Baaghi TV

Tag: امریکی میڈیا

  • ٹرمپ اور نیتن یاہو  کے درمیان  فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی،امریکی میڈیا

    ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی،امریکی میڈیا

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والی فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ گفتگو کے دوران نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ لبنان میں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی فضائی کارروائیاں کم کریں اور بمباری کا سلسلہ روکنے پر غور کریں،امریکی صدر نے اپنے قریبی مشیروں کے سامنے بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے رویے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو ہر مسئلے کا حل فوجی کارروائی اور بمباری میں تلاش کرتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے رپورٹ میں ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی قیادت کی جانب سے مسلسل نئی فوجی کارروائیوں کے مطالبات سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ خطے میں کشیدگی کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایک اور فون کال کے دوران ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور اس کے معاشی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر جنگ کے باعث امریکی معیشت کو نقصان پہنچا تو ان کا موازنہ سابق امریکی صدر ہربرٹ ہوور سے کیا جا سکتا ہے، جنہیں 1930 کی دہائی کے عظیم معاشی بحران کے دوران شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے سخت لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تم میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں، جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی ناراضی کی جھلک ملتی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بعض اہم علاقائی معاملات پر اختلافات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر ایران، لبنان اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اختلاف واضح ہیں۔

  • ٹرمپ کا امریکی میڈیا پر ’غداری‘ کا الزام

    ٹرمپ کا امریکی میڈیا پر ’غداری‘ کا الزام

    امریکی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’فیک نیوز‘ یہ تاثر دے رہی ہے کہ ایران عسکری طور پر امریکا کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے تو یہ ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کو عسکری طور پر مضبوط ظاہر کرنا ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور عسکری ٹیکنالوجی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں امریکی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’فیک نیوز‘ یہ تاثر دے رہی ہے کہ ایران عسکری طور پر امریکا کے مقا بلے میں بہتر پوزیشن میں ہے تو یہ ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے، یہ وہ امریکی بزدل ہیں جو اپنے ہی ملک کے خلاف کھڑے ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ کے تمام 159 جہاز تباہ ہو چکے ہیں اور اب سمندر کی تہہ میں پڑے ہیں، جبکہ ایران کی فضائیہ اور عسکری ٹیکنالوجی بھی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے ایرانی قیادت بھی اب باقی نہیں رہی اور ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے، صرف ناکام، ناشکرے اور احمق لوگ ہی امریکا کے خلاف مؤقف اختیار کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جبکہ امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی خارجہ پالیسی پر شدید بحث جاری ہے۔

  • یو اے ای نے بھی ایران پر خفیہ حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    یو اے ای نے بھی ایران پر خفیہ حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں خاموشی سے حصہ لیتے ہوئے ایرانی اہداف پر فوجی حملے کیے ہیں –

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، امریکا اور اسرائیل کے بعد تیسرا ایسا ملک بن گیا ہے جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں براہِ راست حصہ لیا ہےان خفیہ حملوں میں خلیج فارس میں واقع ایران کے لاوان جزیرے پر ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے، تاہم متحدہ عرب امارات نے عوامی سطح پر اب تک ان حملوں کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاوان جزیرے پر یہ حملہ اپریل کے اوائل میں اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بند ی کا اعلان کیا تھااگرچہ یہ واضح نہیں کہ حملہ جنگ بندی کے اعلان سے پہلے ہوا یا بعد میں، لیکن ایران نے اس وقت اعتراف کیا تھا کہ ایک نامعلوم د شمن نے اس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ جوابی کارروائی کے طور پر ایران نے متحدہ عرب امارات اور کویت پر میزائل اور ڈرون داغے تھے۔

    اس معاملے پر متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے وال اسٹریٹ جنرل کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر کوئی براہِ راست جواب نہیں دیا، البتہ حکام نے اپنے پرانے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران کے حملوں کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں اسرائیلی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ امارات نے ایران کے ایک پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے، جس پر اماراتی حکام نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جھوٹی خبر قرار دیا تھا،ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری اس جنگ میں متحدہ عرب امارات کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اماراتی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات پر تقریباً 550 بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت 2200 سے زائد ڈرون دا غے ہیں، جس کے باعث یہ خطے کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہےاگرچہ زیادہ تر حملوں کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا گیا، لیکن کچھ میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔

  • قطر حملے سے قبل نیتن یاہو نے ٹرمپ کو آگاہ کیا، امریکی میڈیا کا دعویٰ

    قطر حملے سے قبل نیتن یاہو نے ٹرمپ کو آگاہ کیا، امریکی میڈیا کا دعویٰ

    امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ قطر پر فضائی حملے سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مطلع کر دیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے منگل کی صبح حملے سے قبل صدر ٹرمپ سے بات کی تھی اور واشنگٹن کو اس بارے میں اطلاع دے دی گئی تھی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا کہ جب اسرائیلی میزائل فضا میں تھے، تب امریکا کو بتایا گیا، اس لیے صدر ٹرمپ کے پاس حملے کی مخالفت کا موقع نہیں تھا۔یاد رہے کہ 9 ستمبر کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملے کیے، جس کا ہدف حماس کی مرکزی قیادت تھی۔ اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا تھا کہ دھماکوں کے ذریعے حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق حملے کے وقت دوحہ میں حماس کے متعدد رہنماؤں کا اجلاس جاری تھا، جس میں غزہ جنگ بندی پر امریکی صدر ٹرمپ کی تجویز پر غور کیا جا رہا تھا۔ اجلاس کی صدارت ڈاکٹر خلیل الحیہ کر رہے تھے، جبکہ خالد مشعل، خلیل الحیہ، زاہر جبارین، محمد درویش اور ابو مرزوق بھی موجود تھے۔ایک اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حملے سے پہلے امریکا کو اطلاع دی گئی اور واشنگٹن نے اس کارروائی میں اسرائیل کو مدد بھی فراہم کی۔اسرائیلی وزیر خزانہ نے قطر میں حماس رہنماؤں پر حملے کو ’’انتہائی درست اور بہترین فیصلہ‘‘ قرار دیا۔

    نیتن یاہو جنگی جرائم کا مرتکب مگر ٹرمپ کی حمایت کیوں،دبئی منی لانڈرنگ کی جنت،امریکہ کا قطر سے دھوکہ

    شہباز شریف قطر کا ایک روزہ دورہ مکمل کرکے وطن روانہ

    قطر پر اسرائیلی حملہ، مسلم دنیا متحد ، دوحہ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری

    پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل 2 روپے 78 پیسے مہنگا

    فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سے 100 ارب نقصان کی رپورٹ غلط ہے،ایف بی آر

  • اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

    اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

    امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کرسکتا ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکا میں اسرائیل کے ایران پر ممکنہ حملے کے پیش نظر ہائی الرٹ ہے، اور اسی تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ نے مشر ق وسطیٰ سے اپنے سفارتی مشنز کے عملے میں کمی کرنا شروع کر دی ہے، بحرین، کویت کے بعد عراق سے بھی کچھ عملے کے انخلا کی اجازت دے دی گئی ہے ، جب کہ پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں سے فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ کے انخلا کی منظوری دے دی ہے۔

    سیکیورٹی کی اس بڑھتی ہوئی صورتحال کا پس منظر یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایسے کسی معاہدے کے امکانات کو کم ہوتا دیکھ رہے ہیں، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کی جاتیں، اور مشرق وسطیٰ میں ممکنہ تباہ کن فوجی تصادم کو روکا جا سکتا۔

    ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا تھا کہ میں اب اس معاہدے کے بارے میں اتنا پُرامید نہیں ہوں، جتنا کچھ مہینے پہلے تھا، ان کے ساتھ کچھ ہوا ہے، لیکن میں معاہدے کے ہونے کے بارے میں بہت کم پُرامید ہوں۔

    حالیہ مہینوں میں، امریکی انٹیلی جنس حکام کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکا کی منظوری کے بغیر حملہ کر سکتا ہے، ایسا اقدام نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کی نازک جوہری سفارت کاری کو سبوتاژ کر دے گا، بلکہ ایران کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اثاثوں پر جوابی کارروائی کو بھی جنم دے گا۔

    تہران طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ اسرائیل کے سب سے بڑے فوجی اور سیاسی حامی کے طور پر امریکا کو ایران پر کسی بھی اسرائیلی حملے کی صورت میں نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    علاوہ ازیں ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ کوئی تنازعہ چھڑتا ہے تو وہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گاایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ امید ہے نوبت وہاں تک نہیں پہنچے گی اور مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کے نقصانات ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوں گے ۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے حال ہی میں ان تمام سفارت خانوں کو (جو ایرانی مفادات کی زد میں آ سکتے ہیں، جن میں مشرق وسطیٰ، مشرقی یورپ اور شمالی افریقہ کے مشن شامل ہیں ) ہدایت دی ہے کہ وہ ایمرجنسی ایکشن کمیٹیاں قائم کریں، اور واشنگٹن کو حفاظتی اقدامات سے متعلق رپورٹیں بھیجیں، اسی عمل کے نتیجے میں بدھ کے روز وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عراق سے غیر ضروری عملے کے انخلا کی اجازت دی تھی۔

    محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہم ہر وقت اپنی سفارت خانوں کی افرادی قوت کے حوالے سے صورت حال کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، ہماری تازہ ترین تجزیے کی بنیاد پر ہم نے عراق میں اپنے مشن کا دائرہ محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    دوسری جانب ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کیساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے ٓپریشنز کے لیے غیر ضروری عملے اور فوجی اڈوں سے اہلکاروں کو واپس بلا رہا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار نے ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کو بتایا کہ صدر ٹرمپ امریکیوں کو گھر اور بیرون ملک دونوں جگہ محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، اسی عزم کے تحت ہم مسلسل اپنے سفارت خانوں میں مناسب عملے کی تعیناتی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، تازہ ترین تجزیے کی بنیاد پر ہم نے عراق میں اپنے مشن کی موجودگی کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے رپورٹرز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ کچھ امریکی اہلکاروں کو مشرق وسطیٰ سے نکالا جا رہا ہے، کیوں کہ یہ ایک خطرناک جگہ ہو سکتی ہے،واشنگٹن میں کینیڈی سینٹر میں ’Les Miserables‘ دیکھنے سے پہلے انہوں نے کہا کہ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، ہم نے اطلاع دے دی ہے، ایران کے پاس جوہری ہتھیا ر نہیں ہونے چاہئیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین اور کویت سے بھی غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کے انخلا کی اجازت دی ہے، جس سے انہیں ملک چھوڑنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ، ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مشرق وسطیٰ کے مختلف مقامات سے فوجی اہلکاروں کے اہلِ خانہ کی رضاکارانہ روانگی کی منظوری دے دی ہے، ایک اور اہلکار نے کہا کہ یہ فیصلہ زیادہ تر ان خاندانوں کے لیے اہم ہے، جو بحرین میں مقیم ہیں، کیوں کہ وہاں ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

    2 امریکی اہلکاروں نے بتایا کہ کشیدگی کے پیش نظر امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا (جو مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی نگرانی کرتے ہیں) نے جمعرات کو امریکی قانون سازوں کے سامنے اپنی پیشی ملتوی کر دی۔

    جنرل مائیکل کوریلا کو سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہونا تھا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا،یہ مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے میں امریکا کی طرف سے عائد کی گئی سخت اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے بدلے میں ہو رہے ہیں، ایران اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔

    مذاکرات کے چھٹے دور کا عارضی طور پر اس ہفتے کے آخر میں عمان میں طے تھا، تاہم اس حوالے سے واقف امریکی اہلکاروں نے بدھ کو کہا کہ مذاکرات کے انعقاد کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں، ایک امریکی اہلکار نے روئٹرز کو بعد میں بتایا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اتوار کو عمان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے، اور حالیہ امریکی جوہری معاہدے کی تجویز پر ایران کے جواب پر بات کریں گے،صدر ٹرمپ اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال کر سکتے ہیں۔