Baaghi TV

Tag: امریکی بحریہ

  • امریکی یونیورسٹی کا اسرائیلی فوج کی تربیت کیلئے لاشیں فروخت کرنے کا انکشاف

    امریکی یونیورسٹی کا اسرائیلی فوج کی تربیت کیلئے لاشیں فروخت کرنے کا انکشاف

    امریکا کی معروف یونیورسٹی کی جانب سے مبینہ طور پر اسرائیلی فوج کی تربیت کے لیے امریکی بحریہ کو لاشیں فروخت کر نے کا انکشاف سامنے آیا ہے-

    امریکی ریاست نیواڈا میں میڈیکل کیس مینیجر کے طور پر کام کرنے والی مریم وولپن کو یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا یعنی یو ایس سی کے ایک طالب علم صحافی کی طرف سے ایک ایسا پیغام ملا جس نے انہیں شدید پریشان کر دیا یہ طالب علم جینیفر نیہرر اس ٹیم کا حصہ تھیں جو اس سنگین الزام کی تحقیقات کر رہی تھی کہ سائنسی تحقیق اور تعلیم کے لیے یونیورسٹی کو عطیہ کیے جانے والے انسانی جسم مبینہ طور پر امریکی مسلح افواج کو فروخت کیے جا رہے ہیں، اور ان میں سے کچھ لاشیں اسرائیلی فوج کے سرجنوں کے پاس بھی پہنچائی گئی ہیں.

    مریم وولپن نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ یہ سن کر میرا دل بیٹھ گیا، میری 101 سالہ والدہ جینیٹ کا انتقال 2021 میں ہوا تھا، وہ دوسری جنگ عظیم میں فلائٹ نرس کے طور پر خدمات انجام دے چکی تھیں اور انہوں نے اپنی مرضی سے اپنا جسم یو ایس سی کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اب مجھے یہ خوف ستا رہا ہے کہ کہیں میری والدہ کا جسم بھی غزہ کی جنگ جیسے تنازعات کے لیے فوجی ٹیموں کی جراحی کی تربیت میں تو استعمال نہیں ہوا.

    اس حوالے سے بنائی گئی دستاویزی فلم ’ڈائریکٹ فرام‘ میں ایسے کئی خاندانوں کو دکھایا گیا ہے جو یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کے پیاروں کی باقیات فوجیوں کی تربیت کے لیے استعمال ہوئیں طالب علم صحافیوں کی اس ٹیم نے 2025 میں اس کہانی کو بے نقاب کیا تھا، اور ان کی رپورٹ کے مطابق یو ایس سی سدرن کیلیفورنیا کے ان دو اداروں میں سے ایک ہے جو امریکی بحریہ کو اسرائیلی سرجنوں کی تربیت کے لیے لاشیں فراہم کرتے رہے ہیں.

    الجزیرہ کے مطابق، سرکاری دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ 2018 سے اب تک یو ایس سی نے امریکی بحریہ اور اسرائیلی فوج کے مشترکہ تربیتی معاہدوں کے تحت کم از کم 90 کے قریب تازہ لاشیں فراہم کی ہیں اگرچہ اس اسرائیلی تربیتی پروگرام کی عوامی معلومات بہت محدود ہیں، لیکن 2020 میں یو ایس سی اور امریکی بحریہ کے انسٹرکٹرز کے لکھے گئے ایک طبی مقالے سے اس عمل کی اندرونی تفصیلات سامنے آتی ہیں.

    اس مقالے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ان سرجنوں کو جنگ میں جراحی کی مہارت کا چار روزہ کورس کرایا جاتا ہے جو بالکل فرنٹ لائن پر کام کرتے ہیں اس تربیت کے دوران عطیہ شدہ جسموں میں ایک خاص طریقے سے مصنوعی خون پمپ کیا جاتا ہے تاکہ وہ بالکل زندہ انسانوں کی طرح نظر آئیں اور میدان جنگ میں زخمی فوجیوں کی طرح ان کے جسم سے خون بہتا ہوا دکھائی دے.

    اس مقالے میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح ان لاشوں پر گولیوں کے زخم اور دھماکا خیز مواد سے لگنے والی چوٹوں کی نقل تیار کر کے فوجیوں کو تربیت دی جاتی ہےاس حساس معاملے پر جب یو ایس سی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، جبکہ امریکی بحریہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ اس تربیت کے دوران تجربہ کار ٹراما سرجن جراحی کے آلات کی مدد سے پیچیدہ زخموں کے نمونے تیار کرتے ہیں تاکہ ایک انتہائی حقیقت پسندانہ تربیتی ماحول فراہم کیا جا سکے دوسری جانب کئی ماہر سرجنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا طریقہ کار عام تعلیمی پروگراموں میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف انتہائی مخصوص فوجی تربیت کے لیے ہی ہوتا ہے.

    رپورٹ کے مطابق، وفاقی معاہدوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ پچھلی ایک دہائی سے جاری ہے اور اسرائیلی فوجی ڈاکٹرز 2013 میں ہی اس تربیت کے لیے لاس اینجلس پہنچنا شروع ہو گئے تھےیو ایس سی نے اپنے ایک ای میل جواب میں اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ کوئی فوجی پروگرام ہے، بلکہ اسے ایک تعلیمی کورس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں شامل اسرائیلی طبی عملہ فوج سے تعلق نہیں رکھتا تھا.

    تاہم رپورٹ کے مطابق یو ایس سی کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو یعنی یو سی ایس ڈی کی مدد لینا پڑی، اور طلبہ کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ 2024 سے 2026 کے اوائل تک 124 لاشیں یو سی ایس ڈی سے یو ایس سی منتقل کی گئیں، یو سی ایس ڈی نے بھی اس با ت کی تردید کی ہے کہ یہ ملٹری ٹریننگ ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ لفظ اس کورس کی غلط عکاسی کرتا ہے.

    اس تنازع نے اب عطیہ دہندگان کے خاندانوں میں ایک شدید بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ عطیہ کے دستاویزات میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا تھا کہ ان کے پیاروں کے جسم امریکی یا غیر ملکی فوج کی تربیت کے لیے استعمال ہوں گے.

    یو ایس سی سے وابستہ ایک ڈاکٹر محمد رعد نے اس نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میرے لیے سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ کیا مریض کو اس بات کا علم تھا، اور کیا وہ غیر ملکی فوجوں کے ساتھ اس طرح کے طریقہ کار کو جان کر کبھی اس کی اجازت دیتے؟

    اسی طرح جینیفر گومز، جن کی دادی نے 2012 میں اپنا جسم عطیہ کیا تھا، انہوں نے بھی سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے الجزیرہ سے کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھاکہ ہم بین الاقوامی افواج کو اپنے خاندان کےجسموں پر تربیت کے لیے یہاں بلا رہے ہیں،خاص طور پر ان افواج کو جن پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں، میری دادی جیسے لوگ یہ سوچ کر جسم عطیہ کرتے ہیں کہ وہ دنیا کے لیے کچھ اچھا کر رہے ہیں، یہ سوچ کر نہیں کہ وہ کسی ملٹری فورس کو زیادہ طاقتور بنائیں گے.

    اس انکشاف کے بعد انگریزی کی پروفیسر ونڈی سمتھ نے بتایا کہ اب وہ اپنا جسم عطیہ کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہی ہیں کیونکہ وہ کسی بھی طرح اسرائیلی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرنا چاہتیں، اور انہوں نے اور ان کے شوہر نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں.

    اس تمام صورتحال پر ریسرچ کے حامیوں کا اب بھی یہ ماننا ہے کہ طبی تعلیم کے لیے لاشوں کا عطیہ ضروری ہے، لیکن مریم وولپن جیسے لواحقین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کو اس معاملے میں شفافیت لانی چاہیے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے.

    طالب علم صحافیوں نے یونیورسٹیوں کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ کسی خاص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں، طالب علم صحافی ساشا ریو کا کہنا تھا کہ ہمارا واحد ایجنڈا صرف سچائی کو سامنے لانا تھا، جبکہ ان کے ساتھی تھامس مٹھی نے بتایا کہ جن خاندانوں سے انہوں نے بات کی ہے وہ اس صورتحال سے شدید صدمے میں ہیں.

    دستاویزی فلم کے سامنے آنے سے کچھ دیر پہلے، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ہیلتھ نے اپنے سوال و جواب کے صفحے پر یہ نئی معلومات شامل کی ہیں کہ عطیہ کردہ جسموں کو دوسری تنظیموں کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے اور انہیں ملٹری میڈیکل عملے کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس پر لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ صرف قانونی کارروائی سے بچنے اور اپنے دفاع کی ایک کوشش ہےاس تمام احتجاج کے باوجود، امریکی بحریہ نے یو ایس سی کے ساتھ اس پروگرام کے معاہدوں کی 2029 تک تجدید کا ارادہ ظاہر کیا ہے.

  • امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    امریکی بحریہ نے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو فوجی اسکواڈ فراہم کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے یہ راستہ عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کی بندش کے باعث دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل سپلائی متاثر ہو رہی ہےاس صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بحریہ کا کہنا ہے کہ اس وقت حملوں کا خطرہ بہت زیادہ ہے اس لیے فی الحال جہازوں کو فوجی حفاظت فراہم کرنا ممکن نہیں،امریکی بحریہ کا یہ مؤقف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے مختلف دکھائی دیتا ہے، ٹرمپ حالیہ دنوں میں بار بار کہہ چکے ہیں کہ امریکا ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو فوجی محافظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پیر کو فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی ٹینکروں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزاریں گے تاہم ابھی تک کسی جہاز کو اسکواڈ نہیں دیا گیا-

    امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیدار جنرل ڈین کین نے کہا کہ فوج اس حوالے سے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاہم ایک امریکی اہلکار کے مطابق ابھی تک کسی بھی تجارتی جہاز کو امریکی بحریہ کی طرف سے اسکواڈ فراہم نہیں کیا گیا۔

    رہنما مسلم لیگ ن نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کا فیصلہ

    اگرچہ حالیہ دنوں میں کچھ جہاز اس راستے سے گزرے ہیں، لیکن زیادہ تر جہاز رانی معطل ہے اور سینکڑوں جہاز سمندر میں لنگر انداز ہو کر انتظار کر رہے ہیں دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی سعودی آرامکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر رہی تو عالمی تیل منڈی کے لیے تباہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانا آسان نہیں ایران سمندری بارودی سرنگیں اور کم قیمت حملہ آور ڈرون استعمال کر کے جہاز رانی کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

    یورپی ادارے انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈیز آن دی مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ کے سربراہ عادل باکوان کے مطابق ’فی الحال امریکا، فرانس یا کوئی بھی عالمی اتحاد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔‘

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    گزشتہ ہفتے ایران نے مبینہ طور پر بارودی مواد سے بھری ریموٹ کنٹرول کشتی کے ذریعے عراقی پانیوں میں لنگر انداز ایک آئل ٹینکر کو نقصان پہنچایا تھا ماہر ین کا کہنا ہے کہ اگر جہازوں کو فوجی اسکواڈ دیا بھی جائے تو تیز رفتار کشتیوں یا ڈرون کے جتھوں کے حملوں کا خطرہ برقرار رہے گا۔

  • ٹام کروز کو امریکی بحریہ  نے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نواز دیا

    ٹام کروز کو امریکی بحریہ نے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نواز دیا

    نیویارک: معروف امریکی اداکار ٹام کروز کو امریکی بحریہ کی جانب سے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نواز دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہالی ووڈ اداکار ٹام کروز کو منگل کے روز ڈپارٹمنٹ آف نیوی ڈسٹنگویشڈ پبلک سروس (ڈی پی ایس) ایوارڈ سے نوازا گیا، جس میں ٹاپ گن اداکار کی امریکی بحریہ کے لیے ان کے مشہور فلمی کرداروں کے ذریعے لازوال خدمات کو سراہا گیا۔

    بحریہ کے سیکرٹری کارلوس ڈیل ٹورو نے ٹام کروز ایوارڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹام کروز کو کئی فلموں کے ذریعے کئی دہائیوں تک بحریہ کی وکالت کے لیے ڈیفنس پبلک سروس ایوارڈ سے نوازنا اعزاز کی بات ہے اداکار کے کام نے نئی نسل کو ہماری بحریہ اور میرین کور میں خدمات انجام دینے کی ترغیب دی ہے‘۔

    ٹام کروز اعلیٰ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے، انہوں نے تقریب کے دوران ایک جذباتی تقریر کی، انہوں نے کہا کہ میں زندگی میں ایک بات جانتا ہوں، جو میرے لیے بہت سچی ہے کہ قیادت کرنا خدمت کرنا ہے اور میں اسے اپنے دل سے جانتا ہوں-

    ٹام کروز نے سول ایوارڈ سے نوازے جانے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے اپنے اردگرد موجود خدمت گزاروں اور خواتین کریو کی بھی تعریف کی ان کی قربانیوں اور لگن کو اجاگر کیاکہا کہ آپ سب کے درمیان ہونا اعزاز کی بات ہے-

  • ٹائیٹن میں موجود سیاحوں کے بچنے کا امکان ایک فیصد سے بھی کم ہے،ماہرین

    ٹائیٹن میں موجود سیاحوں کے بچنے کا امکان ایک فیصد سے بھی کم ہے،ماہرین

    بحر اوقیانوس میں ٹائٹینک کی سیاحت کے لیے جانے والی آبدوز ٹائٹن میں موجود سیاحوں کے بچنے کے آثار تقریباً ختم ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹائٹینک کا نظارہ کرنے سمندر کی تہہ میں جانے والوں کے بچنے کا امکان صرف ایک فیصد سے بھی کم ہےامریکا اور برطانیہ کی آبدوزوں کو آپریٹ کرنے والےبحریہ کے اہلکار بھی اتنا نیچے نہیں جاتے ہیں، اگر بحریہ کی آبدوز اتنا نیچے چلی جائے تو اس کا مطلب ہے تمام عملہ جان سے جان چکا۔

    ماہرین کے مطابق سطح سمندر کے مقابلے میں تہہ میں دباؤ چار سو گنا بڑھ جاتا ہے، یہ اتنا دباؤ ہے کہ کسی کمرے پر پریشر ہو تو ساری ہوا نکل جائے اور چھت کرچی کرچی ہوجائے اس دباؤ پر ٹائٹن میں سوراخ ہو تو اندر موجود افراد کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ وہ کب مرچکے تہہ میں ٹائٹن مل بھی جائے تو اسے باہر نکالنے کے لیے ڈھائی میل لمبے تار کا ہُک اس میں ڈالنا ہوگا جو تقریباً ناممکن ہے آبدوز میں موجود افراد کے لیے صرف چند گھنٹوں کی آکسیجن رہ گئی ہے۔

    لاپتہ آبدوزکی کمزورسیفٹی پرماضی میں خدشات کا اظہارکیاگیا تھا،برطانوی اخبار کا انکشاف

    امریکی بحریہ کے کنٹریکٹر نے کہا ہے کہ ہر شخص منتظر ہے کہ امریکی بحریہ انہیں بچا لے گی مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکی آبدوز صرف دو ہزار فٹ نیچے جاسکتی ہیں، کوئی ایسا نہیں جو ٹائٹن تک جاکر لوگوں کو بچا سکے واحد امید یہ ہے کہ ٹائٹن خود سطح سمندر پر آجائے تاکہ لوگوں کو بچایا جاسکے۔

    ٹائٹن میں موجود ہامیش ہارڈنگ کے دوست کا کہنا ہے کہ انہیں تحفظ کے خطرات محسوس ہوئے تھے اس لیے انہوں نے ہامیش کے ساتھ ٹائٹن میں جانے سے انکار کردیا تھا۔

    20 سال سے جل پری کا روپ دھا رکر پانیوں میں سفر کرنےوالی خاتون

  • محققین نے سمندر میں ڈولفن کے خوفناک راز پتا لگا لئے

    محققین نے سمندر میں ڈولفن کے خوفناک راز پتا لگا لئے

    امریکی بحریہ کی جانب سے ڈولفنز پر لگائے گئے کیمروں کے نتیجے میں متعدد راز سامنے آئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی بحریہ کی جانب سے زیرِ سمندر بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور امریکی جوہری ذخیرے کی حفاظت کے لیے ڈولفنز کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے اور پھر اِن انسان دوست مچھلیوں کو کھلے سمندر، سان ڈیاگو بے میں چھوڑ دیا جاتا ہےڈولفن کا مطالعہ کیا جا رہا ہے کیونکہ محققین شکار کے دوران ان کے مواصلاتی طریقوں کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں۔

    اِن ڈولفنز کی نقل و حرکت اور تہہ کے اندر کےراز جاننےکےلیے اِن پر باقاعدہ کیمرے لگا کر چھوڑا جاتا ہے ریکارڈنگ کا سامان ان ڈولفنز کی پیٹھ پر ایسے نصب کیا جاتا ہے کہ ناصرف سمندری تہہ نظر آ سکےبلکہ اِن مچھلیوں کے چہروں کے تاثرات بھی ریکارڈ کیے جا سکیں۔

    محققین کی ایک ٹیم نے امریکی بحریہ کی ڈولفنز کےساتھ کیمرے منسلک کیےاورسمندری مخلوق کی مچھلیوں کاپیچھا کرتے ہوئے، سمندری سانپوں کو کھا جانے اور یہاں تک کہ ‘سائیڈ آئی’ کی شکل دینے کی شاذ و نادر ہی دیکھی جانے والی فوٹیج حاصل کی۔

    ڈولفن مچھلیاں خونخوار نہیں ہوتیں اور نہ ہی جنگلی حیات کی طرح شکارکرتی ہیں جبکہ اِن مچھلیوں پر نصب کیےگئے کیمروں سے حاصل ہونے والی نئی ویڈیوز میں ڈولفنز کو زہریلے سانپوں کا شکار کرتے ہوئےبھی دیکھا گیا ہےایک ڈولفن نےآٹھ انتہائی زہریلے، پیلے پیٹ والے سمندری سانپ (Hydrophis platurus) کھائے۔

    ویڈیو میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈولفن 200 سے زائد مچھلیوں کی اقسام کا شکار کرتی ہے جبکہ خود کو بدبودار شکار سے بچانے کے لیے پانی سے باہر چھلانگ بھی لگا دیتی ہے، یہ سمندر کی سطح پر الٹا بھی تیرتی ہیں تاکہ اپنی آنکھوں سے سمندر کے اندر کا واضح نظارہ دیکھ سکیں۔
    https://www.youtube.com/watch?v=EQ8YJgWotsg
    ڈولفن ایک دوسرے کو بلانے اور ڈھونڈنے کے لیے اپنے بینائی اور آواز دونوں کا استعمال کرتی ہیں اِن ویڈیوز سے ڈولفن کے شکار کرنے اور اِنہیں کھانے کی عادات سے متعلق بھی انکشافات سامنے ہیں ڈولفنز اپنے شکار کو براہِ راست نگلنے کے بجائے پہلے اِنہیں اپنے منہ کے ایک طرف رکھ کر خوب چوستی ہیں اور پھر اپنے طاقتور گلے کے پٹھوں کی مدد سے اِنہیں نگل لیتی ہیں۔