Baaghi TV

Tag: امریکی انتخابات

  • کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین؟ ٹرمپ،کملا آمنے سامنے، پہلا انتخابی نتیجہ سامنے آ گیا

    امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے ایک چھوٹے سے قصبے ڈکسول نوچ سے امریکی صدارتی انتخابات کا پہلا نتیجہ سامنے آیا ہے،صدارتی امیدواروں کملا ہیرس اور ٹرمپ کے درمیان مقابلہ برابر رہا،، ڈکسول نوچ میں مقیم کمیونٹی میں آدھی رات کو ووٹ ڈالنے کی روایت ہے ،پہلے نتیجے کے مطابق کملا ہیرس کو صرف تین جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تین ہی ووٹ ملے،نیو ہیمپشائر کے باقی حصوں میں پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے ہی شروع ہو گا۔

    دوسری جانب امریکی صدارتی انتخابات میں 24 کروڑ سے زائد افراد حق رائے دہی استعمال کریں گے،7 کروڑ افراد نے پولنگ ڈے سے پہلے ہی ووٹ ڈال دیئے ہیں، کملا ہیرس نے مشی گن میں اپنا ووٹ بذریعہ ای میل کاسٹ کردیا، صدر بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے ہوں گے، الیکٹورل کالج میں کمالا ہیرس کو مجموعی طور پر 226 اور ڈونلڈ ٹرمپ کو 219 ووٹ ملنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

  • ٹرمپ یا کملا؟ کون جیتے گا، پنڈتوں کی حیران کن پیشگوئی

    ٹرمپ یا کملا؟ کون جیتے گا، پنڈتوں کی حیران کن پیشگوئی

    امریکہ میں آج صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں ، کون وائیٹ ہاؤس پہنچے گا فیصلہ عوام کریں گے تا ہم مستقبل پر نظر رکھنے والے پنڈتوں نے ٹرمپ کی شکست کی پیشگوئی کی ہے

    امریکی مورخ لچ مین،جو امریکا میں ہونے والے گزشتہ دس انتخابات کی پیش گوئی کر چکے ہیں اور ان میں سے نو درست ثابت ہوئی ہیں کا کہنا ہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ صدارتی الیکشن ہار جائیں گے،لچ مین کی 2000 کی پیش گوئی صرف غلط ہوئی تھی ، اسکے علاوہ تھامس ملر نے 2016 میں ٹرمپ کی جیت کا کہا تھا اورو ہ اس بار کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ ہاریں گے اور کملا ہیری جیتیں گی،امریکی جریدے فارچیون کے مطابق، مہم کے آخری مرحلے میں یہ پیش گوئیاں اچانک ٹرمپ سے ہٹ کر کملا ہیرس کی طرف آ گئی ہیں، ایک ہفتہ پہلے تک پیش گوئیاں ٹرمپ کی جیت کی طرف اشارہ کر رہی تھیں، لیکن اب صورتحال تبدیل ہو گئی ہے اور کملا ہیرس کو برتری حاصل ہے۔

    یہ پیش گوئیاں اس بات کی غماز ہیں کہ انتخابات کا نتیجہ غیر متوقع ہو سکتا ہے۔ ایک طرف، جہاں لچ مین جیسے مورخ کی درست پیش گوئیاں ماضی میں قابل اعتماد رہی ہیں، وہیں تھامس ملر کا بدلا ہوا موقف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انتخابی نتائج میں کوئی بڑا موڑ آ سکتا ہے۔ کملا ہیرس کی جیت کی پیش گوئی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عوامی رائے میں تبدیلی آ رہی ہے، اور سیاسی منظرنامہ وقت کے ساتھ بدل رہا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدارتی انتخابات کی تیاریاں مکمل ہوگئیں، بیلٹ باکسز، پیپرز اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں پولنگ سینٹرز میں پہنچادی گئیں، جہاں 24 کروڑ سے زائد افراد حق رائے دہی استعمال کریں گے،امریکی صدارتی انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور الیکشن عملے پر تشدد کے خدشات سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتطامایت کیے گئے ہیں امریکی ریاست اوریگان، واشنگٹن اور نیواڈا میں نیشنل گارڈز کو فعال کردیا گیا جبکہ خطرات کے پیش نظر ایف بی آئی کی جانب سے بھی کمانڈ پوسٹ قائم کردی گئی جبکہ ایری زونا، مشی گن اور نیواڈا سمیت 19 ریاستوں میں 2020 سے الیکشن سیکیورٹی قوانین نافذ ہیں، 7 سوئنگ ریاستوں میں ووٹرز کے اعتماد، سیکیورٹی اور شفاف الیکشن کے لیے حکام بھی پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

    امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے لیے پیسہ کہاں سے آتا

    امریکی انتخابات،دونوں جماعتوں کا کچھ نشستوں کے لیے سخت مقابلہ

    امریکی صدارتی انتخابات،ٹرمپ بمقابلہ ہیرس،الٹی گنتی شروع

    کیا ٹرمپ 2016 کی فتح کو دوبارہ حاصل کر سکیں گے؟

    مارے جانے والے گلہری نے جعلی ٹرمپ پوسٹ کے بعد انتخابات میں حیران کن بحث پیدا کر دی

    امریکی صدارتی انتخابات: ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ، کروڑوں ووٹ کاسٹ

    ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے

  • ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی، تجزیہ کار

    ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی، تجزیہ کار

    امریکی تجزیہ کار نے اپنی رائے میں کہاہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی.

    غیر ملکی خبررساں ادارے الجزیرہ کے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں امریکی نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کے سینئر نمائندے اولیور ناکس کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر نے ایک عشرے کے بعد پارٹی میں الیکشن مہم سے نئی روح پھونک دی ہے.اب ٹرمپ ہی ڈیموکریٹس کا چہرہ اور پہچان بن چکے ہیں. اولیور ناکس کا مزید کہنا تھا کہ 2020 کے واقع کے بعد کسی کو توقع نہیں تھی کہ ٹرمپ دوبارہ سے انتخاب لڑنے اور سیاست میں رہیں گے لیکن انہوں کر دیکھایا.واضح رہے کہ ٹرمپ نے 2020ء کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن سے ہارنے کے بعد تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلیوں کا جھوٹا دعویٰ کیا، اور حکومتی اہلکاروں پر دباؤ ڈال کر، متعدد ناکام قانونی چیلنجز کو بڑھا کر، اور صدارتی منتقلی میں رکاوٹ ڈال کر نتائج کو الٹنے کی کوشش کی ۔ 6 جنوری 2021 ءکو، اس نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ یو ایس کیپیٹل کی طرف مارچ کریں، جس پر ان میں سے اکثر نے حملہ کیا ، جس کے نتیجے میں متعدد اموات ہوئیں اور انتخابی ووٹوں کی گنتی میں خلل پڑا۔

    امریکی صدارتی امیدوار انتخابی مہم کا آخری روز پنسلوینیا میں گزاریں گے

    صدارتی انتخابات شفاف ہونگے،امریکی انتخابی ادارے کی عوام کو یقین دہانی

    امریکی، پاکستانی اور بھارتی صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟ ایک جائزہ

  • امریکی، پاکستانی اور بھارتی صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟ ایک جائزہ

    امریکی، پاکستانی اور بھارتی صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟ ایک جائزہ

    امریکی انتخابات کا بڑا مقابلہ اب سے کچھ دیر بعد شروع ہونے والا ہے۔

    سابق صدر ٹرمپ اور کملا ہیرس نئے کی دوڑ میں آمنے سامنے ہیں، لیکن روکیں، کیا آپکو معلوم ہے کہ اس اعلی ترین عہدے پر فائز ہونے والے صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے اور انہیں کیا کیا مراعات ملتی ہیں؟امریکہ کے صدر کی اس وقت سالانہ تنخواہ 4 لاکھ ڈالرز ہے جو 2001ء میں مقرر کی گئی تھی جبکہ 2001ء سے قبل 3 دہائیوں تک صدر کی سالانہ تنخواہ 2 لاکھ ڈالرز ہوتی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سالانہ تنخواہ کے علاوہ صدر کو مرعات میں 50 ہزار ڈالرز اخراجات کی مد میں، 19 ہزار ڈالرز تفریح کے لیے اور 1 لاکھ ڈالرز سفر کے لیے ملتے ہیں، سفر کے لیے ملنے والی رقم ٹیکس فری ہوتی ہے اور عہدہ چھوڑتے وقت صدر نے ان مرعات میں بچنے والی رقم امریکی صدر کی ملکیت نہیں ہوتی اور اس کو رقم کو خزانے میں جمع کرانا پڑتا ہے۔عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد امریکی صدر کابینہ سیکریٹری کے مساوی پنشن وصول کرتا ہے۔اس وقت ٹرمپ کو سابق صدر کی ہونے کے ناطے 2 لاکھ 30 ہزار ڈالرز سالانہ وفاقی پنشن ملتی ہے۔

    پاکستانی صدر کی ماہانہ تنخواہ

    صدرِ پاکستان کو تنخواہ الاؤنسز اینڈ پریویلجز ایکٹ 1975ء کے تحت ملتی ہے اس ایکٹ میں 2018ء کو ایک ترمیم کی گئی تھی۔اس ترمیم کے مطابق اب صدر کی تنخواہ میں اضافہ کابینہ کر سکتی ہےاور صدر کی تنخواہ، چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ سے علامتی طور پر 1 روپیہ زیادہ ہوتی ہے۔صدرِ پاکستان کی موجودہ ماہانہ تنخواہ 8 لاکھ 46 ہزار 550 روپے ہے لیکن آصف علی زرداری نے منتخب ہونے کے بعد اپنی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔صدر ہاوس کے اعلامیے کے مطابق صدرِ مملکت نے یہ فیصلہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کے پیشِ نظر کیا تھا۔

    بھارتی صدر کی ماہانہ تنخواہ

    بھارتی صدر کی ماہانہ تنخواہ اضافی مراعات کو ملا کر 5 لاکھ بھارتی روپے بنتی ہے جو 16 لاکھ 25 ہزار پاکستانی روپوں کے برابر ہے،یہاں یہ یاد رہے کہ یہ بھارت میں تمام سرکاری عہدوں میں سب سے زیادہ تنخواہ ہوتی ہے۔

  • امریکہ میں جانوروں کی پارٹیوں سےمنسوب ہونیکی دلچسپ تاریخ

    امریکہ میں جانوروں کی پارٹیوں سےمنسوب ہونیکی دلچسپ تاریخ

    پوری دنیا کی نظریں اس وقت امریکی صدارتی انتخابات پر جمی ہوئی ہیں امریکہ میں اس سے قبل ری پبلکن پارٹی کو زیادہ مرتبہ اقتار میں رہنے کا موقعہ ملا جہاں اسکی جانب سے 18صدور منتخب ہوئے، دوسری طرف ڈیموکریٹ کے 16 صدرحکومت کر چکے ہیں.

    باغی ٹی وی کے مطابق امریکہ میں دونوں جانوروں کی پارٹیوں سےمنسوب ہونیکی دلچسپ تاریخ ہے.جہاں ایک پارٹی کا نشان گدھا ہوتا ہے جس کو محنتی اور تابعدار سمجھا جاتا ہے جومسلسل کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ ہاتھی کو شہین اور طاقت کے لحاظ سے فوقیت دی جاتی ہے. امریکہ میں کشیر جماعتی نظام کی بجائے دو جماعتی نظام چلتا ہے جہاں ایک طرف ڈیموکریٹ پارٹی جبکہ دوسری طرف ری پبلیکن انتخابات میں حصہ لیتی ہے اور ان میں انتخاب سے قبل ہی سیاسی مخالفت ، بیان بازی اور ایک دوسرے کے اقدامات پر تنقید ہوتی رہتی ہے. اسکی ایک مثال گزشتہ دنوں امریکہ میں ایک گلہری کے قتل پر ری پبلیکن نے اپنے سیاسی حریف کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک بڑی مہم لانچ کی. دونوں پارٹیوں کے انتخابی نشان طویل عرصے سے یہی چلے آ رہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں بہادری کے نشان جیسے شیر، چیتا اور عقاب سمجھتے جاتے ہیں وہاں ہاتھی اور گدھا انتخابی نشان ہونا حیران کن بات ہے.اب آنے والے ایام جلد ہی تاریخ کے ایک سخت مقابلے کے بعد نتائج سنا دیں گے کہ گدھے کے نشان کو امریکی عوام نے پزیرائی دی یا ہاتھی کو کیونکہ وائٹ ہاوس کے نئے عہدیدار کا اعلان ہونے میں بس کچھ ہی وقت رہ گیا ہے.

  • امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

    امریکا میں 5 نومبر کو ملک کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوگی۔

    امریکا میں جہاں اکثر لوگ 5 نومبر کو ہی ووٹ کاسٹ کریں گے وہیں ایک بڑی تعداد قبل از وقت بھی ووٹ کاسٹ کرچکی ہے اور کچھ ڈاک کے ذریعے بھی اپنے بیلٹ پُر کرکے متعلقہ اتھارٹی کو بھیج چکے ہیں۔لیکن کیا زمین سے سیکڑوں میل اوپر خلا میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود امریکی خلا باز ان صدارتی انتخابات میں ووٹ کاسٹ کریں گے؟اس سوال کا جواب ہے ’ہاں‘، امریکی خلا باز بھی صدارتی انتخابات میں ووٹ کاسٹ کریں گے، اور ایسا پہلی بار بھی نہیں ہوگا بلکہ خلاز باز پہلے بھی خلائی اسٹیشن سے اپنا ووٹ کاسٹ کرچکے ہیں۔امریکا میں سال 1997 سے خلا بازوں کے لیے خلا سے اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کا طریقہ کار موجود ہے اور سال 2004 سے اب تمام امریکی صدارتی انتخابات میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود امریکی خلا بازوں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔سال 2012 میں ہونے والے انتخابات میں ایسا نہیں ہوسکا تھا کیونکہ اس وقت خلائی اسٹیشن پر جانے والے خلاباز قبل از وقت ووٹ کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی روانگی سے پہلے ہی ووٹ کاسٹ کرچکے تھے۔خلا سے ووٹ کاسٹ کرنے کا طریقہ عام الیکٹرانک ووٹنگ کی نسبت کافی پیچیدہ ہے۔خلائی اسٹیشن اور ناسا کے درمیان رابطہ نیئر اسپیس نیٹ ورک کے ذریعے ہوتا ہے اور خلابازوں کے الیکٹرانک بیلٹ بھی یہیں سے ہوکر گزرتے ہیں۔خلا باز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں اپنے الیکٹرانک بیلٹ کو پُر کرتے ہیں جسے ناسا کی جانب سے انکرپٹ کرکے خلائی اسٹیشن کے کمپیوٹر میں فیڈ کردیا جاتا ہے۔یہ کمپیوٹر بیلٹ کو ناسا کے ٹریکنگ اینڈ ڈیٹا ریلے سیٹلائیٹ سسٹم (ٹی ڈی آر ایس ایس) کے ذریعے نیو میکسیکو میں ناسا کی وائٹ سینڈز ٹیسٹ فیسلیٹی کو بھیجتا ہے۔ نیو میکسیکو سے یہ بیلٹ ہیوسٹن میں ناسا کے مشن کنٹرول کو بھیجاجاتا ہے۔مشن کنٹرول اس بیلٹ کو الیکٹرانک ذریعے سے ہی خلا باز کے کاؤنٹی کلرک کے دفتر کو بھیج دیتا ہے۔ خلا باز اور ان کے کاؤنٹی کلرک کے دفتر کے علاوہ بیلٹ کو کوئی اور نہیں دیکھ سکتا۔خیال رہے کہ اس وقت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں موجود 4 امریکی خلابازوں میں بَچ وِلمور اور سنیتا وِلیمز بھی شامل ہیں جو جون میں 8 روزہ مشن پر خلائی اسٹیشن گئے تھے لیکن اپنے بوئنگ اسٹار لائنر اسپیس کرافٹ میں خرابی کے باعث اب تک وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر سندھ ہائیکورٹ جج کے گن مین سےمتعلق خبریں جھوٹی ہیں، پولیس

    سوشل میڈیا پر لوگ جھوٹ بیچ رہے ،ملک میں انارکی اور انتشار کی کیفیت پیدا ہورہی ہے، مصطفیٰ کمال

  • امریکی انتخابات،40 منٹ لائن میں لگ کر جوبائیڈن نے ووٹ دے دیا

    امریکی انتخابات،40 منٹ لائن میں لگ کر جوبائیڈن نے ووٹ دے دیا

    امریکی صدارتی انتخابات، امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنا ووٹ ڈال دیا

    امریکی صدر جو بائیڈن نے آج صدارتی انتخابات کے سلسلے میں "قبل از وقت پولنگ ڈے” کے تحت اپنا ووٹ کاسٹ کر لیا۔ بائیڈن کو ووٹ ڈالنے کے لیے تقریباً 40 منٹ تک قطار میں کھڑا ہونا پڑا،جب جوبائیڈن کی باری آئی تو انہوں نے اپنی شناختی دستاویزات الیکشن ورکر کے حوالے کیں، جس کے بعد الیکشن ورکر نے صدر بائیڈن سے فارم پر دستخط کروائے اور اعلان کیا کہ "جوزف بائیڈن اب ووٹ ڈال رہے ہیں”۔امریکی میڈیا کے مطابق، کورونا وبا کے دوران عوامی ہجوم اور رش سے بچنے کے لیے "قبل از وقت پولنگ ڈے” کی سہولت متعارف کرائی گئی تھی۔ اس سہولت کا مقصد بزرگ شہریوں اور بیمار افراد کو ووٹ ڈالنے میں آسانی فراہم کرنا تھا۔یہ کامیاب تجربہ کورونا کے بعد بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت امریکا کی مختلف ریاستوں میں اب بھی قبل از وقت ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر سابق امریکی صدر جمی کارٹر، جو کہ 100 سال کی عمر کے ہیں، نے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔

    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک کی جانب سے ووٹرز کو ڈونیشن دینے کے وعدے پر سخت تنقید کی ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ مسک کا یہ اقدام جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے اور اس کا مقصد سیاسی مفاد حاصل کرنا ہے۔بائیڈن نے ایک حالیہ بیان میں کہا، "ایسے اقدام سے عوام کی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ جمہوری عمل کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ووٹ ڈالنا ہر شہری کا حق ہے، اور کسی بھی قسم کی مالی ترغیبات کا استعمال اس حق کو مشکوک بنا دیتا ہے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسک نے یہ وعدہ کیا کہ وہ ووٹرز کو ان کے ووٹ ڈالنے کی صورت میں مالی مدد فراہم کریں گے، خاص طور پر اگر وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیں۔ اس پر مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں سے جمہوری انتخابات کی شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔بائیڈن نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کے غیر اخلاقی اقدامات کے خلاف آواز اٹھائیں اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے متحد رہیں۔

    غیر ملکی کوچز لگانے کافائدہ کیا ہے؟سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    فخر زمان کو بابر کے حق میں بولنا پڑا مہنگا،بابر اعظم فخر کونکالے جانے پر خاموش کیوں؟

    نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے سے نتیجہ جیت کی صورت میں آیا۔محسن نقوی

    جیت کا سارا کریڈٹ پاکستانی عوام کو ملنا چاہیے۔شان مسعود

  • ٹوئٹر ملازمین کونکالنے سے امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر بھی منفی اثرات پڑنے کا واضح خدشہ

    ٹوئٹر ملازمین کونکالنے سے امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر بھی منفی اثرات پڑنے کا واضح خدشہ

    ایلون مسک کی جانب سے کی جا رہی ٹوئٹر میں چھانٹیوں کے امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر بھی منفی اثرات پڑنے کا واضح خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی : بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے 4 روز پہلے ٹوئٹر کا وہ اہم اسٹاف بھی فارغ کر دیا گیا ہے جسے انتخابات سے متعلق غلط معلومات کی حقیقت ظاہر کرنا تھی۔

    ٹوئٹر کا اپنے ملازمین کی بڑی تعداد کو فارغ کرنے کا اعلان، دفاتر عارضی بند

    ٹویٹر انکارپوریشن میں ایلون مسک کی وسیع بنیادوں پر کٹوتیاں موجودہ اور سابق ملازمین کو یہ سوال کرنے کی طرف لے جا رہی ہیں کہ کیا سوشل نیٹ ورک کے پاس مواد کی اعتدال پسندی جیسے اہم نظام کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے وسائل ہوں گے، بشمول منگل کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران

    جمعرات اور جمعہ کو مسک نے آدھے سے زیادہ عملے کو کم کر دیا، جس سے کمپنی کی تقریباً ہر ٹیم متاثر ہوئی۔ پروڈکٹ اور انجینئرنگ ٹیمیں 50 فیصد سے زیادہ متاثر ہوئیں،دو لوگوں کےمطابق جو اس معاملےسے واقف ہیں، اور دوسرے گروپس جیسے مواصلات، مارکیٹنگ، انسانی حقوق اور تنوع – تقریباً مکمل طور پر ختم ہو گئے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق برخاست ملازمین میں سے کئی گمراہ کن ٹوئٹس سے متعلق حقائق سامنے لانے پر مقرر تھے جبکہ بعض انتخابی مہم پر مامور اسٹاف سے رابطوں پر مقرر تھے، برخاست ملازمین میں سے بعض صحافیوں سے رابطے کرکے افواہوں کا جواب دینے کے بھی ذمہ دار تھے۔

    ٹوئٹر کے دفتر میں خاتون مینجر کی فرش پر سونے کی تصویر وائرل

    ٹوئٹر کے برخاست ملازمین میں سے بعض کو الیکشن کی مانیٹرنگ کرنا تھی اور بعض کو بیرونی مداخلت کی علامات تلاش کرنا تھیں جن افراد کو فارغ کیا گیا ان میں مڈٹرم الیکشن کی ٹوئٹر پر ادارتی پلاننگ کرنیوالے کیون سیلیوان بھی شامل ہیں۔

    کمپنی کے عملے کی ڈرامائی کمی نے فوری طور پر ٹویٹر کے اندرونی افراد، باہر کے گروپس اور ڈس انفارمیشن دیکھنے والوں کی طرف سے جانچ پڑتال کی، جو کہتے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ ٹوئٹر اپنے وسیع نیٹ ورک کو کس طرح منظم کرے گا، جس کا عالمی سیاسی اور ثقافتی گفتگو پر بڑا اثر پڑتا ہے جس مہں بہت کم لوگ شامل ہیں-

    ٹویٹر تاریخی طور پر انتخابات کے دوران خبروں کی پیروی کرنے کا ایک بڑا ذریعہ رہا ہے، کیونکہ پہلی جگہ کی معلومات ٹیلی ویژن یا دوسرے سوشل نیٹ ورکس پر ختم ہونے سے پہلے ہی رپورٹ ہو جاتی ہے۔

    دو لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹویٹر کی کیوریشن ٹیم، جس نے رجحان ساز موضوعات کے لیے سیاق و سباق لکھا اور میڈیا گروپس کے ساتھ مل کر ایسے مواد کو شائع کرنے کے لیے کام کیا جس میں اہم خبروں کے واقعات کی حقائق کی جانچ پڑتال کی گئی تھی، کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔ قانونی پالیسی ٹیم، جو حکومتی اور قانونی درخواستوں پر مبنی مواد کو ہٹاتی ہے اور صارف کے ڈیٹا کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پوچھ گچھ کا جائزہ لیتی ہے، اس معاملے سے واقف شخص کے مطابق، "بڑے پیمانے پر کٹوتیوں” کا سامنا کرنا پڑا۔

    روسی ہیکرز کا امریکی وزارت خزانہ کے سسٹم پر سائبر حملہ

    دوسرے لوگوں نے بتایا کہ ٹویٹر پر مواصلاتی ٹیم، جو صحافیوں کے ساتھ رابطہ رکھن اورپریس ریلیز جاری کرنے کی ذمہ دار تھی، تقریباً 100 افراد سے کم کر کے دو کر دی گئی۔ شراکت داروں کی ٹیم، جو مشہور شخصیات، جیسے کہ کھلاڑیوں، اداکاروں اور موسیقاروں کے ساتھ تعلقات بناتی اور برقرار رکھتی ہے، کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیا گیا تھا۔

    اس کے علاوہ مواد کے کنٹرول کی کمی پر تناؤ کو بڑھانا مسک کا منصوبہ ہے کہ کسی کو بھی پیر کے روز ہی ٹویٹر پر تصدیقی چیک مارک کے لیے ادائیگی کرنے کی اجازت دی جائے، اس کے پریمیم پروڈکٹ، ٹویٹر بلیو کی سبسکرپشنز کے ذریعے آمدنی بڑھانے کے ایک نئے اقدام کے حصے کے طور پر۔ اگر منصوبہ بندی کے مطابق نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی بھی اپنے اکاؤنٹ کو زیادہ جائز نظر آنے کے لیے 8 ڈالر ادا کرنے کے قابل ہو جائے گا، جس سے وہ امیدواروں یا سرکاری اداروں کی نقالی کریں گے۔

    کارڈ سٹریٹیجیز کی چیف ایگزیکٹو آفیسر میلیسا ریان نے کہا کہ امریکی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل تصدیق شدہ صارفین کے خاتمے کے ساتھ بڑے پیمانے پرچھانٹیوں کا مجموعہ،ایک گھمبیرصورتحال پیدا کرتا ہےجو کسی بھی وقت بھڑک سکتا ہےایک مشاورتی فرم جوغلط معلومات پر تحقیق کرتی ہے۔ "برے اداکاروں کے پاس غلط معلومات پھیلانے، نقصان پہنچانے اورافراتفری پھیلانے کا ایک نیا ٹول ہے، اور ٹویٹر کے پاس اب ناگزیر مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت اور ادارہ جاتی یادداشت کا فقدان ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تحلیل کر دیا

    انتخابات کے بعد، اگر ٹویٹر برے اداکاروں کے لیے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے، تو کمپنی کی نچلی لائن متاثر ہو سکتی ہے۔ پہلے ہی، کچھ مشتہرین نے اخراجات کو روک دیا ہے یا غیر یقینی کی مدت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مسک نے جمعہ کی صبح ٹویٹ کیا کہ "ٹویٹر کی آمدنی میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی ہے، مشتہرین پر دباؤ ڈالنے والے کارکن گروپوں کی وجہ سے، حالانکہ مواد کی اعتدال سے کچھ بھی نہیں بدلا ہے اور ہم نے کارکنوں کو مطمئن کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔”

    ٹویٹر کی مارکیٹنگ آرگنائزیشن سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروپوں میں شامل تھی، دو لوگوں کے مطابق، ایک ٹیم سے زیادہ سے زیادہ دو درجن ملازمین باقی تھے جن کی تعداد 400 کے قریب تھی۔ اس معاملے سے واقف لوگوں نے بتایا کہ اشتہارات کی فروخت کی تنظیم ملازمتوں میں کمی سے کم متاثر ہوئی تھی۔

    امریکہ میں قبل از وقت ووٹنگ جاری ہے، انتخابی سالمیت پر ہماری کوششیں – بشمول نقصان دہ غلط معلومات جو ووٹ کو دبا سکتی ہیں اور ریاستی حمایت یافتہ معلوماتی کارروائیوں کا مقابلہ کرنا اولین ترجیح بنی ہوئی ہیں انہوں نے ٹوئٹر پر کہا جب کہ ہم نے کل ناقابل یقین حد تک باصلاحیت دوستوں اور ساتھیوں کو الوداع کہا، ہماری بنیادی اعتدال کی صلاحیتیں برقرار ہیں۔”

    یاد رہے کہ ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد ملازمین کو نکالے جانے کی رپورٹس سامنے آرہی تھیں اور یہ عمل 4 نومبر سے شروع ہوگیا، چھانٹی کے اس عمل کے دوران کمپنی کے 50 فیصد ملازمین کو نکالا جا سکتا ہے۔

    اب ٹویٹر پر بلیو ٹک والے صارفین کو ماہانہ فیس ادا کرنی ہو گی