Baaghi TV

Tag: امن وامان

  • ہنگامی صورتحال، وفاق کی درخواست پر سندھ پولیس کی بھاری نفری اسلام آباد روانہ

    ہنگامی صورتحال، وفاق کی درخواست پر سندھ پولیس کی بھاری نفری اسلام آباد روانہ

    پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد میں احتجاج کے معاملے پر ہنگامی صورتحال کے پیش نظر وفاق نے صوبوں سے مدد مانگ لی جب کہ اس سلسلے میں سندھ پولیس کی بھاری نفری اسلام آباد روانہ ہوگئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی درخواست پر سندھ پولیس کے ایک ہزار اہلکار گزشتہ رات اسلام آباد روانہ کیے گئے تاہم ان میں کراچی پولیس کے اہلکار شامل نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق وفاق کی درخواست پر سندھ پولیس کی نفری کے ہمراہ 5 ہزار شیل بھی اسلام آباد بھیجے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھیجی گئی ہر پلاٹون میں سینیئر رینک کا افسر بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے اور فوج کے دستوں کے علاوہ پولیس، رینجرز اور ایف سی اہلکار بھی تعینات ہیں، دارالحکومت میں پاک فوج کے دستے گشت کر رہے ہیں۔اسلام آباد میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے فوج نے ذمہ داریاں سنبھال لیں، فوجی جوان ڈی چوک پرپہنچ گئے ہیں، فوج 17 اکتوبر تک وفاقی دارالحکومت میں ذمہ داریاں نبھاتی رہے گی۔فوج کو صورتحال کے مطابق آتشیں اسلحے کے استعمال سمیت انتہائی اقدامات کی اجازت دی گئی ہے اور قانون شکن عناصر کو گرفتار کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔

    سندھ پولیس کے باکسر شہیر آفریدی نے عالمی چیمپیئن کو شکست دیدی

    وزیراعلی پنجاب نے پی ٹی آئی کو دہشت گرد جماعت قرار دے دیا

    لاہور میں قیام امن کیلئے رینجرز طلب

  • ہاتھ جوڑکرکہتا ہوں کہ خداکیلئےنفرتوں کےبیج بوناختم کردیں:مفتی تقی عثمانی کا پیغام

    ہاتھ جوڑکرکہتا ہوں کہ خداکیلئےنفرتوں کےبیج بوناختم کردیں:مفتی تقی عثمانی کا پیغام

    کراچی:ہاتھ جوڑکرکہتا ہوں کہ خداکیلئےنفرتوں کےبیج بونا ختم کردیں:مفتی تقی عثمانی کاپیغام عام ہوگیا،اطلاعات کے مطابق شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کا عید کے اجتماع سے فکر انگیز خطاب اس قدر مقبول ہورہا ہے کہ ہرسُننے والا بار بار سُن رہا ہے

    مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ میں ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ خدا کے لئے نفرتوں کے بیج بونا ختم کردو، اسی جذباتیت اور گالی گلوچ کی وجہ سے آدھا ملک ہم گنواں بیٹھے، اب آدھا رہ گیا ہے، خدا کے لئے اس کی تو حفاظت کرلو!

     

    1۔ ہمارے معاشرے کے درمیان نفرتیں پھیلائی جارہی ہیں، اشتعال انگیز یاں کی جارہی ہیں، ایک دوسرے پر حملوں کی تیاریاں ہورہی ہیں، بلکہ حملے کئے جارہے ہیں، اور مسلمانوں کی جو وحدت ہے اس کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    2۔ دنیا میں سیاسی اختلافات کہاں نہیں ہوتے، لیکن ان اختلافات کو دشمنیوں میں تبدیل کردینا، عداوت میں تبدیل کردینا، ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہوجانا ہرگز درست طریقہ نہیں۔

    3۔ یاد رکھو! یہ سیاسی اختلافات کوئی کفر و اسلام کا معرکہ نہیں، لیکن ایک دوسرے پر جھوٹے جھوٹے الزامات لگانا، ایک دوسرے کو ایسے مطعون کرنا جیسے وہ اسلام کے دائرے سے ہی خارج ہے، وہ ہمارا مسلمان بھائی ہی نہیں ہے، افسوس ہے کہ سارا رمضان ہمارا اس آفت میں گزرا ہے، کیا یہ پاکستان اس لئے بنا تھا کہ ہم ایک دوسرے کے گلے کاٹیں۔

    4۔ اختلاف کو اختلاف کی حد میں رکھیں، آپ کا جو سیاسی نظریہ ہو، اعتدال کو، سنجیدگی کو، متانت کو، سمجھ بوجھ کو اختیار کریں، اور جذباتیت کا خاتمہ کریں، ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں، ٹھنڈے دل و دماغ سے فیصلے کریں۔

    5۔ اگر ہم نے اپنا یہ رویہ نہ بدلا، تو پھر یاد رکھو کہ جس طرح اللہ تبارک وتعالی نے اپنی رحمت سے ہمیں پاکستان عطا فرمایا، خطرہ ہے کہ کہیں ہم سے یہ نعمت چھین نہ لے، آدھا ملک ہم گنواں بیٹھے اسی جذباتیت کی وجہ سے، اسی گالی گلوچ کی وجہ سے، اسی ناسمجھی کی وجہ سے، اب آدھا رہ گیا ہے، خدا کے لئے اس کی تو حفاظت کرلو!

    6۔ جو بات زبان سے نکالو وہ تمہاری سولہ آنے سچی ہونی چاہئے، دوسروں پر الزام تراشی سے پہلے سوچ لو کہ
    کیا تم اللہ کے پاس جاکر اس الزام کو ثابت کرسکو گے، اگر نہیں ثابت کرسکوگے تو جہنم کے انگارے تمہارا مقدر ہیں۔اپنی زبان کو قابو میں لاؤ، اپنی سوچ کو قابو میں لاؤ، اپنی فکر کو قابو میں لاؤ، اعتدال پیدا کرو، سنجیدگی پیدا کرو، ایک دوسرے کی بات ٹھنڈے دل سے سمجھنے کا حوصلہ پیدا کرو۔

    7۔ میں آپ حضرات سے اس عظیم اجتماع کے اندر یہ گزارش کرتا ہوں، یہ درخواست کرتا ہوں، ہاتھ جوڑ کر یہ کہتا ہوں کہ خدا کے لئے نفرتوں کے بیج بونا ختم کردو، نفرتوں کو اپنے دل سے نکال دو، اشتعال انگیز یاں ختم کردو، اور ٹھنڈے دل و دماغ سے اللہ سے رجوع کرکے مانگو کہ یا اللہ کونسا راستہ ہمارے لئے بہتر ہے، اور اس پر عمل کرو۔

  • ن لیگیوں کی طرف سے پنجاب اسمبلی پرچڑھائی کا خدشہ:رینجرزطلب کرلی گئی

    ن لیگیوں کی طرف سے پنجاب اسمبلی پرچڑھائی کا خدشہ:رینجرزطلب کرلی گئی

    لاہور:ن لیگیوں کی طرف سے پنجاب اسمبلی پرچڑھائی کا خدشہ:رینجرزطلب کرلی گئی ،اطلاعات کے مطاق ن لیگ کی طرف سے پنجاب اسمبلی میں زبردستی گھسنے اور کسی بھی ممکمہ شرپسندی سے بچنے کےلیے میں پنجاب اسمبلی کے اطراف میں امن و امان کی ذمہ داری رینجرز کو سونپ دی گئی ہے۔

    رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر لاہور کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کےاجلاس میں کیا گیا، اس حوالے سے نوٹی فکیشن بھی جاری ہوگیا ہے جس کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اطراف میں 500 میٹر فاصلے تک دفعہ 144 بھی لگادی گئی ہے۔

    نوٹی فکیشن کےمطابق پنجاب اسمبلی کے اطراف میں رینجرز کی تعیناتی 15 دن کے لیے ہوگی۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے سیشن کے حوالے سے سیاسی پارٹیوں میں جبکہ اسپیکراورڈپٹی اسپیکر کے اختیارات کا بھی تنازع چل رہا ہے ۔نوٹی فکیشن کےمطابق اسمبلی کےراستے میں ممبران اسمبلی کوبھی روکے جانے کا امکان ہے ۔

    خیال رہے کہ منگل کو ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے پہلے 6 اپریل کو ہونے والا اجلاس 16 اپریل کو بلانے کا اعلامیہ جاری کیا اور پھر رات دیر گئے اجلاس کی تاریخ دوبارہ تبدیل کرتے ہوئے 6 اپریل کی۔مسلم لیگ ق نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے اجلاس 6 اپریل کو بلانے کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

    یاد رہےکہ اس سے قبل مریم نواز ایک پریس کانفرنس میں‌ پنجاب بھرسے ن لیگیوں کو کال دے چکی ہیں کہ وہ آئیں اور حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کے مسند پربٹھائیں‌،

     

     

  • 181 گھروں میں ڈکیتی کتنے لوگ قتل اور زخمی ہوئے خبر نے ہلچل مچادی

    181 گھروں میں ڈکیتی کتنے لوگ قتل اور زخمی ہوئے خبر نے ہلچل مچادی

    کراچی : ملک میں امن وامان کی صورت حال ابتر سے ابتر ہونے لگی ، خاص کر کراچی جیسے بڑے شہر میں‌تو صورت حال بہت ہی زیادہ خراب ہوگئی ہے،سیکورٹی اداروں نے کراچی میں ہونے والے صرف ایک جرم یعنی ڈکیتی کی تفصیلات جاری کی ہیں‌جن کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں گزشتہ چار ماہ کے دوران 181 گھروں میں ڈکیتی کی وارداتیں ہوئیں ہیں۔

    تمام پشین گوئیاں، شکوک وشبہات دم توڑ گئے،افغان طالبان نے دورہ پاکستان کامدعا بیان

    کراچی میں امن وامان کی صورت حال کس قدر خراب ہےا س کے بارے میں کراچی پولیس کے حالیہ اعدادوشمارتو ہلا کر رکھ دیا ہے، پولیس رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار ماہ کے دوران شہر کے مختلف علاقوں کے 181 گھروں میں ڈکیتی کی وارداتیں ہوئیں ہیں، اس دوران مزاحمت کرنے پر 17 شہریوں کو قتل جبکہ 96 افراد کو زخمی کردیا گیا۔

    سرکاری رپورٹ کے مطابق گزشتہ 4 ماہ میں 40 گھروں میں ڈکیتی کی وارداتوں کے ساتھ ضلع وسطی کو سرفہرست دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ ساؤتھ 36 گھریلو وارداتوں کے ساتھ دوسرے اور ضلع شرقی 35 وارداتوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

    زیابطس (شوگر) کے لیے انسولین سے بہت جلد جان چھوٹ جائے گی ،امریکی ماہرین

    سیکورٹی اداروں کی طرف سے جاری اعدادوشمار کے مطابق ملیر میں گھروں میں ڈکیتی کی 33، کورنگی میں 18، ضلع غربی میں 15 اور سٹی ڈسٹرکٹ میں سب سے کم 4 گھروں میں ڈکیتی کی وارداتیں ہوئیں ہیں۔ضلع کورنگی میں ڈکیتی کی وارداتیں اگرچہ سب سے کم مگر مزاحمت کرنے پر سب سے زیادہ 23 افراد کو گولیاں مار کر نشانہ بنایا گیا۔

    کراچی پولیس کا کہنا ہےکہ اس عرصے کے دوران ضلع غربی میں 22، ملیر میں 21، ضلع وسطی میں 12، ضلع شرقی میں 10، ضلع ساؤتھ میں 5 اور سٹی ڈسٹرکٹ میں سب سے کم 3 افراد ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض اوقات تو لوگ ایسے واقعات رجسٹر بھی نہیں‌کرواتے کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ پولیس ان کی مدد کی بجائے ان کے لیے آزمائش بن کراتر پڑتی ہے

    ترکی کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیں‌گے ، ٹرمپ کی ترکی کو دھمکی

    پولیس رپورٹ کے مطابق ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر ضلع غربی اور ملیر میں6، 6، ضلع شرقی میں 2، ضلع وسطی، سٹی اور ساؤتھ میں ایک ایک شہری ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہوئے جبکہ رپورٹ کے مطابق ضلع کورنگی میں مزاحمت پر قتل کی کوئی واردات نہیں ہوئی