Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث 4 ممالک پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث 4 ممالک پر پابندیاں عائد کر دیں

    واشنگٹن: امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث 4 ممالک پر پابندیاں عائد کر دیں۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ نے چین، میانمار، شمالی کوریا اور بنگلادیش پر انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق پابندیاں عائد کی ہیں یہ پابندیاں ان ممالک کے درجنوں افراد اور ان ممالک سے تعلق رکھنے والے ان اداروں پر عائد کی گئی ہیں جو وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث تھےامریکہ نے چین کی ایک مصنوعی انٹیلی جنس کمپنی کو بھی سرمایہ کاری کی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔

    امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق کینیڈا اور برطانیہ نے بھی میانمار میں انسانی حقوق کی پامالی پر پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ امریکی انتظامیہ نے شمالی کوریا پر ایک نئی پابندی عائد کی ہےامریکی انتظامیہ نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر مذکورہ پابندیاں عائد کیں جن میں میانمار کی فوج کے بھی کچھ اداررے شامل ہیں جو پابندیوں کی زد میں آئے ہیں۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جمہوری طاقتیں ان لوگوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گی جو ریاست کی رٹ کو پامال کریں گے۔ امریکہ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث افراد کو قابل احتساب بنانے کے لیے اپنے تمام طریقے استعمال کر رہا ہے۔

    برطانیہ اور کینیڈا نے بھی ونٹر اولپمکس 2022 کا اعلان کر دیا

    واضح رہے کہ امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس اور کینیڈانے بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ کیا ہے بیجنگ میں ہونے والے اولپمکس گیمز میں پہلے امریکہ نے بائیکاٹ کا اعلان کیا توپھرامریکہ کی اطاعت میں فرانس نے بھی بائییکاٹ کا اعلان کردیا فرانس کی طرف سے اولمپکس گیمز کے بائیکاٹ کے اعلان کوبہت اہمیت دی جارہی ہے –

    جبکہ کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ’ہمیں چینی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں پر انتہائی تشویش ہے، ان کا ملک چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کے سفارتی بائیکاٹ میں امریکہ، برطانیہ ،فرانس اور آسٹریلیا کا ساتھ دے گا۔

    دنیا بھر میں انسانی حقوق کےلئے کام کرنے والی متعدد تنظیمیں ایک عرصے سے چین میں مسلمانوں کےساتھ بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث چین میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے کھیلوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030، دبئی،قطر اورابو ظہبی کیلئے چیلنج

  • افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر

    افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر

    بغداد:افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر،اطلاعات کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد اب عراق سے امریکی و دیگر غیرملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق ہوگیا ہے۔

     

    بغداد سے عرب میڈیا کے مطابق عراق میں غیر ملکی فوجی انخلاء سے متعلق عراقی جوائنٹ آپریشن کمانڈر نے بیان میں کہا ہے کہ امریکی و اتحادی فوج رواں سال کے اختتام تک عراق سے مکمل انخلاء کریں گی۔

     

    عراقی کمانڈر نے مزید کہا کہ امریکی اور اس کے اتحادی اپنی افواج اور جنگی سرگرمیوں میں شامل عملہ عراق سےنکال لیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج جنگی مُہمات میں سرگرم عملےکا بڑا حصہ عراق سے انخلاء کرچکی ہے جبکہ باقی غیرملکی فوجیوں کا انخلاء دسمبر کے اختتام تک جاری رہے گا۔

    امریکی و دیگر اتحادی فوج کے صرف تکنیکی ماہرین عراق میں رہیں گے۔ عراقی کمانڈر کے مطابق اتحادی فوج عراقی فوج کو تکنیکی مدد اور تعاون فراہم کرے گی۔

    یاد رہے کہ یوکرین کے محاذ پرروسی افواج کے دباو اور چین کی بڑھتی ہوئی قوت سے خائف امریکہ نے دنیا بھر سے اپنی افواج کومحفوظ بنانے کے لیے ان کی امریکہ یاتری کا فیصلہ کرلیا ہے

    ادھر امریکہ کے اس اعلان کے بعد روس اور چین امریکی فوجی نقل وحرکت پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ حالات کشیدہ بھی ہوسکتےہیں‌

  • امریکا میں مہنگائی کا 39 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا:پاکستان میں مہنگائی کم ہونے کی خوشخبری سنا دی گئی

    امریکا میں مہنگائی کا 39 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا:پاکستان میں مہنگائی کم ہونے کی خوشخبری سنا دی گئی

    واشنگٹن: امریکا میں مہنگائی کا 39 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا:پاکستان میں مہنگائی کم ہونے کی خوشخبری سنا دی گئی ،اطلاعات کے مطابق امریکا میں مہنگائی کا 39 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ کنزیومر پرائس انڈیکس 6.8فیصد ہوگئی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق اس سے پہلے 1982 میں مہنگائی کی شرح چھ اعشاریہ آٹھ فیصد کو چھو گئی تھی۔ گزشتہ سال کی نسبت مہنگائی کی شرح میں چار اعشاریہ نو فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    امریکی ماہرین معاشیات پہلے ہی مہنگائی میں اضافے کی پیش گوئی کر چکے تھے اس لیے ڈیٹا ریلیز ہونے کے باوجود امریکی سٹاک مارکیٹ پر کوئی خاطرخواہ فرق نہیں پڑا۔

    دوسری طرف زیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ہفتوں کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی۔

    غیر ملکی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں نیچے آنے کے بعد اب تک پٹرول کی قیمتیں کم نہیں ہوئی تھیں تاہم آئندہ ہفتوں میں پاکستان میں بھی پٹرول کی قیمتوں میں کمی بھی کی جائے گی۔

    انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کے تحت منی بجٹ اگلے ہفتے لا رہی ہے تاہم اس سے مہنگائی نہیں ہوگی کیونکہ عام آدمی کے استعمال کی اشیا پر ٹیکس کی چھوٹ ختم نہیں ہو گی۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ منی بجٹ میں کھانے پینے کی اشیا پر ٹیکس کی چھوٹ ختم نہیں ہو گی۔ موبائل فونز پر ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کے حوالے سے ابھی نہیں بتا سکتے۔ سٹیٹ بینک کی خودمختاری کے حوالے سے آئی ایم ایف سے طے شدہ قانون سازی کے لیے بل بھی منی بجٹ کے ساتھ ہی اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ منی بجٹ میں امپورٹڈ لگژری آئٹمز پر کسٹم ڈیوٹی بڑھائی جائے گی، امپورٹڈ میک اپ کا سامان، امپورٹڈ کپڑے، جوتے اور پرفیومز سمیت کئی اشیاء مہنگی کرنے کی تجویز ہے۔ مقامی طور پر تیار ہونے والی اشیاء پر بھی سیلز ٹیکس 12 سے بڑھا کر 17 فی صد کیا جائے گا۔

    اس سوال پر مشیر خزانہ نے کہا کہ وہ انفرادی طور پر کسی بھی چیز پر ٹیکس بڑھانے کے حوالے سے ابھی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے جبکہ کابینہ کی منظوری کے بعد اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا تو سب معلوم ہو جائے گا۔

  • صدر،وزیر اعظم اورچیف جسٹس بے بس و بے اختیار ہیں تو بتائیں بااختیار کون ہے؟ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    صدر،وزیر اعظم اورچیف جسٹس بے بس و بے اختیار ہیں تو بتائیں بااختیار کون ہے؟ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    کراچی :وطن کی بیٹی عافیہ صدیقی کی بہن اور عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ اگرصدر، وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کے معاملے میں بے بس اور بے اختیار ہیں تو پھر با اختیار کون ہے؟قوم کی بیٹی پر اغیار کے مظالم کب ختم ہوں گے؟ اہل اقتدار عافیہ کو واپس لائیں، عدلیہ کے احکامات کی پابندی کریں ورنہ توہین قوم اور وطن سے غداری سمجھا جائے گا۔ قوم اب بیدار ہوچکی ہے، امریکہ کی جنگ ختم ہو چکی ہے۔

    ڈاکٹرفوزیہ صدیقی نے اس موقع پر کہا کہ امریکہ قیدیوں کی رہائی کا عندیہ دے چکا ہے، ہمارے ارباب اختیار اور سیاستدان کیوں میٹھی اور پرسکون نیند سو رہے ہیں؟ ایک جانب امریکی مفادات کا تحفظ اور دوسری جانب حقوق نسواں کے گیت گائے جاتے ہیں، عالمی انسانیت پر لمبی لمبی تقاریر کی جاتی ہیں، مگر اٹھارہ سالوں سے ظلم و ستم سہتی، دشمنوں کی قید میں اپنی قوم کی مظلوم و بے گناہ بیٹی کی وطن واپسی کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔

    وہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقعہ پر،کراچی پریس کلب کے باہر ایک انوکھے او رمنفرد احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر رہی تھیں۔ مظاہرے میں مختلف سیاسی و سماجی، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء، صحافی اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقعہ پر ایک علامتی جیل کی کوٹھری بنائی گئی، مقامی اسکول کی طالبہ نے جیل میں بند ہو کر ڈاکٹر عافیہ کا کردار ادا کیا اور کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں اورامریکہ کی کارزویل جیل میں موجود، تاجدار مدینہ کی باندی کو بھول گئے ہیں۔ حکمران سو جائیں تو قوم کو جاگنا ہوتا ہے۔ ایک کتے اور بلی کی تکلیف پر تڑپ اٹھنے والے انسانوں کو،ایک انسان کی تڑپ کیوں دکھائی نہیں دیتی؟

    ڈاکٹر عافیہ کا کردار ادا کرنے والی طالبہ نے درد بھرے انداز میں کہا کہ آج انسانی حقوق کا عالمی دن ہے اور میں اپنی قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کے ساتھ روا رکھے جانے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طر ف توجہ دلاکر قوم کی مظلوم بیٹی کی فریاد عوام، حکمرانوں، سیاستدانوں،علماء و مشائخ اور عالمی امن کے نام نہاد ٹھیکیداروں تک پہنچارہی ہوں۔ اس علامتی مظاہرے میں عافیہ کے کردار کے ذریعے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا کہ اٹھارہ سال گزر گئے ہیں۔ حکومتیں آ اور جا رہی ہیں لیکن کیا مجال ہے کہ شرمناک بے حسی کی پالیسی کے تسلسل میں ذرا سا بھی فرق آیا ہو۔ اس دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے خاندان پر قیامت گزرتی رہی۔ ظلم کی سیاہ راتیں اب تو صدیوں پر محیط لگتی ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ کی والدہ کی فریاد سے عرش تھرا جاتا ہے لیکن ہمارے خوابیدہ حکمرانوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ڈاکٹر عافیہ اس دوران تسلسل کے ساتھ کرب و بلا سے گزر رہی ہیں، ان کی آواز سے زمین لرزتی ہے اور آسمان کانپ جاتا ہے۔ جو ان پر گزر رہی ہے یہ وہ ہی جانتی ہیں یا ان کا اللہ جانتا ہے۔ عافیہ پر روا رکھنے جانے والے مظالم اور جبرو تشدد کی عکاسی کے لئے پریس کلب پر علامتی جیل بنا کر ڈاکٹر عافیہ کے مصائب کی منظر کشی کرنے کی کوشش کو عوام کی بہت بڑی تعداد نے سراہا،

    مظاہرے کے شرکاء آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ حکمران خواب غفلت سے بیدار ہوں اور ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کو ممکن بنائیں جس کے نتیجے میں اللہ تعالی کی رحمت و برکت کے باعث ملک و قوم کو حقیقی تبدیلی، ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔مقررین اور شرکاء نے طاقتور بڑی سیاسی جماعتوں اور مقتدر قوتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ہوش کے ناخن لیں تاکہ انہیں قوم کی بیٹی پر جاری ان مصائب و آلام کا کچھ ادراک ہو سکے جن سے قوم کی بیٹی روز گذرتی ہے، روز جیتی اور روز مرتی ہے

  • امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ

    امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ

    بیجنگ :امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ اطلاعات کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ’ہمیں چینی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں پر انتہائی تشویش ہے، ان کا ملک چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کے سفارتی بائیکاٹ میں امریکہ، برطانیہ ،فرانس اور آسٹریلیا کا ساتھ دے گا۔

    دنیا بھر میں انسانی حقوق کےلئے کام کرنے والی متعدد تنظیمیں ایک عرصے سے چین میں مسلمانوں کےساتھ بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث چین میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے کھیلوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ بیجنگ میں ہونے والے اولپمکس گیمز میں پہلے امریکہ نے بائیکاٹ کا اعلان کیا توپھرامریکہ کی اطاعت میں فرانس نے بھی بائییکاٹ کا اعلان کردیا ہے

    فرانس کی طرف سے اولمپکس گیمز کے بائیکاٹ کے اعلان کوبہت اہمیت دی جارہی ہے ، چین نے اس حوالے سے فرانس کے رویے پرافسوس کا اظہار کیا ہے ، یاد رہےکہ چند دن پہلے چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

    انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

    امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

  • بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پرامن اور خوشحال جنوبی ایشیا کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن ہر ملک کے مفاد میں ہے، اسی نیت سے وزیراعظم بننے کے بعد بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ مودی سمجھتا ہے کہ ہم کمزور ہیں، ہمیں بھارت میں ایک آئیڈیولوجی کا سامنا تھا جس کا نام آر ایس ایس ہے ، اس آئیڈیولوجی کے ساتھ بھارتی سرکار کیساتھ گفت و شنید انتہائی مشکل ہے مودی کا نظریہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں بلکہ خود ہندوستان کے عوام کیلئے بھی بد قسمتی ہے جو لوگ جنگوں سے معاملات طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ تاریخ سے نا واقف ہوتے ہیں اور دوسرا انہیں اپنے ہتھیاروں پر بہت غرور ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ کے بعد مسائل چند لمحوں یا ہفتوں میں حل ہو جائیں گے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یہی سوچ لے کر امریکہ افغانستان میں آیا مگر پھر دنیا نے دیکھا کہ یہ چند ہفتوں کیلئے شروع کی جانے والی جنگ دو دہائیوں پر پھیل گئی افغانستان میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے میں ماحولیات کے اس المیے سے ہم لوگ بیس سال پہلے آگاہ تھے مگر دنیا نےچشم پوشی کئے رکھی پاکستان میں تو کبھی سوچا ہی نہیں گیا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے بھی کوئی فرق پڑے گا ملک میں 1960 کی دہائی میں معیاری منصوبہ بندی کمیشن بنا تھا ملک میں اس طرح کے تھنک ٹینک کی بہت ضروری ہے باہر امریکی تھینک ٹینک پاکستان پر گفتگو کر رہے ہیں نہ وہ یہاں کی تاریخ جانتے ہیں نہ یہاں کے لوگوں کے بارے میں کچھ علم رکھتے ہیں مگر وہ باہر بیٹھے پراپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ یہ ایک انتہا پسند ملک ہے اور ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم موقف بھی بیان نہیں کرتے

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 25 سال پہلے تحریک انصاف شروع کی تو ہمارا منشور واضح تھا کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے احساس راشن رعایت پروگرام کے اجراء سے شہریوں کو آٹا، گھی، تیل اور دالوں کی خریداری پر30 فیصدرعایت ملے گی احساس راشن پروگرام کی کل لاگت 120ارب روپے ہے، پروگرام کے تحت 2 کروڑ خاندان اور تقریبا 13 کروڑ افراد مستفید ہوں گے جو ملک کی کل آبادی کا تقریبا 53 فیصد ہے، ماہانہ 50 ہزار سے کم آمدن والے خاندان اس پروگرام سے استفادے کے اہل ہوں گے ۔ اہل صارفین کو کل خریداری پر 30 فیصد رعایت ملے گی،یہ رعایت آٹا، گھی یا تیل اور دالوں پرملے گی

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    دو برس تک بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مرتکب باپ گرفتار

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    دو سو افراد نے ایک ساتھ کپڑے اتار کر تصویریں بنوا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

  • بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    اسلام آباد :بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے امریکہ کی جانب سے جمہوریت پر منعقد کی جانے والی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان کی طرف سے دو ٹوک جواب سن کرامریکہ حواس باختہ ہوگیاہے

    امریکہ سے آمدہ تفصیلات کے مطابق ڈیموکریسی ورچوئل سمٹ 9 اور 10 دسمبر کو ہوگا۔ امریکا کی جانب سے سمٹ میں شرکت کے لئے چین اور روس کو دعوت نہیں دی گئی۔

    اسی حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہم سمٹ برائے جمہوریت میں شرکت کے لیے پاکستان کو مدعو کرنے پر امریکا کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان ایک بڑی فعال جمہوریت ہے جس میں ایک آزاد عدلیہ، متحرک سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا ہے۔ ہم جمہوریت کو مزید مضبوط کرنے، بدعنوانی کے خاتمے اور تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے ان اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔ ان اصلاحات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ہم امریکا کے ساتھ اپنی شراکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جسے ہم دو طرفہ اور علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے لحاظ سے بڑھانا چاہتے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ ہم متعدد مسائل پر امریکا کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم مستقبل میں مناسب وقت پر اس موضوع پر ہو سکتے ہیں۔ اس دوران پاکستان مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت، تعمیری کردار اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

  • افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    نیویارک: افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا ا،طلاعات کے مطابق گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت افغان طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت کے نمائندوں کو تسلیم کرنے کا معاملہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

    امریکا، روس اور چین سمیت 9 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی کے معاہدے پر مشتمل قرارداد کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ووٹنگ کے بغیر اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔

    گزشتہ ہفتے کمیٹی نے جنرل اسمبلی کے موجودہ سیشن کے لیے افغانستان اور ’میانمار کے نمائندوں کی شمولیت کو مؤخر کرنے‘ کی تجویز دی تھی، جنرل اسبملی کا موجودہ سیشن ستمبر 2022 میں ختم ہوگا۔

    9 ممالک پر مشتمل کریڈنشلز کمیٹی کی صدارت اس وقت سویڈن کے پاس ہے اور مستقبل قریب میں کمیٹی کا مزید کوئی اجلاس ہونے کی بھی امید نہیں ہے۔

    افغانستان اور میانمار کے معاملے پر اقوام متحدہ میں نئی اور پرانی حکومتوں کی جانب سے دو مختلف درخواستیں موجود تھیں۔

    میانمار میں یکم فروری کو فوجی قبضہ ہونے کے بعد وزیر خارجہ وونا ماونگ لوین نے 18 اگست کو سابق فوجی کمانڈر اونگ تھورئین کو اقوام متحدہ میں تعینات کیا تھا۔

    تاہم سابق سربراہ آنگ سان سوچی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات کیے گئے نمائندہ کیاو مو تُن نے فوجی قیادت کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے درخواست کی ان کی نمائندگی کو برقرار رکھا جائے۔

    سابق افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات سفیر غلام اسحٰق زئی نے بھی 14 ستمبر کو اقوام متحدہ میں اسی قسم کی درخواست دی تھی۔

    طالبان نے اگست کے وسط میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 20 ستمبر کو اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ ان کے سابق ترجمان سہیل شاہین کو افغانستان کے نئے نمائندے کے طور تسلیم کرلے۔

    طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت نے اپنے نامزد کردہ نمائندوں کی منظوری نہ دینے پر اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی پر تنقید کی ہے۔

    گزشتہ ہفتے سہیل شاہین نے کہا کہ ’یہ فیصلہ قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے افغان عوام کو ان کے قانونی حق سے محروم کیا ہے‘۔

    میانمار کی فوجی حکومت کے ترجمان زا مِن تُن کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا فیصلہ زمینی حقائق کا عکاس نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی نے بدھ کے روز 191 ممالک کے نمائندگان کی منظوری دی جس میں صرف وینزویلا کے نمائندے پر امریکا نے اعتراض اٹھایا۔

  • اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    بیجنگ : اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس اور امریکہ کے درمیان حالات خراب ہورہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی سفارتی جنگ اس وقت عروج پر ہے ، امریکہ نے چین میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں‌ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جس پر چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

    انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

    امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

    حالیہ برسوں میں امریکہ نے کھیلوں میں شرکت نہ کرنے کا ایسا فیصلہ کبھی نہیں کیا۔ اس سے قبل اوباما انتظامیہ نے 2014 میں روس میں ہونے کھیلوں کے دوران اعلیٰ حکام کو نہیں بھیجا تھا لیکن ان کے متبادل وفد بھیجا گیا تھا۔

    ادھر بائیڈن انتظامیہ چینی حکومت کی جانب سے اویغور مسلم اقلیت کے ساتھ برتاؤ پر بڑی نقاد کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خاص طور پر سنکیانگ کے علاقے میں جہاں بین الاقوامی حقوق کے گروپوں نے الزام لگایا ہے کہ شہری مسلسل نگرانی میں رہتے ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ مسئلہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بھی اٹھایا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس ترجمان جین ساکی نے پیر کو اس معاملے پر اپنے مختصر بیان کے دوران خاص طور پر سنکیانگ کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ خطے میں مبینہ طور پر ہونے والے ’مظالم‘ اور ’نسل کشی‘ نے بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو ہوا دی۔

    اسی طرح امریکہ اور چین کے مابین تائیوان کے معاملے پر بھی کشیدگی پائی جاتی ہے، جس سے تاثر ملتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات کشیدہ ہیں۔

    دوسری جانب چین میں کھیلوں کے بائیکاٹ کے مطالبات حالیہ ہفتوں میں چینی ٹینس سٹار پینگ شوائی کے حوالے سے تنازعے کے ساتھ مزید بڑھ گئے ہیں، جنہوں نے حکمران جماعت کے ایک سیاست دان پر جنسی حملے کا الزام عائدکیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بظاہر منظر عام سے غائب ہیں، جن کی حفاظت کے حوالے سے سابق اور موجودہ ٹینس سٹارز نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  • دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    واشنگٹن :دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملے کے لیے امریکہ واتحادی جواب کے لیےتیار،اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ مشرقی یورپ میں اپنی فوج کی موجودگی بڑھا دے گا اور روس کو اس کی جانب سے ’شدید اقتصادی نقصان‘ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یوکرین کے معاملے پر پچھلے 24 گھنٹوں سے صورت حال بڑی ہے اہمیت اختیار کرگئی ہے ، آج بھی وائٹ ہاوس اور پینٹا گان میں بڑی بڑے اہم اجلاس جاری ہیں‌ اس سلسلے میں‌ کل صحافیوں سے ایک پریس کال میں انتظامیہ کے سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو نیٹو کے مشرقی اتحادی اضافی فوجیوں اور صلاحیتوں کی درخواست کریں گے اور امریکہ فراہم کرے گا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ یوکرین پر روسی متوقع حملے کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس بھی ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ اگر روس یوکرین سے پیچھے نہیں ہٹتا، اس کی خودمختاری اور آزادی کے لیے خطرہ بنتا ہے تو ہم اور ہمارے اتحادی کارروائی کے لیے تیار ہوں گے۔‘ وائٹ ہاؤس کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آج یعنی منگل کو امریکی صدر جو بائیڈن روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان ویڈیو کال متوقع ہے۔

    ذرئع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ صدر بائیڈن صدر پوتن کو اس کال کے دوران خبردار کریں گے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو اسے سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب یوکرین کی سرحد پر دسیوں ہزار فوجی جمع ہونے کے بعد امریکہ روس کو یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ادھر اس حوالے سے روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ اپنی ورچوئل ملاقات سے قبل بائیڈن نے پیر کو فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے رہنماؤں سے بھی بات کی، جس کے بعد مغربی طاقتوں نے اس ’عزم‘ کا اظہار کیا کہ یوکرین کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا۔

    ایک سینیئر امریکی عہدیدارنے دعویٰ‌کیا ہے کہ امریکی صدر اپنے یوکرینی ہم منصب ولادو میر زیلنسکی کو بھی فوری طور پر پوتن کے ساتھ اپنی بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے، جو منگل کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہو رہی ہے، کیونکہ دسیوں ہزار روسی فوجی یوکرین کی سرحد کے قریب تعینات ہیں۔ مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو نہیں معلوم کہ آیا پوتن نے یوکرین کے خلاف اپنی فوجی دستوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں، تاہم وہ براہ راست امریکی مداخلت کی دھمکی دینے سے باز رہے۔

    اس امریکی عہدیدار نے بڑے وثوق سے کہا کہ اگر روس نے حملہ کیا تو امریکہ اور یورپی اتحادی سخت ’جوابی معاشی اقدامات‘ کرسکتے ہیں جو روسی معیشت کو اہم اور شدید اقتصادی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’اس کے علاوہ صدر بائیڈن یہ واضح کریں گے کہ اگر پوتن پیش قدمی کرتے ہیں تو مشرقی خطے کے اتحادیوں کی طرف سے اضافی افواج، دفاعی صلاحیتوں اور مشقوں کے لیے موجود درخواست پر امریکہ کی طرف سے مثبت جواب ملے گا۔

    وائٹ ہاؤس نے یورپی رہنماؤں کے ساتھ بائیڈن کی بات چیت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ مکمل بات چیت میں روس سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈونباس میں تنازع کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔ یوکرین کے مطابق روس کی سرحد کے قریب ایک لاکھ کے قریب فوجی موجود ہیں۔

    دوسری جانب روس کسی بھی جنگی ارادے کی تردید کرتا ہے اور مغرب پر اشتعال انگیزی کا الزام لگاتا ہے، خاص طور پر بحیرہ اسود میں فوجی مشقوں کے ساتھ، جسے وہ اپنے اثر و رسوخ کے ایک حصے کے طور پر دیکھتا ہے۔ پوتن مغرب سے یہ وعدہ چاہتے ہیں کہ یوکرین نیٹو کا حصہ نہیں بنے گا، جو سابق سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا ٹرانس اٹلانٹک اتحاد ہے۔

    پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ وہ روسی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کو ایک سنگین خطرے کے طور پر لے رہا ہے۔ روس کے صدر کے دفتر نے پیر کو کہا تھا کہ ماسکو بائیڈن- پوتن کال سے کچھ زیادہ توقعات نہیں رکھتا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق ہے کہ امریکہ اب بھی سمجھتا ہے کہ روس اور مغرب کے درمیان یوکرین کی روس نواز علیحدگی پسندوں کے ساتھ جنگ ​​بندی پر عمل درآمد سے متعلق منسلک معاہدے ممکن تھے۔

    ترجمان کی طرف سے یہ بھی کہاگیا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ اس مسئلے کو سفارتی طور پر حل کرنے کے لیے ہمارے سامنے ایک موقع، ایک آپشن موجود ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر روس اس میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتا تو امریکہ ’بھاری اثرات والے اقتصادی اقدامات کو لاگو کرنے کے لیے تیار ہے، جو ہم نے ماضی میں استعمال کرنے سے گریز کیا ہے۔‘