Baaghi TV

Tag: امید

  • مسلم لیگ (ن)  عوام کی امید بن چکی ہے، مریم نواز

    مسلم لیگ (ن) عوام کی امید بن چکی ہے، مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ہمت وحوصلہ کریں توامید کی روشنی یقین کا تمتماتا سورج بن جاتی ہے،مسلم لیگ (ن) عوام کی امید بن چکی ہے-

    وزیراعلیٰ پنجاب نے امید کے عالمی دن پر امید افزاء پیغام میں کہا کہ امید ایسا جذبہ ہے جو ہمیں آگے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے مشکلات اور چیلنجز کے باوجود امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے، امید ہے کہ ان شا اللہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کے لئے جلد آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔

    مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عوام کی امید بن چکی ہے پاکستانی قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کے لےی ہم دن رات کوشش کررہے ہیں امید ہے کہ پنجاب کے عوام کو اب صحت کی سہولتیں ملے گی امید ہے کہ پنجاب کے ہر بچے کو لیپ ٹاپ،ہونہار اسکالر شپ اور بہترین تعلیم ملے گی امید ہے کہ پنجاب میں ہر بے گھر کواپنی چھت کا سکھ ملے گا امید ہے کہ پنجاب کا ہرکسان لہلہاتی فصلیں دیکھ کر خوش اورخوشحال ہوگا۔

    غزہ بچوں اور بھوکے لوگوں کا قبرستان بن چکا ہے، اقوام متحدہ

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ امید ہمیں مایوسی کے اندھیرے میں بھی روشنی کی کرن تلاش کرنے کی آس دلاتی ہے عوام کو بھی یہی امید تھی کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) آئے گی تو ہی لیپ ٹاپ، اسکالر شپ،فری دوائیں ملیں گی۔

    قطر میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کی تصدیق، تباہی کی سیٹلائٹ تصویر بھی سامنے آگئی

  • پاکستان کے حالات اور امید کی کرن – توقیر عالم

    پاکستان کے حالات اور امید کی کرن – توقیر عالم

    پاکستان کے حالات اور امید کی کرن
    توقیر عالم

    موجودہ ملکی حالات میں ایک عام پاکستانی عجیب کشمکش میں مبتلاء ہے مہنگائی بیروزگاری اور بے شمار سماجی مسائل نے پاکستان کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے حکومتِ وقت اپنے منشور پر عمل درآمد میں ناکام ہے تو اپوزیشن بھی فقط سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف نظر آتی ہے عمران خان کے ریاست مدینے کے دعوے پر بھی محض ایک سیاسی نعرے کا گمان ہوتا ہے جہاں کابینہ میں بیٹھے چند وزیر کھلم کھلا اس دعوے کی مخالفت کر رہے ہیں
    بدلتے ھوئے علاقائی حالات کے باعث پاکستان میں دشمن کی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں بلوچستان میں بڑھتی ھوی دہشتگردی بیسوں فوجی جوانوں کی شہادتیں سوشل میڈیا پر فوج مخالف بیانے کو پھرپور انداز میں پیش کیا جانا اپوزیش کی طرف سے ایسے بیانیے کو پھرپور انداز میں پھیلانا قابل تشویش ہے
    افغان حکومت انڈیا اور امریکہ کے اشتراک سے پاکستان پر الزام تراشیوں کا سلسہ تیز کر چکی ھے اسی سلسلے کی ایک کڑی افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء کا معاملہ ہے تفتیش کے بعد معاملہ کھلا تو پتہ چلا یہ ایک خود ساختہ کہانی تھی جس کو پاکستانی اپوزیشن جماعتوں اور نام نہاد صحافیوں نے خوب اچھالا
    عالمی سیاست میں پاکستان ایک اہم کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا ہے افغان امن کے معاملے پر وزیراعظم کا دو ٹوک موقف چین کا سی پیک کے دوسرے فیز کا آغاز روس کا پاکستان کی بھرپور فوجی و سفارتی حمایت کا اعلان فیٹف کا پاکستان کی کارکردگی کو سراہنا کشمیر کے موقف کو بھرپور انداز میں عالمی سطح پر اجاگر کرنا
    اور عرب ممالک سے بگڑتے تعلقات کی بحالی پاکستان کی عالمی سطح پر اہم.کامیابیاں ہیں

    اللہ اس وطنِ عزیز کا حامی و ناصر ہو

    توقیر عالم @lovepakistan000 فری لانس رائٹر ہیں اور ملکی سیاست اور ترقی پر لکھتے ہیں۔

  • شبِ یاس میں ضیائے آس ۔۔۔ رضی الرحمن جانباز

    شبِ یاس میں ضیائے آس ۔۔۔ رضی الرحمن جانباز

    میں جیسے ہی ریاضی کا پرچہ دے کر کمرہ امتحان سے باہر نکلا مجھے اپنا ایک سینئر ساتھی راہداری میں کھڑا نظر آیا۔ اس کے چہرے پر چھائی گہری پثمردگی اور مایوسی دیکھ کر میں نے اس سے پرچے کی بابت کوئی سوال نہ کیا۔ لیکن وہ مجھے ملتے ہی پھوٹ پڑا اور روہانسے انداز میں اپنے پرچے کی خرابی کا احوال سنانے لگا۔ کینسر کی آخری سٹیج پر زندگی سے ہارے ہوئے ایک مایوس مریض کی طرح وہ ناامیدی کی آخری سٹیج پر آگے مزید تعلیم جاری نہ رکھنے کا مصمم ارادہ کر چکا تھا۔ اس کی زبان سے نکلتے ہوئے ناامیدی سے لبریز جملے میرے کانوں سے ٹکرا کر فضاء کی پر سکون لہروں میں ارتعاش پیدا کر رہے تھے۔ جب وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو میں اس سے گویا ہوا "بتاؤ تھامس ایڈیسن نے بلب ایجاد کرتے وقت کتنی مرتبہ ناکامی کا سامنا کیا تھا؟” کہنے لگا "نو سو ننانوے مرتبہ۔” میں نے کہا "اگر وہ بھی تمھاری مثل پہلی دوسری ناکامی کے بعد ناامید ہو جاتا اور کہتا کہ یہ مجھ سے نہ ہو پائے گا تو وہ کبھی بلب ایجاد نہ کر سکتا۔” مختصر یہ کہ میں نے اسے مایوسی کے متعفن جوہڑ سے نکال کر امید، ہمت اور جذبے کے پاکیزہ چشمے سے اشنان کروانے کی سعی کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی جب وہ مجھے ملتا ہے تو کہتا ہے کہ اگر آج میں یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں تو تمھاری وجہ سے ہوں۔
    معزز قارئین! مایوسی ایک ایسا گناہ ہے جو لذت سے تہی دامن ہے۔ آخر مایوسی کو کفر کیوں قرار دیا گیا؟ آخر کیوں اللہ نے بنی نوع انسان کو ناامیدی سے حکما روکا ہے؟ درحقیقت ناامید ہونا اللہ کی رحمت کا انکار ہے۔ مایوسی کا مطلب اس رحمت خداوندی کا انکار ہے جو اس کے غضب پر ہاوی ہے۔ مگر صد افسوس! کہ آج ہر سمت مایوسی و ناامیدی کے تعفن سے معاشرے کی فضاء بوجھل ہے۔ آج طلباء سے لے کر حکومتی ایوانوں تک تمام شعبہ ہائے زندگی اور عوام کے تمام طبقات میں یاس و ناامیدی کے ڈیرے ہیں۔ آج اگر ایک طالب علم کو دیکھیں تو وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے، کسان اپنی زراعت سے، صنعت کار اپنی صنعت سے، نوجوان روزگار سے، الغرض کہ ہمارے عوام مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے بحران، ڈالر کی اونچی اڑان، سیاسی و مذہبی فرقہ واریت اور کہیں عصبیت و لسانیت کی وجہ سے مایوس نظر آتے ہیں۔ یاد رہے مایوسی ہمیشہ ابلیس کی طرف سے ہوتی ہے۔ ابلیس کا کام بنی نوع انسان کو اللہ کی رحمت سے ناامید کرنا ہے۔ اور جب انسان رب کی رحمت سے ناامید ہوتا ہے تو پھر وہ اپنے مستقبل سے، سونے جاگنے سے، چلنے پھرنے سے، اپنی مصروفیت و فراغت سے، جزاء و انعام سے، موت و آخرت سے حتی کہ اپنی زندگی سے بھی مایوس ہو جاتا ہے۔ اور پھر عموما اس یاس و ناامیدی کا نتیجہ خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے، معاملہ پھر صرف خودکشی پر ختم نہیں ہوتا بلکہ ذلت و رسوائی کا ایک طویل سلسلہ عذاب الہی کی صورت میں شروع ہو جاتا ہے۔
    معزز قارئین! ستم تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس شب یاس میں ضیائے آس دکھانے والے مفقود ہیں۔ چہار سو آدھا گلاس خالی دیکھنے اور دکھانے والے ہیں۔ ہر سمت ایسے لوگوں کی بھیڑ ہے جو سادہ لوح عوام کو ملک و قوم کے حوالے سے مایوسی کے اندھیروں میں دھکیلتی نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے میڈیا کا منفی کردار جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقتصادی، معاشرتی، انتظامی اور سیاسی کمزوریوں کے متعلق عوام الناس کو آگہی دینا میڈیا کی اہم ذمہ داری ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ مثبت پہلؤں کو یکسر ہی نظر انداز کر کے تصویر کا صرف ایک رخ ہی دیکھایا جائے۔ قوموں پر کڑے وقت آتے ہی ہیں، لیکن تاریخ صرف ان کے نام درخشندہ حروف میں لکھتی ہے جو مشکل حالات میں ڈھارس بندھانے والے ہوتے ہیں۔ مایوسی اور ناامیدی کا پرچار کرنے والوں کا نام تو ملک و قوم کے مجرموں کی فہرست میں آتا ہے۔
    غزوہ خندق کے موقع پر مسلمانوں پر کڑا وقت تھا۔ دس ہزار کا ٹڈی دل مدینہ کی نوزائیدہ ریاست کو نگل جانے کے لیے آیا تھا۔ دوسری طرف مسلمانوں کے حالات انتہائی پتلے تھے۔ کہیں فاقہ کشی کا یہ عالم تھا کہ پیٹ پر پتھر بندھے تھے اور کہیں منافقوں اور غداروں نے پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ کلیجے منہ کو آ رہے تھے۔ ایسے دگرگوں حالات میں رہبر اعظم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چٹان پر ضربیں لگاتے ہوئے فارس، روم اور یمن کی فتح کی بشارتیں دے کر صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی عنہم کی ڈھارس بندھائی اور انھیں تابناک مستقبل کی نوید سنائی۔
    معزز قارئین! آج ہمارے معاشرے کو بھی ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے جو مایوسی کے ظلمت کدوں میں امید کے دیپ جلائیں۔ آج ہمارے طلباء کو ایسے اساتذہ کی ضرورت ہے جو روشن مستقبل کی نوید سے ان کے جذبوں کو جلا بخشیں۔ آج ہمارے کسان کو، صنعت کار کو، مزدور کو، کھلاڑی کو، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو حوصلہ اور جذبہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بقول اقبال:
    ذرا نم ہو یہ مٹی تو بڑی زرخیز ہے ساقی
    اور یہ سب امید، جذبہ اور حوصلہ دینے کے لیے کوئی خلائی مخلوق نہیں اترے گی۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود ایسے لوگوں کو امید دلائیں۔ ایک ہارے ہوئے شخص کے جذبوں کی راکھ کو چنگاری دیں، کہ نہیں! تم جیت سکتے ہو۔ ایک انتہائی نگہداشت کی یونٹ میں پڑے مریض کو امید دلائیں کہ نہیں! تم ابھی جی سکتے ہو۔ امتحان میں ناکام ہونے والے طلباء کو بجائے ملامت کرنے کے یہ کہہ کر ڈھارس بندھائیں کہ کیا ہوا جو اس بار فیل ہو گئے محنت کرو آئندہ ان شاءاللہ کامیاب ٹھہرو گے۔ لوگوں کے رویوں سے مایوس شخص کو تلقین کریں کہ مخلوق سے توقعات اور امیدیں ختم کر کے خالق سے امیدیں وابستہ کر لو کبھی مایوس نہیں ہو گے۔ مایوسی ایک ایسا ناسور ہے جو انسان کی صلاحیتوں کو سلب کر لیتا ہے۔ مایوس شخص ہر وقت ڈپریشن کا شکار رہتا ہے۔ایسا شخص خود بھی پریشان رہتا ہے اور دوسروں کی پریشانی کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس لیے ہم نے خود بھی ہمیشہ رحمت خداوندی سے پرامید رہنا ہے اور لوگوں کو بھی مایوسی کے گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکال کر امید کے اجالے میں لانا ہے۔ کیونکہ ہمارا رب ہمیں حکم دیتا ہے "لا تقنطو من رحمة الله” (اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو جانا)۔ ناامید تو وہ لوگ ہوں جن کا رب نہ ہو۔ ہمارا تو رب الحي و القيوم ہے اس لیے ہم کیوں ناامید ہوں۔