Baaghi TV

Tag: انارکلی

  • میں بھی تو بلوچی ہوں میرا کیا قصور تھا ؟ ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    میں بھی تو بلوچی ہوں میرا کیا قصور تھا ؟ ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    میں بھی تو بلوچی ہوں میرا کیا قصور تھا ؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    20 جنوری 2022 کو لاہور انار کلی بازار میں الحبیب بینک لمیٹڈ کے سامنے ایک زور دار بم دھماکہ ہوا جس میں 3 افراد شہید اور 3 درجن کے قریب زخمی ہوئے یہ دھماکہ پلانٹنڈ تھا اور دوپہر کے وقت ہوا جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں عین سامنے بینک ہے اور اس کے سامنے ریڑھی والے غریب لوگ اپنی ریڑھیاں لگاتے ہیں اور اپنے بچوں کیلئے رزق کماتے ہیں-

    راقم کا انار کلی بازار میں کافی آنا جانا ہے اور اکثر و بیشتر جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں سے دھی بھلے،فروٹ چاٹ،کھیر اور بھٹورے وغیرہ بھی کھائے ہیں راقم نے دھماکہ سے دو دن بعد دوبارہ اسی جگہ کا چکر لگایا تو دیکھا جو جگہ غریب ریڑھی بانوں سے بھری ہوئی ہوتی تھی وہ بلکل خالی پڑی ہے کافی عمارتوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے ،چہروں پر اداسیاں تھیں مگر رونق اسی طرح تھی مگر جس دھی بھلے والے سے راقم دھی بھلے کھاتا تھا وہ نظر نا آیا-

    خیر کافی دنوں بعد وہ مطلوبہ بندہ نظر آیا تو جو گفتگو اس سے ہوئی وہ آپ کے سامنے ہے اس کی عمر 35 سال ہے مگر اس کی ڈارھی کی سفیدی اسے 50 سے اوپر کا ظاہر کرتی ہےمیں نے جاتے ہی اس سے سلام لیا اور پوچھا حکم داد ( فرضی نام) یار کہاں تھے اتنے دنوں سے میں تو بہت پریشان تھا تمہارے دھی بھلے بڑے اچھے اور مزیدار ہوتے ہیں یار کئی بار میں آیا مگر تم موجود نا تھے ،کہیں گئے ہوئے تھے؟-

    وہ میرے نام سے تو ناواقف تھا مگر اتنا جانتا تھا کہ کئی سالوں سے میں اس کا گاہگ ہوں اس نے بڑی تکلیف دہ نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولا کمال ہے صاحب آپ کو نہیں پتہ اس جگہ دھماکہ ہوا تھا ؟میں نے کہا ہاں بھئی پتہ ہے اسی لئے تو تمہارا ساتھ والے ریڑھی والوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ آ نہیں رہا ویسے بس دھماکہ میں اس کی ریڑھی تباہ ہوئی تھی مگر وہ بچ گیا تھا-

    اس نے ایک لمبی سانس بھری اور مجھے دھی بھلے بنا کر دیئے اور نظریں جھکا لیں میں نے دھی بھلے کھانا شروع کئے تو اس کی طرف دیکھا غالباً اس کی آنکھوں میں أنسو تھے خیر میں نے دھی بھلے ختم کئے تب تک وہ بھی خود کو سنبھال چکا تھا میں نے کہا یار دھماکہ کس جگہ ہوا تھا ؟-

    اس نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا میری ریڑھی کے عین سامنے میں نے اسے دیکھا تو وہ گویا ہوا صاحب پریشان ہو گئے کہ میں بچ کیسے گیا ؟ میں نے کہا نہیں بھئی یہ تو اللہ کی ذات ہے جسے چاہے زندہ رکھے جسے چاہے موت دے میں نے پوچھا جب دھماکہ ہوا تم اس وقت کہا تھے ؟وہ کہنے لگا صاحب اسی جگہ موجود تھا مگر جب دھماکہ ہوا میں ساتھ والی بلڈنگ میں دھی بھلے دینے گیا تھا
    میں نے کہا یار یہ کیوں اور کیسے ہوا؟-

    وہ کہنے لگا صاحب کیوں ہوا کا تو مجھے پتہ نہیں مگر ہوا ایسے کہ انار کلی بازار کے وسط سے تھوڑا پہلے جہاں گارمنٹس و جوتوں کی دکانیں ہیں وہاں ایک شحض پہلے سے کھڑی ایک موٹر سائیکل پر بیگ رکھ کر جانے لگا تو دکانداروں نے دیکھ لیا اور اسے کہا کہ کون ہے تو اور بیگ کیوں رکھا یہاں کہتا وہ شحض جلدی سے بیگ پکڑ کر یہ کہتا ہوا آگے بڑھا کہ میں تو تھک گیا تھا بیگ اٹھا کر اسی لئے بائیک پر رکھا تھا –

    مزید اس نے بتایا کہ میری ریڑھی کے بلکل سامنے اس شحض نے سامنے سڑک کے وسط میں کھڑی موٹر سائیکل پر بیگ رکھا اتنے میں مجھے ساتھ والی بلڈنگ سے آرڈر آیا دھی بھلے لانے کا تو میں ادھر چلا گیا ابھی گیا ہی تھا تو دیکھا کہ میری ریڑھی وہاں بکھری پڑی ہے اور ایک اور بچے کی ٹانگیں کٹی ہوئی ہیں اور وہ چیخ رہا ہے جبکہ ہر طرف دھواں ہی دھواں ہے اور آگ ہی آگ یوں لگتا تھا جیسے قیامت برپا ہو گئی ہے-

    وہ کہتا ہے میں چیخنے لگا اور چلانے لگا اتنے میں پولیس و ریسکیو بھی آن پہنچی اور میں بھی گھر سے فون آنے پر گھر پہنچ گیا مگر میری ساری جمع پونجی لٹ گئی تھی اس نے آنکھوں میں أنسو لاتے قسم اٹھا کر کہا صاحب میں پورے پندرہ دن تک گھر سے باہر نہیں نکلا
    مجھے وہ منظر یاد آتا تھا تو میں رونے لگتا تھا میں نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا کیونکہ صاحب میری ریڑھی ساری تباہ ہو چکی تھی اور مجھے پتہ بھی نہیں تھا کہ کس نے یہ کیا اور میری ان سے دشمنی بھی کیا ہے –

    وہ کہتا ہے میری ماں نے مجھے ہمت اور غیرت دلائی کہ تو غیور بلوچ ہے کیوں بچوں کی طرح ڈر کر گھر میں بیٹھ گیا ہے اگر یونہی بیٹھا رہا تھا ہم بھوکے مر جائیں گے جا جا کر ریڑھی لگا اللہ رزق دے گا اور ہمت بھی وہ کہتا میں نے کچھ محلے داروں کو حالات بتلائے تو کسی نے مجھے رقم دی تو کسی نے نئی ریڑھی خرید کر دی-

    اس نے مجھ سے سوال کیا کہ صاحب یہ دھماکہ کس نے کروایا تھا تو میں نے اسے بتایا کہ ایک بلوچ علیحدگی پسند جماعت نے کروایا ہے
    اس نے پوچھا کیوں کروایا انہوں نے میں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرکے ایک الگ ملک بناؤ اسی لئے وہ پاکستان کے ہر علاقے میں بم دھماکے کرتے ہیں پاکستانی عوام و فوج پر حملے کرتے ہیں اس کی آنکھوں میں پھر آنسو آ گئے-

    کہنے لگا صاحب میں بھی تو بلوچ ہوں اور جب 5 سال کا تھا تب میرے بابا ہماری پوری فیملی لے کر بلوچستاں سے لاہور آ گئے تھے کیونکہ کراچی کے حالات سخت خراب تھے اور ہمارے آبائی علاقے بلوچستان کے ایک دیہات میں کاروبار نا ہونے کے برابر تھا اسی لئے بابا نے کراچی کام شروع کیا تو وہاں بھی حالات خراب ہو گئے اسی لئے پیٹ کی خاطر لاہور آئے تھے بابا نے شربت بیچا،چنے بیچے کئی کام کئے اور ایک چھوٹا سا مکان خرید لیا ہے-

    اب ہمارا تو یہی شہر بھی ہے اور وطن بھی یہیں جئے گے یہیں مرینں ے کیونکہ میرے بابا کی قبر بھی تو میانی صاحب قبرستان میں ہے
    کہنے لگا صاحب یہ دھماکہ کرنے والے بلوچی نہیں ہیں بلوچی ہم ہیں صاحب ہمارے رشتہ دار آج بھی بلوچستان میں رہتے ہیں وہ دور دراز علاقوں سے پینے کا پانی بھر کر لاتے ہیں مگر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے وہ اور ہم بلوچ تو بہت خودار ہیں ہم اپنی دشمنیوں کی خاطر جانیں دے بھی دیتے ہیں اور لے بھی لیتے ہیں میں اللہ گواہ ہے صاحب ہم کسی کو ناجائز قتل نہیں کرتے جس کے ساتھ دشمنی ہے اسے ہی قتل کرتے ہیں کیونکہ کسی کو ناجائز قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور بلوچی ایسا گناہ نہیں کرتے صاحب قسم لے لو صاحب بلوچی ایسا ظلم نہیں کرتے-

    وہ بتلانے لگا کہ ہمارے بڑھوں نے انگریز کے خلاف جہاد کیا اور اپنی جانیں دے دیں مگر انگریز کی غلامی نہیں کی اس نے مجھے پوچھا صاحب ان ناراض بلوچوں کی دشمنی کس سے ہے ؟ میں نے کہا ان کی دشمنی ہر محب وطن پاکستانی سے ہے ان کی دشمن پاک فوج و عوام سے ہے ان کی دشمنی ہر آنے والی گورنمنٹ سے ہے-

    وہ کہنے لگا صاحب یہ لوگ اتنا پیسہ بم دھماکوں پر لگاتے ہیں اور لوگوں کو ناجائز قتل کرتے ہیں تو پھر یہی پیسہ بلوچستان میں غریب بلوچوں پر کیوں نہیں لگاتے ؟میں نے کہا بات تو تمہاری قابل غور ہے مگر ان کا مقصد بلوچیوں کے علاوہ سندھیوں،پنجابیوں،پشتونوں کو حقوق کے نام پر قتل کرنا ہے-

    وہ چونک گیا کہنے لگا صاحب کون بلوچی ؟ کون سندھی ؟ کون پنجابی اور کون پشتون؟ ہم سبھی تو ایک محلے میں اکھٹے رہتے ہیں نہیں یقین تو ساتھ چل کر دیکھو ہمارے گھر میں پکا ہوا سالن کبھی پنجابی گھر سے آتا ہے تو کبھی پشتون گھرانے سے تو کبھی سندھی گھرانے سے صاحب ہم تو ایک ہیں ہم تو مسلمان ہیں ہم تو اردو بولتے ہیں کبھی ایک دوسرے کو سندھی،بلوچی،پنجابی پشتون نہیں کہا صاحب میری تین ہی بیٹیاں ہیں اور ایک بوڑھی ماں ہے-

    صاحب قسم لے لو وہ جو ملک صاحب ہیں نا پیٹرول پمپ والے وہ ہر عید کے دن میری ماں کو گلے لگا کر جاتے ہیں جاتے ہوئے 5 ہزار دے کر جاتے ہیں اور میری بیٹیوں کا اپنی بیٹیوں کی طرح ماتھا چوم کر جاتے ہیں اور وہ غریب پنجابیوں کے گھروں میں بھی ایسے ہی جاتے ہیں اور دوسرے صوبوں کے رہائش پذیز لوگوں کے گھروں میں بھی ایسے ہی تو صاحب پھر یہ نفرت کیوں؟-

    ہمارا قصور کیوں میں بھی تو بلوچ ہوں مگر مجھے کیوں مارا انہوں نے ؟میری رہڑھی کیوں تباہ کی انہوں نے ؟ صاحب جی یہ نئی والی ریڑھی مجھے لکڑی کے ٹال کے مالک حشمت خان نے مفت میں خرید کر دی ہے اور 10 ہزار سودے کیلئے رحم بخش سندھی نے دیا ہے
    صاحب یہ نفرت کیوں ہے ؟-

    یہ تو بلوچی نہیں صاحب بلوچی تو بڑے غیور ہوتے ہیں صاحب کسی کو ناجائز قتل نہیں کرتے کیونکہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضہ اللہ عنہ سب سے پہلے بلوچستان میں ہی آئے تھے اور ان کی قبریں بھی ادھر آج بھی ہیں یہ کیسے بلوچی ہیں جو ہمیں بلوچستان میں بھی مارتے ہیں اور پنجاب میں بھی پہلے انہوں نے کراچی کا کاروبار تباہ کیا اور اب لاہور کا تباہ کرنے لگے ہیں صاحب اگر لاہور کراچی بن گیا کاروبار نا رہا تو میں اپنی تین چھوٹی چھوٹی بچیوں کو لے کر کہاں جاؤں گا ؟-

    اس کے اس سوال کا جواب میرے پاس نا تھا میں نے اسے کہا حوصلہ کر کچھ نہیں ہوتا ان شاءاللہ یہ ملک یہ صوبے یہ شہر یہ گلی محلے ان شاءاللہ قیامت تک آباد رہیں گے کیونکہ ان کی بنیادوں میں شہداء کا لہو شامل ہے-

  • متحدہ عرب امارات کی جانب سےلاہور بم دھماکے کی مذمت

    متحدہ عرب امارات کی جانب سےلاہور بم دھماکے کی مذمت

    اسلام آباد: متحدہ عرب امارات نے لاہورانارکلی میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے ہفتے کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ لاہور بم دھماکے کی مذمت کرتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی جانب سے گئی بزدلانہ کارروائی ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے ، دہشتگردی میں ملوث لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات حکومت پاکستان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

    ایک بیان میں، وزارت خارجہ اور بین الاقوامی تعاون پر زور دیا گیا کہ متحدہ عرب امارات ان مجرمانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے، اور تمام انسانی اقدار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کو مستقل طور پر مسترد کرتا ہے جس کا مقصد سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ اور اصول.

    وزارت نے اس گھناؤنے جرم کے متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔

  • بے حسی کی انتہا یا انسانیت مرگئی : انار کلی دھماکے کے بعد لوگ دوکانوں کولوٹتے رہے

    بے حسی کی انتہا یا انسانیت مرگئی : انار کلی دھماکے کے بعد لوگ دوکانوں کولوٹتے رہے

    لاہور:بے حسی کی انتہا یا انسانیت مرگئی : انار کلی دھماکے کے بعد لوگ دوکانوں کولوٹتے رہے ،اطلاعات کے مطابق نئی انار کلی بم دھماکے کے بعد بعد انسانیت بھی مر گئی،پولیس کو ملنے والی ویڈیوز سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ دھماکے کے بعد چند شہریوں کی جان سے پرائز بانڈ پر لوٹ مار کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

    جہاں لاہور میں نئی انار کلی میں پان منڈی کے مقام پر دھماکہ ہوا تھا جس میں 3 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔وہاں بے حس لوگ بدبختی کرتے ہوئے دکھائی دیئے ،جن کے اس عمل پر ہردیکھنے اور سننے والا نوحہ کناں ہے

    پولیس کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق انارکلی میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد اردگرد آگ لگ گئی اور بھگدڑ مچ گئی تھی ،اسی بھگدڑ میں 20 سالہ عبداللہ نامی پرائز بانڈ کا کاؤنٹر تھا جس پر تقریباً 3 لاکھ روپے موجود تھے اور چند افراد زخمیوں کی مدد کرنے کی بجائے پیسے لوٹنے میں مصروف رہے۔

    ادھر پولیس نے پیسے لوٹنے والوں کی فوٹیج کے ذریعے لوٹ مار کرنے والوں کی تلاش شروع کردی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بدبخت نہیں بچ پائیں گے کیون کہ ان کے اس عمل نے سرشرم سے جھکا دیئے

    لاہور انارکلی دھماکے میں ملوث مبینہ دہشت گرد کی تصویر منظر عام پر آ گئی، تفتیشی ٹیموں کو جائے وقوعہ سے بال بیرنگ بھی مل گئے، وقوعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    لاہور گذشتہ روز خوفناک دھماکے سے لرز اٹھا جس میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 29 زخمی ہوئے۔ دھماکے میں ڈیڑھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ درج کی گئی ایف آئی آر میں دہشت گردی، ایکسپلوزوایکٹ سمیت 302 اور 324 کی دفعات لگائی گئی ہیں،

    پولیس کی طرف سے دی گئی اس مقدمے کی درخواست کے متن کے مطابق تین دہشت گرد بارودی مواد رکھنے کیلئے موٹر سائیکل پر آئے، تفتیشی ٹیموں کو جائے وقوعہ سے بال بیرنگ مل گئے، مزید تفتیش جاری ہے۔

    دھماکے کے باعث شہر کی فضا آج بھی سوگوار ہے، جائے وقوعہ پر جلی ہوئی موٹرسائیکلیں موجود جبکہ سامان بکھرا پڑا ہے۔ بارودی مواد کے پھٹنے سے تقریباً ڈیڑھ فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا۔ تفتیشی ٹیموں نے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے شواہد اکٹھے کر لئے جن سے پتہ چلا ہے کہ دھماکے کیلئے 2 سہولت کار اور ایک مبینہ دہشتگرد انارکلی پہنچے، 2 سہولت کار سرکلر روڈ سے آئے جبکہ مبینہ دہشتگرد پان گلی سے آیا، مبینہ دہشتگرد نے بیگ بینک کے سامنے رکھا اور سرکلر روڈ پر چلا گیا۔

    ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پولیس کے پاس بہت اہم معلومات پہنچ چکی ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ دہشت گرد بہت جلد پکڑے جائیں گے ،ادھر ہسپتالوں میں زخمیوں کے علاج کے حوالے سے بھی حکومت کی طرف سے ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے

  • ٹی ٹی پی سے سیز فائر ختم ہوچکا ہے:پانچ شہروں سے متعلق سیکیورٹی ریڈالرٹ جاری کیا ہوا ہے:شیخ رشید

    ٹی ٹی پی سے سیز فائر ختم ہوچکا ہے:پانچ شہروں سے متعلق سیکیورٹی ریڈالرٹ جاری کیا ہوا ہے:شیخ رشید

    اسلام آباد: ٹی ٹی پی سے سیز فائر ختم ہوچکا ہے:پانچ شہروں سے متعلق سیکیورٹی ریڈالرٹ جاری کیا ہوا ہے،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ پانچ شہروں سے متعلق ریڈالرٹ جاری کیا ہوا ہے، لاہور دھماکے میں کون ملوث ہے تحقیقات جاری ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی سے سیز فائر ختم ہوچکا ہے۔

    ذرائع کےمطابق اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے لاہوردھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت سے انارکلی دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی ہے، لاہور دھماکے میں کون ملوث ہے تحقیقات جاری ہیں۔

    کالعدم ٹی ٹی پی سے سیز فائر ختم ہوچکا ہے، پانچ شہروں سے متعلق ریڈالرٹ جاری کیا ہوا ہے۔واضح رہے لاہور کے علاقے انارکلی پان منڈی کے قریب دھماکہ ہوا ہے، دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 26 زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکے میں جاں بحق ایک شخص کی شناخت 31 سالہ رمضان کے نام سے ہوئی ہے اور دوسرا جاں بحق ہونے والا ایک 9 سالہ بچہ ہے، زخمیوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب دھماکے سے متعلق ڈی آئی جی آپریشنزڈاکٹر عابد کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں، کچھ کہنا قبل ازوقت ہے، نیوانار کلی پان منڈی میں دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 26 زخمی ہوئے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق پلانٹڈ ڈیوائس لگائی گئی۔ ڈپٹی کمشنرعمر چھٹہ نے کہا کہ نیوانار کلی پان منڈی دھماکے میں جاں بحق افراد میں بچہ بھی شامل ہے، دھماکے میں کون ملوث ہے جلد پتہ لگا لیا جائے گا۔

  • لاہور: انارکلی بازار دھماکے کا مقدمہ درج:مگرکس کے خلاف؟

    لاہور: انارکلی بازار دھماکے کا مقدمہ درج:مگرکس کے خلاف؟

    لاہور: انارکلی بازار دھماکے کا مقدمہ تھانا سی ٹی ڈی میں درج کرلیا گیا،اطلاعات کے مطابق لاہور کے معروف لوہاری گیٹ کے علاقے میں دکانوں کے قریب زور دار بم دھماکے کا مقدمہ درج کرلیا گیا، دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 29 زخمی ہوئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ انار کلی بازار دھماکے کامقدمہ تھانا سی ٹی ڈی میں درج کرلیا گیا ہے، مقدمہ ایس ایچ او تھانا سی ٹی ڈی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمےمیں دہشت گردی، ایکسپلوزوایکٹ، 302، 324 ، دیگر دفعات لگائی گئی ہیں۔

     

     

    پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں 3 نامعلوم دہشت گردوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

     

     

     

     

    ادھر دوسری طرف لاہور انارکلی میں ہونے والے بم دھماکے کے متعلق آئی جی پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی جس کے مطابق لاہور دھماکا پلانٹڈ ڈیوائس سے کیا گیا۔

    ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکے میں ڈیڑھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا، دھماکے میں ایک عمارت اور 8 موٹرسائیکلوں کو نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکے میں 29 افراد زخمی اور 2 جاں بحق ہوئے، جاں بحق افراد میں رمضان اورابصار شامل ہیں۔

    ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکا ایک بج کر 40منٹ پر ہوا، 1بجکر 44منٹ پر نامعلوم شخص کی کال آئی، کال میں بتایا گیا نیو انار کلی میں دھماکا ہوا۔

    وزیراعلیٰ کو پیش رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اطلاع ملتے ہی لاہور پولیس سمیت انتظامیہ فوری پہنچی، پولیس، فارنزک ایجنسیاں اور دیگر تحققیاتی ادارے جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔

    ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بارودی مواد کی تنصیب سے متعلق سی سی ٹی وی کیمروں سے مدد لی جارہی ہے، بعض مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا جن سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

  • انار کلی بازار میں دھماکہ، اموات میں اضافہ ،وزیراعظم، شہباز،بلاول، مریم کی مذمت

    انار کلی بازار میں دھماکہ، اموات میں اضافہ ،وزیراعظم، شہباز،بلاول، مریم کی مذمت

    انار کلی بازار میں دھماکہ، اموات میں اضافہ ،وزیراعظم، شہباز،بلاول، مریم کی مذمت
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچ نیشنل آرمی نے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے انارکلی میں ہونے والے دھماکے کی ذمے داری قبول کرلی۔ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اس کی پہلی کارروائی ہے بم بینک الحبیب کے سامنے نصب کیا گیا تھا حملے کا ہدف بینک کے ملازمین تھے

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں دھماکہ ہوا ہے ،دھماکہ لاہور کے معروف بازار انار کلی میں ہوا، دھماکے کے نیتجے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 26 افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے، جائے وقوعہ کو سیل کر دیا گیا ہے

    پولیس کے مطابق دھماکہ پرائز بانڈ کی دکان میں ہوا، زخمیوں کومیو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اسسٹنٹ کمشنر سٹی فیضان احمد میو اسپتال پہنچ گئے، دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر موجود موٹر سائیکلوں کو آگ لگ گئی تھی ، دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی دھماکہ کی شدت سے قریب دکانوں اور بینک کے شیشے ٹوٹ گئے دھماکے سے چھ موٹر سائیکلیں تباہ ہوئی ہیں، جبکہ جائے وقوعہ پر گڑھابھی پڑھ گیا ہے ،دھماکے سے 1 بینک،15 دکانیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں

    دھماکے میں زخمی ہونے والے دو افراد کی شناخت ہو گئی۔ زخمی ہونے والوں میں 30 سالہ عدنان اور 40 سالہ جمیل شامل ہیں۔ 22 افراد زخمی جبکہ 5 افراد کی حالت نازک ہے دھماکے سے 31 سالہ محمد رمضان جاں بحق ہو گیا دھماکے سے جاں بحق ہونے والوں میں 9 سالہ بچہ بھی شامل ہے جاں بحق ہونے والا بچہ کراچی سے لاہور آیا تھا،

    ڈی سی لاہور عمر شیر چٹھہ نے انار کلی پان منڈی کے قریب سلنڈر دھماکے کا نوٹس لے لیا. سلنڈر دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ،متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور ریسکیو 1122 کو فوری جائے وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت بھی کی، فوری موقع پر پہنچ کر معاملہ کی چھان بین کرنے کی ہدایات دیں، اور کہا کہ ریسکیو 1122 زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کریں.

    نجی ٹی وی کے مطابق پان منڈی کے قریب ہونیوالہ دھماکہ ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا، فارنزک ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ تعین کیا جارہاہے کہ دھماکے میں کتنا بارودی مواد استعمال کیا گیا

    وزیراعلیٰ پنجاب نے انارکلی میں مبینہ سلنڈر دھماکے کے واقعہ پر نوٹس لے لیا اور انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی، وزیراعلیٰ نے ہدایات دیں کہ “زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔واقعہ کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے

    ڈی سی لاہور عمر شیر چٹھہ نے سول ڈیفنس آفیسر کو ہدایت کیانار کلی میں بم ڈسپوزل اسکواڈ تعینات کیا جائے اور انار کلی کی مکمل سوپنگ کی جائے. انار کلی دھماکہ میں ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے، زخمی ہونے والے تمام افراد کو اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے اور تمام تر طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ واقع میں ملوث عناصر جلد قانون کی گرفت میں ہونگے۔

    لاہور دھماکے کے بعد کے مناظر کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر آئی ہیں، ویڈیو میں دھماکے کے بعد گاڑیوں، موٹر سائیکلوں میں آگ لگی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے جبکہ لاشیں اورزخمی بھی زمین پر پڑے نظر آ رہے ہیں، ویڈیو ز میں خؤفناک مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں

    ایم ایس میو ہسپتال کا کہنا ہے کہ 18 زخمیوں کومیو اسپتال لا یا گیا میو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے 5 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے زخمیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے ،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا پتہ لگایا جارہا ہے ،شواہد اکھٹے کیے جارہے ہیں ہوسکتا ہے دھماکے میں موٹرسائیکل استعمال کی گئی ہو تحقیقات جاری ہے ،کچھ کہنا قبل ازوقت ہے ابتدائی معلومات کے مطابق پلانٹڈ ڈیوائس لگائی گئی دھماکے میں کون ملوث ہے جلد پتہ لگا لیا جائے گا، اسپتا ل انتظامیہ نے زخمیوں اور جاں بحق افراد کی فہرست تیار کرلی ، کمشنر لاہور کا کہنا تھا کہ الرٹ جاری ہوئی تھی لیکن کسی خاص جگہ کا ذکر نہیں تھا،

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں بم دھماکے کی مذمت کی ہے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار افسوس کیا اور کہا کہ پنجاب حکومت زخمیوں کے فوری بہتر علاج و معالجے کے لئے اقدامات کرے، بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں طالبان دہشت گردوں کی جانب سے پولیس افسران کی شہادت کے بعد اب انارکلی میں دھماکا تشویش ناک ہے، ڈیرہ اسماعیل خان میں اس سے قبل فرقہ وارانہ واقعے میں تین افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ہلاکت ہوئی،

    قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے لاہور دھماکے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ لاہور دھماکے سے قیمتی جانی نقصان پر افسوس ہے،اسلام آباد کے بعد لاہور میں دہشت گردی ملک کے لیے نیک فال نہیں،

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انار کلی بازار جسے پر ہجوم اور مصروف ترین علاقہ میں دھماکہ ایک نہایت افسوسناک اور تشویشناک واقعہ ہے۔ ایک بچے سمیت ۳ افراد جاں بحق اور درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ اللّہ ان سب پر، انکے خاندانوں پر اور پاکستان پر رحم فرمائے

    مسلم لیگ ن کی رہنما رکن پارلیمنٹ حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ انارکلی لاہور میں دھماکے کی شدید مذمت کرتی ہوں، میری ہمدردیاں ان تمام خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیارے اس دھماکے میں کھو دیے۔۔۔نااہل حکومت میں اب دوبارہ دھماکے بھی شروع ہو گئے

    سینئر قانوندان علی احمد کرد نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور انار کلی دھماکہ تین افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہونے پر دلی افسوس ہوا۔اللہ تعالیٰ دہشتگردی کرنے والوں کو نیست و نابود فرمائے۔

    https://twitter.com/AdvAliAhmedKurd/status/1484116571480068097

    خرم نواز گنڈاپور سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک کا کہنا ہے کہ انارکلی لاہور میں دھماکہ کی مذمت کرتے ہیں، ذمہ داروں اور سہولت کاروں کو فوری گرفتار کیا جائے، دھماکہ ”الارم“ ہے سکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے، دھماکہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے دلی افسوس کا اظہار کرتے ہیں

    وزیر اعظم عمران خان نے لاہور دھماکے کا نوٹس لے لیا۔وزیر اعظم عمران خان نے قیمتی جانوں کے ضیا پر اظہار افسوس کیا ، وزیراعظم عمران خان نے انارکلی دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے دھماکے کی ابتدائی رپورٹ فوری طلب کر لی ہے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمہ داروں کو فوری گرفتار کیا جائے،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انارکلی بازار لاہور دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے انسانی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ لاہورانارکلی دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں دھماکے سے انسانی جانوں کے ضیاع پر انتہائی دکھ ہوا۔ زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لئے دعاگو ہوں۔پنجاب حکومت سے انارکلی دھماکے کی رپورٹ طلب کی ہے

    پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کی قیادت نے لاہور انار کلی بازار میں بم دھماکے کی مذمت کی ہے، پی پی پی رہنماؤں نے لاہور دھماکے میں شہید ہونے والوں کے ورثا سے ہمدردی اور تعزیت اظہار کیا ، صوبائی صدر میر چنگیز خان جمالی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کی نرسریوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ منصوبہ سازوں کو بھی کچل دیا جائے، صوبائی جنرل سیکرٹری روزی خان کاکڑ کا کہنا تھا کہ معصوم انسانوں کے قاتل وحشی درندے ہیں ان کے جرائم ناقابل معافی ہیں، صوبائی سیکرٹری اطلاعات سردار سربلند خان جوگیزئی کا کہنا تھا کہ اس سوچ کو شکست دینی ہوگی جو سوچ شدت پسندی کو جنم دے رہی ہے،پی پی پی بلوچستان کی قیادت نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے بھی دعا کی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف نے لاہور میں بم دھماکے کی مذمت کی، اور کہا کہ
    حکومت انار کلی دھماکے کے زخمیوں کے فوری علاج معالجے کا بندوبست کرے٬افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونیوالوں کے خاندانوں کو فوری معاوضہ ادا کیا جائے٬امن و امان کی صورتحال پر تشویش ہے، حکومت قانون کی عملداری یقینی بنائے٬ عوامی مقامات کی سیکیورٹی کو سخت بنانا ہو گا٬انتہا پسندی اور دہشت گردی کی لہر پر قابو پانے کیلئے نیشنل ایکشن پروگرام پر عمل درآمد کیا جائے٬دھماکے میں جاں بحق ہونیوالوں اور زخیموں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں٬