Baaghi TV

Tag: امریکی جیل

  • عافیہ صدیقی، حکمرانوں نے غفلت کا مظاہرہ کیا،تابش قیوم

    عافیہ صدیقی، حکمرانوں نے غفلت کا مظاہرہ کیا،تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد کیے جانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر کی جانب سے اپنے بیٹے کی سزا معاف کرنا اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی اپیل مسترد کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ انصاف کے دہرے معیار پر عمل پیرا ہے،

    ترجمان پاکستان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم کا کہنا تھا کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے ریمارکس کی مکمل تائید کرتے ہیں امریکا ہمیں ہماری اوقات دکھا رہا ہے، سابق امریکی صدر نے اپنے بیٹے کی سزا تو معاف کر دی لیکن ہمارے قیدی کو رہا نہیں کیا۔ تابش قیوم نے مزید کہا کہ دنیا کے تمام مسلم لیڈرز ایک عافیہ صدیقہ کی رہائی میں ناکام ہوئے دیگر ملکوں کے رہنماﺅں نے اپنے اپنے قیدیوں کو آزاد کرایا مگر ہمارے حکمرانوں نے غفلت کا مظاہرہ کیا، پاکستان مرکزی مسلم لیگ مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے سفارتی سطح پر مؤثر اقدامات کرے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ انصاف کو یقینی بنائیں

    پارہ چنار میں پیش آنے والے واقعات افسوس ناک،علما آگے بڑھیں،تابش قیوم

    پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    رمضان کے مہینے میں خدمت کی سیاست کا سفر جاری رکھیں گے، تابش قیوم

  • عافیہ صدیقی کیس،وزیراعظم،وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات طلب

    عافیہ صدیقی کیس،وزیراعظم،وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق انکی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے امریکہ میں سزا معافی کی درخواست سے لیکر اب تک وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے دنیا بھر کے دوروں کی تفصیلات طلب کر لیں،ڈاکٹر عافیہ کے امریکہ میں وکیل مسٹر کلائیو سمتھ کا ڈیکلریشن عدالت میں پیش ہوئے،اسلام آباد ہائی کورٹ نےوزارت خارجہ سے عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل کے ڈیکلریشن پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی،عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کے امریکی وکیل مسٹر کلائیو سمتھ کی ڈیکلریشن کی تعریف کی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت خارجہ کو معاملات کو سفارتی سطح پر دیکھنے کی ہدایت کی،

    عدالت نے کہا کہ امریکہ خود مختار ملک ہے ، وہ ڈاکٹر فوزیہ کا ویزہ ریجیکٹ کرسکتا ہے،امریکہ وزیراعظم کا ویزہ بھی ریجیکٹ کرسکتا ہے مگر معاملات کو سفارتی سطح پر لے جانا ہوتا ہے،

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے وکیل عمران شفیق اور سابق سینیٹر مشتاق عدالت پیش ہوئے،درخواست گزار ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت پیش ہوئیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور نمائندہ وزارت خارجہ بھی عدالت پیش ہوئے، ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ جب ایک ملک کے چیف ایگزیکٹو دوسرے ملک کے ایگزیکٹو کو خط لکھے تو جواب لازمی آتا ہے، نمائندہ وزارت خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا امریکی صدر جو بائیڈن کو لکھے گئے خط کا کوئی جواب نہیں آیا، وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکہ میں پاکستانی مشن نے وفد کے ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کے انتظامات مکمل کرلئے تھے،

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ دستاویزات کے مطابق وفد تاخیر سے پہنچا مگر آپکا سفیر کہاں تھا؟ ایسے معاملات کو ہمیشہ سفیر دیکھتے ہیں، ملک کے ایگزیکٹو نے خط لکھا اور اسکا جواب نہیں آیا، اس کو کیا سمجھیں، امریکہ میں پاکستانی سفیر کو وفد کے جو بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کرنی چاہیے تھی،

    عدالت نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے امریکی دوروں کی تفصیلات طلب کرلیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات بارے احکامات واپس لینے کی استدعا کی،جو عدالت نے مسترد کر دی،عدالت نے امریکہ میں سزا معافی کی درخواست سے لیکر اب تک وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے دنیا بھر کے دوروں کی تفصیلات طلب کر لیں،عدالت نے کیس کی سماعت 13 جنوری تک کیلئے ملتوی کر دی

    عافیہ صدیقی کی رہا ئی کیلئےدرخواست وائٹ ہاؤس میں جمع
    دوسری جانب امریکی جیل میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہا ئی کیلئےدرخواست وائٹ ہاؤس میں جمع کرادی گئی ہے،واشنگٹن کے ذرائع کے مطابق وکلاء نے صدر جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ 20 جنوری کو ان کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے انہیں رہا کریں،سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی قیادت میں ایک پاکستانی وفد نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی وکالت کیلئے امریکا کا دورہ کیا ہے،وفد نے امریکی قانون سازوں ، کانگریس مین جم میک گورن،جو کمیٹی کی سربراہی کرتے ہیں کانگریس کی خاتون الہان عمر، ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وان ہولن اور جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ الزبتھ ہورسٹ سے ملاقاتیں کی ہیں،ملاقاتوں میں پاکستانی وفد نے عافیہ صدیقی کیلئے رہائی کی فوری ضرورت پر زور دیا، پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے ارکان نے تصدیق کی ہے کہ معافی کی درخواست وائٹ ہاؤس کو پہنچا دی گئی ہے،کمیونٹی کے ایک رکن نے کہا امید ہے کہ صدر بائیڈن 20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار منتقل کرنے سے پہلے کوئی فیصلہ کریں گے۔

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی جیل کے باہر بڑامظاہرہ

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

  • ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی  جیل کے باہر بڑامظاہرہ

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی جیل کے باہر بڑامظاہرہ

    انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے گزشتہ روز ایف ایم سی کارسویل جیل کے سامنے ایک اور بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ، جہاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی 14 سالوں سے قید ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عافیہ موومنٹ میڈیا سیل کو ڈیلاس، امریکہ سے موصول تصاویر اور ویڈیو ز کے مطابق مظاہرین نے سبکدوش ہونے والے امریکی صدر جو بائیڈن سے ڈاکٹرعافیہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پرسزا معاف کرکے رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عافیہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی ایک معصوم متاثرہ ہے اور اب اسے رہا کیا جانا چاہیے۔جبکہ پاکستان سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے جانے والے وفد کے ایک رکن سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ڈیلاس میں دی میڈیا لائن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کو ”وصلہ افزا“قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر جو بائیڈن ان کی بقایہ سزا معاف کر دیں گے۔کیونکہ امریکی روایت کے مطابق سبکدوش ہونے والا صدر قیدیوں کی سزائیں معاف کر تا ہے۔سینیٹر طلحہ نے میڈیا لائن کو بتایا کہ ” صدر بائیڈن کے پاس 60 سے زیادہ معافی کی درخواستیں موجود ہیں، جس میں ڈاکٹر عافیہ کی درخواست بھی شامل ہے۔ ہمیں امید ہے کہ عافیہ کی درخواست کو ترجیح دی جائے گی اور صدر اس پرہمدردی کے ساتھ غور کریں گے“۔انہوں نے مزید کہا کہ وفد نے امریکی سینیٹرز، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ عہدیداروں اور مقامی کمیونٹی رہنماو¿ں سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔ہمارے ساتھ اسلامی سرکل آف نارتھ امریکہICNA نامی تنظیم نے اس معاملے میں اہم مدد فراہم کی ہے۔ واضح رہے کہ ICNA شمالی امریکہ میں مسلم کمیونٹی کی خدمت کے لیے وقف ہے۔سینیٹر طلحہ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے اپنی طویل قید اور اپنے خاندان کے طویل انتظار پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ڈاکٹر عافیہ امریکہ میں 16 سال قید کاٹ چکی ہیں، جو کہ امریکہ میں قتل کی کوشش کے الزام میں دی جانے والی 10 سالہ سزا سے بھی زیادہ ہے۔ وہ اپنے بچوں، والدین اور رشتہ داروں کو یاد کر رہی ہے، اور ان کی شدید خواہش جیل سے رہا ہونا ہے ۔سینیٹر طلحہ محمود نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے عالمی سطح پر اور خاص طور پر مسلم امہ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے اس امید کا اظہارکیا کہ ان شاءاللہ، ڈاکٹر عافیہ جلد رہا ہو جائیں گی اور اپنے بچوں کے ساتھ عزت اور احترام کی زندگی گزارنے کے لیے پاکستان واپس آئیں گی۔

    پریانکا گاندھی نے مودی کی تقریر کو ریاضی کا پریڈ قرار دے دیا

  • عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے حکومت پاکستان کی جانب سے عافیہ کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر شدید تنقید کی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ان کے پاسپورٹ کو ان کے اہل خانہ کے پاس رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ہے اور انہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ "میرے اپنوں نے میرا پاسپورٹ رکھا ہوا ہے، مگر مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حکومت پاکستان نے جو خط امریکا کو لکھا ہے، اس میں وزیرِ اعظم کا پیغام شامل ہے۔ اگر وزیرِ اعظم خود یہ خط بھیج سکتے ہیں تو کم از کم ڈپٹی وزیرِ اعظم یا وزیرِ خارجہ کو بھی اس خط کے ساتھ امریکا بھیجنا چاہیے تھا تاکہ خط کو عزت ملتی۔”انہوں نے مزید کہا کہ، "اگر چیئرمین سینیٹ یا وزیرِ خارجہ خود یہ خط لے کر جاتے تو امریکی حکومت پر اس کا زیادہ اثر پڑتا۔ بدقسمتی سے مجھے امریکا جانے سے روکا گیا اور عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔”ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے 1500 افراد کو ایک ہی دن میں معافی دینے کا ذکر کیا اور کہا کہ، "صدر بائیڈن نے ایک دن میں 1500 افراد کو معافی دی، جبکہ ہمارے وفد کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکا اور وہ بغیر کسی نتیجے کے واپس آ رہا ہے۔ عافیہ کی رہائی کوئی معمولی بات نہیں ہے، یہ ایک نیکی ہے لیکن ان کے حق میں نہیں کی جا رہی۔”انہوں نے اپنے عوام کا شکریہ ادا کیا جو ان کی اور عافیہ کی آواز بنے ہیں، اور ان کے لیے حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی آج کی عدالتی کارروائی بہت اہمیت کی حامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے امریکا جانے کے لیے ایک وفد بھیجا تھا لیکن یہ وفد محض تین دن کے لیے امریکا پہنچ سکا جبکہ کم از کم اس وفد کا دورہ آٹھ دن کا ہونا چاہیے تھا۔عمران شفیق کا کہنا تھا کہ، "وفد پانچ دن کی تاخیر سے پہنچا اور ان کی ملاقاتیں اور اہم میٹنگز جو طے کی گئی تھیں، وہ نہیں ہو سکیں۔ امریکی وکیل اسمتھ اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ایک ڈیکلریشن عدالت میں جمع کرایا، جسے عدالت میں پڑھا گیا، اور یہ ایک دل توڑنے والی داستان ہے۔”وکیل نے مزید کہا کہ حکومت نے جو وفد امریکا بھیجا تھا، وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ "جو اہم ترین میٹنگز ہونی تھیں، ان میں بھی وفد تاخیر کا شکار ہو گیا اور اس کی وجہ سے پاکستان کے موقف کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔”

    24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

  • عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ وزارت خارجہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا اے ویزا منظور نہ کروا سکی جس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نےسیکرٹری وزارت خارجہ کو فوزیہ صدیقی کو بی ویزا فراہم کرنے کا حکم دے دیا،عافیہ صدیقی کے امریکہ میں وکیل مسٹر سمتھ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق پاکستان سے امریکہ بھیجا گیا وفد 8 روز کے لیے تھا جو پانچ روز تاخیر سے پہنچا ، پاکستانی وفد کا وقت آج ختم ہوگیا وفد کی واپسی کا وقت آگیا ہے ،ڈاکٹر عافیہ کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں امریکہ بھیجا گیا وفد ناکام ثابت ہوا حکومت کی جانب سے معاملے میں وقت ضائع کیا گیا وفد امریکہ میں اہم میٹنگز میں بھی دیر سے پہنچا ۔ فوزیہ صدیقی کا ویزا بھی امریکی ایمبیسی نے منظور نہ کیا ۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں حکومت اور وزارت خارجہ کی سستی پر عدالت برہم ہو گئی،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور نمائندہ وزارت خارجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فوزیہ یہاں ہیں،وفد نے کتنے دن وہاں رکنا،مسٹر سمتھ وہاں اکیلے ہیں، سفیر نے بھی کچھ نہیں کیا،آپ کی طرف سے سستی ہے اور وقت پر معاملات درست نہیں،وزارت خارجہ پیرا وائز کمنٹس جمع کرائے اور مکمل رپورٹ دے،کیوں ایسا ہوا اور سفارتخانے نے کیا کیا،

    دوسری جانب ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کے بعد سینیٹر طلحہ محمود نے بتایا کہ میری تین گھنٹے کی ملاقات ہوئی ہے، ڈاکٹر عافیہ بچوں، والدہ، بہن کو یاد کر رہی تھیں ، انکا کہنا تھا کہ عافیہ نے کہا کہ مجھے رہا کروا جائے، سینیٹر طلحہ کا کہنا تھا کہ یہاں ہماری بہت سی ملاقاتیں ہوئی ہیں، لوکل کمیونٹی کو بھی ساتھ ملایا ہےتا کہ کیس میں مدد کریں، ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے کہ جانے والا صدر بہت سے لوگوں کو رہا کر دیتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ عافیہ صدیقی کی درخواست بھی امریکی صدر کی ٹیبل پر آئے،

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

    عافیہ صدیقی کیس، امریکا جانیوالے وفد کی مالی معاونت ،وزیراعظم نے دستخط کر دیئے

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

    سندھ اسمبلی میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے قرارداد متفقہ طور پر منظور

  • گوانتاناموبے جیل میں 21 برس قید رہنے والاعبدالرحیم ربانی کراچی میں چل بسا

    گوانتاناموبے جیل میں 21 برس قید رہنے والاعبدالرحیم ربانی کراچی میں چل بسا

    امریکی جیل گوانتا ناموبے سے گزشتہ برس رہا ہونے والے کراچی کے شہری عبدالرحیم ربانی وفات پا گئے ہیں

    عبدالرحیم ربانی اور انکے بھائی کو گزشتہ برس ماہ فروری میں گوانتا ناموبے جیل سے رہائی کے بعد پاکستان کے حوالے کیا گیا تھا ، عبدالرحیم غلام ربانی اور محمد احمد غلام ربانی دونوں امریکی جیل میں قید تھے، کراچی سے تعلق رکھنے والے دونوں بھائیوں کو 2002 میں امریکا نے گرفتار کیا تھا، عبدالرحیم غلام ربانی اور محمد احمد غلام ربانی پر القاعدہ کے اہم رہنماؤں کی مالی اور سفری سہولت کاری کا الزام تھا۔امریکی حکام نے دونوں بھائیوں پرنائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے لیے کام کرنے اور پاکستان میں القاعدہ کے مشتبہ دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کے الزام میں حراست میں لیا تھا ،بعد میں سامنے آنے والی جائزہ رپوٹوں سے معلوم ہوا کہ وہ القاعدہ کے آپریشنل منصوبوں کے بارے لا علم تھے، محمد احمد غلام ربانی اور عبدالرحیم غلام ربانی تقریبا بیس سالوں سے زیادہ عرصے سے گوانتانامو میں قید رہے،2004 میں انہیں گوانتانامو کے قید خانے منتقل کیا گیا تھا،

    سابق سینیٹر مشتاق احمد نے عبدالرحیم ربانی کی وفات پر ایکس پر ایک پوسٹ کی ہے جس میں کہا ہے کہ گوانٹاناموبے میں بے گناہ 21 سال قید گزارنے والے عبدالرحیم ربانی کراچی میں انتقال کر گئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، دو بھائیوں،عبدالرحیم ربانی اور احمد غلام ربانی کو جس میں ایک شیف اور دوسرا ٹیکسی ڈرائیور تھا 2002 میں امریکہ کے حوالے کیا گیا۔امریکہ نے پہلے بدنام زمانہ جیل بگرام میں ان پر 3 سال بدترین تشدد کیا اور پھر 18 سال گوانٹاناموبے میں قید رکھ کرتشدد سے گزارا۔کلائیو سٹیفورڈ اسمتھ نے پروبونو ان کا کیس لڑا اور میں نے سینیٹ آف پاکستان میں حکومت پاکستان کے سامنے،چاہئے تو یہ تھا کہ ریاست اور ریاستی اہلکار ان سے معافی مانگتے ،حتی الوسع ان کی تلافی کو کوشس کرتے،الٹا امریکہ نے ان 2 بے گناہ بھائیوں کے لئے جو لاکھوں ڈالر زرتلافی حکومت پاکستان کو دی تھی وہ بھی ان کو نہیں ملی۔اور کراچی میں بڑی غربت اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے۔حکومت پاکستان نے ان کو قومی شناختی کارڈ بھی جاری نہیں کیا حالانکہ اس ایشو کو میں نےسینیٹ میں بار بار اٹھایا لیکن اس کے باوجود ان کو قومی شناختی کارڈ جاری نہیں کیاگیا،یہاں پر آئی ایم ایف کے من پسند دوہری شہریت کے حامل اشرافیہ کو گھنٹوں میں شناختی کارڈ جاری ہوجاتا ہے اور وہ وفاقی وزیر بن جاتے ہیں لیکن عبدالرحیم ربانی جیسے مظلوموں کو نہیں، اب وہ اللہ کے حضور پہنچ گئے ہیں جھاں حقیقی انصاف ہوگا۔اللّٰہ انکی تکالیف کو آخرت میں ان کیلئے باعث اجر بنائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین۔

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • عافیہ صدیقی کیلئے رحم کی اپیل کرتے ہوئے حکومت اتنا ڈر کیوں رہی ہے؟ عدالت

    عافیہ صدیقی کیلئے رحم کی اپیل کرتے ہوئے حکومت اتنا ڈر کیوں رہی ہے؟ عدالت

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی اور صحت سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی.

    عافیہ صدیقی کیس میں فوزیہ صدیقی کے امریکی وکیل کلائیو سمتھ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت کے سامنے پیش ہوئے،سیکرٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی بھی عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کلائیو سمتھ نے عافیہ صدیقی کے کیس کے حوالے سے کوشش کی افغانستان بھی گئے ،حکومتی آفیشلز میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو کہے ہم سمتھ کے ساتھ کھڑے ہیں ،مجھے سمجھ نہیں آرہی حکومت کو خوف کیا ہے ؟وائٹ ہاؤس کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیلئے رحم کی اپیل کرتے ہوئے حکومت اتنا ڈر کیوں رہی ہے؟ ویزے لگوانے اور وزارت کی سطح کے کاموں میں حکومت تعاون کرتی ہے لیکن جب پالیسی فیصلوں کی بات آئے تو خوف نظر آتا ہے، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کس بات کا ڈر ہے؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ امریکی صدر کو رحم کی اپیل کا ڈرافٹ ہمارے ساتھ شیئر کیا جائے، اپیل کا ڈرافٹ دیکھ کر ہی حکومت اُس کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کا پالیسی فیصلہ کرے گی، اس کیلئے وقت چاہیے، عدالت دو تین ہفتوں کا وقت دے، عدالت نے کہا کہ حکومت ہمت کرے اور کہہ دے کہ امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے موشن فائل نہیں کرنا چاہتی؟ امریکی وکیل یہ موشن فائل کریں، حکومتِ پاکستان ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل کےپیچھے کھڑی نہیں ہو گی، بہت شکریہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ میں عدالت سے معذرت کرتا ہوں، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب عدالت سے معذرت نہ کریں، ڈاکٹر عافیہ کسی دن واپس آ جائے تو آپ سب مل کر اس سے معافی مانگنا،تاریخ کو لکھنے دیں کہ ایک امریکی وکیل نے امریکی عدالت میں مفت میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا کیس لڑا اور حکومتِ پاکستان امریکی عدالت میں کہیں بھی نہیں تھی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت سے جواب مانگا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی صدر کے پاس رحم کی اپیل کی سپورٹ میں کیا حکومت پاکستان ، وائٹ ہاؤس کو خط لکھے گی یا نہیں ؟ وفاقی حکومت نے 13 ستمبر تک جواب جمع کرانے کے لئے مہلت مانگی ہے

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی چابی اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے پاس ہے،مشتاق احمد

    عافیہ کی جان خطرے میں،حکومت واپسی کے اقدامات کرے،ڈاکٹر فوزیہ

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے مگر ابھی تک کوئی بھی حکومت عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہیں لا سکی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ

  • عافیہ صدیقی سے بہن فوزیہ صدیقی کی ملاقات طے

    عافیہ صدیقی سے بہن فوزیہ صدیقی کی ملاقات طے

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا کیس ، اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

    ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی عافیہ صدیقی سے امریکی جیل میں ملاقات طے پا گئی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی دو اور تین دسمبر کو عافیہ صدیقی سے امریکہ میں ملاقات کریں گی سینیٹر مشتاق اور سینیٹر طلحہ بھی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے ساتھ ہوں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی

    امریکہ میں عافیہ صدیقی کے وکیل بھی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے ،اور کہا کہ عافیہ صدیقی امریکہ کی ایک بد ترین جیل میں قید ہیں ،ہماری کوشش یہ ہے کہ عافیہ صدیقی کو جلد از جلد دوسری جیل منتقل کیا جائے ،

    کیس کی سماعت کے بعد وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ کا کہنا تھاکہ عافیہ صدیقی کے کیس کی سماعت آج ہوئی،عدالت کو عافیہ صدیقی کے وکلا کی طرف سے بتایا گیا کہ دو تین دسمبر کو فوزیہ صدیقی کی ملاقات طے ہوئی ہے، فوزیہ صدیقی کی امریکہ میں سیکورٹی کنسرن ہیں،حکومت سیکورٹی یقینی بنائے،عدالت نے احکامات جاری کئے ہیں،اس وقت سب سے بڑ ا مسئلہ ہمیں در پیش ہے کہ عافیہ صدیقی بدنام ترین جیل کے ایک سیل میں قید ہیں، چھوٹا سا سیل ہے، ان پر بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے شکایات مل رہی ہیں کہ وہ جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ انکا جیل تبدیل کیا جائے کسی ایسے جیل میں رکھا جائےجہاں دنیا کے مسلمہ قوانین کی روشنی میں قیدیوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ ہو،انکو اذیت سے نجات دلائی جائے، امریکہ میں عافیہ کے وکیل آج آن لائن عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے دو ہفتے کا افغانستان کا دورہ کیا اور کچھ ثبوت ہیں جس پر وہ کام کر رہے ہیں، تفصیلات ابھی تک نہیں بتائی جا سکتیں،

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    عافیہ صدیقی کیس،ساتویں آٹھویں سماعت حکومت اس حوالے سے کچھ کرنا نہیں چاہتی،عدالت

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے مگر ابھی تک کوئی بھی حکومت عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہیں لا سکی

  • جب تک عدالت نے نہیں کہا آپ نے کچھ نہیں کیا،جج کا وزارت خارجہ حکام سے مکالمہ

    جب تک عدالت نے نہیں کہا آپ نے کچھ نہیں کیا،جج کا وزارت خارجہ حکام سے مکالمہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار فوزیہ صدیقی ، وکیل عمران شفیق عدالت کے سامنے موجود تھے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،وزارت خارجہ حکام بھی عدالت کے سامنے موجود تھے، عدالت نے وزارت خارجہ حکام سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اس کیس میں آپ کی کوششیں قابل تحسین ہیں ،لیکن جب تک عدالت نے نہیں کہا آپ نے کچھ نہیں کیا اس کیس میں میں ابھی مزید بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ،

    وزارت خارجہ حکام نے عدالت میں کہا کہ وزارت خارجہ سے اس قسم کی دستاویزات کے حصول کا کچھ پراسس ہے ،دستاویزات فراہمی کے لیے کابینہ کی منظوری ضروری ہے ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوگل صاحب ہدایات دے دیں گئیں ہیں پراسس شروع ہو جائے گا یہی الفاظ ہمیشہ سنتے ہیں ،وزارت خارجہ حکام نے کہا کہ سیکرٹری خارجہ نے واضح طور پر کہا ہے یہ دستاویزات ان کے ساتھ شئیر ہونی چاہییں ، صرف اس میں پراسس کو فالو کرنا ضروری ہے ،

    عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کراچی میں احتجاج

    اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے۔ حافظ سعد رضوی

     یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے

  • ہم مزار بنائیں گے

    ہم مزار بنائیں گے

    24 سال قبل کراچی سے اٹھائی جانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورورتھ کی جیل ایف ایم سی کارس ول کے ویٹینگ روم میں بے چینی سے پہلو بدل رہی تھی۔۔جہاں اسکی چھوٹی بہن پچھلے 13 سال سے قید تھی۔اس کیساتھ پاکستانی سیاست کا ایک درویش صفت کردار سینٹر مشتاق احمد اور امریکی وکیل کلایئو اسٹافورڈ اسمتھ بھی اس انتظار گاہ میں موجود تھے۔۔
    خاتون قیدی کہ بڑی بہن فوزیہ صدیقی سوچ رہی تھی کہ آج 24 برس بعد میں جب چھوٹی بہن کو دیکھوں گی۔۔تو کیا اس کا سامنا کر پاوں گی۔۔اس کے سوالات کا جواب دے پاوں گی۔۔وہ نجانے مجھ سے کیا کیا پوچھے۔۔مجھے اپنے بارے کیا کچھ بتائے تو کیا میں یہ سب سن پاوں گی۔۔جبکہ ہمارا نہ تو باپ ہے اور نہ بھائی۔۔
    انہی سوچوں کے عمیق سمندر کی بے ترتیب لہروں میں اس وقت دل دہلا دینے والا ارتعاش آیا جب جیل کی سیکورٹی پہ مامور عملے نے ڈاکٹر فوزیہ کو اپنے ساتھ آنے کا کہا۔۔

    زمین و آسمان ساکت تھے۔۔جیل کی اس نیم تاریک گیلری میں صرف قدموں کی چاپ تھی۔۔۔ٹک ٹک ٹک۔۔مگر یہ ٹک ٹک ڈاکٹر فوزیہ کے دل و دماغ پہ ہتھورے برسا رہی تھی۔۔کیونکہ وہ آج اپنی چھوٹی اور لاڈلی بہن سے وطن سے ہزاروں میل دور پورے 24 برس بعد خاندان کا پہلا فرد تھیں جو چند لمحوں میں ملنے جا رہی تھیں۔۔انہیں گلے لگانے۔۔۔دبی دبی چیخوں، آہوں اور سسکیوں کے درمیان صبر و استقامت کا سبق دینے۔۔نئے عزم، ہمت، جرآت اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونے کا پیغام لائی تھیں جو انہیں گلے لگا کے۔۔بہت سا پیار کر کے۔۔کمر تھپتھپا کے دینا تھا۔۔۔اس کے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر اسکو تسلی دینی تھی۔۔۔
    مگر ایسا کچھ نہ ہو سکا۔۔

    اور یوں 24 برس کے سارے ارمان اس وقت کرچی کرچی بن کر بکھر گئے جب ڈاکٹر فوزیہ کو دیوار کے اس طرف بٹھا کر انتظار کرنے کا کہا گیا اور بتایا گیا کہ ابھی کچھ دیر بعد اس موٹے شیشے کے دوسری طرف جو بوڑھی، لاغر، کمزور و ناتواں، لڑکھڑاتی چال کیساتھ، ٹوٹے دانت لیئے، سفید سکارف اور جیل کا خاکی لباس زیب تن کیئے عورت آئے گی تو پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی ہو گی۔۔اور ہاں وہ اونچا سنتی ہے۔۔آپ کو اونچا بول کر اسکو بات سمجھانا پڑے گی۔۔مگر یاد رکھنا کہ تم اسکو بچوں کی تصاویر تک نہیں دکھا سکتیں۔۔کیونکہ ہم دنیا بھر کے انسانی حقوق کے وہ علمبردار ہیں جہاں یہ سب باتیں بے معنی ہوا کرتی ہیں۔۔۔یہ سب اصول، قانون اور ضابطے ہم نے تیسری دنیا کیلئے بنا رکھے ہیں۔۔۔

    پھر وہ وقت بھی آن پہنچا۔جب پورے 24 برس بعد ہزاروں میل دور دنیا کے اس کونے میں قید اس مظلوم و محکوم عورت کی پہلی ملاقات آئی۔۔عافیہ بنا کسی ہیجانی کیفیت کے پروقار انداز میں چلتی ہوئی آئی۔۔۔بڑی بہن کے سامنے بیٹھی۔۔۔اور اڑھائی گھنٹوں کی اس ملاقات میں ایک گھنٹہ اپنے اوپر گزرنے والی قیامتوں کا مختصر سا احوال بتایا۔۔پھر بتایا کہ مجھے میری ماں بہت یاد آتی ہے۔۔۔اسکو کیوں نہیں لایا گیا۔۔۔اب کون اسکو بتاتا کہ جس ماں کو تو یاد کر رہی ہے وہ ماں تجھے یاد کرتے کرتے اپنے رب کے حضور واپس پہنچ چکی ہے۔۔۔پھر بچوں کا پوچھا۔۔۔کیس کا ڈسکس ہوا۔۔اور یوں ملاقات کا وقت تمام ہوا۔۔وہ پروقار انداز میں اٹھی۔۔۔واپس مڑی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے اپنی بڑی بہن جو اس سے ملنے پاکستان سے آئی تھی اسکی طرف پیٹھ کر کے اپنے مخصوص سیل میں چلی گئی۔۔ایسے جیسے وہ اس ماحول کی پوری عادی ہو چکی ہو۔۔۔جیسے اسکا دل کہہ رہا ہو کہ وہ یہاں سے کبھی بھی نہیں نکل پائے گی۔۔۔۔جیسے وہ اپنی قید سے اس قدر مانوس ہو چکی ہو کہ اسکو اب آزادی سے خوف آ رہا ہو۔۔۔

    قیامت کب آیئگی۔۔۔ماسوائے رب کے کوئی نہیں جانتا۔۔مگر یہ منظر قیامت سے کچھ کم نہ تھا۔۔۔۔دنیا بھر کی کتنی آنکھیں ہیں جو اس وقت پرنم ہیں۔۔۔کتنے لب ہیں جو دعائیہ انداز میں لرز رہے ہیں۔۔کتنے ہاتھ ہیں جو بارگاہ خداوندی میں اٹھے ہوئے ہیں۔۔۔
    رابطہ بحال ہو گیا۔۔جلد یا بدیر جیل یا زندگی کی یہ قید ختم ہو ہی جایئگی۔۔مگر ایک روز محشر کا میدان بھی سجنا ہے۔۔اور کچھ لوگ وہاں پہنچ چکے ہیں۔۔بش سے مشرف تک۔۔۔ایک ایک کردار وہاں کھڑا ہو گا۔۔اور ان سے ایک ایک مظلوم کا حساب ہو گا۔۔۔
    باقی ہم جو ابھی تک زندہ ہیں۔۔ہم مزار بنا دیں گے۔۔۔عافیہ بی بی۔۔ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپکا جنازہ پاکستانی تاریخ کا بڑا جنازہ ہو گا۔۔ ہم بعد از مرگ تیرے لیئے جتنا ممکن ہو سکا آواز اٹھایئں گے۔۔۔مگر ابھی نہیں۔۔۔
    کیونکہ ابھی ہم سب مریم نواز، آصفہ بھٹو اور بشری بی بی کی جنگ میں مصروف ہیں۔۔فی الوقت ہم سیاسی اناوں کی نہ ختم ہونے والی جنگوں کے محاذوں پہ مصروف ہیں۔۔۔ابھی ہمارے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ ہم آپ کیلئے کسی بھی فورم پہ آواز اٹھا سکیں۔۔کیونکہ ہم قوم کو بتانے میں لگے ہیں کہ مریم فرائی پان سے جیل میں کپڑے پریس کیا کرتی تھی۔۔ہم سر میں خاک ڈال رہے ہیں کہ سلیمان شاہ کی بیٹی گرفتار ہو گئی ہے۔۔۔ہمیں یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ کہیں بشری بی بی کا تقدس پامال نہ ہو جائے۔۔۔۔
    جب آپ سسک سسک کر مر جاو گی۔۔۔تب ہم سب باہر نکلیں گے۔۔۔۔اور پوری قوت سے نکلیں گے۔۔
    تب تک۔۔۔تم جانو۔۔۔تمہارا خاندان جانے۔۔۔چند ایک مخلصین جانیں۔۔۔اور تمہارا خدا جانے۔۔۔ہم آپکا عالیشان مزار بنایئں گے۔۔۔اگر تمہاری باقیات کو کسی سمندر میں نہ بہا دیا گیا تو۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں ہے،سینیٹر مشتاق

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،