Baaghi TV

Tag: امریکی فوج

  • صدر ٹرمپ کا آرمی کیڈٹس سے خطاب، امریکی فوج کو مضبوط بنانے کا سہرا اپنے سر لے لیا

    صدر ٹرمپ کا آرمی کیڈٹس سے خطاب، امریکی فوج کو مضبوط بنانے کا سہرا اپنے سر لے لیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ویسٹ پوائنٹ کے کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی فوج کو دنیا کی سب سے طاقتور فوج بنانے کا کریڈٹ خود کو دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نیویارک کے مشی اسٹیڈیم میں منعقدہ کانووکیشن تقریب میں صدر ٹرمپ نے کیڈٹس کو تعلیمی و جسمانی کامیابیوں پر مبارکباد دی اور کہا کہ اب آپ انسانی تاریخ کی سب سے باوقار اور مشہور فوجی اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہو رہے ہیں، اور جلد ہی دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے افسران میں شامل ہو جائیں گے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں نے امریکی فوج کو دوبارہ منظم کیا، پہلے دورِ حکومت میں اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا، اور اب ہماری افواج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور جدید ہیں۔”صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا کا نیا سنہری دور شروع ہونے کو ہے۔ فوج کو جدید ہتھیاروں سے لیس کیا جا رہا ہے تاکہ دنیا میں اپنی برتری قائم رکھی جا سکے۔

    خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کیڈٹ "کرس ورڈوگو” کو سٹیج پر بلایا اور اسے ایک مثالی کیڈٹ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کرس نے جنوری کی ایک انتہائی سرد رات میں 18.5 میل طویل مارچ صرف دو گھنٹے 30 منٹ میں مکمل کیا، جو عزم اور تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    اپنی گفتگو میں صدر ٹرمپ نے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حالیہ دورے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہاں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں انتہائی مثبت رہیں، جنہوں نے علاقائی سیکیورٹی کے لیے امریکی کردار کو سراہا۔

    پی ایس ایل 10: فائنل میں پاک بحریہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا

    دہشت گردی کے خلاف عزمِ راسخ ، تحریر:جان محمد رمضان

    شام کے عبوری صدر احمد الشرع اچانک ترکی کے دورے پر پہنچ گئے

    شام کے عبوری صدر احمد الشرع اچانک ترکی کے دورے پر پہنچ گئے

  • ایک ماہ میں امریکی فوج سے ٹرانسجینڈر فارغ کرنیکا حکم

    ایک ماہ میں امریکی فوج سے ٹرانسجینڈر فارغ کرنیکا حکم

    پینٹا گون نے ٹرانسجینڈر فوجی اہلکاروں کو 30 دن کی ڈیڈ لائن کے اندر فارغ کرنے کاحکم دے دیا.

    پینٹاگون نےاپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ پالیسی اس وقت لاگو ہوگی جب تک کہ ہر معاملے کی بنیاد پر استثنیٰ نہ دیا جائے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ٹرانسجینڈر افراد کے لیے فوج میں شامل ہونا یا اپنی خدمات جاری رکھنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پینٹاگون کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پہلے 30 دن کے اندر ٹرانسجینڈر فوجیوں کی شناخت کرے اور اس کے بعد اگلے 30 دنوں میں انہیں فوج سے الگ کر دے۔پینٹاگون نے وضاحت کی ہے کہ اس پالیسی کا مقصد فوج کی یکجہتی، مؤثر کارکردگی اور تنظیمی ڈھانچے کو برقرار رکھنا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے اعدادوشمار کے مطابق، اس وقت امریکی فوج میں تقریباً 13 لاکھ فعال اہلکار موجود ہیں، جبکہ ٹرانسجینڈر حقوق کے حامی ادارے اس تعداد کو 15,000 کے قریب قرار دیتے ہیں۔

    26 فروری کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا، ’’یہ امریکی حکومت کی پالیسی ہے کہ فوجی اراکین میں اعلیٰ درجے کی تیاری، مؤثر کارکردگی، یکجہتی، ایمانداری، ہم آہنگی اور وفاداری کو یقینی بنایا جائے۔‘‘ٹرانسجینڈر فوجیوں کے خلاف یہ اقدام اس سے قبل بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے متعارف کرائی گئی پالیسیوں کے برعکس ہے۔ بائیڈن حکومت نے ٹرانسجینڈر افراد کو فوج میں شمولیت اور طبی سہولیات کی فراہمی کی اجازت دی تھی۔ تاہم، ٹرمپ کے اس فیصلے کے تحت تمام جینڈر-افرمیشن میڈیکل کیئر ختم کر دی گئی ہے، جس میں جینڈر ٹرانزیشن (جنس کی تبدیلی) سے متعلق تمام طبی عمل روکنے کے احکامات شامل ہیں۔

  • امریکی فوج کا  یمنی حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکی فوج کا یمنی حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    واشنگٹن: امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں دو ٹرکوں پر نصب دو اینٹی شپ میزائلوں کے خلاف اپنے دفاع میں حملہ کر کے انہیں تباہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : ہفتے کے روز امریکی سینٹرل کمانڈ نے "ایکس” پلیٹ فارم پر کہا کہ”صنعا کے مقامی وقت کے مطابق تقریباً 3:55 پر حوثیوں نے یمن سے خلیج عدن میں M/V Propel Fortune نامی بحری جہاز پر دو اینٹی شپ بیلسٹک میزائل داغے، اس جہاز پر سنگاپور کا جھنڈا لہرا تھا اور یہ جہاز سنگاپور کی ایک کمپنی کی ملکیت ہے، حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    یہ اقدامات جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ اور امریکی بحریہ اور تجارتی جہازوں کے لیے بین الاقوامی پانیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

    کراچی کنگز کی ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کو پہلے بیٹنگ کی …

    قبل ازیں جمعہ کو برٹش میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے کہا تھا کہ بحیرہ احمر میں جازان سے 135 ناٹیکل میل شمال مغرب میں ڈرون کی سرگرمی کی اطلاعات ملی تھیں، اسے عدن کے یمنی ساحل سے 50 ناٹیکل میل جنوب مشرق میں ایک بحری جہاز کے سامنے دو دھماکوں کی اطلاع ملی ہے اور جہاز اور عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور علاقے میں گذرنے والے بحری جہازوں کو مشورہ دیا کہ وہ محتاط رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔

    "العربیہ ” کے مطابق میری ٹائم سکیورٹی کمپنی امبری نے کہا کہ وہ عدن سے تقریباً 52 ناٹیکل میل جنوب میں پیش آنے والے حادثے سے آگاہ ہے اور اس کی تحقیقات کر رہی ہے-

    مذہبی رہنما ڈاکٹر حافظ مسعوداظہر کیساتھ ڈکیتی کی واردات،پولیس کی بروقت کارروائی میں ڈاکو گرفتار …

    واضح رہے کہ 19 نومبر سے حوثیوں نے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کا آغاز کیا جن کے بارے میں حوثیوں کو شبہ ہے کہ وہ اسرائیل سے منسلک ہیں یا اس کی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہیں۔

  • ژوب حملہ: دہشتگردوں کے امریکی ہتھیار اور سامان استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا

    ژوب حملہ: دہشتگردوں کے امریکی ہتھیار اور سامان استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا

    کالعدم دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ژوب حملے میں دہشتگردوں کے امریکی ہتھیار اور سامان استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حملے میں دہشتگردوں نے افغانستان میں امریکی فوج کا چھوڑا ہوا اسلحہ استعمال کیا حملے میں 5.56 ایم ایم کیلیبر ایم 16 اسالٹ رائفلیں اور جدید ہیلمٹ، دستانے، بیک پیک اور یونیفارمز استعمال کیے گئے حملہ کرنے والے دہشت گرد جو کہ ہلاک ہو چکے ہیں امریکی یونیفارم میں ملبوس تھے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ وہی اسلحہ و یونیفارم ہے جو امریکی افواج نے افغانستان میں چھوڑا تھا، ٹی ٹی پی کے شر پسند یہ ہتھیار پاکستان کے خلاف استعمال کرتے آئے ہیں بھاری ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد امریکی یونیفارم پہن لیں تب بھی بزدلی کی موت ہی مریں گے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی پاک دھرتی پر ناپاک قدم رکھنے والے تمام پاکستان دشمن عناصر کو منہ کی کھانی پڑے گی سیکیورٹی فورسز پاکستان میں امن دشمنوں کو بے نقاب اور جڑ سے ختم کرنے کے لیے مسلسل سر گرم عمل ہیں۔

    افغانستان کو دہشتگرد حملوں کیلئےمحفوظ مقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے،امریکا

    واضح رہے کہ 12 جولائی جو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر ژوب کی فوجی چھاؤنی پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے میں 5 سیکیورٹی اہلکار شہید جب کہ پانچ شدید زخمی ہوئے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا بعد ازاں کلئیرنس آپریشن کے بعد ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 5 ہوگئی، جبکہ 9 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

    ڈپٹی کمشنر ژوب عظیم کاکڑ کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب شروع ہونے والے اس حملے میں فائرنگ کی زد میں آکر ایک خاتون ہلاک جب کہ 5 شہری بھی زخمی ہوئےکالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ گروپ ’جماعت الاحرار‘ نے ژوب میں کارروائی کی ذمہ داری قبول کی۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ بدھ کی صبح نامعلوم دہشت گرد ژوب کینٹ پر حملہ آور ہوئے دہشت گردوں نے چھاؤنی میں گھسنے کی کوشش کی جنہیں ڈیوٹی پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں نے روکے رکھا اور فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد دہشت گردوں کو باؤنڈری کے ساتھ ایک جگہ پر محصور کر دیا گیا تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے، کلیئرنس آپریشن کے دوران چار سیکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

    غلاف کعبہ تبدیل کر دیا گیا،ویڈیو

    جس کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت نے دہشتگرد حملوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہا رکیا ہےگزشتہ روز آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت ہونے والی کورکمانڈرز کانفرنس نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اوردیگر دہشتگرد گروپوں سے ملکی سلامتی کو خطرہ ہے۔

    کور کمانڈرز کانفرنس نے ایک پڑوسی ملک میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کو کارروائی کی آزادی، دہشت گردوں کے پاس جدید ترین ہتھیاروں کی دستیابی کو نوٹ کیا گیا اور فورم نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس جدید ترین ہتھیار پاکستان کی سلامتی متاثر کرنے کی بڑی وجوہات ہیں۔

    اس سے قبل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو کارروائیوں کیلئے حاصل آزادی اور ان کے محفوظ ٹھکانوں پر مسلح افواج کو تشویش ہے، امید ہے افغان حکومت دوحہ معاہدے کے مطابق اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گی مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں اور آزادانہ دہشت گرد کارروائیوں پر شدید تحفظات ہیں، توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور عبوری حکومت حقیقی معنوں میں دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

    شمالی کوریا نے جاپانی سمندری حدود کے قریب بیلسٹک میزائل فائر کر دیا

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی شمولیت ایک اور اہم تشویشناک پہلو ہے جس پر فوری توجہ دینے اور اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے، اس طرح کے دہشت گرد حملے ناقابل برداشت ہیں، ان حملوں پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے مؤثر جوابی کارروائی ہوگی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بلاامتیاز جاری رہے گا اور مسلح افواج دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گی۔ کوئٹہ گیریژن آمد پر کور کمانڈر کوئٹہ نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    اسی حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اپنی حدود کے اندر عسکریت پسندوں کو لگام ڈالنےکی خواہش رکھتے ہوں یا نہیں، پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی ختم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

    علاوہ ازیں ٹوئٹر پر ایک بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں50 سے 60 لاکھ افغان شہریوں کو 40 سے 50 سال سے حقوق کے ساتھ پناہ میسر ہے لیکن اس کے برعکس پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو افغان سر زمین پر پناہ گاہیں میسر ہیں لیکن اب یہ صورت حال مزید جاری نہیں رہ سکتی، پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کےتحفظ کے لیےاپنے وسائل بروئے کار لائےگا، افغانستان ہمسایہ اور برادر ملک ہونےکا حق نہیں ادا کر رہا، افغانستان دوحہ معاہدے کی پاسداری بھی نہیں کر رہا۔

    عمران خان کے فیک فالورز کے بعد فیک ویوز بھی پکڑے گئے

  • ‏امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی بھی کورونا سے نہ بچ سکے

    ‏امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی بھی کورونا سے نہ بچ سکے

    ‏امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی بھی کورونا میں مبتلا ہو گئے-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادرے "روئٹرز” کے مطابق پیر کو ایک ترجمان نے کہا کہ امریکی جوائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل مارک ملی کا اتوار کو کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے تاہم ان میں کورونا کی علامات معمولی نوعیت کی ہیں-

    بیجنگ میں پہلے اومی کرون کیس کی تصدیق،چین پھربحران کا شکار

    ترجمان نے کہا کہ صدر جو بائیڈن کے ساتھ ملی کا آخری بار رابطہ 12 جنوری کو ریٹائرڈ جنرل ریمنڈ اوڈیرنو کی آخری رسومات کے موقع پر ہوا تھا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ملی کا بائیڈن کے ساتھ رابطے کے بعد کئی دن پہلے کورونا ٹیسٹ منفی آیا تھا جبکہ ملی کو کورونا ویکسین کی بوسٹر شاٹ بھی لگ چکی ہے-

    واضح رہے کہ امریکی وزیر دفاع، لائیڈ آسٹن نے اس مہینے کے شروع میں کورونا کے لیے مثبت تجربہ کیا تھا۔ 9 جنوری کو ان کا ٹیسٹ منفی آیاتھا-

    بغیر ویکسینیشن بچوں کو اسکول آنے کی اجازت نہیں ہوگی، وزیر تعلیم پنجاب مُراد راس کا اعلان

    دوسری جانب چین کے دارالحکومت بیجنگ میں اومی کرون کیس کی نشاندہی کے بعد شہر میں داخلے کے قواعد میں سختی کردی گئی جبکہ دارالحکومت آنے والوں کو 72 گھنٹے قبل کورونا ٹیسٹ کرانا ہوگا گزشتہ روز بیجنگ کے ضلع ہایدیان میں کورونا کی نئی قسم اومی کرون کی مقامی منتقلی کا پہلا کیس رپورٹ ہوا اومی کرون کی تشخیص کے متاثرہ شہری کے اپارٹمنٹ اور دفتر کو سیل کردیا گیا اور دونوں مقامات پر 2430 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں اہم فیصلے:پھر سے پابندیوں کا امکان

    دارالحکومت میں اومی کرون کیس کی نشاندہی کےبعد شہرمیں داخلےکے قواعد میں سختی کردی گئی ہے اور بیجنگ آنے والوں کو72 گھنٹے قبل کورونا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے بیجنگ میں نئی سفری پابندی 22 جنوری سے مارچ تک نافذ رہے گی جبکہ بیجنگ اور اس کے قریبی صوبے ہیبی میں 4 فروری سے سرمائی اولمپکس ہونےہیں۔

    دوسری جانب بیجنگ کے قریبی شہر تیانجن میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کے تیسرے مرحلے میں اومی کرون کے مزید 59 کیس سامنے آئے ہیں۔ چین میں اومی کرون کے کیسز پانچ صوبوں میں رپورٹ ہوچکے ہیں۔

    تعلیمی ادارے بند کریں گے یا نہیں؟ این سی او سی اجلاس میں کیا بات ہوئی،بڑا فیصلہ

  • یہ ماننا پڑے گا کہ امریکی فوج میں بھی انتہا پسند عناصرموجود ہیں : پینٹا گون

    یہ ماننا پڑے گا کہ امریکی فوج میں بھی انتہا پسند عناصرموجود ہیں : پینٹا گون

    واشنگٹن : یہ ماننا پڑے گا کہ امریکی فوج میں بھی انتہا پسند عناصرموجود ہیں : امریکہ کے محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ امریکی فوج کے تقریباً 100 ارکان نے گذشتہ ایک سال کے دوران کسی نہ کسی قسم کی ’ممنوعہ انتہا پسندانہ سرگرمی‘ میں حصہ لیا۔

    پینٹاگون کے سربراہ لائیڈ آسٹن نے فروری 2021 میں اپنی صفوں کے اندر انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے سے متعلق محکمہ دفاع کی پالیسیوں پر نظرثانی کا حکم دیا تھا۔

    یہ فیصلہ اس انکشاف کے بعد کیا گیا تھا کہ امریکی فوج کے درجنوں سابق ارکان نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے رواں برس چھ جنوری کو امریکہ میں کیپٹل ہل پر حملے میں حصہ لیا تھا۔

    لائیڈ آسٹن نے پیر کو انتہا پسندانہ سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے سے متعلق ورکنگ گروپ کی رپورٹ جاری کرنے کے ساتھ ایک بیان میں کہا کہ محکمہ دفاع سے منسلک مردوں اور خواتین کی بھاری اکثریت اس ملک کی عزت اور دیانت داری کے ساتھ خدمت کرتی ہے

    لائیڈ آسٹن نے کہا کہ وہ اس حلف کا احترام کرتے ہیں جو انہوں نے امریکہ کے آئین کی حمایت اور دفاع کے لیے اٹھایا تھا۔

    ہم سمجھتے ہیں کہ انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں حصہ لے کر صرف چند لوگ اس حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

    دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا: ’جائزے سے پتہ چلا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران امریکی فوج کے ’تقریباً 100‘ حاضر سروس یا ریزرو اراکین نے ممنوعہ انتہا پسندسرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔

    تاہم انہوں نے یہ واضح کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ کس قسم کی سرگرمی میں ملوث تھے لیکن انہوں نے ممنوعہ سرگرمیوں کی مثال کے طور پر حکومت کا تختہ الٹنے یا ’گھریلو دہشت گردی‘ کی وکالت کا حوالہ دیا۔ورکنگ گروپ نے اپنی نئی ہدایات میں مخصوص انتہا پسند گروہوں کی فہرست نہیں دی۔

    ان سفارشات میں سروس ممبران کے لیے انتہا پسند سرگرمیوں کے متعلق تربیت اور تعلیم میں اضافہ بھی شامل تھا جبکہ پینٹاگون نے سروس ممبران کے لیے نئی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

    جان کربی نے کہا: ’اس میں خاص طور پر سوشل میڈیا کے حوالے سے رہنما اصول شامل ہیں کہ انتہا پسندانہ ممنوعہ سرگرمیوں کے حوالے سے کس چیز کی اجازت ہے اور کس کی نہیں۔‘ امریکی معاشرے کی طرح امریکی فوج بھی برسوں کی تفرقہ انگیز سیاست کے بعد سیاسی دباؤ کا شکار ہے۔

    فوج کے ارکان کی ایک چھوٹی سی اقلیت نے ویکسین لگوانے کے احکامات سے انکار کر دیا ہے۔ اور کچھ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے امریکی کیپٹل ہل میں چھ جنوری کو ہونے والے مہلک فساد میں حصہ لیا تھا۔

    بائیڈن انتظامیہ نے، جس نے 20 جنوری کو اقتدار سنبھالا تھا، اس فساد کے بعد سال کا بیشتر حصہ انتہا پسندی کی اپنی تعریف واضح کرنے اور انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں کس قسم کی فوجی شرکت کو واضح طور پر ممنوع قرار دینے کے لیے کام کیا اور پیر کے روز نتائج پیش کیے۔

    نئی تعریف میں سوشل میڈیا پر انتہا پسند مواد کو لائیک” کرنے سے لے کر فنڈ ریزنگ یا انتہا پسند تنظیم کے لیے مظاہرہ کرنے تک سب کچھ شامل ہے۔ سزا، اگر کوئی ہے، تو وہ مقامی کمانڈر دے سکتے ہیں۔

    اس کے باوجود پینٹاگون نے پراؤڈ بوائز سے لے کر اوتھ کیپرز اور کو کلکس کلان تک کسی بھی گروپ میں شمولیت سے روک دیا ہے اور صدر کی حیثیت سے جو بائیڈن کی قانونی حیثیت کے بارے میں بیان دینے سے منع کیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ ’اگر ہم انتہا پسند گروہوں کی فہرست لے کر آتے ہیں تو یہ شاید اتنا ہی اچھا ہوگا جتنا کہ ہم نے اسے شائع کیا تھا کیونکہ یہ گروپ تبدیل ہو جاتے ہیں۔

    تاہم امریکی دفاعی حکام کا کہنا تھا کہ پیر کو اعلان کردہ پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ ایسے کسی بھی گروپ میں بامعنی اور فعال شرکت ناممکن ہوگی۔

    پینٹاگون کے اس اعلان سے چند ہفتے قبل امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے امریکی سروس ممبران کی انتہا پسندانہ سرگرمی کے 294 الزامات کا حوالہ دیا تھا۔

    ان میں چھ جنوری کو امریکی کیپٹل ہل میں غیر قانونی کارروائی کے 10 الزامات اور گھریلو انتہا پسندانہ تشدد میں ملوث ہونے کے 102 الزامات شامل ہیں۔ نسلی بنیادوں پر پرتشدد انتہا پسندانہ سرگرمی کے 70 الزامات اور حکومت مخالف یا اتھارٹی مخالف انتہا پسندی کے 73 الزامات بھی لگائے گئے تھے