Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا

    ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا

    واشنگٹن:ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا،اطلاعات کے مطابق امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں ناقص انٹیلی جنس معلومات پر فضائی کاروائیوں میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کے قتل کا انکشاف ہوا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی خفیہ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں امریکا کی فضائی کاروائیاں ناقص انٹیلی جنس معلومات سے بھرپوررہیں۔

    شام میں امریکی فورسز کی فضائی کارروائی، 18 اتحادی جنگجو ہلاک امریکی اخبارکی رپورٹ کے مطابق غلط اطلاعات کی بنیاد پرکاروائیوں میں بچوں سمیت ہزاروں عام شہری قتل کر دیےگئے لیکن کسی بھی مقام پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نظر نہیں آئی۔

    دوسری جانب رپورٹ منظرعام پر آنےکے بعد ترجمان امریکی سینٹرل کمانڈ کیپٹن بل اربن نے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بے قصور شہریوں کی ہلاکت پر شرمندہ ہیں اور غلطیوں سے سیکھنےکی کوشش کر رہےہیں۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف چند دن پہلے امریکہ نے تسلیم کیا تھا کہ فوجی انخلا سے چند دن قبل کابل میں کیے جانے والے ڈرون حملے میں دس معصوم شہری ہلاک ہوئے تھے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 29 اگست کو کابل میں ہونے والے ڈرون حملے میں ایک امدادی کارکن سمیت اس کے خاندان کے نو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سات بچے بھی شامل تھے۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والی سب سے کم سن بچی دو سال کی سمعیہ تھی۔

    پینٹاگان کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلیجنس نے اس شخص کی کار کی آٹھ گھنٹوں تک نگرانی کی تھی اور ان کا خیال تھا کہ اس کا تعلق افغانستان میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے تھا۔

    یہ جان لیوا حملے افغانستان میں امریکہ کی 20 سال تک جاری رہنے والی جنگ سے قبل آخری کارروائیوں میں سے ایک تھا۔

    جنرل کینتھ مکینزی نے اس حملے کو ایک افسوسناک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ یہ خاندان شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے منسلک ہو یا امریکی افواج کے لیے خطرہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک غلطی تھی اور میں اس پر تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔‘

  • 41 برس بعد پاکستان میں او آئی سی اجلاس، حکومت کا تعطیل کا اعلان

    41 برس بعد پاکستان میں او آئی سی اجلاس، حکومت کا تعطیل کا اعلان

    41 برس بعد پاکستان میں او آئی سی اجلاس، حکومت کا تعطیل کا اعلان
    اوآئی سی کا غیر معمولی اجلاس ،وفاقی حکومت نے 20 دسمبر کو مقامی تعطیل کا باضابطہ اعلان کردیا

    20 دسمبر بروز سوموار تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور تمام ماتحت ادروں میں چھٹی ہوگی ،کابینہ ڈویژن نے. 20 دسمبر بروز سوموار کی چھٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی اجلاس میں آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اجلاس کے حوالے سے تمام انتظامات مکمل ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان 19 دسمبر کو اوآئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 17ویں اجلاس کی میزبانی کر یگا وزرائے خارجہ کونسل اجلاس بلانے کی تجویز سعودی عرب نے دی، پاکستان نے کال کا خیر مقدم کیا تھا اور سیشن کی میزبانی کی پیشکش کی تھی، اجلاس میں او آئی سی رکن ممالک اور مبصرین کے وزرائے خارجہ شریک ہونگے ،شرکامیں اقوام متحدہ ، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے نمائندے بھی شرکت کرینگے امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس، جرمنی، اٹلی سمیت غیر رکن ممالک کو مدعو کیا گیا ، جاپان ، یورپی یونین اور افغان حکومت بھی اجلاس میں شریک ہوگی،

    قبل ازیں او آئی سی کے سیکرٹری جنرل، حسین ابراہیم طہٰ کی وزارت خارجہ آمد ہوئی ہے ،وزارت خارجہ آمد پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی سیکرٹری جنرل کا استقبال کیا، اس موقع پر دونوں رہنماؤں میں ملاقات کے دوران افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کی گئی

    قبل ازیں او آئی سی کے سیکرٹری جنرل، حسین ابراہیم طہٰ کی پاکستان آمد ہوئی ہے ،اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے معزز مہمان کا خیر مقدم کیا وفاقی دارلحکومت آمد پر او آئی سی سیکرٹری جنرل کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا. وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ او آئی سی سیکرٹری جنرل کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں،او آئی سی کانفرنس کا انعقاد پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہے،

    او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے کہا کہ پاکستان نے پرامن اور مستحکم افغانستان کیلئے بہترین کردار ادا کیا، او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس ایک اہم موقع ہے، او آئی سی کانفرنس میں افغانستان کی صورتحال پر غور کیا جائے گا،

    او آئی سی سیکرٹری جنرل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کریں گے سیکرٹری جنرل او آئی سی 19 دسمبر کو وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کریں گے

    اسلام آباد میں دفاتر جانے والوں کی وجہ سے رش کی صورتحال ہے۔ او آئی سی کے وفود کی نقل و حرکت کے باعث اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر مختصر وقت کے لئے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔تاخیر سے بچنے کے لیے 15 منٹ کا اضافی وقت سفر کے آغاذ سے قبل رکھیں۔

    قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے،ذرا سی غفلت پورے خطے کومتاثرکرسکتی ہے،پاکستان، افغانستان سے متعلق جوبھی کردار ادا کر سکتا ہے کر رہا ہے ،او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس افغانستان سے متعلق طلب کیا گیا ہے ،توقع ہے افغانستان کے دیگر پڑوسی بھی کردار ادا کریں گے،یورپی یونین کو احساس ہوگیا کہ افغانستان میں حالات بگڑے تو نقصان ہو گا نیٹو کمانڈرز کو بھی افغانستان کی صورتحال پرتشویش ہے ،امریکی حکام کو بھی کہا جارہا ہے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے،امریکامیں بھی باتیں ہورہی ہیں کہ مستحکم افغانستان کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے 19دسمبر کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اہم اجلاس ہوگا، او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس 41 برس قبل 1981 میں ہوا تھا، پرامن و مستحکم افغانستان کے ذریعے ہم علاقائی باہمی روابط رکھ سکتے ہیں غفلت برتنے پر افغانستان کی 47فیصد آبادی خط غربت سے نیچے چلی جائے گی،افغانستان میں خوراک کی کمی اور غربت کے شدید خطرات ہیں،

    او آئی سی اجلاس کے لیے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کو دلہن کی طرح سجایا گیا ہے، ،پارلیمنٹ میںصفائی رنگ وروغن شاہرہ دستورسمیت جن شاہرائوں پر وفود نے پارلیمنٹ تک پہنچنا ہے وہاں پر بھی پھول ،لائٹیں، سڑکوں  کی کارپیٹنگ و لائنگ کا کام کیا گیا ہے، ۔باغی ٹی وی کے مطابق مطابق او آئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کوپرایشن) کا اجلاس 19دسمبر کو پاکستان میں ہونے جارہا ہے او آئی سی کی تقریب کے لیے پارلیمنٹ کو منتخب کیا گیا ہے اور اس کے لیے قومی اسمبلی کا ہال استعمال کیا جائے گا جس کے لیے پہلے ہی قومی اسمبلی نے تحریک پاس کرکے او آئی سی اجلاس کے لیے ہال دینے کی اجازت دے دی ہے ۔جس کے بعد انتظامیہ نے او آئی سی اجلاس کے لیے تیاریاں تیز کردی ہیں پوری پارلیمنٹ کی عمارت میں رنگ وروغن کاکام تیزی کے ساتھ جاری ہے پارلیمنٹ کے اندر لائٹیں تبدیل کی جارہی ہیں

    قومی اسمبلی کے ہال میں کارپٹ صاف اور نئے ڈالے جارہے ہیں صفائی کے لیے خصوصی عملہ لایا گیا ہے جو پوری عمارت کی کیمیکلز کے ذریعے سے صفائی کررہاہے اس کے ساتھ پارلیمنٹ کی عمارت کے بارشاہراہ دستور پر انتظامیہ سڑک اکھڑکر دوبارہ کارپیٹنگ کررہی ہے فٹ پاتھ اور ٹھیک اور ان کورنگ دیاجارہاہے نئے پھول وپودے لگائے جارہے ہیں لائٹ پول کے ساتھ مزید مختلف ڈیزائن کی لائٹیں لگائی جارہی ہیں جبکہ درختوں وپودوں کومختلف رنگوں سے روشن کرنے کے بھی انتظام کئے جارہے ہیں ۔اس کے ساتھ وی آئی پی وفودکو ائیرپورٹ سے پارلیمنٹ تک لانے کے راستوں کی بھی خصوصی صفائی اور رنگ وروغن کاکام جارہی ہے اسلام آباد ہائی وئے او رایکسپریس وے پر سڑکوں کی دوبارہ کارپٹنگ کی جارہی ہے سڑکوں پر لائنیں لگائی جارہیں تاکہ مسلم ملک کے سامنے پاکستان کی بہترین تصویر پیش کی جاسکے ۔

    او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 19 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے غیر معمولی اجلاس کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں کچھ بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کو بھی مدعو کیا جارہا ہے- اس غیر معمولی اجلاس کا مقصد، افغانستان کی سنگین انسانی صورتحال پر غور و خوض کرنا اور موثر لائحہ عمل طے کرنا ہے، اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت افغانستان کے 38 ملین افراد میں سے 50 فیصد کو بھوک کے سنگین بحران کا سامنا ہے اور یہ صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

    ترکی طالبان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار

    امریکی سیکریٹری خارجہ کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ

    انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

    طالبان اب واقعی بدل گئے، کابل کے شہریوں کی رائے

    جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

    امریکی فضائیہ کے طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود میں پرواز

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

    چئرمین تحریک حریت کا فرزند ارجمند کشمیر کی مٹی پر جان نچھاور کر گیا، باغی سپیشل رپورٹ

    او آئی سے اجلاس سے خطاب میں وزیر خارجہ نے او آئی سی اور عالمی دنیا سے کیا بڑا مطالبہ

    کشمیر میں بھارتی ڈومیسائل کا نیا قانون، او آئی سی نے بڑا اعلان کر دیا

    وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی نائیجر میں او آئی سی اجلاس سے قبل اہم ملاقات

     او آئی سی کو قابض قوتوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے

  • افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌

    افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌

    واشگنٹن: افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌اطلاعات کے مطابق افغانستان میں 20 سال کے دوران اربوں ڈالرز اور جدید فوجی ہتھیار استعمال کرنے کے باوجود امریکا اور اتحادیوں کو شکست کی تحقیقات کے لیے امریکی کانگریس کے اراکین پر مشتمل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔

    قائم کردہ کمیشن 768 ارب ڈالر کے سالانہ دفاعی بجٹ کا حصہ ہے جسے ایوان نمائندگان کے بعد امریکی سینیٹ نے بھی منظور کیا، افغانستان پر بنایا جانے والا کمیشن 16 ارکان پر مشتمل ہوگا۔

    دونوں بڑی جماعتوں ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کی طرف سے نامزد کیے جانے والے ارکان کو ایک سال کے اندر طالبان کی فتح کی ابتدائی اور3 سال میں مکمل وجوہات کا پتہ چلانا ہو گا۔

    یاد رہے کہ 20 سال تک افغانستان میں 50 ملکوں کی حمایت سے جنگ لڑنے والا امریکہ جس طرح رسوا ہوکرافغانستان سے نکلا ہے اس منظر نے دنیا سے امریکہ کا خوف ختم کردیا ہے اور اب تو امریکہ کی اپنی ریاستوں نے سراٹھان اشروع کردیا ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان ریاستوں نے الگ حیثیت سے ملک کے طور پردنیا کے نقشنے پرانے کا فیصلہ کرلیا ہے

    اس اثنا میں دوسری طرف چین اور روس سے معاذ آرئی بھی امریکہ کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ نے زمینی جنگ کی بجائے خلائی جنگ کا منصوبہ بنایا ہے ،

    یہ سارے حالات ایک طرف مگرامریکی جرنیل اس بات پرپریشان ہیں‌کہ چند ہزارنہتے افغان طالبان نے دنیا کے 50 ملکی اتحاد کو کسیے ذلت آمیز شکست دی یہ ایک قابل غور سوال ہے تاکہ آئندہ سے ایسی شکست سے بچا جاسکے ، اسی مقصد کے تحت یہ کمیشن قائم کیا گیا ہے

  • جب تک افغان عوام کے قاتل امریکی فوجیوں کو سزا نہیں ملے گی:مطالبہ کرتے رہیں گے:چین کا اعلان

    جب تک افغان عوام کے قاتل امریکی فوجیوں کو سزا نہیں ملے گی:مطالبہ کرتے رہیں گے:چین کا اعلان

    بیجنگ: جب تک افغان عوام کے قاتل امریکی فوجیوں کو سزا نہیں ملے گی:مطالبہ کرتے رہیں گے:چین کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے امریکہ کی مشرقی ایشیا اور ایشیا پیسیفک علاقے میں تفرقہ ڈالنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے افغان عوام کے قتل عام میں ملوث امریکی فوجیوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

    چائنا ڈیلی کے مطابق، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ ون بین نے افغان عوام کے قتل عام میں ملوث امریکی فوجیوں کو سزا نہ ملنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پنٹاگون کے کابل میں ڈرون کے ذریعے‏عام لوگوں پر حملے میں ملوث اپنے فوجیوں کے سزا نہ دینے کے فیصلے پر خاموش نہیں بیٹھا رہا جا سکتا۔

    وانگ نے کہا کہ جس وجہہ سے زیادہ غم و غصہ ہے وہ یہ کہ امریکہ اس قتل عام کے ذمہ داروں کو عدالتی تحفظ دے کر انکی جرأتیں بڑھا رہا ہے۔ چین نے کابل قتل عام کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پنٹاگون نے ان امریکی دہشتگردوں کے خلاف کسی بھی طرح کی قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو 29 اکتوبر کو کابل میں ڈرون حملے میں ملوث تھے۔

    امریکہ کے اس دہشتگردانہ حملے میں 10 بے گناہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے جن میں اکثر بچے بتائے جاتے ہیں۔

  • عرب امارات نےامریکاکوہتھیاروں کی خریداری کےمعاہدے سےالگ ہونےکی دھمکی دےدی۔:ٹائمزآف اسرائیل کادعویٰ

    عرب امارات نےامریکاکوہتھیاروں کی خریداری کےمعاہدے سےالگ ہونےکی دھمکی دےدی۔:ٹائمزآف اسرائیل کادعویٰ

    ابو ظہبی: عرب امارات نے امریکا کو ہتھیاروں کی خریداری کے معاہدے سے الگ ہونے کی دھمکی دے دی۔:ٹائمز آف اسرائیل کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ عرب امارات کے ایک دن بعد ٹائمز آف اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے بات چیت معطل کرتے ہوئے امریکا کو ہتھیاروں کی خریداری کے معاہدے سے الگ ہونے کی دھمکی دے دی۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیر ملکی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے امریکی ساختہ F-35 طیاروں، مسلح ڈرونز اور دیگر ساز و سامان کی خریداری کے لیے 23 بلین ڈالر کے معاہدے پر بات چیت معطل کر دی۔

     

    یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں متحدہ عرب امارات اور امریکا کے درمیان ایف 35 طیارے، ڈرون اور دیگر ہتھیاروں کی خریداری کے لیے 23 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا تھا۔

    اب یو اے ای نے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے امریکی شرائط کو انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے معاہدے سے الگ ہونے کی دھمکی دی ہے۔

    امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق واشنگٹن میں اماراتی سفارت خانے نے کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ "بات چیت کو معطل” کر دے گا حالانکہ اس ہفتے پینٹاگون میں دیگر معاملات پر دونوں فریقوں کے درمیان ملاقاتیں منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھیں گی۔

    سفارت خانے نے بیان میں کہا کہ امریکہ جدید دفاعی ضروریات کے لیے متحدہ عرب امارات کا ترجیحی فراہم کنندہ ہے اور مستقبل میں F-35 کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔امریکا کی جانب سے ایف 35 طیاروں کی فراہمی کے وعدے پر یو اے ای اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر رضامند ہوگیا تھا۔

  • امریکہ میں ’تاریخ کے بدترین طوفانی بگولے‘ 84 افراد ہلاک،کئی گھر اور علاقے تباہ

    امریکہ میں ’تاریخ کے بدترین طوفانی بگولے‘ 84 افراد ہلاک،کئی گھر اور علاقے تباہ

    واشنگٹن: امریکہ میں تاریخ کے بدترین طوفانی بگولے نے تباہی مچا دی اور 84 افراد کو زندگی گل کر دی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ کی تاریخ میں آنے والے بدترین طوفانی بگولے نے 6 ریاستوں میں تباہی مچا دی اور مختلف حادثات میں 84 افراد ہلاک ہو گئے طوفانی بگولے کے باعث کئی گھر اور علاقے تباہ ہو گئے۔

    امریکی مسافرطیاروں میں لڑائی معمول بن گئی:تازہ واقعہ میں مسافرکا ایئرمارشل اورفلائٹ اٹینڈنٹ پرحملہ

    رپورٹس کے مطابق طوفانی بگولے اتنے شدید تھے کہ راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کر دیا 6 ریاستوں میں اتنی تباہی ہوئی کہ گھر، اسکول، شاپنگ سینٹرز، فیکٹریاں، اسپتال کچھ نہ بچامتعدد گاڑیاں عمارتوں کے ملبے تلے دب گئیں اور درخت جڑوں سے اُکھڑ گئے۔ طوفانی بگولوں کے باعث بجلی کے کھمبے گر گئے اور ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔

    امریکہ میں 30 سے زائد بگولوں نے زد میں آئی ہر شے ملیا میٹ کردی امریکی ریاست کینٹکی کے شہر مے فیلڈ میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی جہاں 70 افراد ہلاک ہوئے اور صرف ایک فیکٹری کے ملبے سے 40افراد کو نکالا گیا۔

    دوسری جانب امریکی ریاست کینٹکی کے گورنر اینڈی بیس ہیر نے 100 سے زیادہ ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے جبکہ ریاست میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

    پولیس نے کہا ہے کہ ریاست کے مغربی حصے میں اس طوفان سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ شیرف میٹ سینڈرسن نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ہاپکنز کاؤنٹی میں تیز ہواؤں سے ایک ٹرین پٹری سے اتر گئی تھی۔

    سعودی عرب میں کنسرٹ، سلمان خان کے رقص پر حاضرین خوش:عربی جھومنے لگے

    حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی الینوائے میں ایڈورڈزوِل نامی علاقے میں موجود ایمازون کمپنی کا ویئر ہاؤس بھی جمعے کی شب اس طوفان سے متاثر ہوا یہ غیر واضح ہے کہ اس ویئر ہاؤس کی چھت گرنے سے کتنے لوگ زخمی ہوئے ہیں مگر مقامی ایمرجنسی سروسز نے فیس بک پر اسے کافی نقصان دہ واقعہ کہا ہے الینوائے میں پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ واقعے میں کم از کم ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔

    ریاست ٹینیسی میں ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے ترجمان ڈین فلینر نے کہا ہے کہ شمال مغربی علاقوں لیک کاؤنٹی میں دو اور اوبئن کاؤنٹی میں ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔ انھوں نے اب تک مزید معلومات فراہم نہیں کی ہے۔

    امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث 4 ممالک پر پابندیاں عائد کر دیں

    ریاست آرکنساس میں کریگ ہیڈ کاؤنٹی کے جج مارون ڈے کا کہنا ہے کہ ان طوفانوں کے بعد ایک نرسنگ ہوم میں 20 لوگ پھنس گئے تھے اور اس کی چھت گرنے سے ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچا لیا گیا تھا مگر یہ عمارت اب مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کاکہنا ہے کہ امریکی تاریخ کے بدترین طوفان سے ہونے والی تباہی ناقابل یقین ہے۔

    بیویوں کی کال ریکارڈنگ:ایسی حرکت سےگھربرباد ہوتےہیں:بیوں پراعتماد سےہی…

  • امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی

    امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی

    واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی دے دی۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یوکرائن پر حملہ کیا تو بھاری قیمت اٹھانا پڑے گی انہوں نے کہا کہ یوکرائن پر حملے کی صورت میں روس کو تباہ کن معاشی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

    اس سے قبل بھی امریکی صدر جوبائیڈن روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو قاتل قرار دے چکے ہیں ایک انٹرویو میں امریکی صدر جوبائیڈن سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ روسی صدر پیوٹن کو قاتل سمجھتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب میں ہاں کہا اس موقع پرجوبائیڈن نے مزید کہا تھا کہ آپ دیکھیں گے ولادیمیر پیوٹن کو عنقریب قیمت چکانی پڑے گی۔

    امریکی مسافرطیاروں میں لڑائی معمول بن گئی:تازہ واقعہ میں مسافرکا ایئرمارشل اورفلائٹ اٹینڈنٹ پرحملہ

    قبل ازیں امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرائن کے ساتھ سرحد پر روس کی فوجی تشکیل پر کشیدگی کو کم کرنے کی جاری کوششوں کے درمیان اپنے یوکرائنی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے بات کی جمعرات کو بائیڈن اور زیلنسکی کی کال امریکی صدر کی ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ دو گھنٹے کی بات چیت کے چند دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں روسی رہنما پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صورتحال کو کم کرنے یا سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔

    امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث 4 ممالک پر پابندیاں عائد کر دیں

    زیلنسکی نے جمعرات کی سہ پہر ٹویٹر پر لکھا کہ”ریاستہائے متحدہ کے صدر نے مجھے پیوٹن کے ساتھ اپنی بات چیت سے آگاہ کیا یوکرائن کے صدر نے مشرقی یوکرین کے علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ "ہم نے ڈونباس میں تنازعہ کو حل کرنے کے لیے ممکنہ فارمیٹس پر بھی تبادلہ خیال کیا اور یوکرائن میں داخلی اصلاحات کے حوالے سے بات کی۔”

    یوکرائن نے کہا ہے کہ اس سال اب تک 94,000 روسی فوجی سرحد پر تعینیات ہو ئے ہیں جس سے بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے متعدد بار انتباہی پیغام جاری کئے گئے جو ماسکو کو کیو کے خلاف "اہم جارحانہ اقدام” کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔

    سعودی عرب میں کنسرٹ، سلمان خان کے رقص پر حاضرین خوش:عربی جھومنے لگے

    امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ پیوٹن جنوری کے اوائل میں 175,000 فوجیوں پر مشتمل ایک بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہو سکتے ہیں۔

    روس نے یوکرائن پر حملہ کرنے کے منصوبے کی تردید کی ہے، لیکن پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں امریکی فوجی ہارڈ ویئر کی کسی بھی توسیع کے ساتھ ساتھ نیٹو میں ملک کا داخلہ "سرخ لکیریں” ہیں جنہیں عبور نہیں کرنا چاہیے۔

  • جمہوریت بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والا ہتھیارہے:     جمہوریت،جمہوریت کا درس دینا اب بند کریں‌:چین

    جمہوریت بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والا ہتھیارہے: جمہوریت،جمہوریت کا درس دینا اب بند کریں‌:چین

    بیجنگ :امریکہ سمیت جمہوریت کی رٹّ لگانے والے جمہوریت اپنے پاس رکھیں:جمہوریت بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والا ہتھیارہے:چین نے جمہوریت کا واویلہ کرنے والوں کو کھری کھری سنادیں‌، اطلاعات کے مطابق امریکی صدر بائیڈن کی زیر قیادت سربراہی اجلاس کے میں چین کو بے دخل رکھنے کے بعد، چین نے غصے کا اظہارکرتے ہوئے امریکی جمہوریت کو ‘بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا ہتھیار’ قرار دے دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ نے امریکہ نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے 9 اور 10 دسمبر کو ورچوئل’سمٹ فار ڈیموکریسی‘ کے نام سےکانفرنس منعقد کی جس میں چین ، روس اور بعض دیگر ممالک کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی جبکہ امریکہ نے تائیوان کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت جسے چین اپنا حصہ تصور کرتا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے منعقدہ دوروزہ کانفرنس کے جواب میں چین نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جاری بیان میں کہا کہ طویل عرصے امریکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ایک ہتھیار بنا ہوا ہے جسے امریکہ دیگر ممالک میں مداخلت کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر بائیڈن سرد جنگ کے دور کی نظریاتی تقسیم کو اُکسا رہے ہیں۔امریکہ کی جانب سے کانفرنس کے اہتمام کا مقصد نظریاتی تعصب کی بنیاد پر تقسیم کرنا، جمہوریت کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا، تنازعے اور محاذ آرائی کو اکسانا ہےجبکہ مشرقی یورپ سمیت دیگر ممالک میں شروع ہونے والی انقلابی تحاریک ’کلر ریوولوشن‘ کے پیچھے بھی امریکہ کا ہاتھ تھا۔

    چین کی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ’یقیناً اس بات میں کوئی شک نہیں کہ چین میں حقیقی جمہوریت ہے۔اور ’چین ہر قسم کی جعلی جمہوریت کی مخالفت اور مقابلہ کرے گا۔‘

    واضح رہے کہ بین الاقوامی سطح پر امریکہ متعدد مرتبہ یہ یقین دہانی کروا چکا ہے کہ امریکہ چین کے ساتھ ایک اور سرد جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، اس کے باوجود دنیا کی ان دو بڑی معیشتوں کے درمیان مختلف معاملات پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • امریکی مسافرطیاروں میں لڑائی معمول بن گئی:تازہ واقعہ میں مسافرکا ایئرمارشل اورفلائٹ اٹینڈنٹ پرحملہ

    امریکی مسافرطیاروں میں لڑائی معمول بن گئی:تازہ واقعہ میں مسافرکا ایئرمارشل اورفلائٹ اٹینڈنٹ پرحملہ

    واشنگٹن:امریکی مسافرطیاروں میں لڑائی معمول بن گئی:تازہ واقعہ میں مسافرکا ایئرمارشل اورفلائٹ اٹینڈنٹ پرحملہ ،اطلاعات کے مطابق ڈی سی سے لاس اینجلس جانے والی ڈیلٹا فلائٹ 342 کو کل رات اوکلاہوما سٹی کی طرف موڑنا پڑا جب ایک مرد مسافر نے فلائٹ اٹینڈنٹ اور ایک فیڈرل ایئر مارشل پر حملہ کیا ۔

    "رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ہوائی اڈے سے لاس اینجلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی پرواز کے دوران، ایک مسافر سیکورٹی خدشات کا باعث بن گیا اور پرواز کو اوکلاہوما سٹی کے ول راجرز ورلڈ ہوائی اڈے کی طرف موڑ دیا گیا۔ پرواز کو تفویض کردہ فیڈرل ایئر مارشلز نے پرواز کے عملے اور مسافروں کی حفاظت اور حفاظت کے لیے مداخلت کی، "ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA) نے ایک ای میل بیان میں تصدیق کی۔

    امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی (FAA) کا کہنا ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ جیسے کورونا نے انسانوں کے رویے ہی بدل دیئے جب سے کورونا وائرس انسانوں پراثراندازہوا ہے انسانوں میں ضبط اور تحمل نام کی چیز باقی نہیں رہی یہی وجہ ہے کہ امریکی مسافرطیاروں میں‌ صرف 2021 میں بے قابو مسافروں کی 5,550 سے زیادہ رپورٹیں دی تھیں۔

    سب سے زیادہ سنگین واقعات میں سے: مارچ میں الاسکا ایئر لائنز کی پرواز میں، کولوراڈو کا ایک شخص جس نے چہرے کا ماسک پہننے سے انکار کر دیا تھا، یہ مسافر پہلے فلائٹ اٹینڈنٹ کے پاس گیا، پھر کھڑا ہو کر اپنی سیٹ ایریا میں پیشاب کردیا ، جسے سب دیکھتے ہی رہ گئے ۔ مئی میں، جیٹ بلیو کے ایک مسافر نے جیٹ بلیو فلائٹ اٹینڈنٹ کا اسکرٹ اوپر کر دیا۔ اسی مہینے، ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز کے ایک مسافر نے فلائٹ اٹینڈنٹ کے دانت نکال دیےصرف اس وجہ سے نکال دیئے کہ اس نے سیٹ بیلٹ باندھنے کی درخواست کی تھی

    خلل ڈالنے والے اور بعض اوقات پرتشدد مسافروں کے واقعات ایئر لائن کے کاروبار کے لیے بہت خراب ہیں۔ 10 میں سے 4 یعنی 40 فیصد صارفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے فضائی غصے کے واقعات کے خدشات کی وجہ سے کم سفر کیا ہے، اور تقریباً دو تہائی یعنی 63 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اگلی پرواز میں بے قابو مسافروں کے بارے میں کم از کم قدرے فکر مند ہیں۔ مارننگ کنسلٹ کی تازہ ترین اسٹیٹ آف ٹریول اینڈ ہاسپیٹلیٹی رپورٹ کے مطابق، پانچ میں سے ایک یعنی 21 فیصد بہت یا انتہائی فکر مند ہے۔

    اس رپورٹ میں‌ یہ بھی انکشاف کیا گیاہے کہ 59 فیصد بڑے افراد ہوائی غصے کے واقعات میں اضافے کے لیے ناگوار مسافروں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، لیکن ٹھوس 22 فیصد ایئر لائنز یا ان کے ملازمین کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ دس میں سے ایک بالغ (ینعی گیارہ فیصد ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA) یا دیگر ہوائی اڈے کے حکام کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔

    تاریخی طور پر، فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے بے قابو مسافروں کے واقعات کو انتباہات اور سول جرمانے کے ساتھ ہینڈل کیا ہے۔ جنوری میں، ایجنسی نے خلل ڈالنے والے مسافروں کے لیے سخت، صفر رواداری کی پالیسی اپنائی۔ اگست تک، FAA نے ہوائی مسافروں کے خلاف 1 ملین ڈالر سے زیادہ سول جرمانے کی تجویز پیش کی تھی۔

    لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سول جرمانے کافی نہیں ہیں اور اس مسئلے کا مجموعی ردعمل بہت سست رہا ہے۔ پچھلی موسم گرما میں، ایئر لائن انڈسٹری نے امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ کی سربراہی میں محکمہ انصاف سے مجرموں کو قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • امریکی سینیٹرز کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات:پاک فوج واقعی زندہ باد:امریکی سینیٹرزمان گئے

    امریکی سینیٹرز کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات:پاک فوج واقعی زندہ باد:امریکی سینیٹرزمان گئے

    راولپنڈی:امریکی سینیٹرز کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات:پاک فوج واقعی زندہ باد:امریکی سینیٹرزمان گئے،اطلاعات کےمطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران امریکی سینیٹرز نے افغان صورتحال پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے ہر سطح پر سفارتی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینیٹرز پر مشتمل وفد نے ملاقات کی ہے۔ 4 رکنی وفد میں امریکی سینیٹرز انگس کنگ، رچرڈ بر، جان کارنائن اور بینجمن سیسی شامل تھے جبکہ پاکستان میں امریکی ناظم الامور انجیلا ایگلر بھی وفد کے ہمراہ تھیں۔

    یاد رہے کہ چاروں سینیٹرز کی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے اراکین ہیں جبکہ سینیٹر انگس کنگ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کے رکن بھی ہیں۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، افغانستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے آنے والے چیلنجوں کے پیش نظر جیو پولیٹیکل اور سیکیورٹی صورتحال کے بارے میں باہمی افہام و تفہیم کے لیے سینیٹرز کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

     

     

    میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق معزز مہمانوں نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، بارڈر مینجمنٹ کے لیے خصوصی کاوشوں، علاقائی استحکام میں کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

    ملاقات کے دوران سپہ سالار نے کہا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کیساتھ نتیجہ خیز دوطرفہ روابط برقرار رکھنے اور پرامن، پائیدار تعلقات کے خواہاں ہیں۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں بحران اور افغان عوام کی معاشی ترقی کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

    اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹ کے 4 رکنی وفد کیساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو تمام شعبوں میں وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ امریکا کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    وزیر اعظم عمران خان سے امریکی سینیٹرز پر مشتمل وفد نے ملاقات کی ہے ۔ چار کنی وفد میں امریکی سینیٹرز انگس کنگ ، رچرڈ بر، جان کارنائن اور بینجمن سیسی شامل تھے ۔

    امریکی سینیٹرز کے وفد کا استقبال کیا کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ پاکستان طویل تعلقات رکھتا ہے اور اقتصادی شعبہ سمیت دیگر تمام شعبوں میں پاک امریکا باہمی تعلقات میں مزید اضافہ کیلئے پرعزم ہے ۔

    انہوں نے توقع ظاہر کی کہ امریکی قانون سازوں کے وفد کے دورہ سے باہمی اعتماد کے استحکام میں مدد حاصل ہوگی اور سے عوامی رابطوں میں بھی بہتری آئے گی۔عمران خان نے عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کی گہری اور مضبوط شراکتداری باہمی، خطے کے امن ، سلامتی اور استحکام کے مفاد میں ہے۔

    افغانستان کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کو امن ، سلامتی اور معاشی ترقی کے مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے باہمی رابطوں میں اضافہ ضروری ہے ۔

     

     

    انہوں نے افغان عوام کی فوری مدد کی ضرورت پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالہ سے ہر طرح کے ممکنہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ کسی انسانی اور معاشی بحران سے بچا جا سکے۔

    وزیر اعظم نے قریبی اشتراک کار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں دہشتگردی سمیت سکیورٹی کے خدشات کے حوالہ سے قریبی تعاون ضروری ہے ۔ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف وریوں کے حوالہ سے انہوں نے آرایس ایس کی انتہا پسندانہ اور انسانی حقوق کی مانع سوچ پرمبنی بی جے پی کے اقدامات سے خطے کے امن اور ستحکام کو سنگین خدشات درپیش ہیں۔انہوں نے پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات میں استحکام اور وسعت کے حوالہ سے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    پاکستان کی آبادی اور جیو سٹرٹیجیک جغرافیہ کے تناظر میں امریکی سینیٹرز نے کہا کہ امریکا اورپاکستان کو تجارت ، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے فروغ کیلئے کاوشوں کو وسعت دینی چاہئے۔