Baaghi TV

Tag: امن

  • یوم یکجہتی کشمیر اور اہلیانِ کشمیر سے ہماری یکجہتی کی حقیقت – محمد نعیم شہزاد

    یوم یکجہتی کشمیر اور اہلیانِ کشمیر سے ہماری یکجہتی کی حقیقت – محمد نعیم شہزاد

    درد کی بھی ایک زبان ہوتی ہے جس کو سمجھنے کے لیے دل کی آنکھ درکار ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ بظاہر خوشحال اور پرسکون نظر آنے والے چہروں کے پیچھے کتنے کرب چھپے ہوتے ہیں۔ وقت کی تیزی اور گردشِ زمانہ نے انسان کو کس قدر بے حس بنا دیا ہے کہ دوسرے کا درد محسوس نہیں ہوتا۔ مگر جو درد میں ڈوبا ہو اس کی زندگی کس بھنور سے گزرتی ہے یہ وہی جانتا ہے۔ فیض کہتے ہیں

    زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
    ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

    قریب پون صدی کی غلامی کی زندگی، اذیت ناک صبحیں، درد بھری شامیں اور محرومیوں بھرے ماہ و سال، ایک لرزا دینے والا تصور پیدا کرتے ہیں۔ سال میں ایک دن اس بے بسی و بے نوائی کی گھٹن زدہ زندگی کے نام کر دینا اس کی محرومیوں کا مداوا نہیں کرتا مگر ذہن کے بند دریچوں پر ہلکی سی دستک ضرور دے جاتا ہے۔ پیلٹ گن سے بے نور آنکھیں، باپ کے سائے سے محروم یتیم بچے، اجڑے سہاگ والی دوشیزائیں، بے ردا ہوتی حیا و شرم والی خواتین اور نوجوانوں کے کٹے پھٹے لاشے عالمی مردہ ضمیر کو جھنجھوڑنے سے قاصر ہیں۔ جس باقاعدگی سے ہم یکجہتی کی رسمِ دنیا نبھا رہے ہیں اسی باقاعدگی سے نہتے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ سالہا سال کی مکرر یکجہتی اور ہمدردی اب کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتی اور وہ زبان حال سے کہنے پر مجبور ہیں

    مجھے چھوڑ دے میرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر
    یہ تری نوازش مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے

    ذرا چشم تصور میں اس معصوم بچے کو لائیے جس کی بینائی پیلٹ گن چھین لے گئی۔ درد کی اس تصویر کو دیکھتے ہی دل غم سے بھر جاتا ہے۔ آج بھی اسی غم نے مجبور کیا کہ اپنا ما فی الضمیر سپرد قلم کر دوں شاید کہ دل میں دہکنے والی آگ کچھ ٹھنڈی ہو اور سکون قلب نصیب ہو۔

    درد ہو دل میں تو دوا کیجے
    اور جو دل ہی نہ ہو تو کیا کیجے

    اس کے ساتھ ہی یہ سوچ ذہن کو پریشان کرتی ہے کہ عالمی امن کے ٹھیکیدار اور بڑے بڑے طاقتور ممالک کیوں ایسے محکوم لوگوں کے درد کا مداوا کیوں نہیں کرتے؟ کیا عالمی قوانین کا اطلاق صرف پاکستان جیسے امن پسند ملک کے لیے ہی ہے؟ کیا بھارت جیسی نجاست کو کوئی پوِتر اور پاک کرنے والا نہیں ہے؟ دو سال ہونے کو ہیں کہ بھارت نے کشمیر کی حیثیت کو زبردستی تبدیل کر دیا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے خطے میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی مکروہ سازش پر جتا ہوا ہے۔ دنیا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے اس کی کارستانیاں دیکھ رہی ہے ۔

    درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے
    زندگی بے مزا نہ ہو جائے

    عالمی برادری اور ادارو ں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور بھارت کے مکروہ عزائم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا چاہیے۔ اس طرح اگر اہالیان کشمیر کو بھارت مظالم کا تختہ مشق بنائے رکھا تو ایشیا میں امن کی مخدوش صورتحال پوری دنیا پر اثر انداز ہو گی۔ بقول حفیظ جالندھری

    دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب
    میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

  • انوپم کھیر ۔۔۔ فن کے بجائے جنگ کا حامی تحریر: محمد فہد شیروانی

    انوپم کھیر ۔۔۔ فن کے بجائے جنگ کا حامی تحریر: محمد فہد شیروانی

    شدت پسندانہ ہندو ذہنیت سے لبریز انوپم کھیر کی انتہا پسندی سے کون واقف نہیں۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں انوپم کھیر نے لکھا ہے کہ ” کشمیر کا مسئلہ حل کی جانب بڑھ رہا ہے”۔ صرف اسی ایک بیان سے آپ انوپم کھیر کی کھال میں چھپا خونخوار بھیڑیا دیکھ سکتے ہیں جو نہتے معصوم و مظلوم کشمیریوں کا خون پینے کو بیتاب ہے۔
    نسل کشی کے حوالے دینے والے آدمخور طبیعت انوپم کھیر کو انڈیا میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کیوں نہیں دکھائی دیتے۔ انوپم کھیر کی آنکھوں پر جمی انسانیت سے عاری ہندووانہ سیاہ پٹی اسے انسان اور انسانی ہمدردی سے دور کر چکی ہے۔
    کشمیر کا مسئلہ اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑی مسائل میں سے ایک ہے جس کے باعث اب تک تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ دنیا کی دو جوہری طاقتیں پاکستان اور انڈیا اس مسئلے کو لے کر ایک دوسرے کے سامنے ڈٹے رہتے ہیں اور ان کی عوام بھی دل جان سے اپنی افواج کا ساتھ دیتے ہیں بالخصوص پاکستانی۔ پاکستان کا ہر جوان، ہر بوڑھا، ہر بچہ ایسے موقع پر فوجی بن کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر پاکستانی خواتین بھی کسی طور مردوں سے پیچھے نہیں۔

    انڈیا کی جانب سے کشمیر میں پیدا کی گئی حالیہ کشیدگی اور ظلم کی ہر انٹرنیشنل فورم پر مذمت کی جا رہی ہے۔ اداکاروفنکار جنہں امن و آشتی کا پیامبر سمجھا جاتا ہے ان میں موجود چند شرپسند نہ امن چاہ رہے ہیں نہ آشتی۔ اپنی شہرت کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے شرپسندوں میں سب سے بڑا نام سطحی کردار ادا کرنے والے انڈین اداکار انوپم کھیر کا ہے۔ جب کبھی انڈیا پاکستان میں کشیدگی بڑھتی ہے انوپم کھیر فوراً شرپسندی شروع کرکے اپنی افواج اور قوم کو بھڑکانا شروع کر دیتا ہے جس سے کسی اور کا نقصان ہو یا نہ ہو انڈین فوج کا نقصان ضرور ہوجاتا ہے جس کی تازہ مثال پاکستانی فوج کی جانب سے گرائے گئے انڈین طیارے اور ابھی نندن ہے۔
    انوپم کھیر نے آرٹیکل 370 کے ختم ہونے پر کشمیریوں کے حق آزادی کے سلب ہونے کو خوش آئند قرار دیا۔ انڈین چینل کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ کشمیر میں ہندوؤں کو ایک الگ جگہ دینی چاہئیے تاکہ وہاں ہندو آبادکاری ہو سکے۔ فلمی سکرین پر بظاہر معصوم نظر آنے والا انوپم کھیر دراصل کتنے کٹھور و ظالم دل کا مالک ہے یہ حقیقت اب سب پر آشکارا ہو چکی ہے۔
    انوپم کھیر کے علاوہ بہت سے دیگر انڈین اداکار بھی کشمیریوں کا حق مارنے والے اس آرٹیکل کے ختم ہونے کے حق میں باتیں کر رہے ہیں اور کشمیر میں انڈین فوج کی پر تشدد کاروائیوں کی کھلم کھلا تائید کر رہے ہیں۔ جبکہ حیرت انگیز طور پر پاکستانی فنکار و اداکار اس حساس معاملے میں بالکل خاموش ہیں۔ اس ایشو کی جانب توجہ دلاتے ہوئے پاکستان کی مشہور بلاگر جویریہ صدیقی نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ "ہمارے بیشتر اداکار مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے کتراتے کیوں ہیں”؟
    انڈیا کو لے کر ہمارے فنکاروں کے منہ پر لگے تالے اچنبھے کی بات ہے۔ اس نازک موقع پر عام عوام کی طرح شوبز برادری کو بھی اپنے ملک اور افواج کا ساتھ دیتے ہوئے حب الوطنی کا ثبوت دینا چاہئیے۔ ہمیں انڈیا سے فلموں میں کام، ناچ، گانا یا لچر پن نہیں چاہئیے، ہمیں صرف اور صرف انڈیا اور کشمیر میں بسنے والے مسلمان بہن بھائیوں کا تحفظ چاہئیے۔ ہر معاملے میں بڑھ چڑھ کر بولنے والے فنکاروں، اداکاروں کو خاموشی توڑتے ہوئے انڈیا کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ مجھے لگتا ہے کہ اب فن کی سرحدوں کا تعین بھی ہو جانا چاہئیے۔
    بلاشبہ ہم لوگ امن کے داعی ہیں لیکن ہماری امن کی اس خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔
    انوپم کھیر ذہن نشین کر لو۔۔۔ “نہ کھیر دیں گے نہ کشمیر دیں گے، بس ہم چیر دیں گے”۔

  • مودی! امن کو موقع دو ۔۔۔ حافظ معظم

    مودی! امن کو موقع دو ۔۔۔ حافظ معظم

    بھارت ایک بار پھر آپے سے باہر ہوا جا رہا ہے، بھارتی جنگی جنون خطے کے امن کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے، اگرچہ بھارت کا جنگی جنون ماضی میں بھی دیکھنے کو ملتا رہا ہے مگر بی جے پی اور باالخصوص نریندر مودی کی سیاست پاکستان اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر کھڑی ہے.
    مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال اور بالخصوص انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے مودی حکومت کے مکروہ عزائم کا پردہ چاک کر دیا ہے، یو این او کی 2018 رپورٹ برائے کشمیر اور انسانی حقوق کی پاسداری نے بھارتی چہرے کو بری طرح مسخ کیا ہے، اسی طرح یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں 19 فروری کو ہونے والے اجلاس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر شدت سے سوال اٹھایا گیا.
    عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد سے انڈیا سٹپٹا گیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی دو مرتبہ پیشکش نے بھارتی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے، کشمیر عالمی دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، چین، روس اور ترکی جیسے بڑے ممالک کشمیر ایشو پر پاکستانی مؤقف کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں، ان حالات نے بھارت کو ہڑ بڑا کر رکھ دیا ہے.
    بھارت کو لگتا ہے کہ شاید اب کشمیر کہیں اس کے ہاتھ سے نکل نہ جائے، یہی وجہ ہے کہ بھارت عالمی توجہ کشمیر سے ہٹانے کے لیے کسی نئے ایڈونچر کی تیاری میں لگا ہوا ہے، لائن آف کنٹرول پر مسلسل سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، بھارت کی جانب سے سول آبادی کو نشانہ بنائے جانے سے اب تک کئی معصوم پاکستانی شہید ہو چکے ہیں، تازہ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر میں ایل او سی کے نزدیک سول آبادی کو کلسٹر بمبوں کے زریعے نشانہ بنایا گیا ہے، یاد رہے کلسٹر بم کا استعمال جینوا اور عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے.
    بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں نئے فوجی دستوں کی تعینات کرنا، فوج اور ایئر فورس کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دینا، مقبوضہ کشمیر میں قبل از وقت گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان کرنا اور تعلیمی ادارے بند کرنے کا حکم دینا، مقبوضہ وادی میں سیاحت کے لیے آئے سیاحوں کو فوری طور کشمیر چھوڑنے کا حکم دینا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے، آخر بھارت کی جانب سے ان تمام اقدامات کا مقصد کیا ہے؟ بھارتی اقدامات واضح طور پر اشارہ کر رہے ہیں کہ بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ کسی نئے ایڈوینچر کے موڈ میں ہے.
    پاکستان کی امن کی کوششوں کو پاکستان کی کمزوری سمجھنا مودی قیادت کی احمقانہ سوچ ہے، بھارت کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئیے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے، پاکستان کے پاس جدید ترین جوہری ہتھیار، ایڈوانس میزائل ٹیکنالوجی اور دنیا کی بہترین مسلح افواج ہیں، بھارت کا ہر ایک شہر پاکستان کے نشانے پر ہے، بھارت نے کسی قسم کا کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو اسے ایسا دندان شکن جواب ملے گا کہ بھارت کی آنیوالی نسلیں یاد رکھیں گی، مودی کا جنگی جنون بھارت کو لے ڈوبے گا.
    پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، پاکستان کی جانب سے ہمیشہ مصالحت پسندانہ رویہ اپنا گیا، ہر بار بھارت کو دعوت دی کہ مزاکرات کی میز پر مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں لیکن بھارت کے سر پر تو جنگ کا بھوت سوار ہے، مودی امن کو موقع دینے کو بلکل بھی تیار نظر نہیں آتا، بھارتی حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتی بلکہ جنگیں مزید مسائل کو جنم دیتی ہیں، پاکستان انڈیا کا تصادم پورے حطے کی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دے گا اسلیے مودی کو چاہیے کہ اپنے جنگی جنون سے باہر نکلے اور مزاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرے، تاکہ اس خطے کو تباہی سے بچایا جا سکے اور امن کو موقع دیا جا سکے.