Baaghi TV

Tag: اموات

  • پاکستان میں “عملہ صفائی” کی دوران ڈیوٹی اموات،صنفی امتیاز پر رپورٹ

    پاکستان میں “عملہ صفائی” کی دوران ڈیوٹی اموات،صنفی امتیاز پر رپورٹ

    پاکستان میں روایتی طریقوں سے صفائی ہونے کے باعث عملہ صفائی کی جان خطرے سے دوچار رہتی ہے ۔ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں بڑے انکشافات سامنے آ گئے،انسانی زندگیوں کو محفوظ بنانے کیلئے کبھی کوئی قانون ہی مرتب نہیں کیا گیا

    پاکستان میں “عملہ صفائی” کی دوران ڈیوٹی اموات اور صنفی امتیاز پر ہیومن رائٹ کمیشن نے رپورٹ مرتب کر لی ،رپورٹ کے مطابق ایک سال میں بیس مزدور صفائی دوران کام جان کی بازی ہار چکے ،پنجاب اور سندھ میں عملہ صفائی کی حالت انتہائی ناگفتہ قرار دی گئی ہے،عملہ صفائی کی اموات ،صنفی امتیاز ،مذہبی امتیاز اور صحت کے مسائل کی وجہ ٹھیکدرانہ نظام قراردیئے گئے، رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹھیکدار عملہ صفائی کو باقاعدہ تنخواہ نہیں دیتا بلکہ دیہاڑی پر بھرتی کرتا ہے ،دیہاڑی دار مزدور کو فیکٹری مزدور کی طرح جاب سکیورٹی ملتی ہے اور نا پینشن ۔وفاقی پالیسی نہ ہونے کے باعث صوبے بھی باقاعدہ پالیسی بنانے میں ناکام رہے ۔باقاعدہ پالیسی پر عمل نا ہونے سے “عملہ صفائی “ دوران ڈیوٹی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔کراچی ،حیدرآباد ،چکوال اور فیصل آباد میں “عملہ صفائی” گٹر کی صفائی کرتے ہوئے زہریلی گیسز کا نشانہ بنا ۔پاکستان میں روایتی طریقوں سے صفائی ہونے کے باعث عملہ صفائی کی جان خطرے سے دوچار رہتی ہے ۔ہیومن رائٹس کمیشن نے فوری طور پر سینیٹیشن پالیسی بنانے اور روایتی صفائی کے نظام کو متروک کرنے کی سفارش کر دی ۔

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

  • بنگلہ دیش میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 59 ہو گئی

    بنگلہ دیش میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 59 ہو گئی

    بنگلہ دیش میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 59 ہو گئی، 5.4 ملین سے زیادہ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں

    ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریلیف منسٹری کی رپورٹ کے مطابق، ہفتہ تک 11 اضلاع میں حالیہ سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 59 ہو گئی ہے۔تازہ ہلاکتوں میں سے چار کا تعلق فینی سے جبکہ ایک ضلع نواکھلی سے بتایا گیا ہے۔اب تک، سیلاب نے کومیلا میں 14، چٹگانگ میں چھ، فینی میں 23، نواکھلی میں نو، کاکس بازار میں تین اور برہمن باڑیا، کھگراچھڑی، مولوی بازار اور لکشمی پور اضلاع میں بالترتیب ایک ایک کی جان لی ہے۔مرنے والوں میں 41 مرد، چھ خواتین اور 12 بچے تھے۔

    سیلا ب زدہ اضلاع میں 696,995 خاندان پھنسے ہوئے ہیں، 11 اضلاع کی 504 میونسپلٹیز یا یونینوں میں 5,457,702 افراد متاثر ہوئے ہیں۔وزارت کے مطابق چٹاگانگ، حبیب گنج، سلہٹ، کاکس بازار اور کھگرا چاری اضلاع میں سیلاب کی صورتحال مستحکم ہے جبکہ مولوی بازار، برہمن باڑیا، کومیلا، فینی، نواکھلی اور لکشمی پور اضلاع میں سیلاب کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، کم از کم 393,305 افراد نے 3,928 پناہ گاہوں میں پناہ لی ہے جبکہ وہاں 36,139 گھریلو جانور رکھے گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کل 519 میڈیکل ٹیمیں طبی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔سیلاب زدہ اضلاع میں اب تک 4.52 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جبکہ 20,650 ٹن چاول، 15,000 خشک خوراک یا دیگر کھانے پینے کی اشیاء اور بچوں کی خوراک اور چارہ ہر ایک کے لیے 35 لاکھ روپے مختص کیا گیا ہے۔

    ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد پناہ گاہوں میں پناہ لینے والے کچھ لوگوں نے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔کچھ سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکوں کی آمدورفت میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے جبکہ متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

    بنگلہ دیش،سیلاب سے متاثرہ 9 اضلاع میں 9 لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم

    بنگلہ دیش،سیلاب سے 50 لاکھ افراد متاثر

    بنگلا دیش میں سیلاب اور بھارتی میڈیا کا رویہ

    وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش میں سیلابی صورتحال پر دکھ اور ہمدردی کا اظہار

  • ایران،پاکستانی زائرین کی بس کو حادثہ،خواتین سمیت 35 جاں بحق

    ایران،پاکستانی زائرین کی بس کو حادثہ،خواتین سمیت 35 جاں بحق

    ایران میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، پاکستانی زائرین کی بس حادثے کا شکار ہو گئی ہے، 35 افراد کی موت جبکہ 15 زخمی ہو گئے ہیں

    واقعہ ایران کے شہر یزد میں پیش آیا، بس جس پر پاکستانی زائرین سوار تھے دہشیر تفتان چیک پوائنٹ کے سامنے الٹ گئی جس کے بعد بس کو آگ لگ گئی ، بس میں 53 زائرین سوار تھے، حادثے میں 35 افراد جان سے گئے جبکہ 15 زخمی ہیں ،کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے،ایرانی میڈیا کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں و لاشوں کو بس سے نکالا جب کہ حادثے کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

    بس میں سوار افراد کا تعلق اندرون سندھ سے ہے، بس لاڑکانہ سے گئی تھی، بس میں 14 خواتین بھی سوار تھیں،ایران میں موجود قافلے کے سر براہ سید اطہر شمسی نے حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ قافلے میں دو بسیں شامل تھیں، ایک بس میں وہ خود بھی سوار تھے، زائرین دو بسوں میں سوار تھے، پاسپورٹ اور کاغذات کے مسائل کی وجہ سے ان کی بس پیچھے رہ گئی، آگے جانے والی بس حادثے کا شکار ہوگئی

    ایرانی ٹریفک پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بس کے بریک سسٹم میں فنی خرابی کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں 11 خواتین بھی شامل ہیں

    ایران بس حادثہ، صدر مملکت،وزیراعظم،وزیر داخلہ و دیگر کاا ظہار افسوس
    ایران بس حادثے پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر سندھ، وزیراعلیٰ پنجاب، چیئرمین سینیٹ و دیگر نے افسوس کا اظہار کیا ہے،
    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایران کے شہر یزد میں المناک بس حادثہ میں 35 پاکستانی زائرین کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےجاں بحق ہونے والے زائرین کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا،زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی اور کہا کہ ایران میں بس حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر بہت دکھ ہوا ہے۔تمام تر ہمدردیاں جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کے ساتھ ہیں۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری وسطی پنجاب حسن مرتضیٰ نےپاکستانی زائرین کی بس کو ایران کے شہر یزد کے قریب ٹریفک حادثے کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دُکھ و رنج کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران کے شہر یزد ٹریفک حادثے میں شہید ہونے والے زائرین کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔رنج و اَلم کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔شہید ہونے والے زائرین کو اللہ پاک جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں۔اللہ پاک بس حادثے میں زخمی زائرین کو جلد از جلد شفایاب فرمائیں۔ آمین

    سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ایران کے شہر یزد میں پاکستانی زائرین کی بس کے المناک حادثہ پر انتہائی دکھ ہوا ہے۔ اس افسوسناک خبر نے پورے ملک کو غمزدہ کردیا ہے۔ بس حادثے میں کم از کم 35 زائرین جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہم ان کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہماری دعائیں اور ہمدردیاں ان تمام خاندانوں کے ساتھ ہیں جو اس سانحے کا شکار ہوئے ہیں۔

    ایران بس حادثہ،میتیں جتنی جلدی ممکن ہوا واپس بھیجیں گے،پاکستانی سفیر
    ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو کا کہنا ہے کہ یزد حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی میتیں جتنی جلدی ممکن ہوا واپس بھیجیں گے، حادثہ تہران سے 700 کلو میٹر دور یزد میں پیش آیا ہے، یزد کے لیے ایئر ٹکٹس دستیاب نہیں تھے اس لیے افسر گاڑی پر گئے ہیں،حادثے کی وجہ بس کی اوور اسپیڈنگ اور بریک فیل ہونا تھا، اوور اسپیڈنگ کی وجہ بس ایک اسکول کی دیوار سے ٹکرائی، پاکستانی سفارتخانے نے اطلاع ملتے ہی ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر کے ایرانی حکام سے رابطہ کیا، ایرانی وزارت خارجہ کے حکام اور یزد کی مقامی حکومت سے بھی رابطے میں ہیں، زخمیوں کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پاکستانی سفارتی حکام کو زخمیوں کی مدد کے لیے تہران سے روانہ کر دیا گیا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بس حادثے میں زائرین کے جاں بحق ہونے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے زخمی زائرین کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی،مریم نواز کا کہنا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں حکومت پنجاب متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ایران میں بس حادثے میں پاکستانی زائرین کے جاں بحق ہونے پر اظہارِ افسوس کیا اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی،انہوں نے کہا کہ مشکل گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں،چیئرمین سینیٹ نے حادثے میں جاں بحق افراد کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا گو ہوں،علاوہ ازیں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے اس واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ایران بس حادثے میں پاکستانی زائرین کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس کیا اور مرحومین کی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی،انہوں نے کہا کہ تشویشناک حالت میں مبتلا زائرین کا علاج ایران میں ہی کیا جائے، متعلقہ حکام سے حکومت پاکستان رابطے میں ہے، انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، میتوں کو پاکستان لانے کے لیے خصوصی انتظامات یقینی بنانا ہوں گے۔

    ایران بس حادثہ،بس میں سوار پاکستانی مسافروں کی فہرست باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

  • سعودی عرب،گرمی کی وجہ سے 577 حاجیوں کی موت

    سعودی عرب،گرمی کی وجہ سے 577 حاجیوں کی موت

    سعودی عرب میں شدید گرمی، مکہ مکرمہ میں گرمی کی وجہ سے 577 حاجیوں کی موت ہو گئی ہے

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گرمی سے جاں بحق حاجیوں میں سے 323 کا تعلق مصر ،60 کا اردن ،35 کا تیونس، 144 کا انڈونیشیا،11 کا ایران اور 3 کا سینگال سے تعلق ہے،سعودی عرب کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ حج کے دوران ہیٹ اسٹروک کے چارہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں.

    سعودی عرب میں حاجیوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جس میں وہ گرمی سے بے حال ہیں،مصری حاجی 61 سالہ عزا حامد براہیم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے سڑک کے کنارے لاشیں دیکھی ہیںایسا لگ رہا تھا جیسے سعودی عرب میں قیامت آگئی ہو۔سڑک کنارے گرمی کی وجہ سے شہری بیہوش بھی ہوتے رہے جنہیں طبی امداد کےلیے ہسپتال منتقل کیا گیا،

    سعودی عرب میں گرمی کی وجہ سے بڑی تعداد میں اموات اور لاشوں کا سڑک پر موجود ہونے پر سوشل میڈیا صارفین سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، ایک صارف نے سوال کیا کہ کیا اس کے لیے سعودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا؟ جبکہ سعودی اسلامی سیاحت کو فروغ دیتا ہے اور اربوں کماتا ہے۔

    سعودی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مکہ کی عظیم الشان مسجد کا درجہ حرارت 51.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ گرینڈ مسجد کے قریب واقع مینا کا درجہ حرارت 46 ڈگری تھا۔ ایک صارف نے لکھا کہ گرمی میں سعودی عرب کی عازمین حج کو ناقص سہولیات کے پیش نظر قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا.

    ایک صارف نے لکھا کہ ویڈیو میں حجاج کرام کی میزبانی میں سعودی_عرب کی حکومت کی نااہلی کو دکھایا گیا ہے۔ویڈیو میں کئی حجاج ہیں جو گرمی اور دیگر پریشانیوں سے مر چکے ہیں لیکن کسی کو انہیں منتقل کرنے کی جلدی نہیں ہے۔ جب تک حکومت نے ایکشن نہیں لیا ان لوگوں کی لاشیں کئی گھنٹے واک ویز پر پڑی رہیں۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں حج کا عمل مکمل ہو چکا ہے.حج ایک عظیم مذہبی اجتماع اور مسلمانوں کے لیے ایک لازمی فریضہ ہے، دنیا بھر میں لوگوں نے عید الاضحیٰ منائی۔ تاہم، ہیٹ اسٹروک کے بعد متعدد حجاج کو اسپتالوں اور طبی مراکز میں داخل کرایا گیا، کیونکہ سعودی عرب میں شدید گرمی ہےحکام کے مطابق اس وقت سعودی عرب کے متعدد طبی مراکز میں 4,082 افراد داخل ہیں۔ خلیج ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، وزارت صحت نے انکشاف کیا کہ ملک میں کئی حاجیوں کی اوپن ہارٹ سرجری، گردے کے ڈائیلاسز کے طریقہ کار اور کارڈیک کیتھیٹرائزیشن کی گئی تھی۔وزارت صحت نے 24 اوپن ہارٹ سرجریز اور 249 کارڈیک کیتھیٹرائزیشن کیں۔ 1,006 گردوں کے ڈائیلاسز کے عمل بھی ہوئے۔

    سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان،ابھی تبصرہ نہیں کر سکتے،ترجمان دفتر خارجہ

    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف

     ایک دوسرے کے تجربے سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جاسکیں۔

  • آسمانی بجلی گرنے سے پنجاب میں خواتین اور بچوں سمیت 11 اموات

    آسمانی بجلی گرنے سے پنجاب میں خواتین اور بچوں سمیت 11 اموات

    جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید گرج چمک کے ساتھ کہیں ہلکی اور کہیں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے اس دوران آسمانی بجلی گرنے سے کئی قیمتی جانیں چلی گئی ہیں،پنجاب کے مختلف علاقوں میں آسمانی بجلی گرنےکے واقعات میں 11 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں

    پنجاب کے شہر رحیم یار خان کے مختلف علاقوں میں آسمانی بجلی گری ہے، جس سے 5 افراد کی موت ہوئی ہے، بستی کلواڑ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو بچے جان کی بازی ہار گئے ہیں، دونوں بچے بھائی تھے، آسمانی بجلی کی زد میں آنے والے دونوں بھائیوں کی عمریں 7 سے 9 سال ہیں، ٹھل حسن میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص کی موت ہوئی ہے، بستی کھوکھراں فیروزہ میں آسمانی بجلی گرنے سے میاں بیوی چل بسے ہیں،45سالہ عبدالحفیظ اور 40سالہ کلثوم گندم کاٹ رہے تھے کہ بارش میں آسمانی بجلی گری دنوں میاں بیوی موقع پر جان بحق ہو گئے

    بہاولپور کے علاقے میں بھی آسمانی بجلی گرنے سے دو اموات ہوئی ہیں، خیرپور ڈاھا کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے ایک خاتون کی موت ہوئی ہے، علاقہ چک 113 میں آٹھ سالہ بچے کی آسمانی بجلی گرنے سے موت ہوئی ہے،لودھراں کے علاقے دھنوٹ میں بھی آسمانی بجلی گرنے سے ایک خاتون کی موت ہوئی ہے، مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی میں آسمانی بجلی گرنے سے 40 سالہ نوجوان جان بحق ہو گیا.شہر سلطان میں آسمانی بجلی گرنے سے 13سالہ بچہ جاں بحق ، دو افراد زخمی ہو گئے، جام پور کے علاقے فاضل پور میں آسمانی بجلی گرنے سے 24 سالہ نوجوان موقع پر جاں بحق ہو گیا.

    کوٹ ادو میں تیز بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے،بارش کے ساتھ بادلوں کی گرج چمک میں آسمانی بجلی گرنے کے بھی واقعات رونماء ہو چکے ہیں، یونین کونسل بیٹ قائم والہ چکردری پر آسمانی بجلی گرنے سے کاشتکار محمد عبداللہ کی 2 بھینسیں ہلاک ہو گئی ہیں.

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

    بارشوں کا سپل 15 اپریل تک جاری رہنے کا امکان ہے ،پی ڈی ایم اے
    پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش ،ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے صوبہ بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی، ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں کا سپل 15 اپریل تک جاری رہنے کا امکان ہے ۔پنجاب کے مختلف اضلاع میں آسمانی بجلی گرنے سے 5 اموات رپورٹ ہوئی ہیں ،بہاولپور ،تحصیل یزمان ،رحیم یار خان کوٹ ادو اور مظفر گڑھ میں آسمانی بجلی گری۔عوام الناس احتیاط کریں بارش اور بجلی کی گرج چمک کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں۔ نشیبی علاقوں سے پانی کی فوری نکاسی کو یقینی بنایا جائے ۔
    نکاسی آب کیلئے تمام تر وسائل اور مشینری استعمال میں لائی جائے۔ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ محکمے الرٹ رہیں۔صوبائی کنٹرول روم سمیت تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔پی ڈی ایم اے کنٹرول روم میں صورتحال کی مانیٹرنگ 24/7 جاری ہے۔1122 سمیت دیگر ریسکیو ادارے مشینری سمیت عملے کو الرٹ رکھیں۔شہری احتیاط کریں بجلی کے کھمبوں اور لٹکتی تاروں سے دور رہیں۔ شہری غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں اور گاڑی آہستہ چلائیں ۔ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر کال کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق نے ممکنہ بارشوں کے حوالے سے ہدایات جاری کر دیں، پنجاب بھر کے بلدیاتی ایڈمنسٹریٹرز کو انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پی ڈی ایم اے کے پنجاب میں بارشوں کے الرٹ کو مدنظر رکھا جائے،نشیبی علاقوں سے بارانی پانی کے نکاس کی مشینری تیار رکھیں ،سیوریج نالوں کی صفائی کا بھی پیشگی جائزہ لیا جائے، تعطیلات کے باوجود بارش سے شہریوں کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے،محکمہ بلدیات پی ڈی ایم اے سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ رکھے،

  • مون سون بارشیں، سیلاب،183 افراد کی موت،266 زخمی

    مون سون بارشیں، سیلاب،183 افراد کی موت،266 زخمی

    انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے پاکستان میں بارشوں کے بعد ہونے والے نقصانات کے حوالہ سے اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 25 جون سے شروع ہونے والے بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں پاکستان میں اب تک 183 افراد کی موت ہو ئی ہے اور 266 افراد زخمی ہوئے ہیں،

    انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے نقصانات کی رپورٹ دو اگست کو جاری کی ہے جس میں کہا ہے کہ پاکستان میں شدید بارش اور سیلاب کا خطرہ ہے، پاکستان میں مون سون کی بارشیں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں ، وہ علاقے جو گزشتہ برس سیلاب سے متاثر ہوئے تھے، پھر متاثر ہو سکتے ہیں، گزشتہ برس سیلاب سے 33 ملین افراد متاثر اور 1739 کی موت ہو ئی تھی، اب موجودہ بارشوں کے بعد این ڈی ایم اے نے جو رپورٹ جاری کی اسکے مطابق اب تک رواں برس بارشوں کے بعد کی صورتحال کے نتیجے میں 183 افراد کی موت ہو چکی ہے، بلوچستان اور کے پی کے متعدد اضلاع شدید بارش کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں،

    بلوچستان میں خاران، آواران، ژوب، قلعہ سیف اللہ، نصیر آباد، لسبیلہ، اوستہ محمد اور صحبت پورمیں شدید بارش ہوئی،صوبہ بلوچستان میں اب تک 12 افراد جاں بحق، 14 زخمی، 334 مکانات تباہ ہوئے، جن کو جزوی طور پر نقصان پہنچا، اور 332 مکانات مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں بلوچستان کا ضلع واشک بری طرح متاثر ہوا اور 200 مکانات ضلع میں مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔

    کے پی کے میں خیبر، سوات، بٹگرام، مانسہرہ، کرک، مردان، شانگلہ، اپر کوہستان، اپر دیر، لوئر دیر، بونیر، مالاکنڈ،باجوڑ، ایبٹ آباد، اپر چترال، اور لوئر چترال متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں، این ڈی ایم اے کے مطابق 17 سے 30 جولائی کے درمیان شدید بارشیں ہوئی، اس دوران سیلاب آیا اور 53 افراد کی موت ہوئی جبکہ 67 افراد زخمی ہوئے، خیبرپختونخوا میں بھی سیلاب کے باعث 219 مویشی لقمہ اجل بن گئے۔ شدید بارشوں نے دو اسکولوں اور 379 مکانات کو نقصان پہنچایا، جن میں 74 مکمل طور پر تباہ ہو ئے جبکہ 305 کو جزوی نقصان پہنچا۔

    صوبہ سندھ میں، ضلع دادو کی چھ یونین کونسلیں سیلابی پانی سے متاثر ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 183 دیہات اور 102,268 افراد متاثر ہوئے کیونکہ اہم سڑکیں زیر آب ہیں۔ لوگ آمدورفت کے لیے متبادل راستے استعمال کر رہے ہیں۔سندھ میں 10 اموات اور 21 افراد زخمی ہوئے۔ حال ہی میں سیلابی پانی نے سکھر اور جیکب آباد کی آبادی کو متاثر کیا ہے۔ضلع میں 324 مکانات کو جزوی اور 18 کو مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے۔3,528 ایکڑ فصل کا رقبہ تباہ ہوا ہے ،

    دوسری جانب ایک اور رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں مون سون بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے، رپورٹ کے مطابق لورالائی میں3 ،پنجگور ، ژوب اور نصیر آباد میں 2 ،2 افراد ہلاک ہوئے جبکہ آواران، قلعہ سیف اللہ، خضدار، ڈیرہ بگٹی، پشین،کیچ اور جھل مگسی میں بارشوں کے باعث ایک ایک ہلاکت ہوئی جاں بحق ہونے والوں میں 8 مرد، 2 خواتین اور 6 بچے شامل ہیں جب کہ بارشوں سے صوبے میں 24 افراد زخمی بھی ہوئے

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے کا ریلیف آپریشن 9 جولائی سے جاری ہے۔صوبہ بھر میں اب تک 222 ریلیف کیمپس لگائے گئے ہیں۔حفاظتی اقدامات کے ذریعے قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔سیلابی ریلوں سے ننکانہ میں 454،اوکاڑ ہ 4075، قصور 7039،ویہاڑی 100 ،مظفر گڑھ  2124،خانیوال 48،ننکانہ 454افرا د کومحفوظ مقامات پرمنتقل کیاگیا۔ قصورمیں 47058، اوکاڑہ 69868 ویہاڑی 1349 سیالکوٹ میں 41ننکانہ 1013لیہ میں 214افراد کو ٹرانسپورٹ مہیا کی گئی۔اسی طرح قصورمیں 2412،مظفر گڑھ 1758،ننکانہ 885،اوکاڑہ 132، ویہاڑی 305،خانیوال میں 200مویشیوں کو ریسکیو کیا گیاجبکہ ننکانہ میں 855 افراد میں راشن کے بیگز تقسیم کئے گئے۔

    ترجمان نے بتایا کہ سیلابی پانی سے بہاولپور میں تین، اوکاڑہ 77جھنگ 40مظفرگڑھ پانچ خانیوال 23ننکانہ 8لیہ میں 65 بستیاں پانی سے متاثر ہوئیں۔بہاولپور میں 220ایکڑ، اوکاڑہ میں 20275ایکڑ، ویہاڑی 19061ایکڑ، خانیوال 9ہزار ایکڑننکانہ 816ایکڑلیہ 5762ایکڑ فصلوں کو نقصان پہنچا۔ نگراں ڈ ی جی پی ڈی ایم ایعمران قریشی نے کہا کہ سیلابی پانی سے اوکاڑہ میں ایک شخص جاں بحق جبکہاوکاڑہ میں چار اور سیالکوٹ میں چھت گرنے سے د و افراد زخمی ہوئے۔پی ڈی ایم اے کنٹرول روم 24 گھنٹے دریاؤں کی صورتحال مانیٹر کر رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی محنت لائق تحسین ہے

  • مزدہ اور ہائی ایس کے مابین تصادم،سات افراد کی موت،13  زخمی

    مزدہ اور ہائی ایس کے مابین تصادم،سات افراد کی موت،13 زخمی

    گوجرہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، گوجرہ میں مزدہ اور ہائی ایس کے مابین تصادم ہوا ہے جس کے نتیجے میں سات افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ 13 افراد زخمی ہوئے ہیں

    اطلاع پر ریسکیو ادارے موقع پر پہنچ گئے، عینی شاہدین کے مطابق ہائی ایس جو کہ گوجرہ سے پینسرہ کی طرف جارہی تھی جبکہ منی ٹرک (مزدا) گوجرہ سے پینسرہ کی طرف آرہا تھا منی ٹرک (مزدا) ڈرائیور کو نیند آنے کی وجہ سےمنی ٹرک (مزدا) ہائی ایس کے ساتھ جا ٹکرایا اور دونوں کو آگ لگ گئی موقع پر پہنچ کر فائر فائٹر نے فائر فائٹنگ کی اور 4 جلی ہوئی باڈیز کو ہائی ایس سے نکالا اور جبکہ 1 جلی ہوئی باڈی کو منی مزدا سے نکالا جبکہ2 لوگ ہیڈ انجری کی وجہ سے جانبحق ہوئے جن کو مقامی لوگوں نے ہمارے جانے سے پہلے باہر نکال لیایوں ٹوٹل 7 افراد جانبحق ہو گئے جبکہ 13 زخمی افراد کو قریبی ہسپتال ٹی ایچ کیو گوجرہ میں شفٹ کیا گیا جس میں11 مرد ، 3 عورتیں اور 0بچہ شامل ہے جبکہ جلی ہوئی باڈیز کی شناخت نہ ہو سکی۔ ایمبولینسز ڈیڈ بادیز کو ٹی ایچ کیو گوجرہ میں شفٹ کرنے میں مصروف ہیں جبکہ ریسکیو وہیکل جلی ہوئی گاڑیوں کو سڑک سے ہٹانے میں مصروف ہیں

    آر پی او فیصل آباد ڈاکٹر محمد عابد خان نے علاقہ تھانہ نواں لاہور ڈسٹرکٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مزدہ اور ہائی ایس کے تصادم میں 7افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہونے کا نوٹس لے لیا اور سینئر افسران کو فوری موقع پر پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی، زخمیوں کو فوری ہسپتال اور اور زیرنگرانی علاج معالجہ کروانےکی ہدایات جاری کی گئیں اور ہدایت کی گئی کہ روڈ کلیئر کرنے اور ٹریفک کی روانگی کو مد نظر رکھا جائے

    نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن رضا نقوی نے گوجرہ میں دھرم کوٹ کے قریب ٹریفک حادثے کے بعد وین میں آتشزدگی سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، محسن نقوی نے کمشنر فیصل آباد اور آر پی او فیصل آباد سے رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ غفلت کے ذمہ دار ڈرائیور کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے،

    ڈیجیٹل مردم شماری کے باوجود ملک کے اندر خواجہ سراؤں کی حقیقی تعداد کا تعین مشکل

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

  • مفت آٹے کی تقسیم،بھگدڑ مچنے سے ایک اور خاتون کی موت

    مفت آٹے کی تقسیم،بھگدڑ مچنے سے ایک اور خاتون کی موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی طرف سے پہلی بار غریب شہریوں کے لئے مفت آٹے کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا تو پنجاب کے کئی شہروں میں بدامنی، دھکم پیل دیکھنے میں آئی ، آٹے کی تقسیم کے دوران بھگدڑ مچنے سے کئی اموات ہو چکی ہیں، اب تازہ ترین واقعہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں پیش آیا ہے جہاں بھگدڑ مچنے سے 65 سالہ بزرگ خاتون کی موت ہو گئی ہے جبکہ 19 خواتین زخمی ہو گئی ہیں، واقعہ نواز شریف پارک میں پیش آیا، جس خاتون کی موت ہوئی اسکی شناخت نسیم اختر کے طور پر ہوئی،

    اطلاع ملنے پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی موقع پر پہنچ گئے مفت آٹا لینے والوں کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ضلعی انتظامیہ کے ناقص انتظامات کے باعث پیش آیا ، زخمی خواتین کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،

    دوسری جانب بھکر میں گھنٹوں باری کا انتظار کرنے والا شخص دم توڑ گیا، مظفر گڑھ میں بھگدڑ بزرگ خاتون کی زندگی لےگئی جبکہ ملتان، فیصل آباد اور کوٹ ادو میں قطاروں میں انتظار کرنے والے 3 افراد دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے۔ادھر چارسدہ میں دھکم پیل اور بھگدڑ میں ایک شہری جاں بحق ہوا۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مفت آٹے کی تقسیم کے موقع پر شدید بدنظمی دیکھی گئی تھی پشاور میں آٹے کی مل کی دروازے توڑ دئیے گئے تھے حافظ آباد میں بھی مفت آٹا لیتے ہوئے شدید دھکم پیل ہوئی اور اس دوران بھی متعدد مرد و خواتین زخمی ہو گئے، پولیس نے رش کم کرنے کے لئے مبینہ تشدد بھی کیا

    عامرمیر نے مری میں قائم مفت آٹا پوائنٹ کا دورہ کیا 

    مفت آٹے کی ذلت آمیز دستیابی نے نااہلی کے پول کھول دیے، خالد مسعود

    مفت آٹے کی تقسیم کے دوران پنجاب میں مزید دو افراد جان کی بازی ہار گئے

  • ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد 25 ہزار 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں زلزلے سے اموات کی تعداد 22 ہزار 327 تک جا پہنچی جبکہ شام میں زلزلے سے اب تک 3 ہزار 553 افراد جان سے جا چکے ہیں۔

    ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد 7.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، جس نے مزید تباہی پھیلائی۔

    زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن، لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیے گئے جب کہ قیامت خیز تباہی کے بعد 300 سے زیادہ آفٹر شاکس آچکے ہیں۔

    ترک وزیر صحت کے مطابق زلزلے سے ترکیہ میں 22 ہزار 327 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 80 ہزار سے زائد زخمی ہیں ۔اسی طرح شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 553 ہوگئی ہے۔

    ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے پھنسے ہونےکا خدشہ ہے، انہیں نکالنےکے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم شدید سردی اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث متاثرین کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔

    ادھر ترکیہ میں 104 گھنٹے بعد زلزلے کے باعث منہدم عمارت کے ملبے سے نکالی گئی ترک خاتون دم توڑ گئی ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ جنوبی ترکیہ میں ایک منہدم عمارت کے ملبے سے نکالے جانے کے ایک دن بعد ایک خاتون اسپتال میں دم توڑ گئی، وہ پیر کے روز آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد سے 104 گھنٹے تک ملبے تلے پھنسی ہوئی تھی۔

    ترکیہ، شام زلزلہ؛ اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    جرمن ریسکیو اہلکار نے جمعہ کے روز جنوبی ترکیہ کے قصبے کیریخان میں 40 سالہ زینب کہرامن کو ملبے سے باہر نکالا، انہوں نے اس کے زندہ رہنے کو ایک “معجزہ” قرار دیا کیونکہ دہائیوں میں خطے کے سب سے خطرناک زلزلے کے بعد تلاش اور ریسکیو کی کوششوں سے مزید لاشیں نکلتی رہیں۔

    جرمن انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے لیڈر اسٹیون بائر نے کہا کہ مذکورہ خاتوں کے بھائی اور بہن سے اطلاع ملی کہ زینب کا اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے ٹیم کو مطلع کیا کہ وہ خاتون بدقسمتی سے انتقال کر گئی ہیں۔

    ٹیم کے ڈاکٹر نے کہا کہ اس طرح کے پیچیدہ ریسکیو آپریشن کے بعد پہلے 48 گھنٹوں کے دوران خطرات خاص طور پر زیادہ تھے جب کہ کچھ ریسکیور اہلکار ایک دوسرے کو تسلی دیتے اور آنسو روکتے رہےوہ خاتون واقعی 100 گھنٹے سے زیادہ کے لیے ملبے تلے دفن رہی، پھنسی نہیں بلکہ دفن رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو والوں کی کوششیں رائیگاں نہیں گئیں۔

    دوسری جانب ترک وزارت انصاف نے ناقص تعمیرات میں ملوث افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جبکہ 12 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلے کے باعث ترکیہ میں چھ ہزار عمارتیں تباہ ہوئی ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    ادھر زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے دورے پر گفتگو کے دوران ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لاکھوں عمارتیں ناقابل رہائش ہوچکی ہیں، چند ہفتوں میں تباہ شدہ شہروں کی تعمیر نو شروع کرنے کے اقدامات کریں گے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس کا کہنا ہےکہ امدادی پروگرام کےسربراہ ترکیہ، شام کا دورہ کریں گے، زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کومرنےسےبچانے کے لیے ہرممکن مدد کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کی جانب سے ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی UN-INSARAG کی سند یافتہ پاکستان ریسکیو ٹیم نے ترکیہ کے صوبہ ادیامان میں اپنا ریسکیو اور ریلیف آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے جو کہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 صوبوں میں سے ایک ہے۔

    شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    52 رکنی ٹیم کے کمانڈر رضوان نصیر نے نجی‌ خبررساں ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اختتام کو پہنچ گیا اور ٹیم پیر کے روز پاکستان کے لیے روانہ ہوگی۔

    رضوان نصیر کے مطابق پاکستان ریسکیو ٹیم (پی آر ٹی) پہلی بین الاقوامی ٹیم تھی جو امدادی کاموں کے لیے ترکیہ پہنچی، ریسکیو آپریشن 5 روز تک جاری رہا اور ترک حکومت نے اب ملبہ ہٹانے اور بچ جانے والوں کو ملک کے مختلف حصوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ زلزلے کے بعد تقریباً 6 دن گزر چکے ہیں، ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے لوگوں کا زندہ بچنے کا امکان کم ہے جب کہ ٹیم نے لوکیٹرز کا استعمال کرتے ہوئے کم از کم 59 عمارتوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی اور جو زندہ مل گئے انہیں بچایا۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

  • ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح میں اضافے کے اثرات کے نتیجے میں بعض قسم کے کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کی پتے، آنتوں یا جگر کے سرطان سے موت واقع ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    جرنل ڈائبیٹولوجیا میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کے مطابق مجموعی طور پرذیابیطس میں مبتلا افراد کی کینسر سے موت واقع ہونے کے امکانات 18 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں جبکہ وہ خواتین جو ذیابیطس میں مبتلا ہوتی ہیں ان کی موت اینڈومیٹریل کینسر سے واقع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

    اگرچہ پچھلے مطالعات میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں قلبی نتائج کے بارے میں بڑے پیمانے پر چھان بین کی گئی ہے، لیکن اس بارے میں کم معلوم ہے کہ آیا کینسر کی شرح اموات کے لیے ایسی عدم مساوات موجود ہے۔

    یونیورسٹی آف لیسٹر کے محققین کا کہنا تھا کہ کینسر کے خطرے کو بھی اتنی ہی توجہ دی جانی چاہیئے جتنی ذیابیطس سے پیش آنے والی دیگر پیچیدگیوں، جیسے کہ قلبی مرض، کو دی جاتی ہے۔

    ہوپ اگینسٹ کینسر نامی خیراتی ادارے کی مالی اعانت سے کیے جانے والے مطالعے میں یہ معلوم ہوا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا خواتین کی چھاتی کے سرطان سے موت واقع ہونے کے خطرات 9 فی صد زیادہ تھے اور ان خطرات میں اضافہ سامنے آرہاتھا۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

    سائنس دانوں نے بتایا کہ چھاتی کے سرطان کے معائنے کا دائرہ وسیع کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے(جو فی الحال انگلینڈ میں 50 سے 71 سال کی خواتین کا کیا جاتا ہے) تاکہ ذیابیطس میں مبتلا کم عمر خواتین کا معائنہ کیا جاسکے۔

    1998 سے 2018 تک جاری رہنے والی تحقیق میں محققین کی ٹیم نے ذیابیطس میں مبتلا 1 لاکھ 37 ہزار 804 برطانوی شہریوں کے ڈیٹا کا معائنہ کیا جنس، موٹاپا، نسل، سماجی و اقتصادی حیثیت، اور تمباکو نوشی کی حیثیت جیسے عوامل کا استعمال کرتے ہوئے تمام وجوہات، تمام کینسر، اور کینسر سے متعلق شرح اموات کے رجحانات کا تجزیہ کیا جن کی اوسط عمر 64 برس تھی اور ان کو اوسطاً 8.4 سال تک دیکھا گیا۔معائنے کے اس دورانیے میں تحقیق میں شریک 39 ہزار سے زائد افراد کی موت واقع ہوئی۔

    تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی کہ مطالعے کے دوران 55 سے 65 سال کے درمیان ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں کینسر سے ہونے والی اموات معمولی سی کم ہوئیں لیکن 75 سے 85 سال کے دوران اس تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق