Baaghi TV

Tag: امریکی سائنسدان

  • امریکا میں انسان میں سور کے گردے کی پیوندکاری کا تجربہ کامیاب

    امریکا میں انسان میں سور کے گردے کی پیوندکاری کا تجربہ کامیاب

    امریکا میں انسان میں سور کے گردے کی پیوندکاری کا تجربہ کامیاب ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی سرجنز کا کہنا ہے کہ ذہنی طور پر مردہ قرار دیے گئے شخص میں سور کے گردے کی پیوندکاری کی گئی ہے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سؤر کا گردہ انسان میں 32 روز سے فعال ہے، ایک آپریشن کی جانب ایک اہم قدم نیویارک کی ٹیم کو امید ہے کہ آخر کار زندہ مریضوں میں کوشش کرے گی۔

    امریکی سائنسدان انسانی جانوں کو بچانے کے لیے جانوروں کے اعضا کو استعمال کرنے کا طریقہ سیکھنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، اور تحقیق کےلیےعطیہ کی گئی لاشیں ایک شاندار تجربہ پیش کرتی ہیں،NYU Langone Health کی طرف سے بدھ کے روز اعلان کردہ تازہ ترین تجربے میں سور کا گردہ کسی شخص میں سب سے طویل کام کرنے کی نشاندہی کرتا ہے، اگرچہ ایک مردہ ہو اور یہ ختم نہیں ہوا ہے،محققین دوسرے مہینے تک گردے کی کارکردگی کو ٹریک کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    واٹس ایپ نےاسکرین لاک کا فیچرمتعارف کروا دیا

    انسان میں سؤر کے گردے کا معمول کے مطابق کام کرنا بڑی پیشرفت ہے اور امید ہے سؤر کا گردہ دیگر انسانوں میں بھی معمول کے مطابق کام کرے گا، کیا یہ عضو واقعی انسانی عضوکی طرح کام کرنےوالا ہے؟ابھی تک ایسا ہی لگتا ہے،ڈاکٹررابرٹ مونٹگمری، NYU لینگون کے ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر نے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا۔

    مونٹگمری نے 14 جولائی کو کہا کہ یہ انسانی گردے سے بھی بہتر نظر آتا ہے، مونٹگمری نے 14 جولائی کو کہا جب اس نے ایک مردہ آدمی کے اپنے گردے کو جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سور کے ایک گردے سے تبدیل کیا اور دیکھا کہ یہ فوری طور پر پیشاب بنانا شروع کر دیتا ہے۔

    اقوام متحدہ کوپ 28 اجلاس اور غذائی قلت کا مسئلہ

    اس امکان کے کہ سورکےگردے ایک دن پیوند کاری کےقابل اعضاء کی شدید قلت کودورکرنے میں مدد کر سکتے ہیں، نیو یارک کے اوپری حصے سے تعلق رکھنے والے 57 سالہ ماریس "مو” ملر کے خاندان کو اس تجربے کے لیے اپنا جسم عطیہ کرنے پر آمادہ کیا میں نے اس کے ساتھ جدوجہد کی، اس کی بہن، میری ملر ڈفی نے اے پی کو بتایا۔ لیکن وہ دوسروں کی مدد کرنا پسند کرتا تھا اور مجھے لگتا ہے کہ میرا بھائی یہی چاہتا ہے چنانچہ میں نے اپنے بھائی کو ان کے سامنے پیش کیا وہ طبی کتابوں میں شامل ہونے والا ہے، اور وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔

    جنوبی افریقہ؛ کورونا وائرس کے ایریس ویریئنٹ کا پہلا کیس سامنے آگیا

  • سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    امریکی سائنسدانوں نے تسمانین ٹائیگر کو معدوم ہونے کے تقریباً 100 سال بعد دوبارہ وجود میں لانے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تسمانین ٹائیگرکا سائنسی نام تھائلاسائن ہے، اس کی نسل 1930ء کی دہائی میں معدوم ہونے سے قبل لاکھوں سال سے کرہ ارض پر موجود تھی اس کی نسل کو تقریباً ایک صدی قبل معدوم ہونے کے بعد بہت نقصان پہنچا تھا۔

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    سائنسدانوں کے مطابق تھائلاسائن ماضی میں آسٹریلیا اور نیو گنی کی سرزمین پر بڑی تعداد میں موجود تھے لیکن 3000 سال قبل یہ اس علاقےسے معدوم ہوگئے۔ باقی ماندہ تعداد تسمانیہ کے جزیرے تک محدود رہ گئی جنہیں شکار کر کے 20 ویں صدی کی ابتدا میں ختم کردیا گیا۔

    طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ ان کے معدوم ہونے میں انسانوں اور کتوں کا بڑا حصہ ہے اس نسل کا آخری جانور ہوبرٹ کے چڑیا گھر میں 1936ء میں مرا تھا تاہم اب امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں قائم ایک اسٹارٹ اپ کولوسل بائیو سائنسز نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس جانور کو دوبارہ وجود میں لانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    کولوسل بائیوسائنسز نے دعویٰ کیا ہے کہ تھائلاسائن کے واپس آنے سے نہ صرف دنیا کو ایک مشہور جانور واپس ملے گا بلکہ اس میں تسمانیہ اور آسٹریلیا کی ماحولیات میں توازن قائم کرنے کی صلاحیت بھی ہوگی-

    کولوسل بائیو سائنسزنے میلبورن یونیورسٹی کے ساتھ مل کر معدوم ہونے والی نسلوں کو واپس لانے کے ایک پرجوش منصوبے پر کام کیا ہے۔

    یونیورسٹی کی تھائلاسائن انٹیگریٹڈ جینیاتی بحالی ریسرچ لیب کے سربراہ ڈاکٹر اینڈریو پاسک نے کہا کہ ‘یہ مرسوپیئل ریسرچ کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے اور ہمیں اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیےکولوسل کے ساتھ مل کر کام کرنے پر فخر محسوس ہوتا ہےاس پروجیکٹ سے حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی اور اہم سیکھنے سے مرسوپیل کے تحفظ کی کوششوں کی اگلی نسل پر بھی اثر پڑے گا۔

    مزید برآں، تسمانیہ کے زمین کی تزئین میں تھائلاسائن کو دوبارہ پھیلانا حملہ آورجانوروں کی وجہ سے اس قدرتی رہائش گاہ کی تباہی کو نمایاں طور پر روک سکتا ہے۔

    دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت

  • الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    کیلیفورنیا: امریکی سائنسدانوں کی جانب سے حال ہی میں کی گئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ الٹراساؤنڈ سے ذیابیطس کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’’نیچر بایومیڈیکل انجینئرنگ‘‘ کے شمارے میں شائع کی گئی تحقیق کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے جگر میں موجود کچھ مخصوص اعصاب پر الٹراساؤنڈ لہریں وقفے وقفے سے مرکوز کرکے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم یہ تجربات ابھی جانوروں پر کیے گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف امریکی تحقیقی اداروں اور جامعات کے ماہرین کی اس مشترکہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جگر میں کچھ خاص اعصاب پر صرف تین منٹ تک الٹراساؤنڈ لہریں مرکوز کرنے پر جانوروں کے خون میں انسولین اور شکر کی مقدار نمایاں طور پر کم ہوگئی یہ تجربات چوہوں، چوہیاؤں اور سؤروں پر انجام دیئے گئے۔

    تحقیق کے مطابق جگر کے ایک حصے ’’پورٹا ہیپاٹس‘‘ میں اعصاب کا گچھا موجود ہوتا ہے جسے ’’ہیپاٹوپورٹل نرو پلیکسس‘‘ کہا جاتا ہے یہ اعصاب، جسم میں گلوکوز اور غذائی اجزاء کی تازہ ترین صورتِ حال کے بارے میں دماغ کو آگاہ رکھتے ہیں۔

    فیس بک کی "ایک ارب کھانے” کی مہم، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا پیغام

    اس سے قبل تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ اعصاب کے اس گچھے میں سرگرمی کی کمی بیشی سے خون میں بھی گلوکوز اور انسولین، دونوں کی مقداروں میں اتار چڑھاؤ رونما ہوتے ہیں البتہ اعصاب کا یہ گچھا اتنا مختصر ہے کہ اس میں سرگرمیوں کو باہر سے کنٹرول کرنا بے حد مشکل ثابت ہوتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انہیں تحریک دینے اور خون میں گلوکوز/ انسولین کی مقدار کم کرنے کےلیے مرکوز الٹراساؤنڈ کی یہ تکنیک چند سال پہلے ایک نئے امکان کے طور پر ہمارے سامنے آئی تھی حالیہ تجربات میں اس تکنیک کو جانوروں پر آزما کر اس کے مؤثر ہونے کی ابتدائی تصدیق ہوئی ہے۔

    کامیاب ابتدائی تجربات کے بعد اب ماہرین اسی تکنیک کو انسانوں پر آزمانے کےلیے اجازت کے منتظر ہیں۔

    بازاروں میں فروخت ہونیوالی چاکلیٹ میں منشیات کی ملاوٹ کا انکشاف