Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • امریکہ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں88 افراد ہلاک و زخمی

    امریکہ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں88 افراد ہلاک و زخمی

    واشنگٹن : امریکہ میں ہنگامے پھوٹ پڑے ، اطلاعات کے مطابق امریکہ کی مختلف ریاستوں میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں 88 افراد ہلاک و زخمی ہو گئے۔فائرنگ کے اعداد و شمار جمع کرنے والے امریکی مرکز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران پنسیلوانیا، کیلیفورنیا، فلوریڈا اور شمالی کیرولائنا سمیت مختلف ریاستوں میں فائرنگ کے 75 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے مذکورہ واقعات میں کم سے کم 26 افراد ہلاک اور 62 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ امریکہ میں فائرنگ کے واقعات میں ہرسال ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوجاتے ہیں۔ جبکہ اسلحہ ساز کمپنیوں کی حامی لابی کی مخالفت کے باعث ہتھیاروں کے کنٹرول کا کوئی قانون وضع نہ ہو سکا۔

  • کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر میں تو چلو مان لیا کہ لوگوں سے بولنے کا حق چھینا جا چکا ہے مگر یہاں پاکستان کے عوام کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ حقیقی معنوں میں مشرقی پاکستان ٹوٹنے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا سانحہ رونما ہو چکا ہے لیکن بے خبر ہے۔ اور جب تک قوم کو خبر ہو گی قیامت سر سے گزر چکی ہو گی۔ پاکستان کے لوگ اس بات سے بھی واقف نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اصل میں ظلم کیا ہوا ہے اور کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو کتنی بڑی شکست ہو چکی ہے۔ عملی طور پر مقبوضہ کشمیر اس وقت پاکستان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے البتہ عوام بے خبر ہیں یا انہیں جان بوجھ کے بے خبر رکھا جا رہا۔
    مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی اشتراک کے معاملے میں ہماری حکومت کی جانب سے روایتی مذمت اور قراردادیں ہی پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی عوام کو بہلانے کےلیے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی اشتراک کو مسترد کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے مسترد کرنے سے واقعی اب مقبوضہ کشمیر کو کوئی مدد مل سکتی ہے؟ اس کا جواب افسوس ناک طور پر "نہیں ” ہے۔
    بھارت آرٹیکل پینتیس اے اور آرٹیکل تین سو ستر ختم کر چکا ہے۔ بھارتی آئین کی یہ دو شقیں دراصل مقبوضہ کشمیر کے عوام کےلیے دو ایسی حفاظتی دیواریں تھیں جن کے گرنے کے بعد کشمیری بالکل فلسطین کے عوام کی طرح اپنی زمینوں سے بے دخل ہو جائیں گے۔ بھارتی آئین کی ان دونوں شقوں کے خاتمے کے نتیجے میں جو تبدیلیاں مقبوضہ کشمیر میں آئیں گی کچھ اس طرح ہیں۔
    1 کشمیر کا انفرادی آئین ختم ہو چکا ہے۔
    2 وہاں ہندو آبادکاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ممکن ہو جائے گی۔
    3 وہاں کی زمینیں جو غیر کشمیری لوگ نہیں خرید سکتے تھے اب خرید سکیں گے۔
    4. وہاں پہ ہندو سرمایہ کاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ہو سکتی ہے۔ یعنی ہندو کشمیری زمینیں خرید کر وہاں آباد ہوں گے اور رفتہ رفتہ ہندو تعداد میں کشمیریوں سے زیادہ ہو جائیں گے۔
    5 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔
    6مقبوضہ کشمیر براہِ راست دلی کی ماتحتی میں چلا گیا ہے۔
    7. پہلے وہاں بھارت کا کوئی قانون آئینی طور پر نہیں چل سکتا تھا اب سارے چلیں گے۔
    8 مقبوضہ کشمیر کی انفرادی ثقافت ختم ہو جائے گی۔
    9 لداخ الگ ہو جائے گا۔
    10 مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی ختم ہو جائے گی۔
    11 مقبوضہ کشمیر کا اپنا کوئی صدر اور وزیرِ اعظم نہیں ہو گا بلکہ ایک لیفٹینٹ گورنر بھارتی پارلیمنٹ کی نگرانی میں پورا مقبوضہ کشمیر کنٹرول کرے گا
    12 کشمیر کا الگ پرچم نہیں ہو گا بلکہ وہاں پہ ترنگا لہرائے گا۔
    13 کشمیر میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ نہیں ہو سکتی تھی صدرِ ہندوستان کے حکم کے باوجود بھی۔ اب ہو گی۔
    یعنی یہ سارے اقدامات وہ ہیں جن کے بعد مقبوضہ کشمیر سے وہاں کے عوام کا کنٹرول اور عمل داری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ جب یہودیوں نے فلسطین کے چھوٹے سے علاقے پہ قبضہ کر کے اسرائیل کی بنیاد رکھی تھی تو انہوں نے بھی یہی کیا تھا۔ آج پورے فلسطین کو یہودی آباد کاروں کےزریعے اسرائیل میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اور فلسطینیوں کو اردن اور دیگر علاقوں میں ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ بھارت اب بہت بڑی تعداد میں وہاں پہ ہندؤں کو آباد کرے گا۔ اور پھر ایک وقت میں ہندؤں کی تعداد مقبوضہ کشمیر میں اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ وہاں پہ کشمیری مسلمان کم اور بھارتی ہندو زیادہ ہو جائیں گے۔ وہاں کی مسلمان آبادی کو برما کے مسلمانوں کی طرح شدید ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں مقبوضہ کشمیر چھوڑنے پہ مجبور کر دیا جائے گا۔ اور اس طرح لاکھوں کشمیریوں کو آزاد کشمیر دھکیل کر مقبوضہ کشمیر سے ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت اس سارے وقت میں مذمت پہ مذمت کر رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کو ان مذمتوں سے کوئی نقصان نہیں ہو رہا اور نا ہی کشمیریوں کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے۔ عملی معنوں میں کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
    اس واقعہ سے قبل حکومت اور تمام متعلقہ حکام نے جس بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اس پہ جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت جب اس سارے عمل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا دیا جاتا۔ اب بھی تو اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا رہے ہیں تو پہلے یہ کام کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے آج کشمیر جا چکا ہے ، اگر اس سستی اور غفلت کا ازالہ نہ ہوا تو یہ قوم اور کشمیر کے لاکھوں عوام زمہ داروں کو تاقیامت معاف نہیں کریں گے۔اب مذمت اور قراردادوں کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ قوم آپ کے عملی قدم کی منتظر ہے۔

    Hanzla Tayyab
  • عمران خان کامیاب دورہ امریکہ اور بھارت کا ردعمل — تبریز احمد ممریز ایڈووکیٹ

    قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کے سربراہان کی طرف سے امریکہ کے درجنوں دورے کیے جاچکے ہیں. جن سے امریکہ پاکستان تعلقات میں اتارچڑھاؤ کی صورت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے.
    کبھی پاکستانی وزیر اعظم کو واشنگٹن لانے کے لیے ذاتی طیارے بھیجے جاتے. کبھی افغانستان میں Do More کی پالیسی پر زور دیا جاتا، کبھی ایڈ نہ دینے کی دھمکی دی جاتی. اور آج یہ حالت کہ عمران خان کا واشنگٹن میں تاریخی اور غیر معمولی جلسے کا انعقاد اور امریکی صدر کی عمران خان کی تعریف کرنا، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے سراہنا اور کشمیر کے ایشو پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرنا شامل ہیں.
    مگر اصل بات یہ ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ کامیاب رہا یا پھر گزشتہ ادوار کی طرح قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گا. ویسے تو اس دورے کی کامیابی، ناکامی یا ردعمل کا آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا.
    مگر میرے نزدیک پاکستان کے کسی بھی قومی یا عالمی رویئے یا واقعہ کے بارے میں اندازہ لگانے کے لئے بھارت اور بھارتی میڈیا کا اہم کردار رہا ہے. میں سمجھتا ہوں کہ دور امریکہ کی کامیابی کا اندازہ لگانے والا صحیح پیمانہ بھارتی میڈیا ہے کیونکہ بھارتی میڈیا بھارتی سرکار کی زبان طوطے کی طرح بولتا ہے
    وزیر اعظم عمران خان کے وائٹ ہاؤس کے دورے اور صدر ٹرمپ سے ملاقات میں سب سے بڑی پیش رفت جو رہی ہے وہ مسئلہ کشمیر میں امریکہ کا ثالث کا کردار ہے. جو میرے نزدیک ایک اچھی پیش رفت ہو گی. قیام پاکستان سے لے کر اب تک ان 72 سالوں میں بھارت اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ جو رہا ہے وہ مسئلہ کشمیر ہے. جس پر بھارت نے ہمیشہ ڈبل پالیسی کا سہارا لیا ہے.
    وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کی ملاقات میں بڑا انکشاف جو صدر ٹرمپ نے کیا وہ بھارت کی دوغلی پالیسی کا پردہ چاک کر دیا. بھارت نے ہمیشہ عالمی سطح پر یہ ہی واویلا مچایا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے کشمیر کے مسئلہ پر کسی ثالث یا تیسرے ملک کا کردار نہیں چاہتا جبکہ کل صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ اب سے چند روز قبل G20 کے سالانہ اجلاس میں مودی نے صدر ٹرمپ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے ہماری مصلحت اور کشمیر میں ثالث کا کردار ادا کریں.
    مگر دوسری طرف آج بھارتی میڈیا ہے جو نہ صرف مسئلہ کشمیر پر امریکہ کا ثالث کے کردار پر رو رہے ہیں بلکہ اک عالمی طاقت امریکہ کے اس عمل کو جھوٹا اور غلط بول رہے ہیں.
    جس پر نہ صرف بھارتی میڈیا بلکہ بھارتی پارلیمنٹ میں بھی واویلا مچا ہوا ہے.
    جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کرانے کی پیشکش کی تو بھارتی ذرائع ابلاغ میں کہرام مچ گیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بھارتی ٹی وی چینل نے تو سرخی لگا دی کہ (امریکہ نے بھارت پر کشمیر بم گرادیا ہے۔) بھارتی سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے ڈالے جانے والے بے سر و پا شور شرابے سے مجبور ہوکر بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی بھی امریکی صدر سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست نہیں کی ہے۔انہوں نے گھسا پٹا روایتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تمام درپیش مسائل پر صرف دو طرفہ بات چیت ہوسکتی ہے.
    مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ مودی جن کا شمار دنیا کے سوشل میڈیا کے فعال ترین صارفین میں ہوتا ہے وہ اب تک اپنے یا امریکی صدر کے بیان پر چپ کا سہارا لیے بیٹھے ہیں. جس سے بہت زیادہ نئے سوالات جنم لے رہے ہیں.دلچسپ امر ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی رواں سال ستمبر میں امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں۔

    دوسری جانب کشمیر میں پاکستان کے امریکہ میں ایسے عمل کو ایک مثبت قدم جانا گیا ہے. بزرگ کشمیری رہنما اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اپنی زندگی میں پہلا لیڈر دیکھ رہا ہوں جس نے ہم نہتے کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی ہے۔سید علی گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکہ کو کشمیر کی آزادی کے لیے کردار ادا کرنا پڑے گا اور ہم امریکہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔
    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستانی میڈیا کی ہرزہ سرائی کے سوال و جواب اور مودی کی خاموشی کیا رنگ لاتی ہے. اور ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب کی کوشش کیا اثر دکھاتی ہیں.
    میری تو دعا ہے کہ کشمیریوں کے لئے یہ دورہ امریکہ اور پاکستانی کوشش رنگ لائیں. اور کشمیریوں کے لیے ایک روشن اور آزاد صبح کی نوید ثابت ہو.

    خدا کرے میرے ارض پاک پر اترے

    وہ فصل گل جسے اندیشہ۶ زوال نہ ہو

    ایڈووکیٹ تبریز احمد ممریز

  • ہم سعودی عرب کو ہتھیار بیچتے رہیں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

    ہم سعودی عرب کو ہتھیار بیچتے رہیں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیار بیچنے سے متعلق کانگریس میں پاس کی جانے والی قراردادوں کو ویٹو کر دیا ہے
    قرارداد کا متن تھا کہ امریکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھار بیچنے سے باز رہے تا کہ خطے میں امن و ترقی کا بول بالا ہو، کانگریس کی جانب سے پاس کردہ قراردادوں پر امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کو ہتھیار بیچنے کا مقصد ایران کی طرف سے کی جانے والی کسی قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کرنا ہے
    مائک پومپیو نے مزید کہا کہ امریکہ نے اگر اب اپنے خلیجی اتحادیوں کا ساتھ نہ دیا تو یہ بڑی ناانصافی ہوگی اور اس سے یہ تاثر جائے گا کہ امریکہ مشکل وقت میں اپنے اتحادیوں کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے

    امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیار بیچنے والا ملک ہے، ایک ایسا ترقی یافتہ ملک ہے جس کی آمدن کا 70 فیصد انحصار ہتھیاروں کی فروخت پر ہے جس میں لوکی ہیڈ مارٹن اور بوئنگ جیسی نامور کمپنیاں پوری دنیا میں اربوں ڈالر کے ہتھار برآمد کرتی ہیں، ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے ممبران کی طرف سے لائے جانے والی قرارداد کو رد کرنے کیلئے ویٹو کر دیا ہے،

  • وائٹ ہاوس اعلامیے میں کشمیر کا ذکر کیوں نہیں؟  … رضی طاہر

    وائٹ ہاوس اعلامیے میں کشمیر کا ذکر کیوں نہیں؟ … رضی طاہر

    وضاحت : کشمیر پر سرکاری طور پر بات کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے، گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر مودی کو آئینہ دکھایا ہے. امریکی وزارت خارجہ شاید اس پات پر کبھی متفق نہ ہو لیکن ٹرمپ نے یہ کام کر دکھایا. اچھی بات ہے. کشمیر پر اب ہمارے پاس یہ مثال بھی آ گئی کہ امریکی صدر نے کشمیر کو متنازع علاقہ مانا اور اعلانیہ کہا کہ اس خوبصورت جگہ میں ظلم ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کا بیان بھارتی موقف کی پسپائی ہے۔ جبکہ پاکستان کی بھارت کے خلاف مسلسل پانچویں فتح ہے۔

    1۔ پہلی فتح : بھارتی طیارے گرانا اور بزدلانہ کاروائی کا منہ توڑ جواب

    2۔ دوسری فتح : بھارتی فنڈنگ کے باوجود قبائلی علاقہ جات میں بھارت کے ہر ہتھکنڈے کو الیکشن اور بیلٹ کے ذریعے شکست دینا، پی ٹی ایم کی ناکامی

    3۔ تیسری فتح : کلبھوشن کو عالمی عدالت سے رہائی نہ ملنا اور عالمی عدالت کا کلبھوشن کے دہشتگرد ہونے پر مہر ثبت کرنا

    4: چوتھی فتح : بلوچستان کو لے کر بھارتی پروپیگنڈے کا اپنی موت آپ مرنا اور بی ایل اے کو عالمی دہشتگرد قرار دیئے جانا۔

    5۔ پانچویں فتح: امریکی صدر کا کشمیر کو متنازعہ علاقہ ماننا اور ثالثی کی پیشکش کرنا۔


    رضی طاہر

  • ففتھ جنریشن وار اور ہماری زمہ داری ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    ففتھ جنریشن وار اور ہماری زمہ داری ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    پاکستان میں آج کل ‘ففتھ جنریشن وار فئیر’ کی اصطلاح کا استعمال کافی عام ہو گیا ہے۔ حکومت کے وزرا ہوں یا پاکستانی فوج کے ترجمان یا سوشل میڈیا پر صارفین، سب نے مخلتف مواقع پر اس بات کو دہرایا ہے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار فئیر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
    یوں تو ففتھ جنریشن وار ہر زبان زد عام ہے مگریہ جاننا ناازحد ضروری ہے کہ یہ ہے کیا؟
    جس طرح فورتھ جنریشن وار فیصلہ کن اور ایک مہلک جنگی حکمت عملی تھی۔اس میں بھاری اور قیمتی اسلحہ کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کو زیر کیا جاتا تھا جیسے عراق کا کویت پر حملہ پھر سویت یونین اورافغانستان کی جنگ کے بعد سویت یونین کاٹوٹ کر بکھر جانا اور امریکی حمایت یافتہ ملیشیا کا قابل پر قبضہ۔
    پھر امریکہ کا ہی افغانستان پر حملہ کرکےدوبارہ جنگ میں دھکیلنا وغیرہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن میں طاقت اور قوت کے ساتھ دشمن پر حملہ کیا جاتا اور بہت جلد اس کو تباہ و برباد کر دیا جاتا تھا۔اسی طرح اب روایتی ہتھیاروں کی جنگ کی جگہ ایک نئی حکمت عملی نے لے لی ہے جو آج کل ففتھ جنریشن وار فئیر کے نام سے مشہور ہے۔
    نوے کی دہائی میں عراق کو مسلسل اقتصادی پابندیوں کے ذریعے اندر سے کھوکھلا کرنا اور کیمیائی و حیاتیاتی اسلحہ اور وسیع تر تباہی والے ہتھیاروں کے ذخیرے اور صلاحیت کے متعلق انتہائی مبالغہ آمیز پراپیگنڈوں کے ذریعے عالمی سطح پر تنہا کرنا اور پھر شدید بمباری کرتے ہوئے مختلف شہروں کو تباہ کردینا بغداد اور دوسرے علاقوں کے اندر امریکی اور امفوج کو داخل کرکےبہت جلد مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ففتھ جنریشن وار کا ہی شاخسانہ ہے۔
    یہ طریقہ جنگ کم خرچ بالا نشیں کے مصداق سمجھاجاتا ہے۔
    اور کم خرچ میں میں بہت زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جاتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی مہربانی کی بدولت القاعدہ سے داعش کوپیدا کیا اور ففتھ جنریشن وار کے ذریعے مسلمانوں کے اندر زہر قاتل کی صورت اس کو بڑھاوا دیا تاکہ اس شدت پسند تنظیم کی مدد سے دنیا میں اسلام کو دہشت گرد مذہب گردانہ جائے اور اسی کی مدد سے مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جانے لگا۔ الغرض
    مختلف متحارب گروہوں اور عوام کو انکی افواج کے خلاف کھڑا کیا گیا جیسا کہ شام لیبیا یمن اور عراق جیسے ممالک کے ساتھ ہوا۔
    اسی طرح ففتھ جنریشن وار کو پاکستان میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے گمشدہ افراد کا واویلہ کیا جاتا ہے اور بیرونی این جی اوز موم بتی مافیہا کی مددسےاسکو ایک بڑا ایشو بنا دیتی ہیں۔جبکہ وہ لوگ انہی تنظیموں کے کارکن ہوتے ہیں۔
    اسکو سمجھنے کے لیے کراچی میں چائنہ کے سفارت خانے پر حملے کا ملزم جو گمشدہ افراد کی لسٹ میں شامل تھا اسی طرح گزشتہ ماہ گوادر میں ایک ہوٹل پر ہوئےحملے کے ملزم بھی نام ونہاد گمشدہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے جو آپریشن کے دوران مارے گئے
    اسی طرح مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کو استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے اندر مختلف لسانی صوبائی اور مسلکی تفرقات کو ہوا دی جا رہی ہے۔
    اور دشمن قوتوں کی طرف سے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے سکیورٹی کے مختلف اداروں کے خلاف پراپیگنڈا مہم لانچ کی گئی ہے جس کا مقصد اداروں اور عوام میں دوریاں پیدا کرنا ہے۔
    پی ٹی ایم۔ایم کیو مسلم لیگ ن اور ان جیسی بہت سی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں استعمال ہورہی ہیں۔
    تاکہ عوام کے اذہان کو تسخیر کرتے ہوئے افواج پاکستان کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کی جائیں۔
    موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم تمام قسم کے لسانی صوبائی اور مسلکی اختلافات کے ساتھ ساتھ شخصیت پرستی کے ناسور سے بھی بالاتر ہوکر ایک قوم بنیں اور اپنی مسلح افواج اور ایجنسیز کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ وہ اپنی بھر پور قوت کے ساتھ ملکی دفاع کو مزید مضبوط اور مستحکم بنائیں یہ تبہی ممکن ہے جب ہم اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
    ہر فورمز پر اپنے نظریات کا دفاع کریں۔
    اور منفی پروپیگنڈوں کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں مضبوط اور طاقتور پاکستان ہی ہماری بقا کا ضامن ہے اور اسی طرح اسلامی فلاحی ریاست کے خواب کی تعبیر ممکن ہے۔

  • سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول بنا رہے ہیں: وزیراعظم

    سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول بنا رہے ہیں: وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران نے تجارتی قونصل امریکا کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ ہماری حکومت سرمایہ کاروں اور تاجروں
    کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے، پاکستانی و امریکی تاجروں کے وفد کی سربراہی ڈاکٹر محمود خان کر رہے تھے،

    سرمایہ کاروں کے وفد میں ایبٹ،سٹی بینک، ایگزون موبل، فیس بک، جنرل الیکٹرک، نیٹسول، پیپسیکو، اوبرکے نمائندے شامل تھے
    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں منافہ بخش کاروبار کرنے کو منفی کام سمجھا جاتا تھا لیکن ہماری حکومت اس نقطہ نظر کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے

  • امریکی قونصلیٹ سے پاکستان کیلئے اچھی خبر

    امریکی قونصلیٹ سے پاکستان کیلئے اچھی خبر

    کراچی: امریکی قونصلیٹ کے اقتصادی یونٹ کے سربراہ چاڈ مائنز نے کہا ہے کہ امریکی حکومت پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی رکھتی ہےکیونکہ کے پاکستان امریکہ کواشیا برآمد کرنے والا بڑا برآمد کنندہ ملک ہے
    کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پرانہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کیلئے پاکستان کی درآمدات کی ویلیو ایدیشن اور پیکیجنگ پر توجہ دی جائے تو یہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے

  • وزیرستان، تاریخ کے جھروکوں میں ۔۔۔ زین خٹک

    وزیرستان، تاریخ کے جھروکوں میں ۔۔۔ زین خٹک

    سر زمین وزیرستان کی بدقسمتی کہیے کہ یہ خطہ گذشتہ صدی سے میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔1884 میں تخت برطانیہ کے قبضے میں آنے کے بعد جرمن حکومت نے مقامی لوگوں کی مدد شروع کی۔ اور تخت برطانیہ کے خلاف تحریک مجاہدین کی بنیاد رکھی ۔ پروپیگنڈہ کرنے کے لیے یہاں ریڈیو اسٹیشن قائم کیے گئے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بھی وزیرستان میدان جنگ بنا رہا۔ مقامی لوگوں اور تخت برطانیہ کی کاروائیاں جاری رہیں۔ 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد تحریک مجاہدین نے نہ صرف پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا بلکہ افغانستان کی مدد سے پاکستان کے خلاف کارروائی بھی شروع کی۔ تحریک مجاہدین کے امیر فقیر ایپی وزیر کی وفات 1960 تک وزیرستان میں بے چینی رہی۔ 1970 کے دہائی میں افغانستان میں کمیونسٹ حکومت کے آنے کے بعد وزیرستان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ افغان جہاد میں وزیرستان اسامہ بن لادن اور دیگر بین الاقوامی جنگجوؤں کا ہیڈ کوارٹر مانا جاتا تھا۔ ان جنگجوؤں میں زیادہ تر نے’انصار اور مہاجرین کی تاریخی مثالیں دہراتے ہوۓ مقامی لوگوں سے شادی بیاہ جیسے رشتے استوار کیے۔ اور یہاں سکونت اختیار کی۔ افغان جنگ کے بعد تحریک طالبان کے دور میں ممتاز تحریکی لیڈرشپ نے وزیرستان میں سکونت اختیار کی جن میں حقانی نیٹ ورک کے جلال الدین حقانی سرفہرست ہیں ۔1997 میں امریکہ نے پہلی بار نوازشریف کے دور حکومت میں وزیرستان میں مجاہدین کے کیمپوں پر میزائل داغے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد وزیرستان مسلسل آپریشنز اور جنگو ں کی زد میں رہا۔ پاکستان آرمی نے جانی قربانیاں دے کر وزیرستان کو دہشتگردوں سے پاک صاف کیا۔ لیکن ابھی ایک نئے فتنے پی ٹی ایم نے جنم لیا ہے۔ اور وزیرستان کو دوبارہ تباہی، دہشتگردی ،بدامنی کی آگ میں دھکیلنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس بارے آئندہ ایک تحریر میں مفصل بات ہو گی۔

  • ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    عالمی ماہرین عسکریات و جنگ اور سیاست کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں دو طاقتیں یعنی امریکہ اور ایران کا مبینہ ٹکراؤ ہوتا ہے تو وہ پھیل کر جی سی سی ممالک کے دروازے تک جائے گا۔

    بیشک یہ جنگ یا ٹکراؤ ہو یا نہ ہو پر ایک بات روز روشن کی طرح ان دونوں ممالک کے تمام سابقہ بیانات, اقدامات اور اشتراکات کے بعد واضح ہے کہ ٹکرانے والی دونوں ریاستوں کے اس ٹکراؤ کے پھیلنے سے ان کے دیرینہ اور مشترکہ مفادات مکمل ہونگے جیسے کہ

    —چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور اقتصادی و تجارتی گرفت کمزور ہوگی۔

    —سی پیک منصوبہ سبوتاژ ہوگا۔

    —پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی و اقتصادی اور دفاعی ترجیحات و توقعات بند گلی میں رک جائیں گی۔

    —خطے میں عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوگی جو گریٹر اسرائیل منصوبے کی تکمیل کو سہل بنائے گی۔

    —جنگ پھیلے گی تو یقیناً جنگ ذدہ ممالک کی عوام بھوک, افلاس اور تباہی کی شکار ہوگی جہاں این جی اوز کی بھرمار کرکے مائنڈ کنٹرول گیم کا مرحلہ وار آغاز کیا جائے گا۔

    —خطے کے غیور اور طاقتور ممالک کی غیرت اور طاقت بالائے طاق رکھ دی جائے گی یا گروی۔

    —جنگ پھیلنے کے بعد بہت ممکن ہےکہ ٹکرانے والے دونوں ممالک حریف سے حلیف بن جائیں اعلانیہ ان ممالک کے خلاف جہاں ان کی شروع کی جنگ پھیل کر پہنچے گی اور جن کی تباہی سے ان کے مفادات کی تکمیل ممکن ہوگی۔

    —ہر دو صورتوں یعنی جنگ یا جنگی ڈرامے میں یمن, چین اور پاکستان بہرحال نشانے پر ہیں, تھے اور رہیں گے کہ اتنا تام جھام فقط آپس میں ایسی جنگ لڑنے کے لیئے نہیں کیا گیا جس میں کوئی فائدہ نہیں۔

    اب بھی کسی کو شک ہے کہ یہ عالمی مینوپولیوشن نہیں ہورہی آجکل ایران امریکہ تنازعے کی آڑ میں تو وہ پوگو دیکھے۔