Baaghi TV

Tag: امریکی محکمہ دفاع

  • صحافیوں کی پینٹاگون میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی

    صحافیوں کی پینٹاگون میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی

    امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنے پریس آفس کو حساس اور خفیہ مقام قرار دیتے ہوئے صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون نے حالیہ ہفتوں میں اپنے پریس آفس کی سیکیورٹی حیثیت تبدیل کر دی ہے، جس کے بعد صحافیوں کا اس دفتر میں داخلہ مکمل طور پر بند ہو گیا ہےاس فیصلے کے بعد میڈیا نمائندے امریکی فوج کے معاملات پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے والے افسران تک براہِ راست رسائی سے محروم ہو جائیں گے ،ماضی میں یہ دفتر ایک کھلی جگہ تصور کیا جاتا تھا جہاں صحافی آزادانہ طور پر جا سکتے تھے، فوجی ترجمانوں سے ملاقات کر سکتے تھے اور مختلف حکام سے غیر رسمی گفتگو بھی ممکن تھی. تاہم اس نئے فیصلے کے بعد صحافیوں کا اس علاقے میں داخلہ ممنوع ہوگا۔

    پینٹاگون کے قائم مقام پریس سیکریٹری جوئل والڈیز کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ اسی دفتر میں تعینات اسپیچ رائٹرز خفیہ معلومات تک رسائی رکھتے ہیں اور ان اہلکاروں کو خفیہ نوعیت کے مواد تک رسائی درکار ہوتی ہے، جس کے لیے خصوصی محفوظ کمپیوٹر نیٹ ورک استعمال کیا جاتا ہے اسی وجہ سے دفتر کو حساس نوعیت کا علاقہ قرار دیا گیا ہے، جہاں سیکیورٹی قواعد کے تحت عام افراد یا صحافی داخل نہیں ہو سکتے اور عوامی امور کے دفتر اور پر یس سیکریٹری سے ملاقات پیشگی وقت لینے کے بعد ممکن ہوگی۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پینٹاگون اور صحافیوں کے درمیان پینٹاگون میں دفاتر اور رسائی کے معاملات پر کئی ماہ سے رسہ کشی جاری ہےروایتی طور پر صحافیوں کو پینٹاگون کے غیر خفیہ حصوں تک رسائی حاصل رہی ہے، جہاں وہ ذرائع سے ملاقات اور بریفنگز میں شرکت کرتے تھے تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دور میں میڈیا کے لیے قواعد سخت کر دیے گئے ہیں۔

    نئے ضوابط کے تحت صحافیوں کے لیے عمارت کے اندر نقل و حرکت کے دوران سرکاری اہلکار کی نگرانی کی شرط بھی عائد کی گئی ہے، جس کے خلاف نیویارک ٹائمز نے الگ قانونی مقدمہ دائر کر رکھا ہے، اس مقدمے کی سماعت تاحال جاری ہے تجزیہ کاروں کے مطابق پریس آفس کو خفیہ علاقہ قرار دینے سے صحافیوں اور پینٹاگون کے ترجمانوں کے درمیان روزمرہ رابطے مزید محدود ہو جائیں گے۔

    گزشتہ اکتوبر میں سینکڑوں صحافیوں نے پینٹاگون کی نئی میڈیا پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے اپنی صحافتی اسناد واپس کر دی تھیں اس پالیسی میں صحافیوں سے یہ وعدہ لینے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جن کی اشاعت کی سرکاری طور پر اجازت نہ ہوبعد ازاں مارچ میں ایک وفاقی جج نے نیویارک ٹائمز کی درخواست پر اس متنازع پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا تھا تاہم امریکی حکومت نےاس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔

    امریکا کی بڑی صحافتی تنظیم نیشنل پریس کلب نے اس اقدام کو تشویش ناک قرار دیا ہےتنظیم کے صدر مارک شوف جونیئر کے مطابق، امریکی عوام کو فوج کے بارے میں مکمل اور آزاد معلومات ملنا ضروری ہے، اور ایسے اقدامات سے شفاف رپورٹنگ متاثر ہوتی ہے،پینٹاگون کا یہ تازہ فیصلہ امریکی فوج اور میڈیا کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات فوجی امور کی رپورٹنگ اور عوامی شفافیت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • امریکی محکمہ دفاع نےعراق  میں طیارے حادثے میں ہلاک  ہونیوالے  6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی

    امریکی محکمہ دفاع نےعراق میں طیارے حادثے میں ہلاک ہونیوالے 6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی

    امریکی محکمہ دفاع نے ان 6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے جو 12 مارچ کو عراق میں ایندھن بھرنے والے فوجی طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔

    بی بی سی کے مطابق ہفتے کے روز جاری کیے گئے بیان میں ان کے نام یہ بتائے گئے ہیں:جان اے کلنر، آریانا جی ساوینو، ایشلے بی پروئٹ، سیٹھ آر کووَل، کرٹس جے اینگسٹ، اور ٹائلر ایچ سمنز،یہ سب کے سی 135 طیارے کے عملے میں شامل تھے یہ ایندھن بردار طیارہ ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں میں حصہ لے رہا تھا۔

    پینٹاگون نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں امریکہ اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ طیارہ نہ تو دشمن کی فائرنگ کا نشانہ بنا تھا اور نہ ہی دوست فوج کی فائرنگ اس حادثے کا باعث بنی۔

    ایرانی حملوں کی 51 ویں لہر:سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں کی بارش

    اسرائیلی حملے میں ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی شہید

    پاکستان امت میں اتحاد اور امن کی علامت بن کر ابھر رہا ہے ،خالد مسعود سندھو

  • قطر کا 400 ملین ڈالر کا تحفہ، پینٹاگون نے  ٹرمپ کے لیے لگژری جیٹ قبول کر لیا

    قطر کا 400 ملین ڈالر کا تحفہ، پینٹاگون نے ٹرمپ کے لیے لگژری جیٹ قبول کر لیا

    امریکی محکمہ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ اس نے قطر کی جانب سے دیا گیا بوئنگ 747-8 طیارہ بطور تحفہ قبول کر لیا ہے، جسے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایئر فورس ون کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ طیارہ قطر کے شاہی خاندان کی ملکیت تھا اور اس کی قیمت تقریباً 400 ملین ڈالر ہے۔دوسری جانب پینٹاگون کے مطابق، طیارہ امریکی ریاستی استعمال کے لیے دیا گیا ہے، تاہم اس فیصلے پر امریکی سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

    ڈیموکریٹک سینیٹر ٹامی ڈک ورتھ نے اس اقدام کو غیر آئینی اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا ضیاع قرار دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ طیارہ صدر ٹرمپ کو ذاتی طور پر نہیں بلکہ امریکی محکمہ دفاع کو دیا گیا ہے۔

    نکسل باغیوں کی آڑ،بھارتی فورسز نے چھتیس گڑھ میں مزید 36 افراد کوقتل کردیا

  • امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں اچانک ایک مرغی کی آمد،عملے کی دوڑیں لگ گئیں

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں اچانک ایک مرغی کی آمد،عملے کی دوڑیں لگ گئیں

    واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں اچانک ایک مرغی کی آمد نے ہلچل مچا دی مرغی کوپکڑ کے جانوروں کے تحفظ کے محکمے کے حوالے کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : دنیا کے سب سے زیادہ سخت سیکورٹی والے علاقوں میں شامل امریکی محکمہ دفاع کے دفاتریعنی پینٹاگون کی سیکیورٹی ایک مرغی نے توڑ دی۔ پینٹاگون میں اچانک ایک مرغی نظرآئی توہلچل مچ گئی۔ بے فکری سے ہائی سیکورٹی زون میں گھومتی مرغی کوپکڑنے کے لئے عملے کی دوڑیں لگ گئیں۔

    کافی کوششوں کے بعد مرغی کوپکڑ کرجانوروں کے تحفظ کے محکمے کے حوالے کردیا گیا۔یہ پتا نہیں چل سکا کہ مرغی پینٹاگون کے دفاترکے علاقے میں کیسے اورکہاں سے آئی۔حکام نے یہ بھی نہیں بتا یا کہ مرغی کوپینٹاگون کے کون سے حصے سے پکڑا گیا۔

    "واشنگٹن پوسٹ” کے مطابق پیر کو، ارلنگٹن کی اینیمل ویلفیئر لیگ کے مطابق، جب ایک آوارہ مرغی کو ملک کے دفاعی ادارے کے قریبی محافظ ہیڈ کوارٹر کے قریب دیکھا گیا لیگ، آرلنگٹن کے جانوروں کی فلاح و بہبود اور انسانی معاشرے کی طرف سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ چکن "پینٹاگون میں سیکیورٹی ایریا کے ارد گرد چھپتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا…

    لیگ کے ترجمان نے ایک ای میل میں کہا کہ جس مخصوص چوکی پر چکن نے توجہ مبذول کروائی تھی اس کا انکشاف نہیں کیا جا سکتا چیلسی جونز نے کہا، "حقیقی حفاظتی وجوہات کی بنا پر ہمیں صحیح جگہ کو ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

    مرغی کہاں سے آئی یہ واضح نہیں ہے، اور پینٹاگون میں اس کی موجودگی غیر واضح معلوم ہوتی ہے اس کا مستقبل کم غیر یقینی ہو سکتا ہے۔ لیگ نے کہا کہ لیگ کے عملے کے ارکان نے پرندے کو ہینی پینی کا نام دیا ہے۔ ہینی پینی، یقیناً، ان ناموں میں سے ایک ہے جو ایک معروف لوک کہانی کے مرکز میں چکن کو دیا گیا ہے اسے مقامی جانوروں کی پناہ گاہ میں رہنے کے لیے بھیجا جائے گا۔

    شادی سے انکارپر 24 سالہ لڑکی پر تیزاب پھینکنے والا ملزم گرفتار