Baaghi TV

Tag: انتخاب

  • سینیٹ کے 52 ارکان 11 مارچ کو ریٹائر ہو جائیں گے

    سینیٹ کے 52 ارکان 11 مارچ کو ریٹائر ہو جائیں گے

    سینیٹ کے 52 ارکان 11 مارچ کو ریٹائر ہو جائیں گے
    مجموعی طور پر مسلم لیگ ن کی حمایت سے منتخب سینیٹرز کی 13، پیپلز پارٹی کی 12 ، پی ٹی آئی کی 8، جمیعت علماء اسلام ف کی 2، پی کے میپ کی حمایت سے منتخب 2، نیشنل پارٹی کی 2، بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت سے منتخب 6، جماعت اسلامی کی 1, ایم کیو ایم کی 1، مسلم لیگ فنکشنل کی 1 نشستیں خالی ہوں گی ۔

    پی ٹی آئی کے 17،پیپلز پارٹی کی 9، مسلم لیگ ن کے 5، بلوچستان عوامی پارٹی کی 7، جمیعت علماء اسلام ف کی 3، ایم کیو ایم کے 2،اے این پی کی 2مسلم لیگ ق کے 1، 2 آزاد نشست باقی رہ جائیں گی۔ فاٹا انضمام کے بعد سینیٹ میں بقایہ فاٹا کے4 آزاد سینٹرز کی مدت مکمل ہونے کے بعد سینیٹ سے فاٹا نشستیں ختم ہو جائیں گی۔

    اسلام آباد سے دو سینٹرز اسد جونیجو اور مشاہد حسین سید ریٹائر ہو جائیں گے ۔

    سندھ سے 12 سینٹرز ریٹائر ہوں گے ، ان میں سینٹر رضا ربانی ، امام دین شوقین ، مولو بخش چانڈیو، سید محمد علی شاہ جاموٹ، فروغ نسیم ، مظفر شاہ ، وقار مہدی ، خالدہ سکندر میندرو ، رخسانہ زبیری ، کیشو بائی، قرت العین مری اور انور لعل دین شامل ۔
    پنجاب سے ریٹائر ہونے والے 12 سینٹرز میں قائد ایوان اسحاق ڈار اور قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم کے علاوہ ڈاکٹر آصف کرمانی، رانا محمود الحسن، مصدق ملک، شاہین خالد بٹ، ولید اقبال ، حافظ عبدالکریم ، نذہت صادق ، سیمی ایزدی، کامران مائیکل شامل ہیں۔ رانا مقبول کی نشست انکے انتقال کے باعث خالی ہو گئی تھی۔

    خیبر پختونخوا سے ریٹائر ہونے والے 11 سینٹرز میں بہرمند خان تنگی ، فیصل جاوید ، فدا محمد، پیر صابر شاہ ، طلحہ محمود ، مشتاق احمد، دلاور خان ، اعظم سواتی ، مہر تاج روغانی اور دوبینہ خالد شامل ۔ شوکت ترین کی نشست استعفی کے بعد پہلے ہی خالی ہو چکی ۔

    بلوچستان سے ریٹائر ہونے والے 11سینیٹرز میں چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی ، احمد خان، مولوی فیض محمد ، کہدا بابر ، محمد اکرم ، شفیق ترین، طاہر بزنجو، نصیب اللہ بازئی ، عابدہ عظیم اور ثنا جمالی شامل ہیں۔

    فاٹا سے چار سینیٹرز ہدایت اللہ خان ، ہلال الرحمان ، شمعیم افریدی اور ڈپٹی چئیرمین مرزا محمد آفریدی ریٹائر ہو جائیں گے۔عام انتخابات میں کامیابی کے بعد 6 سینیٹر کی نشستیں خالی ہو گئی ہیں جن پر ضمنی الیکشن 14 مارچ کو ہو گا۔

    الیکشن کمیشن کا سینیٹ کےعام انتخابات 3اپریل کو کرانے کا فیصلہ
    سینیٹ کی48نشستوں پر عام انتخابات 3اپریل کوہوں گے،الیکشن کمیشن نے سینیٹ کے عام انتخابات کا شیڈول تیار کرلیا،سینیٹ کے انتخابات کیلئے پولنگ3اپریل کو قومی و چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی،3 اپریل کو سندھ،پنجاب سے بارہ،بارہ جبکہ اسلام آباد کے دو سینیٹرز کاانتخاب ہوگا ،خیبر پختوانخواہ اور بلوچستان سے گیارہ،گیارہ نئے سینیٹرز منتخب ہوں گے ،

    رپورٹ، محمد اویس ،اسلا م آباد

    سینیٹ اجلاس، گرفتار خواتین کو رہا کرو، پی ٹی آئی کا احتجاج،جے یو آئی کا بھی مطالبہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،33 بل منظور،زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی کی ترمیم مسترد

    ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد

    پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہے،سینیٹر مشتاق احمد

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    چیئرمین سینیٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے

     سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے بہرامند تنگی نے اپنی قرارداد واپس لے لی

  • پاکستان کے24ویں وزیراعظم کا انتخاب آج

    پاکستان کے24ویں وزیراعظم کا انتخاب آج

    اسلام آباد: پاکستان کے24ویں وزیراعظم کا انتخاب آج ہوگا،شہباز شریف اور عمر ایوب میں مقابلہ ہوگا۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے لیے شہباز شریف اور عمر ایوب کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے،وزارت عظمیٰ کے لیے اتحادی جماعتوں کے امیدوار شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی سیکرٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کرائے گئے جو سیکرٹری جنرل قومی اسمبلی طاہر حسین نے وصول کیے۔شہباز شریف کے مقابلے میں سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب کے بھی کاغذات جمع کرائے گئے۔

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق شہباز شریف کے لیے 8 اور عمر ایوب کے لیے 4 کاغذات نامزدگی جمع کرائےگئے جنہیں جانچ پڑتال کے بعد منظور کرلیا گیا۔

    واضح رہے کہ 336 رکنی ایوان میں وزارت عظمیٰ کے لیے 169 ووٹ درکار ہیں اور اتحادی جماعتوں کو 209 ارکان کی حمایت حاصل ہے،مسلم لیگ (ن) کو پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، استحکام پاکستان پارٹی کی حمایت حاصل ہے جب کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے عمر ایوب وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں اور ایوان میں ان کے اراکین کی تعداد 91 ہے۔

  • کرم این اے 45:ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف نے میدان مارلیا

    کرم این اے 45:ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف نے میدان مارلیا

    پشاور:خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 45 پر ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف نے میدان مارلیا۔اس حلقے سے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان بھاری لیڈ سے کامیاب ہوگئے ہیں‌

    غیر ختمی غیر سرکاری تنائج کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان 20 ہزار 748 ووٹ لے کر جیت گئے جبکہ حکمران اتحاد کے حمایت یافتہ جے یو آئی امیدوار جمیل خان 12 ہزار 718 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

    ضمنی انتخاب کے لئے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔ این اے 45 کی نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے رکن فخر زمان کے مستعفی ہونے سے خالی ہوئی تھی۔

    حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹرزکی تعداد ایک لاکھ 98 ہزار618 ہیں جن میں سے مرد ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 11 ہزار349 ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد87 ہزار 269 ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق حلقے میں کل 143 پولنگ اسٹشنز قائم کئے گئے تھے۔

    خیال رہے کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے خاتمے کے بعد خیبر پختونخوا میں ہونے والے تمام ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی ہی کامیاب ہوئی ہے۔

  • الیکشن کمیشن نے  ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کر دیئے

    الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کر دیئے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں منعقد ہوا، اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن ، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے الیکشن کمیشن کو بریف کیا کہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کی درج ذیل حلقہ جات میں الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کے لیے شیڈول دیا ہوا ہے جس کے مطابق پولنگ 11 ستمبر، 25 ستمبر اور 2 اکتوبر 2022ء کو ہو گی۔

    جن حلقوں میں الیکشن ملتوی ہوئے ہیں ان میں این اے 157، پی پی 139 شیخوپورہ، پی پی 241 بہاولنگر، این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 45 کرم، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ، این اے 237 کراچی، این اے 239 کراچی، این اے 246 کراچی، پی پی 209 خانیوال کے حلقے شامل ہیں۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ حالیہ تباہ کارشوں اور سیلاب سے سندھ، خیبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ذرائع آمدورفت مخدوش ہو چکے ہیں، عمارات تباہ ہو گئی ہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہیں، اور قومی ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ تمام قومی ادارے جن میں پولیس، پاک، فوج، رینجرز سمیت دیگر الیکشن ڈیوٹی میں تعینات کیے گئے تھے، سیلاب متاثرین میں خوراک کی ترسیل اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کی وجہ سے ضروری امدادی کارروائیوں اور متاثرین کی محفوظ مقامات پر آباد کاری میں انتہائی حد تک مصروف ہیں، الیکشن کمیشن نے 23 اگست کو وزارت داخلہ کو ضمنی انتخابات کے پر امن انتخابات کے لیے پاک فوج، رینجرز سمیت دیگر کی خدمات حاصل کی تھیں، تاکہ پر امن انتخابات کروائے جا سکیں، لیکن تاحال مذکورہ قومی ایمرجنسی کی وجہ سے الیکشن کے انعقاد کے لیے ان کی تعیناتی کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی۔ مزید برآں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ ہے جہاں پر حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے گئے ہیں جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔

    ترجمان کے مطابق وزارت داخلہ نے جو فیڈ بیک دیا ہے اس میں کہا گیا ہے پاک فوج، رینجرز، ایف سی ملک میں سیلاب زدگان کی امدادی کارروائیوں، اندرونی سکیورٹی اور دہشتگردی کی کارروائیوں کی روک تھام میں مصروف ہیں، اسی طرح ملٹری اتھارٹیز نے بھی سیلابی قومی سانحہ کا حوالہ دیا ہے جس کی وجہ سے وزیراعظم نے نیشنل فنڈ بھی قائم کیا ہے اور عالمی طور پر امداد کی اپیل کی گئی ہے تاکہ اس قومی سانحہ سے نمٹا جا سکے اور کہا کہ فوج، رینجر اور ایف سی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے لہٰذا ان حالات کی وجہ سے امدادی کارروائیوں سے واپس بلانا اور پر امن الیکشن کے انعقاد کے لیے دستیابی مشکل ہے۔

    بیان کے مطابق صوبائی الیکشن کمیشن سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب نے بھی موجودہ حالات میں ضمنی انتخابات کے انعقاد کو ناممکن قرار دیا اور بتایا کہ مختلف سرکاری عمارتوں میں سیلاب متاثرین کو رکھا گیا ہے اور جہاں سے امدادی خوراک کی ترسیل بھی کی جا رہی ہے جو کہ پولنگ سٹیشنوں کے لیے مختص کی گئی تھیں۔

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق تمام صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام حلقوں میں ضمنی انتخابات کی صرف پولنگ تاریخوں کو ملتوی کیا جاتا ہے، باقی مراحل الیکشن کمیشن کے مطابق مکمل ہوں گے اور حالات کی بہتری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دستیابی پر الیکشن کمیشن جلد نئی پولنگ کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔

  • پنجاب اسمبلی، نئے سپیکر کا انتخاب کل ہو گا

    پنجاب اسمبلی، نئے سپیکر کا انتخاب کل ہو گا

    پنجاب اسمبلی میں نئے اسپیکر کے انتخاب کیلئے قرارداد منظورکر لی گئی ہے

    ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے بھی قرارداد منظور کر لی گئی ہے قرارداد راجہ بشارت نے پیش کی پنجاب اسمبلی میں نئے اسپیکر کا انتخاب کل شام 4 بجے ہو گا ،کل 4 بجے پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کے انتخاب کےلیے خفیہ رائے شماری ہو گی، تحریک انصاف نے سبطین خان کو اسپیکر پنجاب اسمبلی کا امیدوار نامزد کیا ہے

    پنجاب اسمبلی کے پہلے سپیکر پرویز الہیٰ تھے انکے وزیراعلیٰ بننے کے بعد پی ٹی آئی نے سبطین خان کو سپیکر کا امیدوار نامزد کیا ہے،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے جو ہرزہ سرائی کی وہ اسے زیب نہیں دیتی ہم سمجھتے ہیں ایک آزاد عدلیہ ہماری ضرورت ہے،گورنر پنجاب کو وزیراعلیٰ کا حلف لینا چاہیے تھا سپریم کورٹ نے پرویز الہٰی سے حلف لینے کا حکم دیا تھا، کئی چیزیں پسند کی نہیں ہوں گی، انہیں آئین اور قانون دیکھنا ہوگا،پنجاب کی کابینہ تشکیل پائے گی اور اس کا حلف بھی ہوگا

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    تحریک انصاف کی مرکزی رہنما و چیئر پرسن قائمہ کمیٹی داخلہ مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ جعلی حکومت نے ہمارے دور کے جتنے بھی عوامی فلاح کے منصوبے ختم کئے تھے انہیں دوبارہ شروع کیا جارہا ہے ،جعلی حکومت نے عمران خان کے بغض میں پنجاب میں جاری عوامی فلا ح و بہبود کے درجنوں منصوبے روک دئیے تھے لیکن ان شا اللہ اتحادی حکومت ان تمام منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے جارہی ہے جس کے لئے پالیسی مرتب کر لی گئی ہے۔ اب عمران خان کی قیادت میں ملک کے طول و عرض میں عوام کے راج کا دور دورہ ہوگا اتحادی ابھی تک صدمے سے باہر نہیں نکل سکے اور دھمکیاں دے رہے ہیں ،

    مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی سابق مرکزی سیکرٹری جنرل و رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرا نقوی نے کہا ہے کہ تاریخی فتح حاصل کرنے پر چوہدری پرویز الہی کو مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔ عوامی مینڈیٹ کی فتح،انصاف کی بالادستی دراصل امریکی عزائم کی شکست ہے ۔ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم سیاستدانوں کو ملکی سیاست سے بے دخل کرنے کے لیے طویل اور صبر آزما جدوجہد استقامت کے ساتھ ہمیشہ جاری رکھیں گے

    انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت نے ملک میں عدم استحکام اور اداروں کی بے توقیری کی ہے جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی فتح نے اتحادی جماعتوں کی پالیسیوں سے بیزاری کا اظہار ہے عوام اپنے غم و غصہ کا اظہار ووٹ کے ذریعے کرتے ہیں اور انہوں نے بھرپور اظہار کیا اب اتحادی جماعتوں کو عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے اور ملک میں استحکام کو تقویت دینے میں کردار ادا کرنا چاہیے

    مسلم لیگ ق کے رہنما و مسلم لیگ یوتھ ونگ کے مرکزی صدر سید بلال مصطفی شیرازی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کوغلط قرار دے کر پاکستان مسلم لیگ کے 10اراکین اسمبلی کے ووٹوں کو درست قرار دے کر چوہدری پرویز الہٰی کا وزارت اعلیٰ پنجاب کا عہدہ سنبھالنا ووٹ کو عزت دو کے نعرے کا عملی مظاہرہ ہے۔سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کی فتح ہے۔خرید و فروخت،چھانگا مانگا اور چور دروازے سے اقتدار سنبھالنے والوں کی شکست ہوئی اور ضمنی انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کی فتح ہوئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کے تمام اراکین پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کی قیادت میں متحد ہیں۔

    ید بلال مصطفی شیرازی نے کہا کہ چوہدری پرویز الہٰی کے سابق وزارت اعلیٰ پنجاب کے دور میں صوبہ خوشحالی و ترقی کی راہوں پر گامزن تھا اور پنجاب میں مثالی ترقی ہوئی تھی اب ایک بار پھر چوہدری پرویز الہٰی کی قیادت میں پنجاب خوشحالی و ترقی کی راہوں پر گامزن ہوگا

  • پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    سپریم کورٹ ،ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق کیس ،فیصلہ سنا دیا گیا

    فیصلہ لیٹ ہونے پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں، چودھری پرویز الہیٰ کی ڈپٹی سپیکر کے خلاف درخواست منظور کر لی گئی ہے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ درست نہیں اسکا کوئی قانونی جواز نہیں، پرویز الہیٰ پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں،

    فیصلے کی تفصیل بعد میں جاری کی جائے گی، حمزہ شہباز کے ووٹ 179 تھے، جبکہ پرویز الہیٰ کو 186 ووٹ ملے جسکی بنیاد پر پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ قرار پائے، حمزہ شہباز کی کابینہ کا نوٹفکیشن کالعدم قرار دے دیا گیا ہے،حمزہ شہباز نے جو حلف اٹھایا وہ بھی غیر آئینی ہے چیف سیکریٹری پرویز الہٰی کابطور وزیراعلیٰ نوٹیفکیشن جاری کریں،گورنر پنجاب پرویز الہیٰ سے حلف لیں ، آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک حلف لیا جائے،اگر گورنر دستیاب نہ ہوں تو صدر مملکت حلف لیں، حکم پر عمل یقینی بنایا جائے، حمزہ شہباز نے جو بھی قانونی کام کئے وہ برقرار رہیں گے اس آرڈر کی کاپی گورنر، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکریٹری کو ارسال کریں،

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی، بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے ،

    سپریم کورٹ میں مونس الہیٰ اور حسین الہیٰ سپریم کورٹ میں موجود ہیں. ق لیگ کے 9 ارکان بھی چوہدری مونس کے ہمراہ سپریم کورٹ میں موجود تھے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے شبلی فراز بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے سپریم کورٹ کی سیکورٹی سخت کی گئی تھی ، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر موجود تھی ،خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی سپریم کورٹ کے باہر تعینات کیا گیا تھا، عدالت کے باہر قیدیوں کی گاڑی بھی موجود تھی ،سپریم کورٹ کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی موجود تھے


    قبل ازیں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل احمد اویس عدالت میں پیش ہوئے ،احمد اویس نے کہا کہ وزیر اعلی کے انتخاب کا معاملہ ہے دو اپریل سے چل رہا تھا،یہ معاملہ پہلے کیوں سب کو یاد نہ آیا،سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے کس پیرا کی بنیاد پرہمارے ووٹ شمار نہیں کئے،اس میں کوئی شک نہیں 63 اے کے مطابق پارٹی ہیڈ کا اہم کردار ہوتا ہے تین ماہ سے وزیر اعلی پنجاب کا معاملہ زیر بحث تھا

    علی ظفر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں 63 اے کے مطابق پارٹی ہیڈ کا اہم کردار ہوتا ہے ،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ ق لیگ کے تمام ارکان کو علم تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے،علی ظفر نے کہا کہ پارٹی ہیڈ پارٹی کی کئی کمیٹیوں کا سربراہ بھی ہوتا ہے،عائشہ گلالئی کیس میں عدالت پارٹی سربراہ کے کردار کا جائزہ لیا گیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو بیس منحرف ارکان تھے ان میں سے کتنے ارکان نے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا؟ علی ظفر ابھی جو آپ دلائل دے رہے ہیں وہ کولیٹرل دلائل ہیں، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ جو ممبران منحرف ہوئے انہوں نے دوبارہ دوسری پارٹی کی ٹیکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا ،علی ظفر نے کہا ہک عائشہ گلالئی کیس کا فیصلہ میرے موکل کے خلاف ہے لیکن آئین کے مطابق ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ یکم جولائی کے سپریم کورٹ کا حکم نامہ کیا اتفاق رائے پر مبنی تھا ؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ جی وہ اتفاق رائے پر مبنی فیصلہ تھا ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی اعتراض کیا جاسکتا ہے ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دونوں فریقین اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ انتخابات کے بعد جو نتیجہ آیا تھا اس پر رن آف الیکشن ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں وزیر اعلی کے انتخاب تک حمزہ شہباز کو وزیر اعلی رہنے کی ہدایت کی تھی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پل کے نیچے بہت زیادہ پانی گزر چکا ہے اب اس معاملے کو کیسے سن سکتے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایڈووکیٹ جنرلز کے جواب کا انتظار کررہے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق نہیں دی، ڈپٹی اسپیکر الیکشن کمیشن کے فیصلے کا پابند بھی نہیں ہے،

    ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو رضا مندی دی گئی ضمنی الیکشن ہونے دیا جائے یہ یقین دہانی بھی دی گئی کہ ضمنی الیکشن کے نتائج پر رن آف الیکشن کرایا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کو وزیراعلی کا الیکشن ضمنی انتخابات کے بعد ہونے کا حکم فریقین کے اتفاق رائے سے تھا،کیا ضمنی انتخابات کے بعد منحرف ارکان کی اپیل تک سماعت روکنے کا اعتراض ہو سکتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ اصولی طور پر منحرف ارکان کی اپیلوں کو پہلے سننے کا اعتراض نہیں بنتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں عدالت نے نوٹسز جاری کرکے کہا تھا قانونی نکات پر دلائل دیئے جائیں، اس عدالت کے 8 ججز نے اپنے گزشتہ فیصلے میں کیا کہا تھا وہ دیکھ لیا ہے،آرٹیکل 63 اے پر تشریح ہوچکی ہے اس پر اب مزید ضرورت نہیں، یہاں پر کوئی اور ہے جو دلائل دے؟ اس صورتحال میں ہم ایک وقفہ کرتے ہیں ،

    وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ یہ لوگ نظر ثانی کی بنیاد پر تمام کارروائی روکنا چاہتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اظہر صدیق اپ کس کی نمائندگی کررہے ہیں؟ وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ 20میں سے 16 منحرف ارکان نے ن لیگ،2 نے آزاد الیکشن لڑا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نہیں ہیں تو مجھے دلائل دینے کی اجازت دی جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اٹارنی جنرل بیمار ہیں اور بیرون ملک علاج کرا رہے ہیں ،اٹارنی جنرل یکم کو آئیں گے اس وقت تک انتظار نہیں کرسکتے، آپ دلائل دیں،ہم نے سماعت کے پہلے حصے میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے معاملے پر دلائل سنے،دوسرے حصے میں ہم نے پارٹی ہیڈ کے متعلق دلائل سنے، عامر رحمان نے کہا کہ آرٹیکل 63 والے کیس میں پارٹی ہیڈ اور پارلیمانی پارٹی کے کردار پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی، ایک فل کورٹ نے 2015میں پارٹی ہیڈ کے بارے میں فیصلہ دیا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہم آپ کا نکتہ سمجھ گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ جس فیصلے کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ ایک رائے تھی یا فیصلہ تھا ؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کو اختیار دینا ضروری ہے،پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کرنا پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2015 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہدایت دے سکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل آپ ایسے دلائل دیں جو ہمیں مطمئن کریں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی کاروائی کا جو مسودہ ہمیں دیا گیا ہے اس میں ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی اور کہا کہ اس کو چیلنج کرسکتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ڈپٹی اسپیکر پڑھے لکھے ہیں ، آرٹیکل 63 کی جو زبان ہے وہ ایک عام ادمی بھی سمجھ سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے تمام وکلا نے عدالت کی معاونت کی ہے۔ گزشتہ دن دوسرے فریقین نے اپنے جواب جمع کرائے ،سماعت میں وقفہ کرتے ہیں ، پونے 6 بجے فیصلہ سنائیں گے،

    منگل وقفے سے قبل کی سماعت پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    سپریم کورٹ میں بڑی سماعت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق متوقع فیصلے کے پیش نظر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،سپریم کورٹ کے اطراف آنیوالے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، ڈی چوک، نادرا چوک سمیت دیگر شاہراہوں کو بند کر دیا گیا خار دار تاریں، بلاکس لگا کر بند کیا گیا ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کے الیکشن سے متعلق گزشتہ روز کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،حمزہ شہباز ،ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وکلاء کی طرف سے مزید وقت مانگا گیا ہے فریق دفاع کے وکلاء کی مزید وقت کی استدعا منظور کی جاتی ہے تمام وکلاء 26 جولائی کو مقدمے کی تیاری کرکے آئیں،

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب،چوہدری نثارکس کی حمایت کریں گے:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب،چوہدری نثارکس کی حمایت کریں گے:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    لاہور:پنجاب میں کچھ دیر بعد وزیراعلی کا انتخاب ہونے جارہا ہے دوسری طرف یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ چوہدری نثار کا فیصلہ بھی بہت اہمیت اختیار کرسکتا ہے ، لیکن انہیں خبروں کے وائرل ہونے کے ساتھ ہی یہ معلوم ہوا ہے کہ چوہدری نثارفیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں

    سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار آج بھی پنجاب اسمبلی کی کارروائی میں شریک نہیں ہونگے۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار لاہور جانے کے بجائے راولپنڈی میں موجود ہیں۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی س چوہدری نثار نے فیض آباد راولپنڈی میں اپنی رہائش گاہ کے قریب نماز جمعہ ادا کی۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر جب چوہدری نثآر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ لاہور جارہے ہیں تو چوہدری نثارعلی خان نے جواب دیا کہ لاہور جانے کا آج کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    پنجاب کا چوہدری کون ہو گا ؟ فیصلہ آج ہو گ

    چوہدری نثار سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا آپ کولگتا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا انتخابی عمل آج مکمل ہوجائے گا؟۔ اس پران کا کہنا تھا کہ مجھے اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل چوہدری نثار نے پہلے وزیراعلیٰ کے انتخاب ميں کسی امیدوار کو ووٹ نہیں ڈالا تھا۔

    موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے،عمران خان

    چوہدری نثار 2018 کے انتخابات میں راولپنڈی سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ چوہدری نثار نے گزشتہ سال قانونی پابندی کے باعث رکن صوبائی اسمبلی کا حلف اٹھایا تھا۔

    ادھر دوسری طرف پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب پر حکمرانی کیلئے نئے وزیراعلیٰ کا چناؤ آج تھوڑی دیربعد ہونے جا رہا ہے، جس میں پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے حمزہ شہباز اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مسلم لیگ قائداعظم (ق) کے چوہدری پرویز الہٰی آمنے سامنے ہیں۔

    وزیراعلی پنجاب کا انتخاب،آصف زرداری کی شجاعت حسین سے دوسری اہم ملاقات،رات گئے تک جوڑ توڑ

    ضمنی انتخاب میں کامیاب لودھراں سے منتخب ہونے والے رکن پیر رفیع الدین بخاری نے حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کا اعلان کردیا۔ پیر رفیع الدین کا کہنا ہے کہ وزارت اعلی کے لیے حمزہ شہباز کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابھی کسی جماعت میں شامل نہیں ہورہا فی الحال حمزہ شہباز کا ساتھ دے رہا ہوں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب:صوبائی اسمبلی کیلئےضابطہ اخلاق جاری:دفعہ 144نافذ

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب:صوبائی اسمبلی کیلئےضابطہ اخلاق جاری:دفعہ 144نافذ

    لاہور:کل پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے انتخاب ہونے جارہا ہے اور اس سلسلے میں تمام ترحفاظتی اور قانونی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، اس سلسلے میں اسمبلی سیکریٹریٹ کی طرف سے کچھ احکامات بھی جاری کیئے گئے ہیں

    جیسا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 22 جولائی 2022 کو وزیراعلیٰ پنجاب کے آزاد اور شفاف انتخاب کے انعقاد کیلئے صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ کی طرف سے ضابطہ اخلاق جاری کردیا گیا ہے۔

    کل کے حوالے سے جاری کردہ جوضابطہ اخلاق سامنے آیا ہے اس کے مطابق اسمبلی سیکریٹریٹ میں اراکین اسمبلی اور اسمبلی اسٹاف کے مہمانوں کے داخلے پر مکمل پابندی ہوگی۔اس کے ساتھ ساتھ اسپیکر باکس، آفیسر باکس اور مہمانوں کی گیلریاں بند ہوں گی، تاہم میڈیا گیلری کھلی ہوگی۔

    اس سلسلے میں مزید بتایا گیا ہے کہ جاری ضابطے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اراکین اسمبلی سے گزارش ہے کہ اسمبلی کی طرف سے جاری کردہ شناختی کارڈ ہمراہ رکھیں، جب کہ ایوان میں موبائل فون لے جانے پر پابندی ہوگی۔

    سیکریٹری پنجاب اسمبلی کی طرف سے یہ بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اراکین اسمبلی کا اسمبلی سیکریٹریٹ میں داخلہ ڈیوٹی فری شاپ کی طرف واقع گیٹ سے ہوگا۔

    اس موقع پر پولیس اسمبلی سیکریٹریٹ کی چار دیواری کے باہر انتظامی معاملات کنٹرول کرے گی۔ میڈیا پریس گیلری کے ذریعے وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کی کوریج کر سکے گا۔

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس 22 جولائی بروز جمعہ کو دوپہر 2 بجے شروع ہوگا۔

     

    دوسری جانب اجلاس کے پیش نظر اسمبلی کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے دفعہ 144لگائی جائے گی۔ اس دوران اسمبلی میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔مال روڈ پر ہجوم اور 3 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی۔

  • جیالے میدان میں آ چکے،الیکشن کی تیاری شروع کردیں، آصف زرداری

    جیالے میدان میں آ چکے،الیکشن کی تیاری شروع کردیں، آصف زرداری

    جیالے میدان میں آ چکے،الیکشن کی تیاری شروع کردیں، آصف زرداری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق این اے 133 ضمنی انتخاب، 9 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں

    پیپلز پارٹی کے اسلم گل کے علاوہ کوئی بھی امیدوار حاصل کردہ ووٹوں کی مقرر حد تجاوز نہ کر سکا ،ریٹرننگ افسر کا کہنا ہے کہ امیدوار کوضمانت ضبطگی سے بچنے کیلئے ٹوٹل کاسٹ ووٹوں کا پانچواں حصہ لینا لازمی ہوتا ہے،این اے 133 ضمنی انتخاب میں 80997 ووٹ کاسٹ ہوئے،ہر امیدوار کیلئے 16 ہزار 199 ووٹ حاصل کرنا لازمی تھے، 9امیدوار ایسےہیں جنہوں نے ٹوٹل ووٹوں کا پانچواں حصہ نہیں لیا،شائستہ پرویز ملک نے 46811، اسلم گل نے 32313 ووٹ حاصل کئے تیسرے نمبر پر آنے والے آزاد امیدوار حبیب اللہ نے 650 ووٹ حاصل کیے سب سے کم آزاد امیدوار عرفان خالد نے 48 ووٹ حاصل کئے، ضمنی انتخاب میں 50 ہزار 936 مرد اور 30 ہزار 959 خواتین نےووٹ کاسٹ کیا جب کہ 898 ووٹ مسترد کیے گئے۔ اس کے بر عکس سنہ 2018 کے عام انتخابات میں اسی حلقے میں ووٹر ٹرن آؤٹ 51.89 فیصد تھا

    سابق صدر آصف زرداری نے پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف کو ٹیلی فون پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ لاہور کا ضمنی الیکشن پیپلز پارٹی کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا ہے این اے 133 میں پیپلز پارٹی کے ووٹروں میں اضافہ بہت بڑا پیغام ہے ، جیالے میدان میں آ چکے آئندہ انتخابات کی تیاریاں شروع کردیں ،1ین اے 133 کے انتخابی نتائج حوصلہ افزا ہیں،

    راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ این اے 133 کی کارکردگی پر خوش ہوں اب پورے پنجاب کے اندر دما دم مست قلندر ہوگا ،سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ہم ورکرزہیں ہم ورکروں کی عزت کرتےہیں،شدت پسندی،مہنگائی اوربے روزگاری کاعلاج صرف پیپلزپارٹی کے پاس ہے،پیپلزپارٹی ہی اس ملک کا مستقبل ہے،ن لیگ والے کہتے تھے ہمیں ووٹ مانگنےکی ضرورت ہی نہیں،وہ لوگ غلط ثابت ہوئے جوکہتےتھے کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی ختم ہوگئی،ہماری وجہ سے ن لیگ والے الیکشن مہم پرنکلے،یہ بھی قیامت کی نشانی ہے کہ پنجاب میں ن لیگ سے پیپلزپارٹی دھاندلی کرے گی،

    دوسری جانب بلاول بھٹو نے پیپلزپارٹی کی لاہورکےضمنی انتخابات میں زبردست کارکردگی پرمبارکباد دی ہے،بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ 5 ہزار ووٹوں سے پیپلزپارٹی 32 ہزار سے زائد ووٹوں تک پہنچی،ن لیگ کے 50 فیصد سے زائدووٹ کم ہوگئے ،اگلےانتخابات میں پیپلزپارٹی پنجاب اورمرکزمیں حکومت بنائےگی،

    پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی طرف سے پیپلزپارٹی پر ووٹ خریدنے کا الزام لگانا خفت مٹانے کی کوشش ہے ،آصف زرداری کی رہنمائی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت فتح عوام کی ہوگی این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی سیاسی اور اخلاقی برتری حاصل کر چکی

    پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور نےحلقہ این اے 133 ضمنی انتخاب کے حوالے سے اپنا پیغام جاری کرتے ہوئےکہا کہ آج ووٹرز کا ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا اور پولنگ سٹیشن سنسان پڑے رہے ۔انہوں نے ٹرن آؤٹ کی کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو ووٹ نہ دے کر ثابت کردیا کہ ان کا یقین پاکستان تحریک انصاف پر ہی ہے، اپوزیشن اب ووٹ کو ترسے گی کیونکہ عوام نے انہیں ہری جھنڈی دکھا دی ہے، ایسا ٹرن آؤٹ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف آئند الیکشن میں کلین سویپ کرے گی۔

    جس تقریر میں ثاقب نثار نے یہ اعتراف کیا ہو کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے وہ تقریر سامنے لائیں ،مریم نواز

    نیب دفتر کے باہر ن لیگی کارکنان کی ہنگامہ آرائی پر وزیراعلیٰ کا نوٹس، رپورٹ طلب

    کیپٹن صفدر کا کورٹ مارشل کرو، اب سب اندرجائیں‌ گے،مبشر لقمان کا اہم انکشاف

    مریم نواز عدالت پہنچ گئی

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس