154امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے سینئر ریپبلکن رہنما اور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے-
سینیٹر لنڈسے گراہم کے دفتر نے اتوار کو جاری بیان میں ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 11 جولائی کی شام مختصر اور اچانک بیماری کے باعث دنیا سے رخصت ہوئے اس مشکل گھڑی میں اہل خانہ عوام سے دعاؤں کی درخواست کرتے ہیں اور ان کی نجی زندگی کا احترام کرنے کی اپیل کر تے ہیں۔
ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی، مختلف سیاسی رہنماؤں، سینیٹرز اور اراکین کانگریس نے ان کی عوامی خدمات، عسکری پس منظر اور طویل پارلیمانی کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی وفات کو امریکی سیاست کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔
لنڈسے گراہم کا شمار امریکی ریپبلکن پارٹی کے بااثر رہنماؤں میں ہوتا تھا وہ 2003 سے امریکی سینیٹ میں ریاست جنوبی کیرولائنا کی نمائندگی کر رہے تھے اور اس سے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن بھی رہ چکے تھے،قومی سلامتی، دفاع اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر ان کی رائے کو امریکی سیاسی حلقوں میں خاص اہمیت حاصل تھی، وہ امریکی فضائیہ کے ریزرو افسر بھی رہے اور فوجی امور پر گہری مہارت رکھتے تھے۔
اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران انہوں نے عراق، افغانستان، یوکرین اور مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسیوں میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ سینیٹ کی متعدد اہم کمیٹیوں کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں، لنڈسے گراہم نے 2016 میں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کی کوشش بھی کی، تاہم بعد ازاں وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی سیاسی اتحادیوں میں شامل ہوگئے اور ان کی متعدد داخلی اور خارجہ پالیسیوں کی بھرپور حمایت کر تے رہے۔
ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی، مختلف سیاسی رہنماؤں، سینیٹرز اور اراکین کانگریس نے ان کی عوامی خدمات، عسکری پس منظر اور طویل پارلیمانی کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی وفات کو امریکی سیاست کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔
