امریکی سپریم کورٹ کے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دینے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ردعمل سامنے آگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے باعثِ شرم قرار دیا ہے،فوکس نیوز کے مطابق یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس میں گورنرز کے ساتھ بند کمرہ اجلاس کے دوران ایک معاون نے صدر ٹرمپ کو عدالتی فیصلے سے آگاہ کیا،ا اجلاس میں موجود ایک ذریعے نے فوکس نیوز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے فیصلہ پڑھتے ہی اسے شرمناک کہا اور بتایا کہ میرے پاس متبادل موجود ہے اس کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ میں بڑے نقصان کے ایک دن بعد عالمی تجارتی ٹیرف 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے یہ فیصلہ ٹرمپ کے پچھلے محصولات کے منصوبے کو عدالت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد آیا ہے صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی مکمل اور تفصیلی جائزے کے بعد وہ عالمی محصولات کو قانونی حد تک بڑھا رہے ہیں یہ اقدام امریکا کو عظیم بنانے کے پروگرام کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے 6-3 کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ صدر ٹرمپ کو اکانومی ایمرجنسی کے تحت وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں عدالت نے واضح کیا کہ درآمدات کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار ٹیرف لگانے تک توسیع نہیں پاتا یہ کام صدر کا نہیں بلکہ کانگریس کا ہے جو اتفاق رائے سے فیصلہ کرنے کا قانونی اور مجاز ادارہ ہے۔
جمعے کو سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی وسیع تجارتی محصولات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے ایمرجنسی قانون (IEEPA) کا غلط استعمال کیا، عدالت کے مطابق یہ قانون قومی ہنگامی حالات کے لیے ہے، لیکن صدر نے اسے عالمی تجارتی محصولات کے لیے استعمال کیا، جو اختیارات سے باہر تھا۔
ٹرمپ کی ری پبلکن جماعت میں بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا ہے جب کہ اپوزیشن جماعت اسے انصاف کی کامیابی قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹیرف کو اپنی معاشی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا، تاہم یہ حکمتِ عملی ابتدا ہی سے تنازع کا شکار رہی ہے۔





