Baaghi TV

Tag: امن مذاکرات

  • سوئٹرز لینڈ امن مذاکرات: ایران اور امریکی وفد میں کون، کون شامل ؟

    سوئٹرز لینڈ امن مذاکرات: ایران اور امریکی وفد میں کون، کون شامل ؟

    امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے ٹیکنیکل سطح کے امن مذاکرات کے لیے نامزد ایرانی اور امریکی وفود کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد، جس کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، آج رات سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہوگا، اس وفد میں ایران کی سیاسی، سیکیورٹی اور معاشی نظام کی طاقتور ترین شخصیات کو شامل کیا گیا ہے،اس ہائی پروفائل ایرانی وفد میں اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بین الاقوامی امور کے نائب علی باقری کنی، گورنر مرکزی بینک آف ایرانعبدالناصر ہمتی، نائب وزرائے خارجہ کاظم غریب آبادی اور سعید خطیب زادہ اور نائب وزیرِ تیل اور نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ حمید بورد شامل ہیں۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے وفد کی روانگی کے موقع پر تہران کا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وفد سوئٹزرلینڈ میں بنیادی طور پر دوسرے فریق (امریکا) کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا باریک بینی سے جائزہ لے گا اور اس بات کی وضاحت طلب کرے گا کہ معاہدے پر کس حد تک عمل کیا جا رہا ہے.اگر معاہدے کے کسی ایک حصے پر بھی عمل درآمد نہ ہوا تو پورا سمجھوتا متاثر ہو سکتا ہےہم نے معاہدہ اس لیےنہیں کیا کہ اس پر عمل نہ ہو، ہمارا واضح مؤقف ہے کہ ذمہ داری کے بدلے ذمہ داری پوری کی جا ئے۔

    دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان ایک روزہ تعطل کے بعد امن مذاکرات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے اور مذاکرات برگن اسٹاک ریزورٹ میں بدستور جاری ہیں یہ مذاکرات ابتدائی طور پر 60 روزہ مدت کے لیے طے کیے گئے ہیں، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع کی گنجائش بھی موجود ہے-

    سوئس وفاقی محکمہ خارجہ نے ہفتہ کے روز جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں کہا کہ برگن اسٹاک ریزورٹ امریکا اور ایران کے درمیان جاری حساس مذاکرات کے لیے ایک ’پرسکو ن اور قابلِ اعتماد مقام‘ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہےتاہم روایتی رازداری کو برقرار رکھتے ہوئے سوئس حکام نے فی الحال مذاکرات میں شریک شخصیات کے ناموں یا زیرِ بحث آنے والے اہم ترین نکات کے بارے میں مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

  • استنبول میں روس-یوکرین جنگ بندی مذاکرات مکمل ہوگئے

    استنبول میں روس-یوکرین جنگ بندی مذاکرات مکمل ہوگئے

    تین سال کے تعطل کے بعد روس اور یوکرین کے اعلیٰ حکام کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور ترکیہ کے شہر استنبول میں ہوا، جو تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا۔

    مذاکرات کا اہتمام ترکیہ کی حکومت نے کیا، جس میں ترک وزیر خارجہ اور انٹیلی جنس چیف نے بھی شرکت کی۔یہ ملاقات 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست سفارتی نشست تھی۔ ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں، اور مستقبل میں اس عمل کو جاری رکھنے پر بھی غور کیا گیا ہے۔یوکرینی وزیر دفاع رستم عمروف نے مذاکرات کے بعد بتایا کہ دونوں فریقین نے 1000 جنگی قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ سیز فائر سے متعلق ابتدائی بات چیت بھی ہوئی ہے۔ عمروف کے مطابق مذاکرات کے اگلے دور کا جلد اعلان کیا جائے گا، اور پیوٹن اور زیلنسکی کے درمیان ممکنہ ملاقات پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ بات چیت جنگ بندی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، تاہم حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔اس سے قبل یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے البانیہ کے دارالحکومت ترانہ میں یورپی سربراہی اجلاس سے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کی اولین ترجیح "بغیر کسی شرط کے جنگ بندی” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر روسی وفد اس بنیاد پر مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ "صدر پوتن درحقیقت جنگ کا خاتمہ نہیں چاہتے۔”

    صدر زیلنسکی نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو روس کے خلاف سخت اور واضح ردعمل اختیار کیا جائے تاکہ جارحیت کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔دوسری جانب، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے زیلنسکی کی جانب سے براہِ راست بات چیت کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اعلیٰ سطح پر ملاقات سے گریز کیا اور امن مذاکرات کے لیے ایک نچلی سطح کا وفد استنبول بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

    اس کے برعکس، یوکرین نے اپنی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کے لیے وزیر دفاع کو نامزد کیا ہے، جو اس بات چیت کو سنجیدہ اور ترجیحی حیثیت دینے کا عندیہ ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، استنبول میں جاری مذاکرات خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی ایک اہم کوشش ہیں، تاہم دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی اور سیاسی تحفظات اس عمل کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

    ایس ای سی پی کی تمام کمپنیوں کے لیے سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری

    محسن نقوی سے امریکی قائم مقام سفیر کی ملاقات، علاقائی امن پر تبادلہ خیال

    چیئرمین آئی سی سی جے شاہ کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، غیرجانبداری پر سوالات

    میں اسے گولی مار دوں گا،یہ بدمعاش ہے،لال مسجد سے مولانا عبدالعزیز نے مفتی عبدالقوی کونکال دیا