Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی

    کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی

    سرینگر:کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے مزیدآزادی پسند کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنے کی غرض سے بھارتی پولیس کو مہلک امریکی سگِ اسالٹ رائفلوں اور پستولوں سے لیس کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت نے پہلے ہی اپنی فوج کو مقبوضہ کشمیرمیں جدید ترین رائفلوں سے لیس کردیا ہے ۔ حکام کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس جدید ترین امریکی سگِ اسالٹ رائفل حاصل کرنے والی پہلی فورس ہو گی ۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی فورس 500 سگ سوئر 716 رائفلیں اور 100سگ سوئر ایم پی ایکس نائن ایم ایم پستول خریدے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے حال ہی میں ان مہلک ہتھیاروں کی خریداری کیلئے انٹرنیشنل ٹینڈر جاری کیا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ سگ سوئراسالٹ 716رائفلزکشمیرمیں پولیس کے زیر استعمال انساس رائفلوں کے مقابلے میں زیادہ مہلک اور جدید ہے ۔ حکام کے مطابق رائفل جس کا وزن میگزین کے بغیر 3.82کلو ہے، ساڑھے چھ سے ساڑھے آٹھ سو رائونڈ فی منٹ فائر کرتی ہے اور 500میٹر تک کے فاصلے تک نشانہ بنا سکتی ہے ۔ یہ جدید ترین رائفل اپنی ان خصوصیات کی وجہ سے کشمیری نوجوانوں کے خلاف ایک مہلک ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں اپنی فورسز کو کشمیریوں کے قتل عام ، گرفتاریوں اور انہیں عمر بھر کیلئے معذور کرنے کیلئے خصوصی اختیارات دے رکھے ہیں ۔ جنوری 1989سے اب تک بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیرمیں95ہزار950سے زائد کشمیریوں کو شہید اور 11ہزار246خواتین کی بے حرمتی کی ہے ۔

  • چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    لاہور(……9251 +)ہندوستان نے اپنی بحریہ کومزید 57 رافیل جنگی طیاروں سے لیس کرکےپاکستان اورچین کوپیغام بھیج دیا،اطلاعات ہیں‌ کہ ہندوستانی بحریہ کل اپنی بحریہ کو مزید مضبوط کرنے کے لیے بڑی تعداد میں جنگی طیاروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کچھ کرنے جارہا ہے ، اس حوالے سے ہندوستانی دفاعی حکام کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اپنی بحریہ کومزید مضبوط کرکے پاکستان اور چین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہندوستان سے کبھی بھی نہ ٹکرانا

    ادھرہندوستانی افواج کی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان اپنے نئے مقامی طور پر تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز کے لیے ملٹی رول کیریئر پر مبنی جنگی طیاروں کی تلاش میں ہے جو اس وقت بھارت کی سمندری حدود میں آزمائش کے مرحلے میں ہے اور کارکردگی چیک ہونے کے بعد اس کو شامل کیا جائے گا
    ادھر ہندوستانی بحریہ نے اشارہ کیا ہے کہ وہ MiG-29K کو تبدیل کرنے کے لیے جڑواں انجن والا طیارہ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے جو فی الحال INS وکرمادتیہ سے چل رہا ہے۔

     

     

    ہندوستانی بحریہ 6 جنوری سے گوا میں آئی این ایس ہنسا میں ساحل پر مبنی ٹیسٹ سہولت میں رافیل لڑاکا طیاروں کے بحری ورژن کی فلائٹ ٹیسٹنگ کرے گی تاکہ 40,000 ٹن وزنی کیریئر آئی این ایس وکرانت کے مطابق بہترین جنگی طیارے کا تعین کیا جا سکے۔

    شاید اسی طاقت کے بل بوتے پر ہندوستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرمبیر سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستانی بحریہ ہندوستانی فضائیہ کے ساتھ جنگجوؤں کے مشترکہ حصول کا پیچھا کر سکتی ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ روسی ساختہ جنگی طیاروں خاص کر میگ 29 کے متبادل کے طور پر ہندستانی بحریہ نے ڈائریکٹوریٹ آف نیول ایئر اسٹاف کی طرف سے جنوری 2017 میں ملٹی رول کیریئر برن فائٹر کے لیے معلومات کی درخواست (RFI) جاری کی گئی تھی کیونکہ فی الحال آپریشنل Mig-29K کو 2034 میں مرحلہ وار ختم کیا جانا ہے۔

    ہندوستانی بحریہ نے اپنے بحری بیڑوں کو مضبوط سے مضبوط تربنانے کےلیے مبنی جڑواں انجن لڑاکا طیاروں کے لیے عالمی ٹینڈر کا جائزہ لینے کا انتخاب کیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ مقامی طور پر تیار کردہ ٹوئن انجن ڈیک بیسڈ فائٹر (ٹی ای ڈی بی ایف) 2032 تک پہنچنا ہے۔

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کل ہونے والے جنگی مظاہروں کے بعد اگرکوئی صورت حال تسلیٰ‌ بخش ہوتی ہے تو پھر ہندوستانی بحریہ اسی مقام پر رافیل-ایم (میرین) طیارے کے متبادل کے طور پر امریکی F-18 سپر ہارنٹس کی جانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بوئنگ F-18 سپر ہارنیٹ امریکی بحریہ کے لیے ایک آزمائشی اور ہندوستانی بحریہ کی ڈیمانڈ پر مبنی ملٹی رول فائٹر ہے، جس میں 1991 کی خلیجی جنگ سے متعلق حیرت انگیز مشنز ہیں۔

     

    بھارتی دفاعی حکام کے درمیان چلنے والی گفتگو اور باہمی پیغام رسانی سے یہ بھی چیزیں‌ سامنے آئی ہیں‌کہ IAC-1 کو INS وکرانت کے طور پر 15 اگست 2022 کو ہندوستان کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پرہندوستانی بحری بیڑوں میں آپریشنل کرنے کا پروگرام ہے ۔ ہندوستانی بحریہ طیارہ بنانے والی فرانسیسی کمپنیوں سے 2022 میں چار سے پانچ Rafale-M طیارے لیز پرلینے کا پروگرام بنا چکی ہے تاکہ طیارہ بردار جہاز کو آپریشنل بنایا جا سکے۔

    ہندوستان میں امبالہ ایئربیس پر پہلے ہی رافیل کی دیکھ بھال اور پرواز کی تربیت کی سہولت موجود ہے۔ بحریہ کے ہوا بازوں کو آئی این ایس ہنسا میں تربیت دی جائے گی۔

    اس موقع پر یہ بھی بتا دوں کہ چند دن پہلے اپنے حالیہ دورہ ہندوستان میں، فرانسیسی وزیر دفاع نے بھی ہندوستان کو کیرئیر پر مبنی رافیل کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔فرانسیسی وزیردفاع کا کہا تھا – "ہمیں معلوم ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز جلد ہی پہنچ جائے گا…اور اس کے لیے مزید طیاروں کی ضرورت ہوگی۔ اگر ہندوستان دوسرا رافیل خریدنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم اسے دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس وقت، اس نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اگر ہندوستان کو ضرورت ہو تو فرانس ہندوستانی فضائیہ کے ذریعہ حاصل کیے جانے والے 36 سے زائد رافیل لڑاکا طیارے فراہم کرے گا۔

     

    2016 میں فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے بھی، Dassault Aviation بحریہ کے ساتھ Rafale کے بحری قسم کی فروخت کے بارے میں بات چیت کر رہی تھی۔

    ہندوستانی بحریہ کو بوئنگ کا جڑواں سیٹوں والا F/A-18 بلاک III سپر ہارنیٹ اس کے RFI کے جواب میں 57 ملٹی رول کیریئر پر مبنی فائٹرز کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ سپر ہارنیٹ بلاک III سپر ہارنیٹ کا سب سے نفیس قسم ہے اور چوتھی نسل کی لڑاکا صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑتا ہے۔

    ٹچ اینڈ گو لینڈنگ Rafale-M – امریکی بحریہ کے ذریعےیہ طیارہ "اسکی جمپ” ریمپ سے چل سکتا ہے اور اسے ہندوستانی تجزیہ کاروں کے ذریعہ "محفوظ ہند-بحرالکاہل کے لئے فعال کرنے والا” کا نام دیا گیا ہے، جنہوں نے سپر ہارنٹس کی صلاحیتوں اور ہندوستانی بحریہ کے لئے موزوں ہونے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا تھا۔ یورو ایشین ٹائمز

    "F/A-18 سپر ہارنیٹ بلاک III ہندوستانی بحریہ (IN) کو پیش کش پر ہے جو امریکی بحریہ (USN) کا سب سے جدید، کثیر کردار، فرنٹ لائن لڑاکا ہے اور یہ بیڑے کے لیے ورک ہارس ہے، اور ایسا ہی رہے گا۔ ،‘‘ انکور کناگلیکر، ہیڈ انڈیا فائٹرز سیلز، بوئنگ ڈیفنس، اسپیس اینڈ سیکیورٹی، نے پہلے فنانشل ایکسپریس کو بتایا۔

    فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ رافیل میرین فائٹرز کو سپر ہارنٹس پر برتری حاصل ہے کیونکہ فرانس اور ہندوستانی حکومت کے درمیان 36 رافیل ڈبلیو کے لیے 8.7 بلین ڈالر کی ایک میگا ڈیل طے پائی تھی۔

    ادھر بھارتی فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے جو نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی بحریہ ایک طرف پاکستان کوجواب دینے کے لیے تیار ہے تو دوسری طرف بھارت ، جاپان ،آسٹریلیا اور امریکہ کے ساتھ ملکر جنوبی چین اور کواڈ ممالک کے درمیان ہونے والے جنگی معاہدوں کے مطابق چین کے بحری راستوں کی ناکہ بندی کے لیے استعمال ہوں گے جس کا مقصد چین کی بحری ناکہ بندی کرکے چین کومعاشی طورپرکمزوراور تباہ حال کرنا ہے

  • اسرائیل کو مزید طاقتور کرنے کا امریکی منصوبہ :3ارب ڈالرسے زائد کے جنگی سامان کی خریداری کا معاہدہ

    اسرائیل کو مزید طاقتور کرنے کا امریکی منصوبہ :3ارب ڈالرسے زائد کے جنگی سامان کی خریداری کا معاہدہ

    واشنگٹن : اسرائیل کو مزید طاقتور کرنے کا امریکی منصوبہ : تین ارب ڈالر کے جنگی سامان کی خریداری کا معاہدہ ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت نے امریکا سے تین ارب ڈالر کے عوض 12 ہیلی کاپٹر اور فضا میں ری فیولنگ کرنے والے دو جہاز خریدنے کا معاہدہ طے کیا ہے۔

    اسرائیلی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ اس معاہدے کو اسرائیلی ائیر فورس کی استعداد کو بڑھانے کے لئے طے کیا گیا ہے اور اسرائیل کے پاس اختیار ہے کہ وہ چھ مزید ہیلی کاپٹر خرید سکے گا۔

    اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے مطابق دونوں ری فیولنگ جہاز 2025 کے بعد اسرائیل کے حوالے کئے جائیں گے جبکہ ہیلی کاپٹروں کا پہلا آرڈر 2026 میں اسرائیلی فوج میں شامل ہوگا۔

    اسرائیلی فوج کے بریگیڈئیر جنرل شمعون سینسپر کے مطابق اسرائیل نے چار ری فیولنگ جہاز خریدنے ہیں اور اس آرڈر کی جلد از جلد ڈیلیوری پر زور دیں گے۔

    دوسری طرف اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم جاری ہیں‌ فلسطین کی انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق غرب اردن کے متعدد علاقوں من جملہ نابلس، الخلیل اور قلقیلیه میں صیہونی فوجیوں کے حملے میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں ۔ صیہونی فوجیوں نے مظاہرین پر فائرنگ کی اور آنسو گیس کے شیل داغے۔

    چند روز قبل بھی غرب اردن کے صوبے نابلس کے برقہ علاقے پر بھی صیہونی فوجیوں کے حملے میں کم سےکم 127 فلسطینی زخمی ہوئے تھے ۔ زخمیوں میں سے 5 کو براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ زخمی ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق شمال مغربی شہر نابلس کے فلسطینی علاقے برقہ سے ہے۔

     

     

    فلسطینی عوام نئی صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں۔ صیہونی حکومت عالمی برادری کے مطالبات پر توجہ دیئے بغیر امریکہ کی حمایت سے صیہونی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تمام صیہونی کالونیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیرقانونی ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تیئس دسمبر دوہزار سولہ میں قرار داد تیئس چونتیس منظور کر کے صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ فلسطین میں تمام صیہونی کالونیوں کی تعمیر فورا روکی جائے۔ صیہونی حکومت صیہونی کالونیاں تعمیر کر کے فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی ڈھانچہ تبدیل اور صیہونیت کا رنگ دینا چاہتی ہے تاکہ فلسطینی علاقوں میں اپنا قبضہ مضبوط بنا سکے ۔

    صیہونی فوجیوں کے دشمنانہ اقدامات ایسے عالم میں جاری ہیں کہ اس سے قبل فلسطینی استقامتی گروہ، غرب اردن اور بیت المقدس میں صیہونیوں کے جارحانہ اقدامات کے بارے میں خبردار کر چکے تھے۔

  • روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

    روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

    واشنگٹن : روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے تنازعہ پر امریکہ اور روس ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں ۔تناو بڑھتا جارہا ہے۔ دنیا کو روس کے ارادے نیک نظر نہیں آرہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین پر کسی بھی حملے کی صورت میں سخت امریکی ردعمل سامنے آئے گا جب کہ روس نے جواباً کہا کہ ماسکو مخالف پابندیاں ایک ’سنگین غلطی‘ ہوگی۔دونوں صدور نے یہ باتیں تین ہفتوں میں ہونے والی دوسری براہ راست بات چیت کے دوران کیں۔

    دونوں سربراہوں کے درمیان جمعرات کو ہونے والی 50 منٹ کی فون کال سے روس اور مغربی حمایت یافتہ یوکرین کے درمیان کشیدہ صورتحال پر مزید سفارت کاری کی حمایت کا اشارہ ملا ہے۔

    کریملن میں خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر پوتن مجموعی طور پر اس بات چیت سے ’خوش‘ تھے جب کہ واشنگٹن میں ایک سینیئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گفتگو میں رہنماؤں کا لہجہ ’سنجیدہ اور ٹھوس‘ تھا۔

    لیکن گفتگو میں 10 جنوری کو اعلیٰ سطحی روسی اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت سے پہلے اختلاف کی گہرائی یا مشرقی یورپ میں کھیلے جانے والے اونچے داؤ کو چھپانے کی کوئی بات نہیں تھی۔

    امریکی پریس سیکریٹری جین ساکی نے ایک بیان میں کہا کہ صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ اور اس کے اتحادی اور شراکت دار ماسکو کو فیصلہ کن جواب دیں گے۔ادھر اوشاکوف نے یوکرین پر حملے کے ردعمل کے طور پر اقتصادی پابندیوں کی واشنگٹن کی بار بار دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک سنگین غلطی ہوگی۔ ہمیں امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

    اوشاکوف نے یہ بھی کہا کہ روس جنیوا میں جنوری میں ہونے والی بات چیت کے ٹھوس ’نتیجے‘ کے لیے پر امید ہے جب کہ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ وہ بھی چاہتا ہے کہ ماسکو یوکرین کی سرحد پر روس کی بڑی فوجی موجودگی سے پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی کے لیے کارروائی کرے۔

    ساکی نے کہاکہ’صدر بائیڈن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت صرف اس صورت میں ممکن ہے جب یہ بات چیت کشیدگی کی بجائے پرامن ماحول میں ہو۔

    ٹیلی فون کال کے بعد ایک ریڈ آؤٹ میں کریملن نے زور دیا کہ بائیڈن نے پوتن کو بتایا کہ یوکرین میں امریکی ہتھیاروں کو نصب نہیں کیا جائے گا۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا کہ بائیڈن نے محض موجودہ پالیسی کی توثیق کی ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایاکہ صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ امریکہ یوکرین کو دفاعی سکیورٹی کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے اور جارحانہ حملہ کرنے والے ہتھیار نہیں دے رہا۔ یہ کوئی نیا عہد نہیں تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے حکام نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کئی ایسے شعبے ہیں جہاں دونوں فریق بامعنی طور پر پیش رفت کر سکتے ہیں لیکن ایسے اختلافات بھی موجود ہیں جنہیں حل کرنا ممکن نہیں۔

    مثال کے طور پر روس نے واضح کیا کہ وہ ایک تحریری عہد چاہتا ہے کہ یوکرین کو کبھی بھی نیٹو میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی وہاں اتحادی ممالک اپنے ہتھیار نصب کریں گے، یہ مطالبہ بائیڈن انتظامیہ نے مسترد کر دیا۔

    جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے دوران روس کے مطالبات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں کہ بحران کو کم کرنے کے بدلے میں بائیڈن پوتن کو کیا پیشکش کرنے کو تیار ہوں گے۔

    دریں اثنا نیٹو کے اہم ارکان نے واضح کیا کہ مستقبل قریب میں اتحاد کو وسعت دینے کی کوئی خواہش نہیں لیکن مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں یہ روس کو سابق سویت ریاست پر حملہ کرنے کا بہانہ فراہم کرے گا۔

  • افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    سابق افغان صدر اشرف غنی نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویومیں کہا ہے کہ پندرہ اگست کی صبح تک گمان نہیں تھا یہ میرا افغانستان میں آخری دن ہو گا

    اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغانستان چھوڑنے سے پہلے نہیں جانتا تھا کہ کہاں جائیں گے،کابل چھوڑنے کا فیصلہ منٹو ں میں کیا گیا تھا،پندرہ اگست کو صدارتی محل پر تعینات سیکیورٹی ہار مان گئی تھی اگر میں اسٹینڈ لیتا تو یہ سب مارے جاتے،کابل کو بچانے کے لیے اپنے تئیں قربانی دینے کا سوچا صدارتی محل پر تعینات سیکیورٹی میں میرے دفاع کی صلاحیت نہیں تھی،بد قسمتی سےمجھے مکمل اندھیرے میں رکھا گیا ،یہ افغانستان کا نہیں امریکا کا مسئلہ تھا،مجھے قربانی کا بکرا بنایا گیا،میری ساری زندگی کی محنت برباد ہو گئی افغانستان چھوڑنے پر افغان عوام کے غصے کو سمجھتا ہوں،

    اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی امریکا سمیت کسی ملک کے لیے کام نہیں کیا۔دوسرے لیڈروں کے برعکس انہیں امریکہ، نیٹو یا کسی دوسرے ملک سے پیسے نہیں ملے ، طالبان پناہ کے بغیر، مدد کے بغیرکبھی کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔

    سابق صدر اشرف غنی نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے لویہ جرگہ بلائیں دنیا کی اقوام لویہ جرگہ کے بغیر طالبان کو تسلیم کرنے سے گریز کریں گی۔ انہوں نے لویہ جرگہ کو ایک جمہوری ادارہ قرار دیا۔ اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات قابل فہم ہے کہ افغانستان کے عوام افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے اور اس ملک کے حالات پر طالبان سے ناراض ہیں۔

    اشرف غنی 15 اگست کو کابل سے روانہ ہوئے تھے اور روسی سفارت خانے کے حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر میں لاکھوں ڈالر لے گئے تھے، لیکن اشرف غنی نے اب ایک بیان جاری کیا ہے جس میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے قریبی ساتھیوں کے اثاثوں کا احتساب کرنے کے لیے تیار ہیں اور اقوام متحدہ یا دیگر اداروں کی جانب سے آزاد انکوائری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

    مریم نواز کی خواہش؟ عید پر کتنی ہوں گی چھٹیاں؟ شیخ رشید کا بڑا اعلان

    وزیرداخلہ بننے کا مطلب یہ نہیں کہ اوقات بھول جاؤں،،بارڈرپرجاوَں گا، شیخ رشید

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    خیال رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے داخلے کے بعد سابق صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہوگئے تھے ان کے فرار کے بعد رپورٹس سامنے آئیں تھیں کہ وہ تاجکستان فرار ہوئے تاہم تاجک وزارت خارجہ نے تردید کی تھی۔

  • مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چین فوجیوں کو دماغی مفلوج کرنے کی ٹیکنا لوجی پر کام کر رہا ہے:امریکی میڈیا

    مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چین فوجیوں کو دماغی مفلوج کرنے کی ٹیکنا لوجی پر کام کر رہا ہے:امریکی میڈیا

    واشنگٹن: ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت نے جنگوں کے روایتی طریقہ کار کو کافی حد تک ختم کردیا ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی طاقت چین جنگوں میں دشمنوں کو ہلاک کرنے کے بجائے مفلوج کرنے کے تصور پر کام کر رہی ہے۔

    امریکی ذرایع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ چین کے ایک تحقیقی مرکز میں ایسے ہتھیار بنانے پر کام کیا جا رہا ہے جن کی مدد سے وہ دشمن ملک کے فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بجائے مفلوج کرسکیں گے۔

    امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز نے چین کے سرکاری فوجی اخبار پی ایل اے( پیپلز لبریشن آرمی ) ڈیلی میں 2019 میں ’ فوجی برتری کے بارے میں مستقبل کے تصورات‘ کے عنوان سے شایع ہونے والی رپورٹ کا تجزیہ پیش کیا ہے جس میں چین کی ’ برین وار فیئر‘ تحقیق کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس منصوبے پر کئی سالوں سے کام ہورہا ہے۔

    ایسی ہی ایک اور رپورٹ کہا گیا ہے کہ’ جنگ دشمنوں کی لاشوں کے حصول سے نکل کر انہیں مفلوج کرنے اور ان پر کنٹرول کرنے کی طرف منتقل ہوچکی ہے۔‘

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق چینی ریسرچرز ’ انسانوں کی سائیکولوجیکل اور ادارکی صلاحیتوں میں اضافے کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے انسانوں اور مشینوں کو مربوط کرنے پر‘ کا مطالعہ کر چکے ہیں۔‘ جس کی مدد سے وہ دماغ کے دفاع کرنے کی صلاحیت کو دماغ پر کنٹرول اور حملے کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

    رواں ماہ کی 16 تاریخ کو ہی امریکہ محکمئہ خزانہ نے چین کی اکیڈمی برائے ملٹری سائنسز( اے ایم ایم ایس) اور اس سے محلقہ 11 ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی برآمدات کو امریکا کی قومی سلامتی اور فارن پالیسی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    محکمئہ خزانہ کی سربراہ جینا ریمنڈو کا دعوی ہے کہ چین بایو ٹیکنالوجی اور طبی جدت کو اپنے لوگوں پر قابو پانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

    فنانشل ٹائمز نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں ایک سینئرامریکی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ چین انسانی کارکردگی میں اضافے اور دماغ کو مشین کے ساتھ جوڑنے کے لیے جینز میں ترمیم کررہا ہے۔تاہم چینی حکام نے امریکی اخبار کی رپورٹ اور حکام کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ْ

  • سعودی عرب پر ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملے، امریکہ کی  شدید مذمت

    سعودی عرب پر ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملے، امریکہ کی شدید مذمت

    واشنگٹن :سعودی عرب پر ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملے، امریکہ کی شدید مذمت ،اطلاعات کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف مسلسل جارحیت کی مذمت کی ہے۔ امریکی ذرائع حوثی حملوں کو واشنگٹن کے اتحادیوں اور امریکہ میں مقیم امریکی شہریوں کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

    ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں اختیار کردہ پالیسی کے تحت امریکہ نے حوثیوں کی قیادت کے خلاف پابندیاں عاید کر کے ان کی جارحیت کا احتساب کرنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ سعودی عرب اپنے علاقوں پر یمن سے حوثی باغیوں کے 90 فیصد حملے روکنے میں کامیاب رہا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے بیان یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانز گرونبرگ کی طرف سے حوثیوں مملکت کے خلاف فوجی جارحیت میں اضافے کی مذمت کے بعد سامنے آیا ہے۔ہانز گرونبرگ نے اپنے بیان میں یمن کے خلاف حوثی حملوں کے تسلسل پر پریشانی کا اظہار کیا تھا۔ ان حملوں میں بے گناہ شہری اور سویلین بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

    یو این ایلچی کے مطابق عام شہریوں اور سویلین تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے، جسے فوری طور پر بند ہونا چاہئے۔انھوں نے کہا کہ حوثی کی بڑھتی ہوئی جارحیت کی وجہ سے یمن کے تنازع کا پائیدار حل سیاسی حل تلاش کرنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یمن میں بین الاقوامی قانون جنگ اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کو بلا روک ٹوک جاری رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    یاد رہے گذشتہ ہفتہ سعودی عرب کے علاقے جازان کی صامطہ کمشنری پر یمن کے اندر سے حوثی ملیشیا کے جنگجوؤں نے ایک مارٹر گولا فائر کیا تھا جس کے ٹکڑے لگنے سے ایک سعودی شہری زخمی ہو گیا تھا۔ اس کارروائی میں کئی گھروں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    ادھر یو این میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے صامطہ [جازان] پر حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ حوثی جرائم پر باغی ملیشیا کو قرار واقعی سزا دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

  • دوران سفر گاڑی میں سو جانے والی خاتون کو ’اوبر‘ ڈرائیور نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    دوران سفر گاڑی میں سو جانے والی خاتون کو ’اوبر‘ ڈرائیور نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    امریکہ میں خاتون مسافر کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں ایک ’اوبر‘ ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے "میل آن لائن” کے مطابق یہ واقعہ لاس ویگس میں پیش آیا ہے جہاں خاتون 30سالہ ملزم داﺅد عمر میکونینی کی ٹیکسی میں سو گئی تھی خاتون کو سوتے دیکھ کر ملزم نے ٹیکسی ایک سنسان جگہ پر روکی اور اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد دھکا دے کر گاڑی سے باہر پھینک دیا اور چلا گیا۔

    شادی کا جھانسہ دے کر زیادتی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    متاثرہ خاتون کی طرف سے پولیس کو اس واردات کی رپورٹ کی گئی جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے جیل میں بند کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کو کار سے دھکا دینے پر اسے معمولی چوٹیں بھی آئیں۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کو 30دسمبر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا ’اوبر‘ کمپنی کی طرف سے اس واقعے پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ”متاثرہ خاتون کی طرف سے بتائی گئی تفصیل خوفناک ہے ملزم کو کمپنی کی طرف سے فوری طور پر ’ڈی ایکٹیویٹ‘ کر دیا گیا ہے۔

    ساڑھے تین سال میں خواتین سے 14ہزار 456 زیادتی کے کیسز رپورٹ

    واضح رہے کہ اس سے قبل شادی کا جھانسہ دے کر زیادتی کی کوشش کرنے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا اچھرہ پولیس نے ون فائیو کال پر بروقت ریسپانس دیا اور شادی کا جھانسہ دے کر زیادتی کی کوشش کرنے والا ملزم ثاقب گرفتار کر لیا-

    متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزم نے شادی کا جھانسہ دے کر نازیبا حرکات سمیت زیادتی کی کوشش کی،پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کے ملزم کو حوالات میں بند کر دیا، ملزم کو آج ریمانڈ کے لئے عدالت میں پیش کیا جائے گا-

    ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر عابد خان کا کہنا ہے کہ خواتین کے حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا، ملزم کو قرارواقعی سزا دلوانے کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کریں گے-

    چینی شہریوں کے ساتھ ڈکیتی، ڈاکو سیکورٹی گارڈ کا اسلحہ بھی لے گئے

  • بھارت میں مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: امریکی میڈیا بھی چیخ اُٹھا

    بھارت میں مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: امریکی میڈیا بھی چیخ اُٹھا

    نیو یارک:بھارت میں مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: امریکی میڈیا بھی چیخ اُٹھا ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں مسیحی برادری پر مظالم کے تہلکہ خیز انکشافات امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز سامنے لے آیا، ہندو انتہا پسند مسیحی کمیونٹی کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ، زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

     

    امریک یاخبار دی نیو یارک ٹائمز میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق ہندو انتہا پسند عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے اور ان کو عبادت سے روکتے ہیں، عیسائیوں پر بڑھتے ظلم کی وجہ ہندو انتہا پسندانہ سوچ ہے جس کی وجہ سے اقلیت خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں، ہندو انتہا پسند بھارت میں رہنے والے عیسائیوں کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

     

    نیو یارک ٹائمز کے مطابق موت کے خوف سے عیسائیوں خود کو ہندو ظاہر کرنا شروع کر دیا، عیسائیوں کے زیر تسلط چلنے والے خیراتی ادارے کو ہندو انتہا پسند وکلا نے بند کروانے کیلئے متعدد بار شکایت درج کروائیں، ہندو انتہا پسندبھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کی نسل کشی پر بھی خاموش۔

     

     

    امریکی اخبار کے مطابق اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بھارتی وزیر اعظم کی خاموشی پر عالمی برادری کو شدید تحفظات ہیں، ہندو انتہا پسند مودی ہندوستان کو قوم پرست ملک بنانے کے خواہ ہیں۔

  • امریکہ نے عارضی ورک ویزے کے لیے انٹرویو کی شرط ختم کر دی

    امریکہ نے عارضی ورک ویزے کے لیے انٹرویو کی شرط ختم کر دی

    امریکہ نے عارضی ورک ویزے کے لیے انٹرویو کی شرط ختم کر دی۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 31 دسمبر تک مخصوص کیٹیگریز میں ورک ویزے کیلئے انٹرویو کی ضرورت نہیں ہو گی ایتھلیٹس، آرٹسٹس، اساتذہ اورغیرمعمولی کامیابی کےحامل افراد کو انٹرویوسے استثنیٰ حاصل ہو گا-

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کلچرل پروگرام کے تحت ویزا حاصل کرنےوالوں کو بھی انٹرویو نہیں دینا پڑے گا طلبہ، کارکنوں اور کسانوں، کو بھی ویزے کیلئے انٹرویوسےاستثنیٰ حاصل ہو گا۔

    امریکا میں اومی کرون نے تباہی مچا دی،اسپتالوں میں جگہ ختم، درجنوں فلائٹس منسوخ

    واضح رہے کہ دوسری جانب عالمی وبا قرار دیئے جانے والے کورونا وائرس کے نئے ویرئنٹ اومی کرون نے امریکا میں تباہی مچا دی ہے اس صورتحال میں امریکی آٹوموبل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ غالب امکان اس بات کا ہے کہ 23 دسمبر سے 2 جنوری کے درمیانی عرصے میں تقریباً دس کروڑ 90 لاکھ افراد اپنا سفر طے کریں گے سفر کرنے والے عین ممکن ہے کہ سڑک کو سفر کا ذریعہ بنائیں اور یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں ہوائی جہاز سمیت سفر کے لیے دیگر ذرائع مل جائیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایئر لائنز کی جانب سے پروازوں کی منسوخی ایک وجہ خود عملے کا بھی اومی کرون سے متاثر ہونا ہے الاسکا ایئر لائنز کے مطابق اس کے کچھ عملے کے اراکین اومی کرون سے متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اس نے 17 پروازیں منسوخ کی ہیں جب کہ یونائیٹڈ ایئر لائنز نے 120 پروازوں کی منسوخی کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی سیاہ فام شہری کی ہلاکت، سابق خاتون پولیس افسر قتل کی مجرم قرار

    نیویارک ٹائمز کے مطابق اومی کرون کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث نہ صرف اسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ ختم ہو گئی ہے بلکہ ایئر لائنز نے بھی اپنی درجنوں فلائٹس منسوخ کردی ہیں رپورٹ کے مطابق ایئر لائنز کی جانب سے پروازیں اس وقت منسوخ کی گئی ہیں جب کرسمس منانے کے لیے لاکھوں افراد ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا چاہتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق امریکیوں کی بہت بڑی تعداد اس وقت مشکل ترین صورتحال سے دوچار ہے کیونکہ صرف ایک دن قبل معروف امریکی ایئر لائنز یونائیٹڈ، ڈیلٹا اور الاسکا کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ 24 دسمبر کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر رہی ہیں اومی کرون سے متاثرہ مریضوں کی تعداد امریکہ میں ڈیلٹا سے متاثرہ افراد سے بھی زیادہ ہو گئی ہے صرف نیویارک میں کورونا ٹیسٹ کرانے والوں کی لمبی قطاریں دکھائی دے رہی ہیں۔

    امریکا اور اسرائیلی وفود کے درمیان اہم مذاکرات:ایرانی جوہری پروگرام کوخطے لیے خطرہ…