Baaghi TV

Tag: امریکی قرارداد

  • پنجاب اسمبلی میں بھی امریکی قرارداد کے خلاف مذمتی قرار داد منظور

    پنجاب اسمبلی میں بھی امریکی قرارداد کے خلاف مذمتی قرار داد منظور

    قومی اسمبلی کے بعد پنجاب اسمبلی میں بھی امریکی قرارداد کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کی گئی ہے

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر ملک احمد خان کی زیر صدارت ہوا، پنجاب اسمبلی میں حکومت رکن احسن رضا خان نے قرارداد پیش کی،قرارداد کے متن کے مطابق امریکی قرارداد پاکستان کےاندرونی معاملات میں مداخلت ہے، امریکی کانگریس کی قرارداد پاکستان اور امریکا کے دو طرفہ تعلقات کی عکاس نہیں،امریکی قرارداد پاکستان میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش ہے، پاکستان کے عام انتخابات کو اس قرارداد کے ذریعے متنازع بنانے کی کوشش کی گئی، پاکستان جمہوری اقدار کا پاسدار ہے اور تمام ادارے آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں، امریکی قرارداد یہودی لابی کی طرف سے لائی گئی، پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی کو اس قرارداد میں غلط انداز میں پیش کیا گیا،پاکستان کی سیاسی جماعتیں جمہوریت کے حوالے سے شعور رکھتی ہیں، امریکی کانگریس کو دوسروں کے امور میں مداخلت کے بجائے فلسطین اور کشمیر کی حمایت کرنی چاہیے۔

    پنجاب اسمبلی اجلاس کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں شرکت نہیں کی،اراکین کی معطلی کی وجہ سے دیگر اراکین نے یکجہتی کا اظہار کیا.

  • پی ٹی آئی دشمنوں کے ہاتھوں کھیل رہی،انتہائی شرمناک ہے، عقیل ملک

    پی ٹی آئی دشمنوں کے ہاتھوں کھیل رہی،انتہائی شرمناک ہے، عقیل ملک

    مسلم لیگ ن کے رہنما ،ترجمان قانونی امور، بیرسٹر عقیل ملک نے شائستہ پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان توڑنے کی باتیں کرتی ہے, دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے, پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا کرتی ہے, ڈیجیٹل دہشتگردی کرتی ہے, یہ سب کرنا پی ٹی آئی کیلئے انتہائی شرمناک بات ہے.

    بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ کل شائستہ نے ایوان میں ایک قرارداد پیش کی، ایک جماعت کا امریکا کے خلاف قرار داد پر شورشرابہ قابل افسوس تھا، امریکا کی قرارداد کے جواب میں ہماری قرارداد کی اس جماعت نے مخالفت کی،تحریک انصاف نے لابنگ اور پی آر فَرمز ہائر کر رکھی ہیں، ایک مخصوص جماعت قوم کی آنکھ میں دھول جھونکتی رہی ہے،سبز ہلالی پرچم کی حفاظت ہر پاکستان کا فرض ہے، کوئی پاکستانی ملکی سالمیت ،آزادی پر آنچ نہیں آنے دے گا،بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جو زیادتیاں ہو رہی ہیں اس پر امریکا نے کبھی آواز نہیں اٹھائی، امریکا کی قرارداد کے جواب میں ہماری قرارداد کی اس جماعت نے مخالفت کی،کوئی بھی پاکستانی ملک کی سالمیت پر آنچ نہیں آنے دے گا،ہم محب وطن پاکستانی ہیں، ایک سیاسی جماعت اس بات پر تلی ہوئی ہے کہ وہ ملک توڑنے کی بات کرے،ملک کے خلاف پروپیگنڈہ کرے، یہ کہاں کی پاکستانیت ہے، آپ کو یہ اقدام اٹھانے سے قبل شرم سے ڈوب مرنا چاہئے تھا، پاکستانی کہیں بھی ہوں پاکستان کا آئین اور پاکستانیت لاگو ہوتی ہے،ہم آزاد ملک میں رہتے ہیں،ہم کیا غلام ہیں کا سبق سکھاتے رہے اور اب کل انکا رویہ دیکھیں، قرارداد پاکستان مخالف امریکا میں پاس کروائی، کل پارلیمان نے قرارداد پاس کی اور واضح مؤقف دیا کہ کسی قسم کی مداخلت قبول نہیں، یہ جماعت پہلے کیا بھاشن دیتی تھی، قوم کو ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے دو سال سے لگایا گیا تھا کل انکا چہرہ واضح ہو گیا، حقیقت سامنے آ گئی، مخصوص سیاسی جماعت نے امریکہ کے خلاف قرار داد کی مخالفت کی،قرارداد میں پاکستان کا ًمؤقف تھا جس کی انہوں نے مخالفت کی،ہم خود مختار ملک ہیں اور تمام ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات چاہتے ہیں، اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن ایک سیاسی جماعت کے ہاتھوں لابنگ فرم ہائر کر کے وہاں قرارداد پاس کروائی گئی.کشمیر میں ہونے والے ظلم پر امریکا خاموش ہے،کئی دہائیوں سے زیادتی ہو رہی، امریکا نے کبھی کچھ نہیں کہا، فلسطین میں جو بربریت ہو رہی اس پر وہ خاموش ہیں، امریکہ انسانی حقوق کا چیمپیئن نہیں ہے

    ہم چاہتے ہیں ملک آگے بڑھے، پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے،شائستہ پرویز ملک
    شائستہ پرویز ملک کا کہنا تھا کہ بطور پاکستانی ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہر ملک کی آزادی خودمختاری اہم ہوتی ہے، کل جو کچھ ہوا ہمیں اس پر شرم آئی، پاکستان کی سالمیت پر حملہ ہوا تو یہ کل بھی ہو سکتا ہے، آج اسکو روکنا ضروری تھا ہم کسی بھی ملک سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہئے،کل ایک سیاسی جماعت نے جو کچھ کیا اس پر شرم آئی، امریکا میں فرم ہائر کی ہوئی ہیں جہاں پاکستان مخالف کام ہو رہا ہے، ملک کی ترقی، معیشت بحالی کے لیے ہم نے مشکل اقدامات کیے، کسی سیاسی جماعت کوملک کی ترقی کا راستہ روکنے نہیں دیں گے، ہم امریکا سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، نہیں چاہتے کہ امریکا ہماری خودمختاری میں مداخلت کرے، میں کسی کی حب الوطنی پر شک نہیں کر رہی، ہم چاہتے ہیں ملک آگے بڑھے، پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے،آئین میں ہے کوئی ملک دوسرے ملک کی خودمختاری میں مداخلت نہیں کرے گا،ہم نے معاشی خود مختار ہونا ہے اور اس میں سب کا ساتھ چاہئے.یہاں ادارے کام کر رہے ہیں، عدالتیں کام کر رہی ہیں، آپ جو کر رہے ہیں وہ کسی صورت درست نہیں،ہمیں امریکی قرارداد کی مذمت کرنی ہے اور ہر پاکستانی کو کرنی ہے، پارلیمان میں بیٹھےہر رکن کو کرنی ہے، جان جا سکتی ہے لیکن ملک پر آنچ نہیں آنے دے سکتے، ذاتی مفادات سے نکلیں اور ملک کے بارے سوچیں، ملک دلدل میں پھنسا ہوا، ہر طرف دشمن ہے، ہمیں اندر کے دشمنوں سے زیادہ خطرہ ہے جو ملک کو آگے نہیں پڑھنے دے رہے.

    پی ٹی آئی مشکل میں،صاحبزادہ حامد رضا کا علیحدگی کا عندیہ

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے  تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفترخارجہ ممتاززہرابلوچ نے کہا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ مثبت تعلقات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہر ا بلوچ کا کہنا تھا کہ امریکی قراردار ،پاکستان کی سیاسی صورتحال اور انتخابی عمل کی نا مکمل تشریح کو ظاہر کر تی ہے۔پاکستان دنیا کی دوسری بڑی پارلیمانی اور مجموعی طور پر پانچویں بڑی جمہوریت ہے ہم اپنے قومی مفاد کے حصول میں آئین ، انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کے پابند ہیں۔ہم باہمی احترام اور افہام و تفہیم پر مبنی تعمیری بات چیت پر یقین رکھتے ہیں۔امید ہے امریکی کانگریس پاکستان امریکہ تعلقات کی مضبوطی کیلئے کردار ادا کرے گی، پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک طویل عرصے پر محیط ہے، امریکی کانگریس کو پاک امریکا تعلقات میں مضبوطی کے لیے کام کرنا چاہیے، پاکستان نے امریکا کو اپنے سنجیدہ نوعیت کے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے، پاکستان امریکا کے ساتھ باہمی احترام اور عدم مداخلت پر مبنی گہرے تعلقات کا عزم کیے ہوئے ہے، بڑی افسوسناک بات ہے کہ امریکی کانگریس نے اس قرارداد کو منظور کیا، اس قرارداد کے بارے میں پاکستان کی طرف سے امریکا کو بریفنگ بھی دی گئی تھی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز کانہتے فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے اسرائیلی فوج انسانیت کے خلاف جرائم کی مرتکب ہوئی ہے۔افغانستان یقینی بنائے کہ وہ اپنی سرزمین کسی کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بندہوناچاہئے،پاکستان کشمیریوں کی ہر طرح سے حمایت جاری رکھے گا،

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں اسحاق ڈار نے رواں ہفتے خارجہ پالیسی کے اہم نکات بیان کیے، نائب وزیراعظم نے چین کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا ، نائب وزیراعظم نے فلسطین اورکشمیرکے جاری تنازعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

    دوسری جانب حکومت نے سینئر سفارتکار رضوان سعید کو امریکا میں پاکستان کا نیا سفیر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ رضوان سعید کو امریکا میں سفیر تعینات کیا جائے گا،ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ عاصم افتخار کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا ایڈیشنل مستقل مندوب تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، عاصم افتخار فرانس میں پاکستان کے سفیر تھے، وہ مناسب وقت پر مستقل مندوب کا عہدہ سنبھالیں گے تقرریوں کا اعلان معمول کے مطابق ہے، یہ تعیناتیاں متعدد ہفتوں سے زیر غور تھیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

  • ذوالفقار بھٹو یا نواز شریف کے ساتھ جو ہوا اس پر انسانی حقوق کیوں یاد نہ آئے؟ جاوید لطیف

    ذوالفقار بھٹو یا نواز شریف کے ساتھ جو ہوا اس پر انسانی حقوق کیوں یاد نہ آئے؟ جاوید لطیف

    مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پاکستان کے اندر جب میں کہتا تھا کہ بیرونی مداخلت بڑھتی جا رہی ہے تو سوال کیا جاتا تھا ثبوت دیئے جائیں ،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ یہ بیرونی قوتوں کا آلٰہ کار ہے یہ مودی کا یار ہے ،ہماری بات پر کسی نے کان نہ دھرے ،یہ کانگریس کی قرارداد یہ انسانی حقوق اور جمہوریت کی نفی کرنے پر قرارداد آئی ہے انسانی حقوق جب شام لبنان اور فلسطین کو بمباری کی گئی تو اس وقت کیوں یاد نہ آئے، غزہ میں انسانی خون سے حولی کھیلی گئی تو انسانی حقوق وہاں یاد کیوں نہ آئے ،2018 کے انتخابات آر ٹی ایس بند کر کے جب نیب کو انتقام لینے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا انسانی حقوق یاد آئے ؟جب حسین نواز کو برف پوش پہاڑ پر بغیر چادر کے کھڑا کیا گیا ،پاکستان میں ذولفقار علی بھٹو ہو یا نواز شریف ان کے ساتھ جو کچھ ہوا کسی کو انسانی حقوق یاد آئے ،

    جاوید لطیف کا مزید کہنا تھا کہ جب 93 میں ہم نے موٹروے اور پاکستان میں صنعتوں کا جال بچھایا نواز شریف کو ہٹا دیا گیا،ایٹمی قوت بنایا تو ہٹا دیا گیا ،سی پیک پاکستان کی ترقی تھی چین انویسٹمنٹ کر رہا تھا تب بھی ہمیں ہٹا دیا گیا ،ان کے دھرنے کے پیچھے اس وقت بھی چین کی انویسٹمنٹ روکنے کا منصوبہ تھا،پاکستان کے ٹیک آف کرنے کی آوازیں آرہی ہیں،سی پیک ٹو شروع کرنے کا ایک پیغام سنا جا رہا ہے ،تو قرارداد آ گئی، بات یہ ہے کیا پاکستان کے اندرجب بھی پاکستان ترقی کے منازل طے کرتا ہے کوئی سویلین کام کرتا ہے تو اسکے خلاف عالمی قوتیں اور وہ قوتیں جو پاکستان میں عدم استحکام چاہتی ہیں، انکو یہاں سے کندھا ملتا ہے،2014 کا دھرنے کا مقصد چین کی انویسمنٹ کو روکنے کا منصوبہ تھا، جاوید ہاشمی نے عدالتی فیصلے سے پہلے کہا تھا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو نکال دیا جائے گا، اس وقت انسانی حقوق تھے،جاوید ہاشمی اس وقت پی ٹی آئی صدر تھے، آج بھی میں یہ بات کر رہا ہوں کہ 2014 کے ایکٹر اس وقت سے آج تک اکٹھے ہیں،اور ایک پیج پر ہیں،

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

  • امریکی قرارداد  مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    امریکی کانگریس میں پاکستان کے حوالے سے منظور ہونے والی قرارداد پر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی اجلاس میں ردعمل دیا ہے

    اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی کانگریس میں منظور قرارداد کو پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ تعمیری بات چیت کا خواہاں ہے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی ملک کو مداخلت کی اجازت نہیں، امریکی قرارداد کے جواب میں ہم بھی قرارداد لائیں گے، قرارداد کا مسودہ تیار کرلیا ہے اپوزیشن سے بھی شیئر کریں گے، امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر دفتر خارجہ نے اپنا مؤثر ردعمل دیا ہے،پاکستان آزاد اور خودمختار دنیا کی پانچویں بڑی جمہوری قوت ہے۔ ہم بھی دیگرممالک کےحوالےسے50چیزوں پرتنقیدکرسکتےہیں،

    بجٹ اجلاس کے بعد خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے اجلاس بلا لیا جائے،وزیر خارجہ
    اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کی حکومت میں سی پیک پر کام کو روک دیا گیا تھا، وزیراعظم شہباز شریف نے سی پیک پرکام کو دوبارہ شروع کرایا، پاکستان 182 ووٹ حاصل کر کے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا، ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر کئی بار کام کرنے کی کوشش کی، ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکی پابندیاں بڑا مسئلہ ہے، پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار نہیں، ہم نے ماضی میں اپنے تعلقات دوسرے ملکوں سے خود خراب کیے، خارجہ پالیسی پر ایوان کا خصوصی اجلاس بلانے کی تجویز مناسب ہے، بجٹ اجلاس کے بعد خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے اجلاس بلا لیا جائے، موجودہ حکومت نے معاشی سفارت کاری کا آغاز کیا ہے،ہم چاہتے ہیں افغانستان مضبوط ہو ،افغانستان ہماری ترجیح ہے،انکےساتھ مذہبی ،ثقافتی رشتہ ہے ،دوحہ میں چند ہفتوں میں سمٹ ہونےجارہی ہے،اس سمٹ میں افغانستان اورہم بھی ہوں گے،ہم چاہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کوووٹ کاحق ملے،ایسانہیں ہوسکتاکوئی میانوالی،پشاورمیں جاکرووٹ کرے ،اوورسیز چاہتے ہیں کہ ان کی چندسیٹوں کی نمائندگی ہونی چاہئے،

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش