Baaghi TV

Tag: امریکی افواج

  • افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار جشن

    افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار جشن

    کابل: افغانستان سے امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر طالبان کی جانب سے جشن منایا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : منگل کی شب کابل میں آسمان آتش بازی سے جگما اٹھا جس کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں دارالحکومت کابل کو رنگ برنگی لائٹوں سے روشن کیا گیا ہے جب کہ آج بدھ کو ملک بھر میں عام تعطیل ہے۔


    کابل میں تین سلطنتوں کے خلاف فتوحات کا جشن منانے کے بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔ ان سلطنتوں میں سابق سوویت یونین اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔

    سرکاری عمارتوں اور اسٹریٹ لائٹس پر طالبان کے سینکڑوں سفید پرچم لگائے گئے ہیں دارالحکومت کابل میں سابق امریکی سفارت خانے کے قریب مسعود اسکوائر پر طالبان سفید پرچم اٹھائے دکھائی دیئے جبکہ وہ شہر بھر میں گاڑیوں کے ہارن بجاتے ہوئے گشت کرتے رہے۔


    افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کی خوشی میں بگرام ایئر بیس پر شاندار ملٹری پریڈ منعقد ہوئی، وزیراعظم محمد حسن اخوند مہمان خصوصی تھے، وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ سمیت امارت اسلامیہ کی کابینہ اور اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی-


    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر میں پوری قوم اور جہاد کے متاثرین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔


    انہوں نے کہا کہ مجاہدین کو آگاہ ہونا چاہیے کہ جہاد کی تمنائیں رائیگاں نہیں جاتیں، قوم کو مت بھولیں، اللہ تعالی پر توجہ دیں، لوگوں کی تھکاوٹ پر غور کریں اور انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔
    https://twitter.com/IslamicEmiirate/status/1564577635488899073?s=20&t=UTyvIQyhFBdJmL6CPtvsRg

    اس موقع پر افغانستان کی نگراں حکومت کا کہنا ہے کہ ملک سے امریکی افواج کے انخلا کی پہلی سالگرہ کے موقع پر دنیا افغانستان کے حوالے سے معقول پالیسی اپنائے گی اور اس کی علاقائی سالمیت کا احترام کرے گی۔


    واضح رہے کہ امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ گزشتہ برس ہوا تھا اور 31 اگست کی آدھی رات غیر ملکی افواج کا انخلا مکمل ہوا تھا جس سے دو ہفتے قبل ہی طالبان نے افغانستان کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔

    امریکہ نے اس 20 سالہ طویل جنگ کا آغاز 11 ستمبر 2001 میں نیویارک میں ہونے والےحملوں کے تناظر میں کیا تھا۔اس جنگ کے دوران لگ بھگ 66 ہزار افغان فوجی اور 48 ہزار شہری ہلاک ہوئے جبکہ امریکی سروس کے دو ہزار 461 اراکین بھی مارے گئےاس کے علاوہ دیگر نیٹو ممالک کے ساڑھے تین ہزار سے زائد فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت کو اب تک کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ طالبان کی حکومت پر عالمی دباؤ ہے کہ وہ انسانی حقوق خصوصاً خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور سخت قوانین میں نرمی لائیں۔

    افغانستان کے تقریباً تین کروڑ 80 لاکھ افراد بدترین انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ کیوںکہ ملک کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد ہیں اور غیرملکی امداد ختم ہو رہی ہے۔

  • عراق میں اچانک امریکی افواج کی نقل وحرکت میں اضافہ

    عراق میں اچانک امریکی افواج کی نقل وحرکت میں اضافہ

    امریکی فوج نے مبینہ طور پر شام کے شمال مشرقی صوبے حسقہ سے فوجی اور لاجسٹک آلات سے لدے ٹرکوں کا ایک نیا قافلہ شمالی عراق کے نیم خودمختار کردستان علاقے میں اپنے ایک اڈے پر بھیجا ہے۔جس کی وائرل ہونے والی تصاویر میں خطے میں امریکی افواج کی بڑےپیمانے پرنقل وحرکت پرتشویش کا اظہارکیاجارہاہے

    ایک عراقی سیکورٹی کا کہنا ہے کہ 20 سے زیادہ ہمر فوجی اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیاء اور رسد سے لدے ٹرکوں کا ایک قافلہ منگل کو عراق میں داخل ہوا۔ذرائع نے مزید کہا کہ یہ قافلہ شمال مشرقی شام کے ایک علاقے سے آیا تھا، جس پر نام نہاد سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے اتحادی عسکریت پسندوں کا کنٹرول ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ گاڑیاں کردستان کے علاقے شکلاوا ضلع میں واقع الحریر ایئر بیس کی طرف روانہ ہوئیں جب سیمالکا بارڈر کراسنگ سے گزریں۔بغیر پائلٹ کی فضائی گاڑیاں مبینہ طور پر اوپر سے اڑ گئیں اور عراق میں فوجی قافلے کی حفاظت کی۔عراق کے مغربی صوبے الانبار میں عین الاسد ایئر بیس پر مبینہ طور پر ایک راکٹ حملہ ہوا ہے، تاہم ممکنہ جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ 2020 میں اعلی ایرانی انسداد دہشت گردی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد سے عراق میں امریکہ مخالف جذبات میں شدت آئی ہے۔

    ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل سلیمانی اور ان کے عراقی خندق ابو مہدی المہندس، پاپولر موبلائزیشن یونٹس کے نائب سربراہ کو ان کے ساتھیوں کے ساتھ 3 جنوری 2020 کو نشانہ بنایا گیا۔ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک دہشت گرد ڈرون حملے کی اجازت دی گئی۔

    حملے کے دو دن بعد، عراقی قانون سازوں نے ایک بل کی منظوری دی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ملک میں امریکہ کی قیادت میں تمام غیر ملکی فوجی دستوں کی موجودگی کو ختم کرے۔8 جنوری 2020 کوایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور نے جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے حملوں کی ایک لہر شروع کرنے کے بعد عراق کے مغربی صوبے الانبار میں امریکی زیر انتظام عین الاسد کو نشانہ بنایا۔

    عراق کے انسداد دہشت گردی پاپولر موبلائزیشن یونٹس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مزاحمتی جنگجو ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنی کارروائیاں اس وقت تک نہیں روکیں گے جب تک کہ تمام امریکی قابض فوجی عرب ملک سے پسپائی کو شکست نہ دے دیں۔پینٹاگون کے مطابق اس اڈے پر جوابی حملے کے دوران 100 سے زیادہ امریکی افواج کو "دماغی تکلیف دہ چوٹ” کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اس اصطلاح کا استعمال ان امریکیوں کی تعداد کو چھپانے کے لیے کرتا ہے جو جوابی کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔

  • امریکی افواج نے  1945 کی دوسری جنگِ عظیم میں چرایا گیا کیک واپس کر دیا

    امریکی افواج نے 1945 کی دوسری جنگِ عظیم میں چرایا گیا کیک واپس کر دیا

    اٹلی: امریکی افواج نے 90 سالہ اطالوی خاتون کو کیک واپس کر دیا جو 1945 کی دوسری جنگِ عظیم میں امریکی فوجیوں نے چراکر کھالیا تھا اس کیک کی واپسی کے لئے باقاعدہ تقریب منعقد کی گئی-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق خاتون میری مایون نے بتایا کہ ان کی عمر اس وقت صرف 13 برس تھی جب وہ ویسینزا، اٹلی کے پاس سان پیٹرو کے دیہات میں رہائش پذیر تھی یہاں جرمن اور امریکی افواج میں شدید جنگ ہورہی تھی میری کی والدہ نے اس کے لیے سالگرہ کیک تیار کیا تھا اور اسے کھڑکی کے باہر ٹھنڈا ہونے لیے رکھنے کو کہا جبکہ تھوڑی دیر بعد کیک وہاں سے غائب تھا اور محاذ پر لڑتے ہوئے امریکی فوجیوں نے اسے کھالیا تھا میری نے کیک کو ہر جگہ تلاش کیا لیکن وہ کہیں نہ ملا اور یقین ہوچلا کہ کیک کسی نے چرایا ہے۔

    تاہم اب ایک لمبے عرصے بعد امریکی افواج نے باقاعدہ ایک تقریب میں یہ کیک واپس کیا ہے جمعرات کو اٹلی کے ایک گیارڈائنی سالوی پارک میں خاتون، ان کے اہلِ خانہ، امریکی فوجیوں اور دیگر شہریوں کو مدعو کیا گیا تھا اور انہیں اطالوی اور انگریزی زبان میں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی گئی تھی۔

    اس موقع پر خاتون نے فرطِ جذبات سے کہا کہ وہ یہ لمحہ بھول نہیں سکتیں کیونکہ وہ زندگی کا ایک یادگار دن بھی تھا انہوں نے کہا کہ وہ کیک کا بقیہ حصہ اپنے اہلِ خانہ کو بھی پیش کریں گی اس موقع پر امریکی سارجنٹ پیٹر ویلس نے کہا کہ اگرچہ یہ تھوڑا عجیب واقعہ ہے لیکن وہ کیک واپس کرتے ہوئے مسرت محسوس کررہے ہیں

    اس واقعے میں 19 امریکی سپاہی ہلاک ہوئے تھے جبکہ کئی ٹینک بھی راکھ ہوگئے تھے۔ اٹلی کے اس گاؤں نے امریکیوں کے لیے کھانے اور شراب بھی پیش کی تھیں تاہم کیک بنا اجازت اٹھایا گیا تھا امریکی افواج نے اس موقع پر جنگ میں ان کا ساتھ دینے پر اطالوی عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔