Baaghi TV

Tag: امیدوار

  • عام انتخابات،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، امیدواروں کو نوٹسز اور جرمانے

    عام انتخابات،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، امیدواروں کو نوٹسز اور جرمانے

    الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیموں کی جانب سے ملک کے مختلف علاقوں میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے امیدواروں کے خلاف نوٹسز اور جرمانوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں الیکشن کمیشن کی متحرک مانیٹرنگ ٹیمیوں نے امیدواران کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر کاروائی کی۔ چئیرمین تحصیل کونسل پورن عبدالمولی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 30 ہزار روپے جرمانہ کیا۔جرمانہ 23 جنوری تک جمع کراکر چالان پیش کرنیکی ہدایت دی گئی ہے۔عبدالمولی کو 18 جنوری کو ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر شانگلہ نے طلب کیا تھا لیکن وہ خود پیش ہوئے نہ ان کا نمائیندہ پیش ہوا۔اسی طرح چئیرمین تحصیل کونسل بشام سعید الرحمان کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد ، 23 جنوری تک جمع کرکے چالان پیش کرنیکی ہدایت کی گئی ہے۔وہ 18جنوری کو ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر شانگلہ کے دفتر میں پیش ہوئے۔

    اسی طرح صوبہ پنجاب میں انتخابی مہم کی مانیٹرنگ کیلئے الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں فعال ہیں۔ صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب اعجاز انور چوہان کے مطابق ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ صوبہ پنجاب میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسران نے سخت کارروائیاں کی ہیں۔این اے 153ملتان میں امیدوار حامد علی بھٹی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کی گیا۔این اے 66وزیرآباد میں امیدوارار احمد چٹھہ کو بھی نوٹس جاری کیا گیا۔ پی پی 133ننکانہ صاحب میں امیدوار نوشیر مان کو وال چاکنگ کرنے پر نوٹس جاری ہوا۔ این اے 75نارووال سے امیدوار دانیال عزیز کو بھی دیواروں پر پوسٹر آویزاں کرنے پر نوٹس جاری کیا گیا۔ ننکانہ صاحب میں انتخابی امیدواران کو پینا فلیکس اور بل بورڈز آویزاں کرنے پر وارننگ جاری ہوئی۔ جہلم، راولپنڈی، اسلام آباد،سرگودھااور بھکر سے پینا فلیکس اور دیگر تشہیری مواد ہٹا دیا گیا ہے۔ چینوٹ، فیصل آباد، ننکانہ، قصور، لاہور اور ملتان سے بھی پینا فلیکس ہورڈنگز اتروادیئے گئے ہی۔ صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسران کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • این اے 83 ، 15 جنوری کو جاری کیا گیا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جعلی ہے،محسن شاہنواز رانجھا

    این اے 83 ، 15 جنوری کو جاری کیا گیا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جعلی ہے،محسن شاہنواز رانجھا

    این اے 83 اور 85 سرگودھا میں الیکشن ملتوی معمہ بن گیا ،امیدوار کی موت ہوئی تو ن لیگی رہنما ،امیدوار محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا ہے کہ امیدوار صادق علی کی وفات 2 جنوری کو ہوئی ہے

    ن لیگی امیدوار محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا ہے کہ آزاد امیدوار این اے 83 این اے 85 صادق علی کی وفات 2 جنوری کو ہوئی تھی ۔ ملوث افراد کے خلاف ہم فراڈ 420 کی درخواست دائر کریں گے جس نے بھی یہ کیا ہے ان کے خلاف ،جو بھی سرکاری و غیر سرکاری اس میں ملوث ہو گا اس کے خلاف کارروائی کریں گے، ۔ یہ پاکستان کے آئین کے خلاف فراڈ ہے ۔ عوام کو اپنے ووٹ کے حق استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ایسے افراد کے خلاف آرٹیکل 6 لگتی ہیں ۔آج مکمل تحقیقات کر کے سفارشات الیکشن کمیشن کو بھجوائی جائیں گی، الیکشن کمیشن اس پر کاروائی کرے گا ،الیکشن کے عمل کو جاری رکھا جائے گا، الیکشن ملتوی نہیں ہوں گے، وقتی طور پر سپیڈ بریکر آیا، سازش ہوئی لیکن ناکام ہوئی،

    محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ صادق علی کی وفات کا 15 جنوری کو جاری کیا گیا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جعلی ہے، این اے 85 سے امیدوار ڈاکٹر ذوالفقار بھٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن شاہ نواز رانجھا کا کہنا تھا کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر الیکشن ملتوی کیا گیا، چک 142 جنوبی کے رہائشی آزاد امیدوار صادق علی کینسر کے مریض تھے، این اے 83 ، این اے 85 میں آزاد امیدوار صادق علی کی وفات 2 جنوری کو ہوئی

    ڈاکٹر ذوالفقار کا کہنا تھا کہ صادق علی کی وفات کامعاملہ اٹھاکرالیکشن رکوانےکی سازش کی گئی ہے،امام مسجد کفایت اللّٰہ کا کہنا ہے کہ صادق علی 2 جنوری کو فوت ہوئے نمازہ جنازہ 3 جنوری کو پڑھائی،امام مسجد نے بھی تحریری بیان دے دیا ہے جس میں کہا گیا کہ 15 جنوری کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ درست نہیں ہے،

    واضح رہے کہ سرگودھا میں ایک امیدوار کی وفات کے باعث قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں الیکشن ملتوی کر دیا گیا ہے،حلقہ این اے 83 اور حلقہ این اے 85 میں 8 فروری کو الیکشن نہیں ہو گا،الیکشن کمیشن ان دو حلقوں میں الیکشن کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کرے گا

    ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین کی گرفتار ی کا کیس نمٹا دیا

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • آر او کو ہراساں کرنے پر تحریک انصاف امیدوار،حامیوں‌پر مقدمہ درج

    آر او کو ہراساں کرنے پر تحریک انصاف امیدوار،حامیوں‌پر مقدمہ درج

    رحیم یارخان تحریک انصاف کے امیدوار کی جانب سے مرضی کا انتخابی نشان مانگنے اور آر او کو دھمکیاں‌دینے پر امیدوار کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے

    پولیس حکام کے مطابق تحریک انصاف کے وکلا اور امیدواروں کے خلاف تین مقدمے درج کئے گئے ہیں، مقدمے دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کئے گئے ہیں،مقدمے میں این اے 171 سے تحریک انصاف کے امیدوار، اسکے حامی اور وکلاء کو نامزدکیا گیا ہے، درج مقدمے کے مطابق ملزمان نے آر او آفس میں گھس کر آر او محمد شفیق کے ساتھ بدتمیزی کی، گالم گلوچ کی، گریبان پکڑا، دھمکیاں‌دیں، زبردستی اپنی مرضی کا نشان مانگا

    قبل ازیں الیکشن کمیشن نے رحیم یار خان میں امیدوار کی جانب سے ریٹرننگ آفیسر ، ڈپٹی ریٹرننگ آفیسرز کو ہراساں کرنے کا نوٹس لیا تھا،ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقے این اے 171میں امیدوار نے آر او، ڈی آر او کو ہراساں کیا،امیدوار نے الیکشن عمل میں انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کے موقع پر مداخلت کی،چیف الیکشن کمشنر نے چیف سیکریٹری پنجاب، ڈی آر او سے معلومات حاصل کیں، صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب امیدوار کے ہمراہ منگل کو الیکشن کمیشن اسلام آباد میں طلب کرلیا گیا.

    واضح رہے کہ رحیم یار خان میں ڈی سی اور ڈی آر او آفس میں تحریک انصاف کے امیدوار زبردستی گھس گئے تھے اور حلقہ این اے171 سے پی ٹی آئی امیدوار انتخابی دستاویزات میں من پسند رد و بدل کرنا چاہتے تھے اس موقع پر تحریک انصاف کے امیدوار کے حامیوں نے دفتری عملے سے بد تمیزی کی، سرکاری انتخابی دستاویزات چھیننے کی کوشش کی، ممتاز مصطفیٰ کے حامیوں نے ڈی آر و اور عملے کو یرغمال بنایا.

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • انتخابی قواعد،پیپلز پارٹی  کو تحفظات، الیکشن کمیشن کوکیا آگاہ

    انتخابی قواعد،پیپلز پارٹی کو تحفظات، الیکشن کمیشن کوکیا آگاہ

    الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی قواعد میں ترمیم کس معاملہ،پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر تحفظات سے آگاہ کر دیا

    نیئر بخاری نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ جمہوریت، شفافیت اور قانون پر یقین رکھنے والا پاکستانی اور پارٹی سکریٹری جنرل ہوں،الیکشن۔کمیشن کی جانب سے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم کا جائزہ لیا ہے،ترامیم پر الیکشن کمیشن کو اہنے تحفظات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں ،اگلے عام انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں منعقد کرانے کے لئے کمیشن کوششیں قابل تعریف ہیں، الیکشن کمیشن کی جانب سے مجوزہ گارم 68 میں ترامیم۔لت بہت سنجیدہ تحفظات اور اعتراضات ہیں، اس شق کے تحت انتخاہی امیدوار کو کیمپین فنانس رولز کے تحت اپنی پارٹی کے مکمل انتخابی اخراجات کی تفصیل فراہم کرنا ہوگی ،الیکشن ایکٹ 2017 کے رول 161کے سب رول 3 کے تحت سیاسی جماعتوں کو اںتخابی نتائج گزٹ نوٹیفیکیشن کے 60 دن میں جمع کرانا ہیں ،جبکہ فارم 68 کے تحت کیمپین فنانس سب سیکشن 211/2 کے مطابق کامیاب امیدوار کو پولنگ کے 10 روز کے اندر اپنی پارٹی کے انتخابی اخراجات کی تفصیل دینا ہوگی ،جبکہ باقی تمام امیدواروں کو سیکشن 98, 124 اور 136 کے مطابق انتخابی اخراجات کی تفصیل 30 دن میں جمع کرانا ہوں گی

    پارٹی امیدواروں کے لیے شرط اور دیگر امیدواروں کے شرائط میں تضاد ہے اور ایسا کرنا ناممکن ہے ،امیدوار وہ اطلاعات کیسے فراہمکر سکتے ہیں جو انہیں خود بھی ناں ملی ہوں ،آپ سے درخواست ہے کہ الیکشن قواعد میں تجویز کردہ ان شرائط کے کالم کو ختم کیا جائے،

    نواز شریف پاکستان کے مسائل کا واحد حل ہے،رانا

    شادی سے انکار پر لڑکی کو قتل کرنیوالے کو سز

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فافن رپورٹ پر وضاحت جاری کردی

  • صادق سنجرانی راجہ ریاض سے ملنے پہنچ گئے

    صادق سنجرانی راجہ ریاض سے ملنے پہنچ گئے

    نگران وزیراعظم کے تقرر کا معاملہ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی رہائش گاہ آمد ہوئی ہے

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور اپوزیشن لیڈرراجہ ریاض کے مابین ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال ونگران سٹ اپ سے متعلق مشاورت کی گئی، ملاقات میں نگراں وزیراعظم کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، صادق سنجرانی نے انھیں نگران وزیراعظم کا امیدوار نامزد کرنے پر شکریہ ادا کیا

    اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض اور وزیراعظم شہباز شریف کی آج دوسری ملاقات ہونی ہے، کل ہونے والئ ملاقات میں راجہ ریاض نے چیئرمین سینیٹ کا نام بطور نگران وزیراعظم دیا تھا، اس حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ وزیراعظم بن سکتے ہیں، وہ جب چیئرمین سینیٹ بنے تو انہیں سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی وہ کسی کے لئے متنازعہ نہیں رہے،آج راجہ ریاض اور وزیراعظم کے مابین ہونیوالی ملاقات میں واضح ہو گا کہ راجہ ریاض کوئی اور نام دیتے ہیں یا صادق سنجرانی کے نام پر ہی ڈٹے ہوئے ہیں

    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سینئر صحافی و اینکر سلیم صافی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نگران وزیراعظم کی دوڑ میں نہ صرف شامل ہوگئے بلکہ ان کا گھوڑا کافی آگے نظر آرہا ہے۔ ایک بڑا گھر بھی مان گیا ہے۔

    دوسری جانب چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے اسحاق ڈار اور احسن اقبال کی ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی حالات پر مشاورت کی گئی، نگران وزیراعظم کی تقرری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تھی،صادق سنجرانی کی مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات ہو چکی ہے،

    پیپلزپارٹی نے سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی اور سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کا نام دیا ہے، تاہم آج وزیراعظم اور راجہ ریاض کی ملاقات کے بعد بریک تھرو کا امکان ہے اگر کسی نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو تین دن کے بعد معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا،پارلیمانی کمیٹی بھی فیصلہ نہ کر سکی تو اگلے تین دن بعد معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا اور الیکشن کمیشن اگلے دو دن میں نگران وزیراعظ‌م کی تقرری کر دے گا،

  • آئندہ الیکشن میں بہترامیدواروں کا انتخاب کریں گے،رانا ثناء اللہ

    آئندہ الیکشن میں بہترامیدواروں کا انتخاب کریں گے،رانا ثناء اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہےکہ پنجاب میں ضمنی الیکشن کے دوران مسلم لیگ ن جن امیدواروں کونامزدکیا ان پرگزشتہ حکومت کی کارکردگی کابوجھ تھا۔ پارٹی کے ووٹرز سے بھی امیدواروں کو مکمل سپورٹ نہ مل سکی، ن لیگ کے لوگوں نے بھی ان کا دفاع نہیں کیا، آئندہ الیکشن میں بہترامیدواروں کا انتخاب کریں گے۔

    لاہور میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایک پاگل شخص جیت کربھی کہہ رہا ہے دھاندلی ہوئی، کیا 20کی 20سیٹیں جیتوگے توپھرشفاف الیکشن ہوں گے؟ اپنا گھٹیا پن اس سے چھپائے نہیں چھپتا، جب تم حکومت میں تھے تو تم نے الیکشن میں دھاندلی کروائی، جب تم حکومت میں تھے توتم نے الیکشن کا عملہ اغوا کروایا، ضمنی الیکشن میں کسی بھی الیکشن عملے کواغوا نہیں کیا گیا، اس کے باوجود تم الیکشن کمشنرکی ذات کونشانہ بنارہے ہو۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اس مہم جوئی کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتی ہے، تم اداروں سے دھونس، بلیک میلنگ کرکے اپنی بات نہیں منوا سکتے۔ اداروں کے خلاف گھٹیا گفتگو کی جا رہی ہے، ہم اس حوالے سے بھرپورجواب دیں گے، چیف الیکشن کمشنراوران کے تمام ممبران پر پوری قوم کو اعتماد اور انکے ساتھ کھڑے ہیں، ہم توہارنے کے باوجود الیکشن کمیشن پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، یہ تو جیت کر بھی کہہ رہا ہے دھاندلی ہوئی ہے، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ ہوا ہے، اس لیے ایسی گفتگو کر رہا ہے، آج اس نے بے معنی اورآوارہ قسم کی گفتگوکی گئی۔ یہ آدمی ہروقت اداروں کے خلاف الزام لگاتا ہے، اداروں کواس کی بلیک میلنگ میں نہیں آنا چاہیے، یہ تاریخ کا پہلا الیکشن ہے جس میں کوئی جانی ومالی نقصان نہیں ہوا۔ہم اس کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، ادارے جھوٹے بدمعاش کے چکروں میں نہ آئیں، جب اس کوسختی سے ہینڈل کیا گیا تو پھر ڈی چوک سے ہی تقریر کر کے چلا گیا تھا۔

    عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج سے 15 دن پہلے ایک خاتون کے خلاف ہم نے شواہد پیش کیے تھے، القادرٹرسٹ کی زمین پر50ارب کی رشوت وصول کی گئی، آپ کوتویہ بھی نہیں پتا آپ کے کتنے بچے کہاں،کہاں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دعوے سے کہتا ہوں عمران خان نے چیف الیکشن کمشنرسے چور دروازے سے ملاقات کرنے کی کوشش کی، جب چیف الیکشن کمشنرنے ملاقات سے انکار کیا تو اس طرح کی گفتگو شروع کر دی۔ صاف شفاف ضمنی انتخابات قوم کے سامنے ہے، بیس حلقوں میں جن کوامیدوارنامزد کیا تھا ساڑھے تین سالوں کابوجھ ان کے سر پر تھا، پارٹی کے ووٹرزسے بھی امیدواروں کومکمل سپورٹ نہ مل سکی، مسلم لیگ(ن) کے لوگوں نے بھی ان کا دفاع نہیں کیا، آئندہ الیکشن میں بہترامیدواروں کا انتخاب کریں گے، پنجاب میاں نوازشریف کا تھا اوراگلے الیکشن میں ثابت کریں گے، نوازشریف نے ملک کوایٹمی قوت بنایا۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جو بھی اتحادی جماعتیں فیصلہ کریں گی وہی فیصلہ ہو گا، بعض دوستوں کی رائے تھی بدبخت، پاگل شخص کو بھی مبارکباد دی جائے، جس طرح آج گفتگوکی گئی اس کے بعد مناسب نہیں سمجھا، شہبازشریف نے ہمیشہ نوازشریف کواپنا قائد سمجھا، اگرعمران خان الیکشن کے لیے مخلص ہوتا تو پہلے وفاق، پنجاب، خیبرپختونخوا کی حکومت چھوڑتے، اگرہم کل کو الیکشن کا اعلان کردیتے ہیں تو پھریہ کہے گا پہلے چیف الیکشن کمشنر کو تبدیل کرو، یہ نوجوانوں کو گمراہ اورقوم کوتقسیم کرنا چاہتا ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران میاں جاوید لطیف کی پریس کانفرنس کے دوران رانا ثناء اللہ نے جواب دینے سے گریز کیا اور اتنا کہہ دیا چھوڑو یار کوئی اور بات کرو۔

    انہوں نے کہا کہ فری اینڈ فیئرالیکشن کرانا (ن) لیگ کی جیت ہے، آئندہ بھی الیکشن شفاف ہوگا، کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔

  • کراچی میں ہمارے بلدیاتی امیدواروں کواغواء کر لیا گیا ،تحریک لبیک پاکستان

    کراچی میں ہمارے بلدیاتی امیدواروں کواغواء کر لیا گیا ،تحریک لبیک پاکستان

    تحریک لبیک پاکستان کراچی کے امیر کا کہنا ہے کہ مفتی قاسم فخری کا کہنا ہے کہ ہم دعوی کرتے ہیں کہ کزشتہ رات ہمارے افراد اورنمائیندگان کو اغوا کای گیا ہے ان کو رات کو چھاپے مار کر اغوا کیا گیا ہے انہیں فوری طور پر بازیاب کرایا جائے.

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ایک آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں اور جب ہم سڑکوں پے نکلتے ہیں تو پھر تمھاری چیخیں نکلتی ہیں کہ کیوں سڑکوں پر آگئے ہیں،ہم سڑکوں پر نہیں آنا چاہتے مگر ہمارا معاملات حل کئے جائیں کیوں ہمارے معاملات حل نہیں کرتے؟، کیوں ہماری سیٹ زبردستی اٹھا کر دوسرے کو دے دی گئی؟، کیوں ہماے بلدیاتی نمائیندوں کو اٹھایا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ ہمیں آئینی طریقے سے رہنے دیا جائے ہم پاکستان کے شہری ہیں اورایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہیں کیوں ہمیں روکا جارہا ہے جب ہم آئینی طریقے سے آرہے ہیں.

    مفتی قاسم فخری نے کہا کہ ہمیں ہمارا حق دیا جائے،جن پولنگ اسٹیشنز پر انہوں نے دھاندلی کی ان پولیگ اسٹیشنز پر ہماری درخواست پر کیوں دوبارہ پولنگ نہیں کرائی گئی ،کس بات کا ڈر ہےآپ زبردستی جعلی طریقے سےاپنی مرضی سےنشتیں دیں گے تو پھرکیا فائدہ ، اس الیکشن کمیشن کو ختم کر دیں یہ ویسے ہی نااہل ہے ڈمی ہے.پھر آپ کسی سے 2 کروڑ لے لیں کسی سے 10 کروڑ لے لیں یا 20 کروڑ لے لیں اوراپنی مرضی کا ایم این اے اور ایم پی اے منتخب کر لیں پھر کیوں قوم کا پیسہ بھنسایا ہوا ہے کیوں وقت ضائع کررہے ہیں.

    آپ نے اگریہی کچھ کرنا ہے تو پھر اپنی مرضی سے لائیں لوگوں کو چھوڑیں جمہوریت کو کیوں جمہوریت کے نام پر ایسے کام کر رہے ہیں، ہم اس بات کو باور کرانے آئے ہیں اور اس بات کا پیغام دینے آئے ہیں کہ تحریک پاکستان کے اس وقت پورے پاکستان سے اس وقت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں خوفزدہ ہیں، ٹھریک لبیک پاکستان ملک کے کوئی بھی الیکشن ہوں خواہ وہ صوبائی ہون یا بلدیات کے الیکشن ہوں تحریک لبیک پاکستان انشاءاللہ کامیاب ہو گی.رات اندھیرے میں ہمارے بلدیات کے امیدواروں چیئرمینز،وائس چیئرمینز اور کونسلرز کو پولیس نے اغوا کیا ہے. ہم ان سے رابطہ کر رہے ہیں مگر وہ رابطے میں نہیں آرہے آج ان کاّذات کی اسکروٹی ہونا تھی اگر وہ نہیں پہنچیں کے تو ان کاّزات مسترد ہو جائیں گے.

  • بلدیاتی الیکشن، پشاور سے 14 پریذائیڈنگ افسر لاپتہ

    بلدیاتی الیکشن، پشاور سے 14 پریذائیڈنگ افسر لاپتہ

    بلدیاتی الیکشن، پشاور سے 14 پریذائیڈنگ افسر لاپتہ

    پاکستان پیپلزپارٹی نے پشاور سے لاپتہ 14 پریذائیڈنگ افسروں کا معاملہ الیکشن کمیشن میں اٹھا دیا

    پیپلزپارٹی کے مرکزی الیکشن سیل نے پشاور کے لاپتہ پولنگ افسروں سے متعلق چیف الیکشن کمشنر کو مراسلہ لکھا ہے ،پیپلزپارٹی نے میئر پشاور کے انتخابات کے نتائج مرتب کرنے کے حوالے سے غیرمعمولی تاخیر کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کر دیا، ، پاکستان پیپلزپارٹی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن پتہ کرے کہ پشاور کے پولنگ اسٹینشنز سے ایک دن بعد بھی 14 پریذائیڈنگ افسر ابھی تک آر او آفس کیوں نہیں پہنچے؟ پشاور جیسے بڑے شہر کے انتخابی نتائج اگلے دن تک مرتب نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے،پشاور کے 14 پریذائیڈنگ افسروں کو زمین نگل گئی کہ آسمان کھاگیا؟ الیکشن کمیشن نوٹس لے،کہیں ایسا تو نہیں کہ لاپتہ پریذائیڈنگ افسروں کے ذریعے انتخابی نتائج میں تبدیلی کی جارہی ہے،

    پاکستان پیپلزپارٹی کی راہنما سینیٹر روبینہ خالد کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت پشاور میں آر او آفس کے باہر موجود ہیں اور ہمیں آر او آفس میں داخل نہیں ہونے دیا جارہا، ریٹرننگ افسر کے دفتر میں امیدوار اور امیدوار کے نمائندوں کی موجودگی کے بغیر نتائج مرتب کئے جارہے ہیں، امیدوار اور امیدواروں کی موجودگی کے بغیر نتائج مرتب کرنا غیرقانونی ہے،پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کی کوشش کررہی ہے، الیکشن کمیشن نوٹس لے ،

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ