Baaghi TV

Tag: امریکی عدالت

  • عافیہ صدیقی کیس:حکومت کا امریکی عدالت میں معاونت کرنے اور فریق بننے سے انکار

    عافیہ صدیقی کیس:حکومت کا امریکی عدالت میں معاونت کرنے اور فریق بننے سے انکار

    حکومت نے عافیہ صدیقی کیس میں امریکی عدالت میں معاونت کرنے اور فریق بننے سے انکار کردیا-

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کی درخواست پر سماعت ہوئی سماعت کے موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ حکومت نے امریکا میں کیس میں فریق نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کس وجہ سے یہ فیصلہ کیاگیا ہے، وجوہات کیا ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے یہی فیصلہ کیا گیا ہے۔

    عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ حکومت یا اٹارنی جنرل کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو اس کی وجوہات ہوتی ہیں، بغیر وجوہات کے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا، یہ آئینی عدا لت ہے، یہ نہیں ہوسکتا کوئی عدالت آکر کہہ دے فیصلہ کیاہے اور وجوہات نہ بتائے۔

    عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر وجوہات سے متعلق آگاہ کیاجائے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت جمعہ4 جولائی تک ملتوی کردی۔

  • ہَش منی کیس: ڈونلڈ ٹرمپ سزا سے بچ گئے ، جرم  برقرار

    ہَش منی کیس: ڈونلڈ ٹرمپ سزا سے بچ گئے ، جرم برقرار

    امریکی عدالت نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ’ہَش منی کیس‘ کا فیصلہ سنا دیا ہے، جس میں وہ سزا سے بچ گئے ہیں، تاہم ان کا جرم برقرار رکھا گیا ہے۔

    غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک کی فوجداری عدالت نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ’ہَش منی کیس‘ کی سماعت کی۔عدالت نے پیسے دے کر چھپانے کا جرم ڈونلڈ ٹرمپ کے ریکارڈ میں شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو قید نہیں کیا جائےگا، نہ ہی ان پر کوئی جرمانہ کیا جائےگا۔اس عدالتی فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے پہلے صدر ہوں گے جو مجرمانہ ریکارڈ کے ساتھ صدارت کا منصب سنبھالیں گے۔یاد رہے کہ مئی 2024 میں امریکا کی عدالت نے فحش فلموں کی اداکارہ کو رقم دینے سے متعلق کیس میں ٹرمپ پر عائد الزامات کو درست قرار دیا تھا، اور انہیں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

    وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات

    پاکستان پیٹرولیم کا گیس کی پیداوار شروع کرنے کا اعلان

    لنڈی کوتل: پولیس کی کارروائی، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو ملزمان گرفتار

  • امریکی جج کا بڑا فیصلہ، عافیہ صدیقی کیلئے نئی امید پیدا ہوگئی

    امریکی جج کا بڑا فیصلہ، عافیہ صدیقی کیلئے نئی امید پیدا ہوگئی

    ایک امریکی جج نے امریکی اہلکاروں پر حملے کے الزام میں سزا پانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قانونی ٹیم کو نئے اور خفیہ شواہد تک رسائی کی اجازت دے دی ہے جو ممکنہ طور پر معافی کی درخواست کیلئے اچھی علامت ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ ایم برمن کی طرف سے جاری کردہ حکم میں عافیہ صدیقی کے وکلا کو 2009 سے تعلق رکھنے والے اہم مواد تک رسائی کی اجازت دی گئی۔عدالتی حکم کے مطابق وکلا کو انتہائی سخت شرائط کے تحت دستاویزات تک رسائی ہوگی کیونکہ ان میں ایسی معلومات بھی موجود ہیں جو عوامی سلامتی اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے سرگرم وکلا میں سے ایک اسٹافورڈ اسمتھ نے نئے مواد کے بارے میں کہا کہ انہوں نے بلیک سائٹ کے بارے میں زبردست نئے شواہد حاصل کیے ہیں جہاں عافیہ صدیقی کو بگرام آئسولیشن سیلز میں وقت کے بعد رکھا گیا تھا۔علاوہ ازیں عافیہ صدیقی کے وکیل اسمتھ نے 56,600 الفاظ پر مشتمل معافی کی درخواست دائر کی تھی جس کا مقصد عافیہ صدیقی کے کیس سے متعلق پیچیدگیوں اور ناانصافیوں کو اجاگر کرنا تھا۔ڈاکٹرعافیہ صدیقی کون ہیں ڈاکٹرعافیہ صدیقی ایک سائنسدان ہیں جو امریکا کی جیل میں 86 سال قید کی سزا بھگت رہی ہیں، ان پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کا الزام ہے۔
    مارچ 2003 میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اہم کمانڈر اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے 3 بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوئیں۔جس کے بعد 2008 میں امریکی حکومت نے دعوی کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کو افغان شہر غزنی سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ طالبان کے ساتھ مل کر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں۔عافیہ صدیقی پر ستمبر 2010 میں مقدمہ چلایا گیا جس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ایک امریکی فوجی سے رائفل چھین کر اس پر گولی چلائی لیکن وہ بچ گیا۔امریکی عدالت میں 14 دن کے ٹرائل کے دوران عافیہ صدیقی نے بتایا کہ اس پر امریکیوں نے تشدد کیا لیکن ان کی سنوائی نہیں ہوئی۔ اقدام قتل کے الزام میں ڈاکٹر عافیہ کو 86 سال قید کی سزا سنائی گئی، یہ قید 30 اگست 2083 کو ختم ہوگی۔

    آئینی ترمیم پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات جاری”سینئر رہنما شیری رحمان

    کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے سے شہری مختلف امراض میں مبتلا، وباء پھوٹنے کا خدشہ

  • امریکی عدالت کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قانونی ٹیم کو نئے اور خفیہ شواہد تک رسائی کی اجازت

    امریکی عدالت کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قانونی ٹیم کو نئے اور خفیہ شواہد تک رسائی کی اجازت

    واشنگٹن: امریکی جج نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قانونی ٹیم کو نئے اور خفیہ شواہد تک رسائی کی اجازت دے دی ہے-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ ایم برمن کی طرف سے جاری کردہ حکم میں عافیہ صدیقی کے وکلا کو 2009 سے تعلق رکھنے والے اہم مواد تک رسائی کی اجازت دی گئی عدالتی حکم کے مطابق وکلا کو انتہائی سخت شرائط کے تحت دستاویزات تک رسائی ہوگی کیونکہ ان میں ایسی معلومات بھی موجود ہیں جو “عوامی سلامتی اور قومی سلامتی’ کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

    عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے سرگرم وکلا میں سے ایک اسٹافورڈ اسمتھ نے نئے مواد کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ”بلیک سائٹ“ کے بارے میں زبردست نئے شواہد حاصل کیے ہیں جہاں عافیہ صدیقی کو بگرام آئسولیشن سیلز میں وقت کے بعد رکھا گیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات کی دہشت گرد حملے کی مذمت، پاکستان سے اظہار یکجہتی، چین سے …

    علاوہ ازیں عافیہ صدیقی کے وکیل اسمتھ نے 56,600 الفاظ پر مشتمل معافی کی درخواست دائر کی تھی جس کا مقصد عافیہ صدیقی کے کیس سے متعلق پیچیدگیوں اور ناانصافیوں کو اجاگر کرنا تھا۔

    واضح رہے کہ ڈاکٹرعافیہ صدیقی ایک سائنسدان ہیں جو امریکا کی جیل میں 86 سال قید کی سزا بھگت رہی ہیں، ان پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کا الزام ہے۔

    جعلسازی کی شناخت کرنے والا نیا ٹول متعارف

  • امریکی عدالت نے  48 سال قید کی سزا بھگتنے والے قیدی کو بے گناہ قرار  دیا

    امریکی عدالت نے 48 سال قید کی سزا بھگتنے والے قیدی کو بے گناہ قرار دیا

    امریکی ریاست اوکلاہوما میں 48 سال قید کی سزا بھگتنے والے قیدی کو بے گناہ قرار دے دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اوکلاہوما کی عدالت نے 70 سالہ گلین سیمنز کو 48 سال ایک ماہ اور 18 دن قتل کے جرم میں قید کے بعد بے گناہ قرار دے دیا جج کا کہنا تھا کہ تمام ثبوتوں اور شواہد کی بنیاد پر ثابت ہوگیا ہے کہ قتل ملزم گلین نے نہیں کیا اور وہ بے گناہ ہیں،اہم ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ڈسٹرکٹ کورٹ نے جولائی میں گلین سیمنز کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

    واضح رہے کہ گلین کو 1974 میں اوکلاہوما سٹی کے مضافاتی علاقے میں شراب کی دکان پر ڈکیتی کے دوران ہلاک ہونے والے شخص کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اوکلاہوما میں غلط سزا بھگتنے والے افراد کو 1 لاکھ 75 ہزار ڈالر کا ہرجانہ ادا کیا جاتا ہے۔

    اداکارہ میرا کے گھر سے 1 کروڑ مالیت کا سامان چوری

    ان کی عمر 22 سال تھی 1975 میں گلین سیمنز کو 22 سال کی عمر میں ایک اور شخص ڈان رابرٹس کو مجرم ٹھہرایا گیا اور انہیں موت کی سزا سنائی گئی تاہم سزائے موت کے بارے میں امریکی سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وجہ سے بعد میں ان سزاؤں کو عمر قید کی سزاؤں سے تبدیل کر دیا گیا نیشنل رجسٹری آف ایکسونیشنز کے مطابق وہ سب سے زیادہ عرصے تک قید رہنے والے فرد ہیں گلین سیمنز اس وقت جگر کے کینسر میں مبتلا ہیں ۔

    چیک جمہوریہ کی یونیورسٹی میں فائرنگ،15 افراد ہلاک 30 زخمی