Baaghi TV

Tag: امریکی مداخلت

  • عمران خان کے ساتھ روا سلوک پاک امریکا تعلقات میں تناؤ بڑھانے کا سبب ہے،جان بولٹن

    عمران خان کے ساتھ روا سلوک پاک امریکا تعلقات میں تناؤ بڑھانے کا سبب ہے،جان بولٹن

    امریکا کی قومی سلامتی امور کے سابق مشیر جان بولٹن کا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے رابطہ ہوا ہے

    جان بولٹن اور عمران خان کے مابین ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے، جان بولٹن کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ساتھ روا سلوک پاک امریکا تعلقات میں رکاوٹوں اور تناؤ بڑھانے کا سبب ہے سویلینز کے مقدمات ملٹری کورٹس میں نہیں چلائے جانے چاہئیں۔ پاکستان میں تشدد اور عدم استحکام کا تسلسل کسی کے مفاد میں نہیں

    پاکستان میں موجودہ سیاسی اتھل پتھل کے درمیان، اسلام کے کھلے عام مخالف اور مسلمانوں کے بڑے قاتل جان بولٹن نے عمران خان سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ مسلمانوں کے کھلے عام مخالف ترین جان بولٹن کا عمران خان کی وکالت کرنا تشویشناک ہے۔

    جان بولٹن نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے دوران امریکہ کی طرف سے مسلم ممالک بالخصوص پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے لابنگ کی۔ اس نے بش انتظامیہ کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے جھوٹے الزامات کے تحت عراق پر حملہ کرنے پر مجبور کیا۔ وہ ایران پر حملے کے لیے بھی لابنگ میں سب سے آگے رہا ہے۔ مزید یہ کہ بولٹن نے طالبان کے دوبارہ سر اٹھانے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان انٹیلی جنس پر الزام لگایا کہ انہوں نے گزشتہ 20 سالوں کے دوران طالبان کی حمایت اور انہیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں۔

    جارج ڈبلیو بش انتظامیہ کے دوران، بولٹن کے مسلم مخالف آوازوں اور تنظیموں سے رابطے تھے، جن میں پامیلا گیلر، رابرٹ اسپینسر، فرینک گیفنی اور ڈیوڈ ہورووٹز شامل ہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جان بولٹن ٹرمپ کی انتظامیہ میں مسلم مخالف تھنک ٹینک کی صدارت کرتے تھے۔ اس نے ایک غیر منفعتی تنظیم کی سربراہی کی جس نے گمراہ کن اور جھوٹی مسلم مخالف خبروں کو فروغ دیا، جن میں سے کچھ کو ایک روسی ٹرول فیکٹری نے بڑھایا۔

    واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کے ارکان بولٹن کی سربراہی میں گیٹ اسٹون پر حیران تھے، جو ایسے مواد کو پھیلا رہا تھا جو واضح طور پر تارکین وطن، مسلم مخالف تھا اور کچھ روسی غلط معلومات کے پروپیگنڈے کی بازگشت کر رہا تھا۔

    بولٹن نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی وکالت کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا اقدام امریکی مسلمان افراد اور تنظیموں کو مجرمانہ، ہراساں کرنے اور ڈرانے کی کوشش کرتا ہے۔ فروری 2018 میں، بولٹن نے کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس (CPAC) میں ایک پینل پر بات کی کہ "ہم اسلام سے پروان چڑھنے والے بنیاد پرست نظریے سے لڑ رہے ہیں”۔
    پاکستان کے لیے عمران خان جو دعویٰ کرتے ہیں اس میں حقیقت نظر نہیں آتی۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے "مسلسل عدم استحکام” کے بارے میں امریکی حکومت کی تشویش پریشان کن ہے۔

    یہ وہی بولٹن ہے جس نے عراق کو ایک ملک کے طور پر تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور پاکستان کے معاملے میں چونکہ ہمارے پاس پہلے ہی ایٹمی بم موجود ہے، ان کا آخری خواب عوام کو فوج کے خلاف کھڑا کر کے پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ عمران خان اس گریٹ گیم میں ان کا پیادہ ہے

    دوسری جانب پاکستان کی صورتحال پر 16 کینیڈین اراکین پارلیمنٹ نے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو بھی خط لکھا ہے ،خط میں پاکستان میں پرامن مظاہروں کی اجازت پر زور کے ساتھ پاکستان میں تشدد کے تمام واقعات کی مذمت کی گئی ہے خط کے متن کے مطابق پاکستان میں پرامن مظاہروں کی اجازت ہونی چاہیے پاکستان میں تشددکے تمام واقعات سمیت بے گناہ شہریوں، صحافیوں اور دیگر افراد کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں گرفتارافراد پر مقدمات سول عدالت میں چلائے جانے چاہئیں،عمران خان پرعائد الزامات کھلی عدالت میں واضح کیے جائیں اورپاکستانیوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ آزاد اور شفاف انتخابات سے کرنا چاہیے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے لکھا کہ اب پتہ چلا کہ نہیں کہ بندہ اصل میں کس کا لاڈلا ہے۔ واضح رہے کہ جان بولٹن ڈونلڈ ٹرمپ کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزراور سی پیک اور چین کے بدترین مخالف تھے۔

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف جب عدم اعتماد پیش ہوئی تو عمران خان نے جلسے میں ایک خط لہرایا اور کہا کہ امریکی مداخلت سے ہماری حکومت گئی عمران خان امریکہ کے خلاف تحریک چلاتے رہے، اب ساری صورتحال سامنے آ رہی ہے، اصل میں عمران خان کو بچانے کے لئے امریکہ مداخلت کر رہا ہے، عمران خان کے خلاف مقدمات قائم ہیں، امریکی شخصیات کے بیان اب امریکی مداخلت نہیں تو کیا ہیں کسی کو بھی حق نہیں کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے، جس نے جو جرم کیا اسکو قانون کے مطابق ہی ڈیل کرنا چاہئے، کسی قسم کی ڈھیل نہیں ہونا چاہئے،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • دھمکی آمیز خط،تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر فیصلہ آ گیا

    دھمکی آمیز خط،تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر فیصلہ آ گیا

    دھمکی آمیز خط،تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر فیصلہ آ گیا
    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی حکومت گرانے کی سازش کے مبینہ مراسلے کی تحقیقات کی درخواست خارج کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 5 صفحات پرمشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے مبینہ مراسلے کی تحقیقات کی درخواست مسترد کردی جب کہ عدالت نے درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا،فیصلے میں کہا گیا کہ کورٹ مطمئن ہے کہ غیرسنجیدہ درخواست سے ڈپلومیٹک کیبل کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی سابق وزیراعظم پر درخواست میں لگائے گئے الزامات فرسودہ ہیں ڈپلومیٹک کیبل کو متنازعہ بنانا اور مقدمہ بازی میں لانا ملک اور عوامی مفاد کے خلاف ہے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ ملکی سلامتی کے حساس معاملات کو سیاسی بنائے نہ سنسنی پیدا کرے، ڈپلومیٹ اور اسکی خفیہ معلومات،تعین کو سیاسی تنازعہ میں دھکیلنا قومی مفاد کے خلاف ہے،خفیہ معلومات کو سیاسی تنازعوں میں دھکیلنا ڈپلومیسی اور بیرون ممالک سے تعلقات کے خلاف ہے،یہ طے شدہ قانون ہے کہ ملک کے خارجہ امور سے متعلق معاملات انتہائی حساس ہوتے ہیں آئین آرٹیکل 199 کے تحت غیر معمولی دائرہ اختیار استعمال کر کے سماعت نہیں کی جا سکتی،دعوی ٰمبہم، تائید میں دستاویز نہیں کہ سفارتی کیبل کے موضوع پر کیس کا جواز پیش کیا جا سکے،پٹیشنر متعلقہ ممالک کے پاکستانی سفارتکاروں کی طرف سے سفارتی کیبل کی اہمیت سے آگاہ نہیں، سفارتی کیبلز اہمیت کی حامل ہیں اور ان تک رسائی محدود ہوتی ہے، سفارت کاروں کو یقین دہانی ہوتی ہے کہ ان کے تجزیے کو سنسنی خیز یا سیاسی نہیں بنایا جائے گا، سفارت کاروں کا فرض ہے کہ وہ جائزے، تجزیے اور نتائج کو ان ممالک سے شیئر کریں جن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ سفارت کار کا بھیجا گیا مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا، بظاہر نیشنل سیکیورٹی کمیٹی مطمئن ہے کہ کسی انکوائری کی ضرورت نہیں،ایسے حساس اور پیچیدہ معاملات کو مقدمہ بازی میں دھکیلنے کی بجائے دفتر خارجہ کو نمٹنا چاہیے ستم ظریفی ہے کہ ذمہ دار وکیل منتخب سابق وزیراعظم پر غداری کا مقدمہ چلانے کی ہدایات کی استدعا کر رہا ہے،غداری کا بیان فرسودہ ہے کوئی شہری دوسرے سے زیادہ محب وطن ہونے کا دعوی ٰنہیں کر سکتا، کسی شہری کو کسی دوسرے کو غداری کا مرتکب قرار دینے کا اختیار نہیں،ہر شہری محب وطن اور ریاست کا وفادار ہے جب تک متعلقہ عدالت اسکے برعکس قرار نہ دے،

    قبل ازیں درخواست میں عمران خان کا نام ای سی ایل میں شامل اور سنگین غداری کیس چلانے کی بھی استدعا کی گئی درخواست گزار مولوی اقبال حیدر اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ کی عدالت سے کیا استدعا ہے؟ درخواست گزار نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچا، معاملے کی تحقیقات کرانے کا حکم دیا جائے،سیکریٹری داخلہ پابند ہیں کہ وہ مبینہ دھمکی آمیز خط کی تحقیقات کرائیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس معاملے کو سیاسی کیوں بنا رہے ہیں؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے ، آپ کی استدعا کیا ہے ،مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ وفاق کی ذمہ داری تھی کہ تحقیقات کرواتے ،معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر جاتے

    درخؤاست گزار نے کہا کہ مشرف کیخلاف بھی سنگین غداری کیس چلایا گیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان منتخب وزیر اعظم تھے مشرف کے ساتھ پلیز موازنہ نہ کریں، آپ ریاست پر اعتماد کریں، آپ اس معاملے سے متاثرہ نہیں ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ خط نہیں کیبل تھا، خط اور کیبل میں فرق ہو تا ہے ، مولوی اقبال نے کہا کہ اخبارات اور میڈیا میں ہر جگہ اسے خط لکھا جارہاہے عدالت نے سماعت کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے اور درخواست خارج کر دی گئی ہے

    واضح رہے کہ شہری مولوی اقبال حیدر کی جانب سےدرخواست دائر کی گئی تھی،درخواست میں فواد چودھری، شاہ محمود قریشی، قاسم سوری اور اسد مجید کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کی استدعا کی گئی تھی،درخواست میں کہا گیا تھا کہ سیکریٹری داخلہ کو وزیراعظم اور وزرا کیخلاف مبینہ خط سے متعلق انکوائری کا حکم دیا جائے درخواست پر فیصلہ ہونے تک وزیراعظم، وزرا اور اسد مجید نام ای سی ایل میں ڈالا جائے،

    دوسری جانب ایف آئی اے نے تحریک انصاف کے رہنماوں کے نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیئے عمران خان کے سابق معاون خصوصی شہباز گل اور شہزاد اکبر کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا، ایف آئی اے کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا نام بھی اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب گوہر نفیس ، ڈی جی ایف آ ٓئی اے پنجاب زون ون ڈاکٹر محمد رضوان اور پی ٹی آئی کے ہیڈ آف سوشل میڈیا ارسلان خالد کا نام بھی اسٹاپ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

    عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے،ایاز صادق،صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔مریم

    خوشی ہےعمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی،علی محمد خان

    عمران خان اچھے اور عزت دار انسان ہیں،سابق بہنوئی حق میں بول پڑے

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

    شدت پسند عمران خان کا جانا اچھا ہوا،گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانیوالے گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

  • میں نہیں مانتا:شہبازشریف نےپاکستان میں امریکی مداخلت کےچینی ثبوت مسترد کردیئے

    میں نہیں مانتا:شہبازشریف نےپاکستان میں امریکی مداخلت کےچینی ثبوت مسترد کردیئے

    اسلام آباد:میں نہیں مانتا:میں نہیں مانتا:شہبازشریف نےپاکستان میں امریکی مداخلت کےچینی ثبوت مسترد کردیئے،اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ جس ملک نے پاکستان میں مداخلت کی ہے اس کے ثبوت سامنے لائے جائیں۔

    متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ قومی اسمبلی وقفہ سوالات میں عدم اعتماد پر ووٹنگ کی بات کی گئی، قوم نے دیکھا کہ اجلاس کس طرح ملتوی کیا گیا، اسپیکر نے آج پھر اسمبلی قوانین کو بالا طاق رکھا، آج پھر آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کی خواہش پر تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی، آزاد عدلیہ بھی دیکھ رہی ہے اور قوم بھی پریشان ہے کہ کیا ہو رہا ہے، ہم نے طے کیا تھا آج کوئی غیر پارلیمانی بات نہیں کریں گے، وزیر اعظم عمران خان کو ہٹانے کے لیے آئینی طریقہ کار اختیار کیا ہے، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے ہمارے ممبران پورے تھے۔

    قائد حزب اختلاف نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں تحریک عدم اعتماد کامیاب کرانا چاہتی ہیں، متحدہ اپوزیشن نے دکھایا کہ آج 172 ارکان پورے موجود تھے، کیا سلیکٹڈ وزیر اعظم کے پاس کوئی آئینی و قانونی جواز رہ گیا ہے، وزیر اعظم اور اسپیکر بھی آئین شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں، اسپیکر نے اپنا نام تاریخ میں سیاہ حروف سے درج کرا دیا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ کہا گیا نواز شریف نے پاکستان میں مداخلت کے لیے رابطےکیے، کہا گیا کہ نواز شریف اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں سے ملتے ہیں، ہم بھی بتا سکتے ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس میں آپ کے ڈونرز کون ہیں، پی ٹی آئی نے غیر ملکیوں سے فنڈ لیے اور اسے چھپایا، بدزبانی تو آپ کا تکیہ کلام ہے لیکن اب الزامات لگا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کی فرنٹ پرسن ایک خاتون ہیں جنہوں نے اربوں کی کرپشن کی، الزامات لگانا آسان ہے لیکن انہیں ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے، ریاست مدینہ کے نام پر سب الٹا کیا گیا۔

    مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ خط کو پارلیمان میں لایا جائے، خط جھوٹا ہے ہم اس کو نہیں مانتے، کس ملک نے پاکستان میں مداخلت کی ثبوت سامنے لائیں، عمران خان آئینی و قانونی طور پر ملک کے وزیر اعظم نہیں رہے۔

    شہازشریف نے چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے پاکستان میں مداخلت کے بیان کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے
    یاد رہےکہ شہبازشریف کو چینی وززارت خارجہ کی طرف سے پاکستان میں ہونے والی امریکی مداخلت کے حوالے سے سٹیٹمنٹ بھیجی گئی ہے جسے انہوں نے سیاسی دباو کی وجہ سے ماننے سے انکار کردیا ہے