملے میں ہلاک جنرل قاسم سلیمانی القدس فورس کے ‏سربراہ تھے۔

    ادھرویانا میں ایران کے خلاف غیر قانونی و ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کے مقصد سے جاری مذاکرات میں اختلافی نکات میں کمی آ رہی ہے۔ ویانا مذاکرات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سینیئر مذاکرات کار علی باقری نے یہ بات کہی۔

    علی باقری نے گروہ 4+1 کے نمائندوں کے ساتھ متعدد اجلاس کے بعد سنیچر کی رات کو بتایا کہ اختلافی مسائل کم ہو رہے ہیں۔

    ان مذاکرات میں شامل قریب سبھی ممالک نے مذاکرات کے عمل کو مثبت اور رو بپیشرفت قرار دیا۔

    ویانا میں بین الاقوامی اداروں میں روس کے مستقل مندوب میخائیل اولیانوف نے حال ہی میں کہا کہ نہ صرف روس بلکہ باقی فریقوں کا یہ خیال ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہ

  • بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ جیتنے والے پہلے سیاہ فام اداکار سڈنی پوٹیئر 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

    بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ جیتنے والے پہلے سیاہ فام اداکار سڈنی پوٹیئر 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

    نیویارک :بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ جیتنے والے پہلے سیاہ فام اداکار سڈنی پوٹیئر 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئے،سڈنی پوئٹیئر، جنہوں نے فیلڈ للیز میں اپنے کردار کے لیے بہترین اداکار کے لیے بہترین اداکار کے طور پر پہلے سیاہ فام آسکر ایوارڈ یافتہ نسلی رکاوٹوں کو عبور کیا اور شہری حقوق کی تحریک میں پوری نسل کو متاثر کیا، 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

    پوئٹیئرز نے ایک سال میں 1967 کی تین فلموں کے ساتھ ایک قابل ذکر فلمی میراث بنائی جس وقت ریاستہائے متحدہ کے بیشتر حصوں میں علیحدگی کا راج تھا۔

    Guess Who’s Coming to Dinner میں، اس نے ایک سفید فام دلہن کے ساتھ ایک سیاہ فام آدمی کا کردار ادا کیا، اور آدھی رات میں اس نے ایک سیاہ فام پولیس اہلکار ورجل ٹِبس کا کردار ادا کیا جسے قتل کی تحقیقات کے دوران نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی سال انہوں نے فلم ’’ٹو سر، ود لو‘‘ میں لندن کے ایک مشکل اسکول میں استاد کا کردار بھی ادا کیا۔

    پوئٹیئرز نے 1963 کی فلم فیلڈ للیز میں بہترین اداکار کا آسکر جیتا، اس نے ایک ہینڈی مین کا کردار ادا کیا جو صحرا میں ایک چیپل بنانے میں جرمن راہباؤں کی مدد کرتا ہے۔ پانچ سال پہلے، Poitiers وہ پہلا سیاہ فام آدمی تھا جسے بولڈ میں اپنے مرکزی کردار کے لیے آسکر کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

    “ان دی ہیٹ آف دی نائٹ” کے ان کے کردار ٹِبز کو دو سیکوئلز میں امر کر دیا گیا تھا – “مجھے مسٹر ٹِبس کہا جاتا ہے!” 1970 میں اور “آرگنائزیشن” 1971 میں – اور ٹی وی سیریز “ان دی ہیٹ آف دی نائٹ” کی بنیاد بنی جس میں کیرول او کونر اور ہاورڈ رولنز مرکزی کرداروں میں تھے۔

    اس وقت کی ان کی دیگر کلاسک فلموں میں دی بلیو پیس آف 1965 شامل تھی، جس میں ان کے کردار نے ایک نابینا سفید فام لڑکی، جنگل بورڈز، اور ریزنز ان دی سن سے دوستی کی، جسے پوئٹیرز نے براڈوے پر بھی پرفارم کیا۔

    “اگر آپ آسمان چاہتے ہیں تو میں آسمان پر خطوط میں لکھوں گا جو ایک ہزار فٹ اونچی پرواز کریں گے … سر کو… محبت کے ساتھ سر سڈنی پوئٹیئر RIP اس نے ہمیں ستاروں تک پہنچنے کا طریقہ دکھایا،” – ہووپی گولڈ برگ، اداکارہ آسکر اور ٹی وی پریزینٹر نے ٹویٹر پر اس کے بارے میں لکھا۔

    “وقار، معمول، طاقت، کمال اور صاف بجلی جو آپ نے اپنے کرداروں میں لائی ہے اس نے ہمیں دکھایا ہے کہ ہم، سیاہ فام لوگوں کے طور پر، اہم ہیں!!!”، آسکر ایوارڈ یافتہ وائلا ڈیوس نے لکھا۔

    پوئٹیئر 20 فروری 1927 کو میامی میں پیدا ہوئے، بہاماس میں ٹماٹر کے ایک فارم میں پلے بڑھے اور صرف ایک سال کی سرکاری تربیت حاصل کی۔ اس نے غربت، ناخواندگی اور تعصب کا مقابلہ کیا تاکہ وہ پہلے سیاہ فام اداکاروں میں سے ایک بن سکے جنہیں مرکزی سامعین نے جانا اور سمجھا۔

    ایک ہدایت کار کے طور پر، پوٹئیر نے اپنے دوست ہیری بیلفونٹے اور بل کاسبی کے ساتھ 1974 میں اپٹاؤن سیٹرڈے نائٹ پر اور رچرڈ پرائر اور جین وائلڈر کے ساتھ 1980 کی دہائی میں اسٹر کریزی پر کام کیا۔

    پوئٹیرس کو 1974 میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم نے نائٹ کیا تھا اور وہ جاپان اور اقوام متحدہ کی ثقافتی ایجنسی یونیسکو میں بہاماس کی سفیر تھیں۔ وہ 1994 سے 2003 تک والٹ ڈزنی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن بھی رہے۔

    پوئٹیئرز کٹ آئی لینڈ کے چھوٹے سے بہاماس گاؤں میں پلے بڑھے اور ناساؤ میں، 16 سال کی عمر میں نیویارک جانے سے پہلے، انہوں نے اپنی عمر کے بارے میں جھوٹ بولا کہ وہ فوج میں بھرتی ہونے کے لیے تھوڑے وقت کے لیے اور پھر آرام دہ اور پرسکون ملازمتوں میں کام کیا، جس میں ڈش واشر بھی شامل ہے۔ اداکاری کی مہارت کا وقت۔ اسباق

    نوجوان اداکار کو پہلا وقفہ اس وقت ملا جب اس کی ملاقات امریکن نیگرو تھیٹر کے کاسٹنگ ڈائریکٹر سے ہوئی۔ وہ فلم “ڈیز آف آور یوتھ” میں بیک اپ تھا اور اس نے دفتر سنبھالا جب بیلفونٹے کا اسٹار، جو پہلے سیاہ فام اداکار بھی بن گیا، بیمار ہوگیا۔

    پوئٹئیر 1948 میں فلم “اینا لوکاسٹا” میں براڈوے پر کامیاب ہوئے اور دو سال بعد رچرڈ وڈ مارک کے ساتھ فلم “نو وے آؤٹ” میں پہلا کردار ملا۔

    مجموعی طور پر، وہ 50 سے زیادہ فلموں میں نظر آ چکے ہیں اور 1972 سے لے کر اب تک نو فلمیں بک اینڈ دی پریچر بنا چکے ہیں، جس میں انہوں نے بیلفونٹے کے ساتھ اداکاری کی۔

    1992 میں، پوٹیئرز کو امریکن فلم انسٹی ٹیوٹ سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملا، جو آسکر کے بعد سب سے باوقار ایوارڈ ہے، جس میں بیٹ ڈیوس، الفریڈ ہچکاک، فریڈ ایسٹر، جیمز کیگنی اور اورسن ویلز جیسے انعام یافتہ افراد میں شامل ہوئے۔

    پوئٹیر نے سامعین کو بتایا کہ “مجھے بزرگ یہودی ویٹر کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے جس نے نوجوان سیاہ فام کلینر کو پڑھنا سیکھنے میں مدد کرنے کے لیے وقت نکالا۔” “میں تمہیں اس کا نام نہیں بتا سکتا۔ میں اسے کبھی نہیں جانتا تھا۔ لیکن اب میں کافی اچھی طرح سے پڑھتا ہوں۔”

    2002 میں، اعزازی آسکر نے “بطور فنکار اور ایک شخص کے طور پر ان کی شاندار کامیابیوں کو” نشان زد کیا۔

    1970 کی دہائی کے وسط میں، پوئٹیرز نے اپنی دوسری بیوی اداکارہ جوانا شمکس سے شادی کی۔ اپنی دو بیویوں کے ساتھ، اس کی چھ بیٹیاں تھیں اور انہوں نے تین کتابیں لکھیں، یہ زندگی ہے (1980)، مینز میسر: ایک روحانی خود نوشت (2000)، اور لائف بیونڈ میجر: لیٹرز ٹو مائی گرانڈ ڈوٹر (2008)۔ )۔

    انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا، “اگر آپ عقل اور منطق کو میرے کیریئر پر لاگو کرتے ہیں، تو آپ زیادہ دور نہیں جائیں گے۔” “یہ سفر شروع سے ہی ناقابل یقین تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ زندگی میں بہت کچھ خالص اتفاق سے طے ہوتا ہے۔

    پوئٹیئر نے تین سوانحی کتابیں لکھی ہیں، اور 2013 میں اس نے مونٹارو کین شائع کیا، ایک ناول جسے ایک اسرار کے طور پر بیان کیا گیا تھا، جزوی طور پر سائنس فکشن کے طور پر۔

    2009 میں، صدر براک اوباما نے پوئٹیئرز کو ریاستہائے متحدہ کا سب سے بڑا شہری اعزاز صدارتی تمغہ آزادی سے نوازا۔

    2014 کے اکیڈمی ایوارڈز نے Poitier کے تاریخی آسکر کی 50 ویں سالگرہ کا نشان لگایا، اور وہ بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ پیش کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔

  • کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے

    کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے

    الماتے:کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے،اطلاعات کے مطابق قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں،

    قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں: فوٹو بشکریہ بی بی سی
    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے قازقستان میں روسی فوجیوں کی تعیناتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھادیا۔

     

     

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق قازقستان میں ایل پی جی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہونے والے احتجاج کے باعث صورتحال کشیدہ ہے اور اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ صدر نے کابینہ کو برطرف کردیا ہے۔قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے قازقستان میں روسی فوجیوں کی آمد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہےکہ یہ بھی پوری طرح واضح نہیں کہ فوجی دستے کیوں تعینات کیے جارہے ہیں جب کہ امریکا کے نزدیک قازقستان کی حکومت اس صورتحال سے خود ہی نمٹ سکتی ہے۔

     

    انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ حالیہ تاریخ سے ایک سبق ملتا ہے کہ ایک مرتبہ روسی آپ کے گھر آجائیں تو بعض اوقات انہیں باہر نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک قازقستان کی حکومت اس تمام معاملے سے مناسب طریقے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے لہٰذا یہ بات بھی واضح نہیں کہ باہر سے فوج کو بلاکر تعینات کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی۔

    امریکی وزیرخارجہ کہتے ہیں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں روسی فوجی گئے وہاں انہوں نے قبضہ جمانے کی کوشش کی اور اب ایسے لگ رہا ہے کہ روس الگ ہونے والے مسلم ملک قازقستان کو پھرسے اپنی کالونی بنانے کی کوشش کررہا ہے

     

     

    یاد رہے کہ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ الماتے شہر سمیت دیگر شہروں میں شدید احتجاج کے بعد قازقستان کے صدر نے احتجاج پر قابو پانے کے لیے مدد کی درخواست کی تھی۔اس سلسلے میں روسی حکام کا کہنا ہےکہ قازقستان میں فوجی دستوں کی تعیناتی باہمی سکیورٹی معاہدے کے تحت کی گئی ہے۔

  • امریکہ کو فائیو جی کی لانچنگ پرتحفظات:اعتراض کیوں؟اہم وجوہات سامنے آگئیں

    امریکہ کو فائیو جی کی لانچنگ پرتحفظات:اعتراض کیوں؟اہم وجوہات سامنے آگئیں

    واشنگٹن :امریکہ کو فائیو جی کی لانچنگ پراعتراض کیوں؟اہم وجوہات سامنے آگئیں،اطلاعات ہیں کہ امریکہ کو ہائی سپیڈ انٹرنیٹ فائیو جی کے لانچ کرنے پربہت سے تحفظات ہیں ، یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے فی الوقت فائیو جی کی لانچنگ کو روکنے کی استدعا کی ہے ، اس حوالے سے امریکی حکام نے ٹیلی کام آپریٹرز اے ٹی اینڈ ٹی اور ویریزون سے کہا ہے کہ وہ فائیو جی نیٹ ورکس کے پہلے سے ہی ملتوی ہونے والی باضابطہ لانچ کو دو ہفتوں تک مزید موخر کر دے کیونکہ فلائٹ سیفٹی کے اہم آلات میں مداخلت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ہے۔

    امریکی حکام کا کہناہے کہ اس سے پہلے ہائی سپیڈ موبائل براڈ بینڈ ٹیکنالوجی کا امریکہ میں افتتاح پانچ دسمبر کو ہونا تھا، لیکن ایرو سپیس کمپنیوں ایئربس اور بوئنگ کی جانب سے طیاروں کی اونچائی کی پیمائش کے لیے استعمال کیے جانے والے آلات میں ممکنہ مداخلت کے بارے میں خدشات کا اظہار کرنے کے بعد اسے پانچ جنوری تک موخر کر دیا گیا۔

     

    یو ایس ٹرانسپورٹیشن سیکریٹری پیٹ بٹگیگ اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے سربراہ سٹیو ڈکسن نے جمعے کو ملک کے دو بڑے ٹیلی کام آپریٹرز اے ٹی اینڈ ٹی اور ویریزون کو بھیجے گئے خط میں مزید تاخیر کا مطالبہ کیا۔خط میں کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ ’وہ پانچ جنوری کی طے شدہ تاریخ سے مزید دو ہفتوں کے لیے فائیو جی میں استعمال ہونے والی فریکوئنسی رینج کمرشل سی بینڈ سروس کے روکے جانے برقرار رکھے۔‘حکام کا کہنا ہے کہ ان کی ترجیح ’فلائٹ سیفٹی کی حفاظت کرنا ہے، جبکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ فائیو جی کی تعیناتی اور ہوا بازی کے آپریشنز ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ گذشتہ سال فروری میں فائیو جی نیٹ ورکس اور ہوائی جہاز کے آلات کے درمیان تنازع کی وجہ سے فرانسیسی حکام نے ہوائی جہازوں میں فائیو جی والے موبائل فونز کو بند کرنے کی سفارش کی تھی۔
    فرانس کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ریڈیو الٹی میٹر میں قریبی فریکوئنسی پر سگنل کی مداخلت لینڈنگ کے دوران ’سنگین‘ غلطیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

  • اغواء کے بعد قتل ہونے والی وجیہہ سواتی کی میت امریکہ نے منگوالی

    اغواء کے بعد قتل ہونے والی وجیہہ سواتی کی میت امریکہ نے منگوالی

    اسلام آباد:اغواء کے بعد قتل ہونے والی وجیہہ سواتی کی میت امریکہ نے منگوالی اطلاعات کے مطابق راولپنڈی میں اغوا کے بعد قتل ہونے والی پاکستانی نژاد امریکی خاتون وجیہہ سواتی کی میت اسلام آباد ائیرپورٹ سے امریکا روانہ کردی گئی۔

    ذرائع کے مطابق امریکی نژاد پاکستانی خاتون وجیہہ سواتی کی میت اسلام آباد ائیرپورٹ سے غیرملکی پرواز کے ذریعے امریکا روانہ کردی گئی۔ میت کو ہسپتال سےائیرپورٹ پہنچانے کے لئے بھی مریکی سفارت خانے کا عملہ ساتھ گیا۔وجیہہ سواتی کی لاش کی گزشتہ روزراولپنڈی میڈیکل کالج میں بامنگ کی گئی۔ بامنگ کے وقت بھی امریکی سفارتی عملہ ہسپتال میں موجود رہا۔

    وجیہہ سواتی کو اس کے سابق شوہررضوان نے 16 اکتوبرکوقتل کردیا تھا اورلاش لکی مروت کے پیضو میں اپنے ملازم کے گھرمیں دفن کردی تھی۔پولیس تفتیش کے دوران ملزم رضوان نے جائیداد کے معاملے پرمقتولہ سے تنازع کا اعتراف کیا تھا۔پولیس نے وجیہہ سواتی کے قتل کے الزام میں سابق شوہر رضوان سمیت 6 افراد کوگرفتارکیا ہے۔

    یاد رہےکہ پاکستانی نژاد امریکی خاتون وجیہہ سواتی قتل کیس میں گرفتار ملزم رضوان حبیب نے دوران تحقیقات مزید انکشافات کیے ہیں۔

    پاکستانی نژاد امریکی خاتون وجیہہ سواتی کے قتل کیس میں گرفتار ملزم رضوان حبیب نے دوران تفتیش مزید انکشافات کئے ہیں، ملزم نے بتایا کہ والد نے کہا تھا کہ وجیہہ کو قتل کرنے میں صرف 50 ہزار لگیں گے، سابقہ اہلیہ وجہیہ کو تیز دھار آلے سے قتل کیا اور لاش گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر منتقل کی۔

    ملزم نے پولیس کو دئیے گئے بیان میں بتایا کہ وجیہہ کی لاش کو گاڑی میں مہارت کے ساتھ چھپا کر خیبرپختونخوا میں ایک قریبی رشتہ دار کے گھر لےگیا اور ان کے کمرے میں تدفین کی۔ملزم نے پولیس کو بتایا کہ قتل کے بعد پولینڈ جاکر پناہ اور شہریت لینےکا منصوبہ بنایا تھا جس کے لیے پاسپورٹ بھی حاصل کرلیا تھا۔

  • مجھے کیوں نکالا:ٹرمپ:آپ جمہوریت کے لیے خطرہ تھے:جوبائیڈن کا جواب

    مجھے کیوں نکالا:ٹرمپ:آپ جمہوریت کے لیے خطرہ تھے:جوبائیڈن کا جواب

    واشنگٹن:مجھے کیوں نکالا:ٹرمپ:آپ جمہوریت کے لیے خطرہ تھے:جوبائیڈن کا جواب،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جھوٹ کا پلندہ ہیں اور امریکہ میں جمہوریت کیلئے شدید خطرہ ہیں۔

    امریکی میڈیا میٹرو یو ایس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جوبائیڈن نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 6 جنوری 2021 کو جو واشنگٹن میں سرکاری عمارت کیپیٹل ہِل پر حملہ ہوا اس کی پوری ذمہ داری ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔

    صدر کا یہ بھی کہنا تھا ٹرمپ کا یہ بیان کہ 2020 کے الیکشن کے نتائج میں دھاندلی کی گئی، یہ بیان ملک میں قانون کی بالادستی کے نظریے اور مستقبل میں آنے والے انتخابات کی بنیادوں کیلئے خطرہ ہے۔

    جوبائیڈن نے کہا کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ؟ ہمیں اس میں باریک بینی سے تفریق کرنے کی ضرورت ہے۔ سچ یہ ہے کہ سابق صدر نے 2020 کے الیکشن سے متعلق فریب کا جال بُنا اور یہ انہوں نے اس لیے کیا کیونکہ وہ اصولوں سے زیادہ طاقت کو ترجیح دیتے ہیں۔

  • پاکستان نیوی کے پاس ایسے ہتھیار آچکے کہ اب بھارتی نیوی کی تباہی یقینی ہے:بھارتی دفاعی حکام سخت پریشان

    پاکستان نیوی کے پاس ایسے ہتھیار آچکے کہ اب بھارتی نیوی کی تباہی یقینی ہے:بھارتی دفاعی حکام سخت پریشان

    نئی دہلی :پاکستان نیوی کے پاس ایسے ہتھیار آچکے کہ اب بھارتی نیوی کی تباہی یقینی ہے:بھارتی دفاعی حکام سخت پریشان ،بھارتی وزارت دفاع اس وقت بہت پریشان ہے اور بھارتی فوجی حکام کے ذہنوں پر ایک چیز سوار ہوچکی ہے کہ پاکستان نیوی نے چین سے ایسے جنگی ہیلی کاپٹر اورمیزائل حاصل کرلیے ہیں کہ جن کے استعمال کی صورت میں بھارتی بحریہ کی تباہی کے واضح آثار ہیں‌

     

     

     

     

    امریکی اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاک بحریہ کے 054 A/P فریگیٹس چین تیار کر رہے ہیں۔بھارتی دفاع حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے ہی جیسے مثال کے طور پر پی این ایس طغرل گزشتہ سال فراہم کیا گیا تھا۔بھارتی فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے پتہ چلتا ہےکہ بھارت کو یہ اطلاعات مل چکی ہیں کہ پاکستان چین سے ایک نہیں بلکہ تین قسم کے جدید خطرناک ہتھیاراپنی نیوی میں‌ شامل کرنے کےلیے لے رہا ہے ،۔ اطلاعات کے مطابق ان میزائلوں کا ہدف بظاہر بھارتی جنگی جہاز جیسے کولکتہ اور ویزاگ کلاس ڈسٹرائرز اور اسٹیلتھ فریگیٹس ہیں۔

    بھارتی اورامریکی دفاعی حکام کا یہ بھی دعویٰ‌ ہے کہ پاکستان اپنے جنگی جہازوں کے لیے LY-70 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم خریدنے کے لیے بھی چین سے بات چیت کر رہا ہے۔ اس نے پہلے ہی مینوفیکچرر ALIT سے تکنیکی اور بجٹ تجویز کی درخواست کی ہے۔ پاکستان نیوی نے دو دہائیاں قبل اپنے طارق کلاس فریگیٹس کے لیے پچھلی قسم، LY-60N خریدی تھی۔

    اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکسان کےلیے چینی ہاربن ایئر کرافٹ انڈسٹری گروپ ہاربن Z-9 حملہ ہیلی کاپٹر تیار کرتا ہے۔ Z-9EC ایک اینٹی سب میرین وار فیئر ویرینٹ ہے جو پاکستان نیول ایئر آرم کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ دشمن کی آبدوزوں کی شناخت، ٹریک کرنے اور انہیں ختم کرنے کے لیے، ہیلی کاپٹر ASW ٹارپیڈو اور سینسر اور ریڈار کے ساتھ ایک ہی وقت میں کئی خوبیوں سے مزین ہے

    پاک بحریہ نے چین کی طرف سے چار قسم کے 054A/P فریگیٹس کی فراہمی کا آرڈر دیا ہے۔اس رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ‌ کیا گیا ہے کہ چینی اسلحہ سازکمپنیون نے نومبر 2021 میں چینی ساختہ پہلی قسم 054A/P گائیڈڈ میزائل فریگیٹ PNS Tughril کو شروع کیا۔

    بھارتی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا طغرل الیکٹرونک جنگی نظام، جدید ترین سطح، زیر زمین، اور اینٹی ایئر ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جنگی انتظامی نظام سے لیس ہے، اور اسے F-22P فریگیٹ کے لیے چینی فراہم کردہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جنگی جہاز بنیادی طور پر اینٹی ایئر وارفیئر کے لیے بنایا گیا ہے، حالانکہ یہ اینٹی سرفیس اور اینٹی سب میرین کاموں کو بھی انجام دے سکتا ہے۔

     

     

    انڈین اور امریکن ڈیفنس ماہرین کا کہنا ہے کہ CM-501GA زمین پر حملہ کرنے والے CM-501G میزائل کا ہلکا قسم ہے۔ چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ انڈسٹری کارپوریشن یہ میزائل تیار کرتی ہے، جن کی رینج تقریباً 40 کلومیٹر ہے۔ لائٹر ویریئنٹ کو چینی ساختہ ہاربن Z-9 ہیلی کاپٹر سے لانچ کیا جا سکتا ہے، جسے پاکستان کی بحریہ بھی استعمال کرتی ہے۔

    میزائل کا ڈیزائن CM-501G پر مبنی ہے، ایک زمینی حملہ کرنے والا میزائل جسے ابتدائی طور پر نومبر 2012 میں 9ویں Zhuhai Air شو میں دکھایا گیا تھا۔ سی ایم 501 جی میزائل کی رینج 70 کلومیٹر ہے۔ یہ میزائل امریکی NLOS-LS Netfires میزائل یا اسرائیلی JUMPER میزائل کے چینی مساوی سمجھا جاتا ہے۔

    اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ CM-501G سسٹم دو گاڑیوں پر مشتمل ہے، دونوں گاڑیاں شانکسی آٹوموبائل گروپ SX2190 6 x 6 کراس کنٹری ہیوی ڈیوٹی ٹرک پر مبنی ہیں۔ دو لانچرز/کنٹینرز، جن میں سے ہر ایک تین بائی تھری لے آؤٹ میں نو میزائلوں کے ساتھ، لانچنگ گاڑی کے پچھلے حصے میں نصب ہیں، جن کی کل تعداد 18 ہے۔ یہ Netfires کے 15 سے زیادہ ہے لیکن JUMPER کے 24 سے کم ہے۔

     

     

    ماہرین کے مطابق اوپن آرکیٹیکچر اور ماڈیولر ڈیزائن کے تصور نے CM-501G سسٹم کو اتنا ورسٹائل بنا دیا ہے کہ وہ مختلف گائیڈنس سسٹمز کا انتخاب کر کے صارفین کے مختلف مطالبات کو پورا کر سکے: جب فنڈنگ ​​محدود ہو تو دو طرفہ ڈیٹا لنک اور امیجنگ انفرا ریڈ۔ (IIR) کو سستے سیمی ایکٹیو لیزر (SAL) کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا ہے، اور سیٹلائٹ رہنمائی GPS، GLONASS، یا BeiDou میں سے کوئی بھی ہو سکتی ہے۔

    فائر کنٹرول ماڈیول، ایمونیشن اڈاپٹر، اور خود مختار پاور کیبلز فائر کنٹرول سسٹم کو تشکیل دیتے ہیں۔ نیٹ ورک کے جنگی نیٹ ورک میں ضم ہونے کے بعد آپریٹرز ریموٹ کنٹرول استعمال کر سکتے ہیں۔ چونکہ یہ بارود کے اڈاپٹر سے ڈیٹا پر کارروائی کر سکتا ہے اور ہدف کو پوزیشن میں رکھ سکتا ہے، اس لیے فائرنگ کا نظام خود مختار طور پر کام کر سکتا ہے۔

    ایک کمپیکٹ C41SR سسٹم جسے جنگی نیٹ ورک سے منسلک کیا جا سکتا ہے کمانڈ سسٹم کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ فائرنگ سسٹم کی رہنمائی کرنے، ڈیٹا کو پروسیسنگ اور اسٹور کرنے، ہدایات جاری کرنے، نقصان کا اندازہ لگانے اور سسٹم کی حالت کی نگرانی کرنے کے قابل ہے۔ پراجیکٹائل کی بہترین جنگی تاثیر ہوتی ہے کیونکہ جاسوسی اور فائر پاور یونٹ مؤثر طریقے سے کمانڈ سسٹم سے منسلک ہوتے ہیں۔

     

    اس کی لانچنگ اور آپریشنل کنٹرول گاڑیاں خود مختار طور پر نیویگیٹ کر سکتی ہیں اور نامعلوم ماحول میں تیز رفتار ہتھکنڈے اور جدید ترین فائرنگ کے مشن کو انجام دے سکتی ہیں۔ لانچ گاڑی کو فائر کرنے کے لیے تیار ہونے میں تقریباً پانچ منٹ لگتے ہیں۔ شوٹنگ کے بعد موبائل موڈ پر واپس آنے میں ایک منٹ لگتا ہے۔

    CM-501GA ٹی وی/انفراریڈ امیجری کے امتزاج کا استعمال کرتے ہوئے سیر کرتا ہے۔ CM-501GA میزائل 2 میٹر لمبا ہے جس کا قطر 180 ملی میٹر ہے۔

    اس کے پاس 20 کلو گرام ہائی ایکسپوزیو وار ہیڈ ہے جس کی رینج 5-40 کلومیٹر ہے اور اس کا وزن 100 کلو ہے۔ مینوفیکچرر کے مطابق، ہٹ کی درستگی کو 1 میٹر کے اندر ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے اور ہٹ کی شرح 90% ہے۔

  • روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب:امریکہ بھی غُصے میں‌

    روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب:امریکہ بھی غُصے میں‌

    نیویارک:روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب کرلیا گیا،اطلاعات کے مطابق نیٹو ممالک (مغربی عسکری اتحاد) نے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب کرلیا ہے۔

    نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یوکرائن کی سرحد پر روس کی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    نیٹو کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے مطابق وزرائے خارجہ وڈیو کانفرنس کے ذریعے ملاقات کریں گے۔

    وزرائے خارجہ یورپ کی سلامتی کے ساتھ ساتھ یوکرائن کی سرحد پر روس کی جانب سے فوجی اور ہتھیار جمع کرنے کے بعد پیدا ہونے والی بین الاقوامی کشیدگی پر بھی وسیع تناظر میں بات کریں گے۔

    اجلاس کے اختتام پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کی صحافیوں کو بریفنگ بھی متوقع ہے۔

    نیٹو وزرائے خارجہ کا اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ 10 جنوری کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکا اور روس کے درمیان ہونے والے اجلاس سے قبل منعقد ہوگا۔

    اس کے علاوہ نیٹو روس کونسل کا اجلاس 12 جنوری کو متوقع ہے جس سے نیٹو اور روس کے درمیان طویل عرصے کے بعد رابطہ قائم ہوگا۔

    ان دو اجلاسوں کے علاوہ آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (OSCE) کا اجلاس 13 جنوری کو ہوگا۔ اِس تنظیم میں روس، یوکرائن، امریکا اور یورپی ممالک شامل ہیں۔

     

    نیٹو کے وزرائے خارجہ کی آخری ملاقات 30 نومبر کو لٹویا کے دارالحکومت ریگا میں ہوئی تھی اور نومبر سے روس کو دی جانے والی وارننگ دہرائی گئی تھی۔

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے یوکرائن کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی، جارحیت کے نتائج سیاسی اور اقتصادی پابندیوں کی شکل میں سامنے آئیں گے۔