Baaghi TV

Tag: ام عفاف

  • علم کی فضیلت — ام عفاف

    علم کی فضیلت — ام عفاف

    اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو تخلیق کیا تو اسے علم سکھایا انسان اور علم کا ابتداء ہی سے گہرا تعلق ہے. انسان اور دوسری مخلوقات کے درمیان فرق صرف علم اور شعور کا ہے. اسی بنا پر للہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا.

    اس دنیا کی تخلیق سے لے کر آج تک جتنی بھی قومیں گزری ہیں ان میں بھی علم کی بہت اہمیت رہی ہے. علم کے بغیر قومیں ناکام رہی ہیں. اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نبی اکرم صلعم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ علم سے ہی متعلق تھی کہ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا. 12 ربیع الاول جو کہ اصحاب سیر کے ایک طبقہ کے مطابق یوم ولادت با سعادت نبوی ہے (بعض محققین 9 ربیع الاول کے قائل ہیں) مسلم معاشرے کے مختلف طبقوں میں مختلف انداز میں منایا جاتا ہے. کہیں محفل میلاد ہے تو کہیں جلسہ سیرت النبی کہیں نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد ہے تو کہیں جلوس کا اہتمام ہے.

    ظاہر ہے یہ سب کچھ رسول اللہ صلعم کے لیے اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار کے لئے ہی کیا جاتا ہے لیکن احقر کی نظر میں یہ دن رسول اللہ صلعم کے مشن کی یاد اور اس کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کے احتساب کے طور پر منایا جائے تو آپ صلعم کے لیے امت مسلمہ کی بہترین خراج عقیدت ہو گی. ذرا غور کریں! یہ وحی اس وقت نازل ہوئی جب دنیا کے منظر نامے میں سوائے ظلم اور جہالت اور اندھیرے کے کچھ بھی نہ تھا ‘عالم یہ تھا کہ انسانیت پس چکی تھی’ مظلوم کا پرسان حال کوئی نہیں تھا ‘غریب بے یار و مددگار تھا یتیم بے کس تھا. علم کائنات سے اٹھ چکا تھا’ بے مروتی انتہا پر تھی شیخی وطیرہ بن چکی تھی. جہالت اتنی کہ جہالت بھی پناہ مانگے. قانون کوئی نہیں تھا البتہ طاقت؛ دستور وہی جو طاقتور کے الفاظ. فقط ایک افراتفری تھی بے ہنگم عقائد تھے. بے سلیقہ زندگیاں تھیں. غور وفکر ناپید تھی اسلاف کے سچے اور جھوٹے من گھڑت کارنامے تھے. ان پر نسلی قبائلی نسبی و علاقائی تفاخر طاقت ہے. انسان اسفل السافلین سے بھی نچلے گھڑے میں اتر چکا تھا. لیکن یہ انسانیت کا مقدر تو نہ تھا. یہ خلیفہ لم یزل کی شان تو نہ تھی. اس لئے انسان اور انسانیت کو عروج ودوام بخشنے کے لیے اسلامی تہذیب کا آفتاب طلوع ہونا ناگزیر تھا تاکہ زوال پذیر تہذیب بھی اسلامی تہذیب سے روشنی اور چمک لے کر محبت اور ترقی کا ثمر چکھ سکیں.

    تہذیب اسلامی کا منبع اور بنیاد رسول صلعم کی ذات مبارکہ ہے آپ صلعم کے اخلاق و کردار افعال واقوال آپ صلعم کی سیرت طیبہ مینارہ نور کی طرح ہدایت ورہنمائ کے لیے محفوظ اور موجود ہے. آپ صلعم کے بارے میں خود رب کائنات نے فرمایا کہ

    انک لعلی خلق عظیم.

    اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں.(یعنی کہ آداب قرآنی سے مزین اور اخلاق الہیہ سے متصف ہیں)
    .
    آپ صلعم نے حصول علم کو ہر مسلمان مرد و زن پر فرض قرار دیا ہے. بلکہ حصول علم کی فضیلت میں دین اسلام کہتا ہے کہ جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے ہیں.

    رسول صلعم نے فرمایا کہ حکمت(علم) مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں سے ملے لے لو. ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں حضور اکرم صلعم نے اہل علم کی فضیلت بیان کی حتیٰ کہ آپ صلعم نے اپنے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میں علم کا شہر ہو. مزید مومنین کو علم حاصل کرنے پر ابھارا. علم کے حصول کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلعم نے فرمایا کہ حصول علم کی خاطر گھر سے باہر جانے والے کی موت بھی واقع ہوجائے تو اس کا مرتبہ شہید جیسا ہے.

    یاد رہے! کہ یہاں علم سے مراد علم نافع ہے. جس سے انسان دین اور دنیا کی بھلائی کا کام کرسکے معاملات دنیا کو سلجھانے کی تعلیم حاصل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی ہمیں سیرت النبی صلعم سے ملتی ہے. علم دین اور قرآن تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم درسگاہ نبوت سے براہ راست سیکھتے تھے وہ علم انہیں کہیں جاکر سیکھنے کی حاجت نہ تھی. لیکن غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار جنگ ہار گئے اور ان میں سے کچھ کو قید کر لیا گیا تو ان کے آزاد ہونے کی شرط یہ تھی کہ جو فدیہ ادا نہیں کرسکتا وہ مسلمانوں کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاءے اب اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں کہ کفار نے جو مسلمانوں کے بچوں کو پڑھانا تھا وہ ہرگز تعلیمات اسلامی نہیں ہوسکتی تھی. وہ اس وقت کے مروجہ دنیاوی علوم ہی تھے.

    اگر آج ہم اپنے علمی رویے پر غور کریں تو جان جائیں گے کہ ہم علم و حصول علم سے کتنی دور ہیں. مسلمانوں کی کتنی جامعات ویونیورسٹیاں عالمی معیار کے مطابق ہیں. دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں ہمارا شمار کس جگہ پر ہے؟ اتنا نیچے کہ بس شرمندگی! ہم اس دین کے پیروکار ہیں جس کی ابتداء اقراء سے ہوتی ہے. جہاں قلم کی روشنائی کا درجہ شہید کے لہو کی مانند ہے. لیکن ہمارا سماجی رویہ حصول علم کی جانب کتنا مثبت ہے؟ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نقالی کرہے ہیں ہم جدت سے کتنا دور ہیں؟ جو یہود و نصاریٰ اس وقت رسول صلعم کے آگے آنے سے ڈرتے تھے آج ہم ان کی نقالی کرہے ہیں. جس مذہب کی اپنی ثقافت تہذیب وتمدن ہو وہ قوم کسی اور کے طور طریقوں کو اختیار کرے ایسی قوم کے لئے شرمندگی کا مقام اور کیا ہو گا.

    ذرا سوچیں! کہ جس قوم کی آج سے کچھ صدیوں پہلے اتنی مضبوط پوزیشن تھی وہ قوم آج زوال پذیر کیوں ہے؟

    وہ صرف اسی لیے کہ ہم نے اطاعت رسول صلعم کو چھوڑ دیا ہے ہمارے پیارے نبی صلعم جن کی مثال کافر بھی دیتے ہیں آج ہم نے ان کی پیروکاری کو چھوڑ دیا ہے. جلسے جلوس محبت کا اظہار، جشن، چراغاں تو یہودونصاری بھی ایک دن کے لیے اپنے نبیوں کے لیے کرلیتے ہیں لیکن اصل بات اطاعت کی ہے. افسوس کہ وہ ہمارے اندر اب مفقود ہے. رسول صلعم کا عاجزانہ رویہ سادگی، سادہ طرز زندگی کو ہم نے اختیار نہیں کیا ہے. ہم نے سیرت طیبہ کے قانون کو لاگو نہیں کیا ہے اسی لیے آج ہم اتنا پیچھے ہیں. دنیا میں ہماری کوئی حیثیت نہیں،
    شاعر کیا خوب کہتا ہے.

    وہ معزز تھے زمانے میں صاحب قرآں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

  • صدقۂ جاریہ اور اس کے فوائد —ام عفاف

    صدقۂ جاریہ اور اس کے فوائد —ام عفاف

    ہر انسان کو اس دنیا سے رخصت ہونا ہے، ہر شے کو فنا ہونے والی ہے لیکن جب انسان اس دنیا سے کوچ کرتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے اس کے اپنے کئے ہوئے اعمال ہی اس کا سہارا بنتے ہیں. اچھے اور برے اعمال کا دارومدار بھی اس انسان پر ہی ہے کہ اگر نیک اعمال ہونگے تو اس بندے کے لیے نجات کا ذریعہ بن جائیں گے اگر برے ہونگے تو اس کے لیے بربادی ہے.

    مرنے کے بعد صرف تین چیزیں ہیں جو اس کے لیے نجات کا ذریعہ بنتی ہیں.

    1: دعا
    2: اس کی اولاد جو بھی نیک اعمال کرتی ہے اس کا اجر اس مرنے والے کو ملتا ہے.
    3: صدقہ

    جب تک انسان زندہ ہوتا ہے وہ اچھے اور برے اعمال کرتا ہے. اس کے مرنے کے ساتھ ہی اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے. جب تک اس کے اہل وعیال رشتہ دار زندہ رہتے ہیں وہ دعا کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے مرنے کے بعد یہ سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے. لیکن جو تیسری چیز انسان کر جاتا ہے وہ صدقہ جاریہ ہے. جو ہمیشہ باقی رہتا ہے اور جو انسان کے لیے نجات کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے. اس کی کئی صورتیں ہیں.

    1: علم: جو انسان علم حاصل کرکے دوسروں تک پہنچاتا ہے وہ علم آگے بڑھتا رہتا ہے تو مرنے کے بعد اس عالم کو اس کا اجر ملتا رہتا ہے.

    2: وہ کام جو انسان کسی تعمیر کی صورت میں کرے. جس میں سرفہرست مسجد بنوا دینا، جب تک نمازی نماز پڑھیں گے اس انسان کو مرنے کے بعد بھی اس کا اجر ملتا رہے گا. کوئی فاونڈیشن یا اسپتال بنوادینا جس سے اس بندے کے اجر میں اضافہ ہوتا رہے گا.

    معزز قارئین. لوگ صدقے کو ایک ادنیٰ سی چیز تصور کرتے ہیں. حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صدقے کو بہت بڑی نیکی قرار دیا ہے. حدیث شریف میں ہے کہ جب بندہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس صدقے کو اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اس کی ایسی پرورش کرتا ہے جیسے ایک انسان اپنے گھوڑ یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے.

    بہت سارے لوگ صرف ڈونیشن کرنے کو ہی صدقہ سمجھتے ہیں. حالانکہ انسانیت کی خدمت بھی ایک بہت بڑا صدقہ جاریہ ہے اگر آپ کی وجہ سے کسی انسان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو یہ سب سے بڑا صدقہ ہے.

    بہت سارے رہنما اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں انسانیت کے لئے وقف کردیں ہیں. ان میں سے آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی مثال لے لیں. ان کی انتھک محنت اور کوشش کے بعد ملک پاکستان وجود میں آیا. انہوں نے ہی نہیں ان کے ساتھ مل کر کئی لوگوں نے کام کیا کتنے ہی لوگوں نے اپنی زندگیاں گنوائیں اور ہمیں آزاد ملک دے دیا.

    رہتی دنیا تک لوگ ان سب کو دعائیں دیتے رہیں گے لیکن آج بھی ہمارے ملک کو ایسے ہی جانثار لوگوں کی ضرورت ہے. آج ہمارے ملک پاکستان میں جو حالات چل رہے ہیں اس میں کتنے انسان خطرے میں ہیں.

    حالیہ بارشوں کی وجہ سے لوگوں کا کتنا نقصان ہوا ہے، کتنے لوگ ہیں جو بےآسرا کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے. اگر ایک فرد بھی کسی انسان کی مدد کرتا ہے تو کتنے ہی افراد مل کر لوگوں کی نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں.

    خدمت انسانیت ہی ہے جو ایک انسان کو تمام لوگوں میں مقبول بنادیتی ہے. بعض اوقات انسان کے پاس ایسا کوئی موقعہ نہیں ہوتا ہے یا انسان کے پاس کوئی ذرائع نہیں ہوتے ہیں کہ انسان کوئی خدمت کا کام سرانجام دے سکے. اسلام میں بھی سب سے زیادہ حقوق العباد کا ذکر ہے. اس لئے اگر وہ کچھ نہیں کرسکتے تو اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرسکتے ہیں. اچھا سلوک بھی خدمت انسانیت کے زمرے میں آتا ہے. کسی انسان کے برے وقت میں اس کے ساتھ مسکراہٹ کے ساتھ ملنا بھی صدقہ ہے.

    خدمت انسانیت ہی ایسا جذبہ ہے جس سے ایک انسان کی اچھائی اور برائی کا پتہ چلتا ہے اسی جذبے کے تحت اگر انسان اگر کوئی عمل کرتا ہے تو وہ اس کے لیے آخرت اور دنیا دونوں سنوار دیتا ہے. اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سب اکٹھے ہوں اور بارشوں اور سیلاب سے متاثر اور تباہ حال لوگوں کے لیے سہارا بنیں. ہم اپنے راشن رقم بستر وغیرہ دے کر ان کی مدد کرسکتے ہیں.

    ذرا ٹھہر کر سوچیں کہ یہ وقت ہم پر بھی آسکتا ہے. یہ صرف ایک نشانی ہے جو اللہ نے ہمیں دکھائی ہے اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے کتنی ہی بڑی عمارتیں اور شہر ہیں جو ایک لمحے میں نیست و نابود ہوسکتے ہیں. لیکن اللہ بہت رحیم ہے ہمیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ ہم سدھر سکیں.

    اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو درست کریں اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور ڈوبتے لوگوں کا سہارا بنیں. کیا پتہ اس کارخیر سے اللہ تعالیٰ ہمیں بخش دے اور ان آفتوں کو ٹال دے.

  • باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — ام عفاف

    باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — ام عفاف

    آج سے 75 سال پہلے جب پاکستان بنا تو ایک ملک کے بننے میں پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی محنت تھی. لیڈر سرپرستی کا کام کرتا ہے اور کام کو آگے بڑھاتا ہے لیکن وہ یہ کام کبھی اکیلا نہیں کرسکتا ہے. اس کام کے پیچھے پوری قوم کی سپورٹ ہوتی ہے. پاکستان کے بننے میں پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی محنت تھی سب مسلمان مذہب کی بنیاد پر اکٹھے ہوئے، اپنی جان، مال قربان کردیئے، انتھک محنت، لگن اور کئی سالوں کی محنت کے بعد ملکِ پاکستان وجود میں آیا لیکن ہندوستان کی تقسیم کے وقت اثاثہ جات کی تقسیم میں بھی پاکستان کو اس کا حق نہ مل سکا اثاثہ جات کی کمی کی وجہ سے پاکستان کو بہت دقت اٹھا نا پڑی ہندوستانی مسلمانوں کی ہجرت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی جس کا سارا بوجھ پاکستانی حکومت کو اٹھانا پڑا لیکن پاکستان کی قوم اور حکومت نےساتھ ملکر بڑی محنت مشقت اور ہمت اور حوصلے کے ساتھ اس کٹھن مرحلے کو سر کیا.

    اجتماعیت یعنی اتحاد و اتفاق ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے آپ بڑی بڑی طاقتوں کو سرنگوں کرسکتے ہو، بڑی بڑی سلطنتیں جزیہ دینے پر مجبور ہوسکتی ہیں. اتحاد و اتفاق نہ ہو تو دنیا جہان کے وسائل ہونے بعد بھی آپ ڈھیر ہوسکتے ہیں. بحیثیت قوم آپ کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی ہے . دنیا کے کمزور ترین لوگ بھی آپ کو شکست سے دو چار کرسکتے ہیں. اور یہ قانون فطرت ہے جسے فقط اتحاد و اتفاق یعنی اجتماعیت سے بدلا جاسکتا ہے .

    تبھی شاعر مشرق نے کہا تھا:

    فرد ہے ملت سے تنہا کچھ بھی نہیں
    موج ہے دریا میں بیرونِ دریا کچھ بھی نہیں

    انسان انسانوں کے ساتھ ملکر رہتے ہیں، جانور جھنڈوں کی شکل میں رہتے ہیں، پرندے قطاروں میں اڑان بھرتے ہیں. یہ سب اس لیے ہے کہ ان کے پیدا کرنے والے نے انہیں ایسا ہی بنایا ہے. اور جو اس قانون کو توڑتا ہے وہ تنہا ہوجاتا ہے، ڈپریشن، نفسیاتی مسائل اس کا جینا دوبھر کردیتے ہیں. درندے ایسے ہرن کا آسانی سے شکار کرلیتے ہیں اور پرندے بازوں سے محفوظ نہیں رہتےہیں شاعر نے کیا خوب کہا ہے.

    ہم جنس کنند پرواز
    کبوتر با کبوتر باز بہ باز

    . ہمیشہ سے ہی جب کوئی کام سرانجام پاتا ہے تو اس کے پیچھے کئی سالوں کی محنت ہوتی ہے اور اگر پوری قوم اکٹھی ہوجائے اور ان لوگوں کے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجود ہو تو سازشیں بھی دم توڑ جاتی ہے1965 کی جنگ میں جب دشمن سرحد پر سب ہتھیاروں سے لیس کھڑا تھا اس وقت بھی پاکستان کی قوم اور حکومت نے ساتھ مل کرمحدود وسائل کے ساتھ اپنی بقا کی جنگ لڑ ی اور آج ہمارا ملک جس پرکٹھن دور سے گزر رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے کس طرح سے پاکستان شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے.

    جب بھی کوئی تکلیف آتی ہے تو اس کا حل لازمی ہوتا ہے اور اس کا حل بھی یہی ہے کہ پوری قوم تفرقہ بازی بازی ختم کرکے اسلام کے نام پر اکٹھی ہوں، کیونکہ اسلام ہی سلامتی والا مذہب ہے. جو ہر رنگ و نسل اونچ نیچ سے بالاتر ہے. جو اپنے ماننے والوں کو مکمل حقوق العباد کا ضابطہ سکھاتا ہے. جب انسان حقوق العباد کو پورا کرتا ہے تو ہی معلوم پڑتا ہے کہ وہ کتنا اپنے دین پر چلنے والا ہے یہ ہر ایک فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنے بھائی کا حق پہچانے سب عہد یداران اپنی حیثیت کو دیکھ کر درست معاملات کریں. جھوٹ اور ہیر پھیر سے اجتناب کریں.ظالم و جابر حکمران قوم کے اپنے اعمال کی وجہ سے مسلط ہوتے ہیں. پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان تفرقہ بازی نے پہنچایا ہے.
    اجتماعیت بہت فائدہ مند چیز ہے آپ لکڑی کے گٹھڑ کی ہی مثال لے لیں گٹھڑ کو کبھی کوئی نہیں توڑ سکتا ہے اور الگ الگ لکڑی کو توڑنا آسان ہوتا ہے اسی طرح ہی آج پاکستان کی قوم کو اجتماعیت کی بہت ضرورت ہے.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت دیتا ہے
    ایک اور حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے.

    اسی طرح اگر پاکستان کی عوام ایک ساتھ مل کر چلے اور سب ایک دوسرے کا احساس کریں،ایک دوسرے کا حق نہ ماریں تو ہی ہمارا ملک ترقی کر سکتا ہے اسی وجہ سے ہمارا معاشرہ اچھا معاشرہ اور ہمارا ملک ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے.

    یادرکھیں وہ قوم کبھی نہیں بدل سکتی ہے جسے خوداپنے حالات بدلنے کا شعور نہ ہو. ہمارے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر ہمیں اتحاد و اتفاق اور شعور کی بے حد ضرورت ہے.

  • مقصد کامیابی کی ضمانت — ام عفاف

    مقصد کامیابی کی ضمانت — ام عفاف

    زندگی ایک رفتار کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے، وہ بچے جو ابھی چھوٹے ہیں ان کے لیے یہ دنیا بالکل نئی ہے ان کی آنکھوں میں تجسس ہوتا ہے اور جو لوگ جوانی کے جوبن پر ہیں ان کے لیے کچھ نیا ہے تو کچھ پرانا. اور وہ لوگ جو اپنی زندگی گزار چکے ہیں ان کے لیے یہ سب کچھ پرانا ہے.

    لیکن اصل بات یہ ہے کہ انسان نے اس دنیا میں کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے کچھ لوگ بغیر مقصد کے زندگی گزارتے ہیں.

    زندگی بہت خوبصورت ہے اگر اس کے اندر کچھ ترتیب لائ جائے کوئی مقصد طے کیا جائے. ہر انسان کی زندگی اس کے ساتھ ہی شروع ہو کر اس کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے. لوگ ہمارے کاموں میں، خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں کیونکہ ہم ان کے درمیان موجود ہیں.

    جیسے ہی زندگی ختم ہوگی سارے کام ختم ہو جائیں گے اور لوگ کچھ دیر سوگ منا کر اپنے کام پر لگ جائیں گے. زندگی کی ڈور کٹنے کے ساتھ ہی ہمارا نام بھی ختم ہو جاتا ہے.

    اور پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہو جائیں تو صدیوں تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں. سو بار بھلانے پر بھی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر یاد آجاتے ہیں. یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک مقصد کے تحت زندگی گزارتے ہیں.

    اور مقصد ہی وہ بنیاد ہے جو انسان کو مکمل زندگی کا لائحہ عمل دیتا ہے. ایسے لوگ زندگی ایک ترتیب سے گزراتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مرحلے کو کامیابی سے طے کرتے ہیں اور کامیابی بھی ان کے قدم چومتی ہے.

    آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی مثال لے لیں ان کی مکمل زندگی انتھک محنت سے عبارت ہے. انہوں نے مکمل زندگی میں کام کیا اور لوگوں کو کام کام اور بس کام کا سبق دیا.

    وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنا ایک مقصد چنا اور اسے لیکر وہ آگے بڑھے. جب انہوں نے یہ مسلمانوں کی آزادی و خود مختاری کو اپنا مقصد بنایا تو وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے نجات دہندہ بنے اور قوم نے انہیں بابائے قوم کا درجہ دیا.

    دیکھیں اگر آپ کے پاس کوئی مقصد ہوگا تو ہی آپ کی زندگی میں کوئی کارآمد کام ہوگا. اسی وقت آپ اپنی قوم اور ملک کے لیے کچھ کر سکتے ہیں. اس لیے آپ اپنی زندگی میں مقصد اور ترتیب کو لازم سمجھیں.

    یاد رکھیں ہمیشہ کام کرنے والے لوگوں کو ہی یاد رکھا جاتا ہے اور وہ کام زیادہ بہتر ہوتا ہے جو ایک مقصد کے ساتھ ہو اسی لیے اپنی زندگی کا ایک مقصد بنائیں پھر دیکھیں کامیابیاں کیسے آپ کے قدم چومتی ہیں.

  • ہار اور جیت میں ہمارا کردار — ام عفاف

    ہار اور جیت میں ہمارا کردار — ام عفاف

    ہار اور جیت دو ایسے متضاد پہلو ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں. جیت میں انسان اپنے آپ کو خوش قسمت انسان محسوس کرتا ہے اور بڑے جذبات اور جوش وخروش میں ہوتا ہے اور جب انسان ہارتا ہے تو اس کے سبب اعصاب ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور ہار انسان کو بالکل کمزور کردیتی ہے. ہار اور جیت کھیل کا لازمی جز ہیں.

    لیکن اس مشکل مرحلے میں انسان کو ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے جو انسان کو گرنے نہیں دیتی ہے. البتہ اس موقع پر لوگوں کا رویہ بالکل متضاد ہوتا ہے.

    وہ جیتنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہارنے والے کی دل شکنی کرتے ہیں. حالانکہ کسی ایک کی ہار تو لازمی ہے.

    اگر ضمنی الیکشن کی بات کریں تو دونوں سیاسی پارٹیوں کی طرف سے جیت جیت ہی کی صدائیں بلند تھیں. اس دوران سوشل میڈیا میدانِ جنگ کا منظر پیش کررہا تھا.

    ہر ایک اپنی پارٹی کی کامیابی کے لیے پرجوش دکھائی دے رہا تھا.

    لیکن اب ہم ٹھہر کر یہاں اس چیز کا جائزہ لیں کہ ہمیں ہمیشہ جیت کی خوشیاں ہی مناتے رہنا چاہئے یا ہار کو کھلے دل سے قبول کرنے کے ساتھ ہارنے والے لوگوں کا ساتھ دینا بھی چاہیے. اس پہلو پر ہم یہ سوچیں کہ جب ہمیں الیکشن ہارنے پر خود اتنا افسوس ہے تو ہارنے والے کو کتنا غم ہوگا؟

    کرکٹ، فٹبال یا کبڈی جس کھیل کی بھی بات کرلیں اس میں کھلاڑی کے لئیے میدان میں اتر کر کھیلنا موت اور زندگی کے مترادف ہے اور کھیلتے ہوئے وہ کس قدر ذہنی اور جسمانی اذیت اور مشقت میں ہوتے ہیں ایسے میں ان کو اپنے لوگوں کی اپنائیت اور حوصلے کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور اپنے لوگوں کا رویہ اور حوصلہ ہی ہوتا ہے جس سے انسان مضبوط ہوتا ہے.

    اس موقع پر ہمیں ایک ماں جیسا کردار ادا کرنا چاہیے کہ جب اس کا بیٹا یا بیٹی ہار کر اپنی ماں کی آغوش میں آتے ہیں تو وہ اپنے بچے کو سمیٹ لیتی ہے اسے حوصلہ اور دلاسہ دیتی ہے، جس سے اسے تقویت ملتی ہے اور وہ دوبارہ سے مضبوط ہوتا ہے. اسی طرح کھیلنے والے کے لیے اپنے لوگوں کا رویہ ایک ماں کے رویے کی طرح ہوتا ہے.

    اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم جس طرح کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اسی طرح ہار پر ان کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ حوصلہ شکنی کریں تاکہ وہ دوبارہ مضبوط ہو کر اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں نہ کہ حوصلہ شکنی سے بالکل مایوس ہو جائیں یاد رہے حوصلہ شکنی انسان کو کمزور کر تی ہے اور حوصلہ افزائی انسان کو بہت مضبوط کرتی ہے.