Baaghi TV

Tag: انتشار

  • پی ٹی آئی فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہے،عطا تارڑ

    پی ٹی آئی فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ فوجی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی بات ہو رہی ہے۔زیک گولڈسمتھ کی ٹویٹ کو بائیکاٹ کرنے کی بات نہیں کریں گے۔

    عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانی فوج کے خلاف بیرونی ایجنڈے کا پرچار کر رہے ہیں۔ فلسطین پر ہونے والی اے پی سی میں بھی یہ شریک نہیں ہوئے۔گولڈسمتھ کی فنڈنگ نے انہیں فلسطین کے حق میں بات کرنے سے روکا۔ فوج کے جوان اس ملک کے وقار کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہمیں اپنی فوج کی وجہ سے پوری دنیا میں عزت ملتی ہے،آپ کا ایجنڈا فوج کو کمزور کرنا اور انتشار پھیلانا ہے۔ہم کبھی 9 مئی کو بھولنے نہیں دیں گے۔ فوج کے خلاف پروپیگنڈا کر کے انتشار پھیلانا ان کی پالیسی ہے۔پی ٹی آئی پاکستان اور اس کی افواج کے خلاف بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، فوج اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کرنے والے ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، فوج اگر مضبوط ہے تو ملک مضبوط ہے، فوج مضبوط نہ ہو تو ملک بھی مضبوط نہیں ہوتا،بیرونی ممالک میں ہماری فوج کو مانا جاتا ہے، پی ٹی آئی فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہے تاکہ بیرونی قوتیں اس سے فائدہ اٹھا سکے، آپریشن گولڈ سمتھ پوری دنیا جانتی ہے، یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں انتشار پیدا ہو،

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ ہے ڈی چوک سے کیوں دوڑ لگائی ؟فائنل کال کا مطلب ہوتا ہے بس اب ہم سب اڑا کر رکھ دیں گے تو سوال یہ ہے ڈی چوک سے کیوں دوڑ لگائی ؟ اس کا جواب نہیں ہے کہ دوڑ کیوں لگائی۔ تحریک انصاف صحافیوں کو آن لائن ہراساں کرنے کی ٹارگٹڈ مہم چلا رہی ہے،صحافیوں کو ہراساں کرنے کیلئے پی ٹی آئی کی یہ ٹارگٹڈ کمپین ہے پی ایف یو جے نے بھی صحافیوں کی آن لائن ہراسمنٹ کی مذمت کی ہے۔ مذموم مہم کا مقصد صحافیوں کو نقصان پہنچانا ہے۔پی ٹی آئی تقسیم اور اختلافات کا شکار ہے خیبر پختونخوا حکومت اور ان کے وزراء نے عمران خان کی سول نافرمانی پر عمل درآمد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • عمر ایوب کی فوج پر الزام تراشی کی کوشش قابل مذمت ہے،عرفان صدیقی

    عمر ایوب کی فوج پر الزام تراشی کی کوشش قابل مذمت ہے،عرفان صدیقی

    مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب کی جانب سے افواج پاکستان پر الزام تراشی کی شدید مذمت کی ہے۔

    عرفان صدیقی نے اپنے بیان میں کہا کہ "فائنل کال کی شرمناک پسپائی کے بعد، عمر ایوب نے اپنے فسطائی حربوں پر غور کرنے کے بجائے افواج پاکستان میں تفرقہ ڈالنے اور بغاوت پر اُکسانے کی نہایت مذموم کوشش کی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ سیاست کے لبادے میں ریاست پر حملہ کرنے والے لشکروں کی مزاحمت کے لئے آئین اور قانون فوج سمیت تمام سیکورٹی ایجنسیز کو واضح کردار دیتے ہیں۔ہ پی ٹی آئی کی حالیہ یلغار کے دوران نہ صرف فوج بلکہ کسی بھی سیکورٹی ایجنسی نے گولی نہیں چلائی اور نہ ہی گولی چلانے کا کوئی حکم دیا گیا۔ عرفان صدیقی نے اس بات پر زور دیا کہ "کھلے جھوٹ اور فرضی لاشوں کی خیالی کہانیاں گھڑنے کے بعد فوج پر الزام تراشی کی کوشش قابل مذمت ہے۔”

    عرفان صدیقی نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ "کیا پی ٹی آئی واقعی ایک سیاسی جماعت ہے؟” ان کے مطابق، اگر پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے، تو اس کے رہنماؤں کو ریاستی اداروں پر اس طرح کی بے بنیاد اور من گھڑت الزامات سے گریز کرنا چاہئے۔عرفان صدیقی نے یہ بھی کہا کہ "پاکستان کی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیز ریاست کے اندرونی مسائل میں مداخلت کے بجائے اپنے آئینی کردار کی بجا آوری کر رہی ہیں، اور ان پر بے بنیاد الزامات لگانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ ریاستی استحکام کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔”

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے کہا ہے کہ سیاسی تناؤ کم کرنے اور حالات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔

    نجی ٹی وی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے سحر کامران کا کہنا تھا کہ بانی تحریک انصاف کا مقصد ملک میں عدم استحکام اور انتشار کی کیفیت رکھنا ہے، اس میں کوئی شک نہیں، 2014 کا دھرنا ہو، اسمبلیوں سے استعفے ہوں،اسلام آباد کی گرین بیلٹ کو آگ لگانے کے واقعات ہوں، سایفر کا ایشو ہو، ماڈل ٹاؤن سے پیٹرول بم پھینکنے ہوں یا 9 مئی کے افسوسناک حملے، ایسا لگتا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت اشتعال انگیزی کی فضا بنائی جا رہی ہے۔ ایک بلو پرنٹ بنا ہوا ہے، جس کے مطابق مختلف حربے اپنائے جا رہے ہیں۔ بشریٰ بی بی کا بیان ملک کے سفارتی تعلقات خراب کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کی ایک سازش ہے۔ نفرت اور تقسیم کا بیانیہ نہ ملک کے مفاد میں ہے، نہ ہی عوام کے مفاد میں ہے، اس کے بجائے مفاہمت کی راہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے، سیاسی تناؤ کم کرنے اور حالات بہتر کرنے کا واحد راستہ مزاکرت اور مفاہمت ہے۔

    سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ جب یہ حکومت میں تھے تو ایسے لگتا تھا کہ حکومت کی جانب اپوزیشن میں تھے، اس میں گورننس نہیں تھی، انتقام تھا، پارلیمنٹ کی تضحیک کی گئی، 9 مئی کا واقعہ ہوا، یہ ایک سیریز ہے،کفن باندھنا یہ کیا ہے، احتجاج ،جلسے جلوس جمہوری حق ہے بات الجہاد کے نعروں، رویوں،کفن باندھنے دھمکیوں سے ہے،کبھی کوئی بیان آتا ہے ،سائفر، رجیم چینج، پھر امریکہ میں ہی لابنگ ،یہ کتنا تضاد ہے، سعودی عرب پاکستان کا دوست ملک ہے،جہاں وہ جوش و خروش سے جاتے تھے، ایک دوست ملک ہے،وہ انویسمنٹ کرنا چاہ رہا ہے،ا سکے وفود آ رہے ہیں، وزیراعظم کے دو دورے ہوئے، آرمی چیف کا دورہ ہوا ،اب یہ بیان دے کر پاکستان میں کیا چاہتے ہیں یہ سب منصوبہ بندی سے کر رہے ہیں پہلے بھی ایک لیڈر نے بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ذاتی رائے ہے، اب کس کی رائے ہے، عمران خان کے بارے میں جمائما کی ٹویٹ آتی ہے،لابنگ کہاں سے ہوتی ہے، لابنگ فرم کہاں سے ہائر ہوتی ہیں، پاکستان کی اتنی پرواہ ہے کہ غزہ کی لاشیں نظر نہیں آتیں،

    سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ اشتعال انگیری جو اس وقت کی جا رہی ہے اس پر کور نہیں ڈالا جا سکتا، ہم لہجے، لفظوں کا چناؤ، پیغام اس کو دیکھنا ہو گا، لہجے عوام کو کہاں لے جاتے ہیں، کتنے لوگ ابھی بھی اشتعال انگیزی کی وجہ سے مقدمے بھگت رہے ہیں لیڈر شپ تو نکلتی ہی نہیں، وزیراعلیٰ جلوس چھوڑ کر واپس چلے جاتے ہیں،یہ کس طرح کے پیغامات دے رہے ہیں، اب الجہاد،کے نعرے، سیاسی جدوجہد کی جا سکتی ہے، یہ الجہاد کہاں سے اور کن معنوں میں استعمال ہو رہا ہے،

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • پی ٹی آئی کی  ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

    پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

    تحریک انصاف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی ایس ای او کانفرنس کے موقع پر اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کر دیا

    انتشاری جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے ہنگامہ آرائی، ہلڑ بازی اور ملک کا امن تہہ و بالا کرنے کیلئے جلسے جلوسوں اور احتجاج کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے، جسے وہ سیاسی جدوجہد کا نام دیکر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جیل میں بند انتشاری ذہن کا مالک دراصل ایک منصوبہ بندی کے ذریعے سب کچھ کر رہا ہے اور یہ ایک ایسا وقت میں کیا جا رہا ہے جب پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے معاشی اشاریے بہتر مستقبل کی نوید سنا رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی اور اس کی انتشاری ذہنیت کو یہ گوارا نہیں ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر چلے اور اس سارے عمل کو روکنے کیلئے اس نے خیبرپختونخوا کے شدت پسند وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے ذریعے ملک کو برباد کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔اگر نگاہ دوڑائی جائے تو معاشی اعداد و شمار کے مطابق افراط زرجو مئی 2023ء میں 38 فیصد تک چلا گیا تھا، آج یہ سنگل ڈیجیکٹ یعنی کم ہو کر 9.6 فیصد پر آچکا ہے۔ جون 2023ء میں ڈالر 333.5 روپے تک جا پہنچا تھا مگر آج جی ڈی پی کی نمو میں ریکوری سے کرنسی ایکسچینج ریٹ اور روپیہ مستحکم ہو گیا ہے آج ڈالر 277.72 روپے تک آچکا ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے 7 ارب ڈالر مالیت کا پروگرام منظور کیا گیا۔ بہترین معاشی اقدامات کے باعث پاکستان کی سٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی سٹاک ایکسچینج بن کر ابھری۔ سٹاک مارکیٹ میں سرفہرست 86 کمپنیوں نے 1.7 ٹریلین روپے کا ریکارڈ منافع کمایا۔ جون 2023ء میں کے ایس ای 100 انڈیکس 41452.69 پوائنٹس پر تھا آج یہ انڈیکس 82463.05 پوائنٹس پر پہنچ چکا ہے۔وفاقی حکومت تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بھی بڑی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، ہماری برآمدات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔بہتر معاشی اشاریوں کے باعث موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ سی سی 2 سے سی سی 3 کردی ہے، بہتری ہوتی معیشت کے پیش نظر حکومت نے اس کے فوائد عام عوام تک بھی منتقل کرنا شروع کردیئے ہیں اور سب دیکھ رہے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت ہر پندرہ روز کے بعد کم کی جا رہی ہے اسی طرح سب سے عام استعمال اور ضروری چیز آٹے کی قیمت جسے کچھ عرصہ قبل پر لگ چکے تھے اب غریب آدمی کیلئے بھی قابل خرید ہے۔

    پی ٹی آئی کا ایک بار پھر گھناؤنا منصوبہ، مذموم ایجنڈہ سامنے آ گیا، پی ٹی آئی ملک دشمنی پر ڈٹی ہوئی، شنگھائی کانفرنس کے موقع پر ڈی چوک میں احتجاج کا اعلان کر دیا، ایسے وقت میں جب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے جا رہے ہیں، غیر ملکی مہمان پاکستان میں ہوں گے، ریڈ زون سیل ہو گا، سفارتکاروں کو نقل و حرکت محدود رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے،ایسے میں پی ٹی آئی نے اپنی روش نہ بدلی اور ماضی کی طرح احتجاج کا اعلان کر دیا، پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ کسی طرح پاکستان میں سرمایہ کاری نہ آ سکے، پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے نہ آ سکے، احتجاج کی کال دے کر پی ٹی آئی نے ایک بار پھر ریڈ لائن عبور کی ہے

    شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس اسلام آباد میں 15 اور 16 اکتوبر کو ہو رہا ہے، حکومت نے اجلاس کے معززین اور مندوبین کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جڑواں شہروں میں تین دن کی تعطیل کے نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں 14،15،16 اکتوبر کو عام تعطیل ہوگی،سپریم کورٹ ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایس ای او جلاس کے موقع پر چھٹی ہو گی، اسلام آباد میں ٹریفک بند ہو گی،مورخہ 14 ،15 اور 16 اکتوبر 2024 تک اسلام آباد میں ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند ہو گا ،چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد محمد سرفراز ورک نے کہا کہ جہاں جہاں روڈ بند کئے جا ئیں گے وہاں متبادل راستہ مہیا کرنے کے لئے ٹریفک پولیس شہریوں کی رہنمائی کے لئے موجود ہو گی،انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کانفرنس کے دوران متبادل راستوں کا استعمال کریں اور ٹریفک پولیس سے تعاون کریں، انہوں نے مزید کہا کہ ایف ایم ر یڈیو92.4 اور دیگر سوشل میڈیا ذرائع سے بھی شہریوں کو تمام تر صورت حال سے باخبر رکھے جائے گا،اسلام آباد میں ایس ای او اجلاس کے موقع پر
    پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال ملک دشمنی کے علاوہ کچھ نہیں، اس صورتحال میں اسلام آباد میں بدامنی اور انتشار پیدا کر کے تحریک انصاف عالمی دنیا کو کیا پیغام دے رہی ہے؟ تحریک انصاف ملکی مفادات کو اپنی سیاست کے نظر کر رہی ہے۔تحریک اںصاف کے اسلام آباد میں دھرنوں کی وجہ سے چینی صدر کا دورا منسوخ ہوا تھا، کیا یہ اب شنگھائی تعاون تنظیم کو بھی سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں؟

    ملک دشمنی پر مبنی اقدامات کر پی ٹی آئی یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ اس وقت پاکستان میں مکمل طور پر سیاسی عدم استحکام ہے۔ یہی ایجنڈا یہ شرپسند جماعت اپنے سوشل میڈیا پر پھیلا رہی ہے اور باہر بیٹھے پاکستانیوں، اہم شخصیات کویہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں، وہاں کوئی بھی غیر ملکی دورہ اور سرمایہ کاری نہیں کی جا سکتی۔پی ٹی آئی کی جانب سے اس شدت پسندی اور شرپسندی کا بڑا ایجنڈا پاکستان میں 15 اور 16 اکتوبر کو ہونے والی ایک بڑی شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس بھی ہے، جسے وہ سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہی ہے سب واضح نظر آرہا ہے کہ 15 اکتوبر کو انہوں نے ڈی چوک میں احتجاج کی کال دے دی ہے ظاہر ہے کہ کانفرنس کے موقع پر وفاقی حکومت میں ویسے ہی سکیورٹی ہائی الرٹ ہو گی اور انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اس شرپسند جماعت کے سیاسی جتھوں کو روکیں گے جس سے یہ بے قابو ہو جائیں گے اور ٹکراؤ ہونا نوشتہ دیوار ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم ایک بڑا بین الاقوامی فورم ہے جس میں پاکستان سمیت دوست ملک چین، روس، بھارت، بیلوروس، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان جیسے ممالک شامل ہیں اور اس کی فورم کی اس خطے میں اپنی ایک اہمیت ہے۔ایک ایسی کانفرنس جس کی بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت ہے اس کے انعقاد پر پاکستان یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ یہ ملک بڑے ممالک کے سربرہان کی میزبانی کیلئے تیار ہے اس موقع پر شرپسند جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال دینا، ڈنڈے، اسلحہ اور خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کے ساتھ ساتھ شرپسند عناصر کو لیکر دھرنا دینے کی دھمکی یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہ جماعت ملک دشمن ایجنڈے پرچل رہی ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرکے اپنے مذموم مقاصد کا حصول ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، اعلامیہ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 15 اکتوبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں بھرپور احتجاج کا اعلان کر دیا ہے، مرکز سے نچلی ترین سطح تک تمام تنظیمی ذمہ داران اور ونگز کو ڈی چوک احتجاج کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کر دی گئی ہے،15 اکتوبر کو ڈی چوک کے پرامن احتجاج کی تیاریوں کے پیشِ نظر پنجاب کے اضلاع میں احتجاج کی منسوخی کا اعلان کر دیا گیا ہے.سیاسی کمیٹی کا کہنا تھا کہ اڈیالہ میں ناحق قید بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو بطورِ خاص بربریت کے نئے سلسلے کا نشانہ بنایا جارہا ہے، عمران خان کی زندگی، صحت اور سلامتی کو جان بوجھ کر سنگین خطرات سے دوچار کرنے کیلئے ان کے تمام بنیادی و انسانی حقوق سلب کرلئے گئے ہیں،ظلم، جبر اور لاقانونیت کے سامنے نہ جھکنے اور دستور کا حلیہ بگاڑنے کی ریاستی کوششیں قبول نہ کرنے کی پاداش میں سفّاک سرکار عمران خان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی سازشوں میں مصروف ہے،عمران خان قوم کے مقبول اور معتبر ترین قائد اور کروڑوں پاکستانیوں کی سیاسی و قومی امنگوں کے ترجمان ہیں،حکمرانوں نے اڈیالہ میں ناحق قید عمران خان کے بنیادی حقوق فوراً بحال کرتے ہوئے ان کے وکلاء، ڈاکٹرز، اہلِ خانہ اور قائدین تک مکمل رسائی فی الفور بحال نہ کی تو بھرپور احتجاج کیلئے 15 اکتوبر کو پورا پاکستان نکلے گا،

    ملتان ٹیسٹ بدترین شکست،مبشر لقمان کا بابراعظم و دیگر کے اثاثوں کی چھان بین کا مطالبہ

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    احساس ہو تو کچھ شرم ہوناں،احمد علی بٹ بابر اعظم پر پھٹ پڑے

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    ہم نے سچ بولا،شوق پورا کرنا ہے تو کر لیں، احمد شہزادبابر اعظم پر پھر برس پڑے

    ملتان ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی

  • احتجاج کی آڑ میں شرپسندی،افغان بلوائی پیسے نہ ملنے پر پی ٹی آئی پر برس پڑے

    احتجاج کی آڑ میں شرپسندی،افغان بلوائی پیسے نہ ملنے پر پی ٹی آئی پر برس پڑے

    اسلام آباد میں احتجاج کی آڑ میں شر پسندی کرنے والے گرفتار افغان بلوائیوں کے ہوش ربا بیانات منظر عام پر آ گئے

    پر امن احتجاج کا لبادہ اوڑھے پی ٹی آئی کے شر پسند افغان بلوائیوں نے انتشار اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی تمام حدیں پار کردیں،انتشار اور فساد پھیلانے والے متعدد افغان باشندوں کو گرفتار کر لیا گیا،پی ٹی آئی کی قیادت کی ایما پر انتشار اور بدامنی پھیلانے والے ان گرفتار افغان باشندوں نے ہوشرباء انکشافات کردیے. گرفتار افغان شرپسند کا کہنا تھا کہ میرا نام خیال گل ہے میرا تعلق افغانستان سے ہے،پی ٹی ائی نے مجھے دو ہزار روپے دن کا لالچ دے کر دھرنے پر بلایا اور توڑ پوڑ کرنے کا کہا، پی ٹی آئی قیادت خود بھاگ کر چلی گئی اور ہمیں یہاں پولیس نے پکڑ لیا ہے، پی ٹی آئی قیادت کے بہکاوے میں آنے پر میں شرمندہ ہوں، انکا ساتھ دینا کسی کام نہ آیا، نہ انہوں نے مجھے پیسے دیے اور نہ ہی وہ مجھے دوبارہ نظر آئے ہیں،

    ایک اور شرپسند کا کہنا تھا کہ میرا نام مولا داد ہے اور ہم تینوں دوست پشاور سے پی ٹی ائی کے دھرنے میں شرکت کے لیے آئے تھے،پی ٹی آئی نے ہمیں پیسوں کا لالچ دیا اور اسلام آباد میں توڑ پھوڑ کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کی ہدایات دی،انہوں نے ابھی تک نہ ہمیں پیسے دئیے ہیں بلکہ حوالات میں ہم انکی وجہ سے بند ہیں، ہماری اپنے افغانی بھائیوں سے گزارش ہے کہ کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہ کریں اور نہ کسی کی گاڑی کو آگ لگائیں،

    ایک اور افغان شرپسند کا کہنا تھا کہ میرا نام عبدالرحمن ہے ، میرا تعلق افغانستان سے ہے اور میں پشاور میں مزدوری کرتا ہوں،میں محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کے لیے حلال روزی کماتا ہوں، مگر پی ٹی آئی جیسی شرپسند جماعت چاہتی ہے کہ ہم انکے دھرنوں میں شامل ہوں،پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ ہم اسلام اباد جا کر وہاں دنگا فساد کریں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایں،میری اپنے افغان بھائیوں سے گزارش ہے کہ ان کی باتوں میں نہ آئے ،

    شرپسندی میں ملوث تمام عناصر کیخلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے،نام نہاد احتجاج کی آڑ میں شرپسندی کی سازش کے تمام تانے بانے جوڑے جا رہے ہیں اور سخت قانونی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں

    عمران خان کی بہنوں سے کیا”برآمد ” ہوا؟ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

  • قومی املاک کو نقصان  اور انتشار کی سیاست کون سا انقلاب ہے؟عرفان صدیقی

    قومی املاک کو نقصان اور انتشار کی سیاست کون سا انقلاب ہے؟عرفان صدیقی

    اسلام آباد،ایس سی او تجارت ، سرمایہ کاری کانفرنس سے وفاقی وزیر تجارت جام کمال نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کے اقدامات کو سراہتے ہیں،بیلاروس ایس سی او ممالک میں ایک خوش آئند اضافہ ہے،ایس سی او ممالک کے درمیان تعلقات تاریخی اور ثقافتی اقدار پر مبنی ہیں،ایس سی او ممالک کے درمیان روابط کے مزید فروغ کے خواہاں ہیں،

    دوسری جانب سینیٹ میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے،75سال کی عمر میں مجھے ہتھکڑیاں لگائی گئیں،کاش اس وقت بھی اپوزیشن والے میری گرفتاری کی مذمت کرتے،ہم نے وہ قرض بھی ادا کئے جو واجب نہ تھے،پی ٹی آئی دور میں مسلم لیگ ن نے انتقامی کارروائیوں کا سامنا کیاہیروئن ڈالی گئی،دہشتگردی کی دفعات لگائی گئیں، احتجاج ،دھر نے اور لاک ڈاؤن کے نام پر ملک کو عدم استحکام سے دو چار کیا گیا،پاکستان کو ترقی اور استحکام چاہیے، پٹرول بم پھینکنا ،قومی املاک کو نقصان پہنچانااور انتشار کی سیاست کون سا انقلاب ہے؟پاکستان اور اس کے ادارے انشاءاللہ قائم رہیں گے،دوسروں پر الزام لگانے والوں کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے،

  • تحریک انصاف انتشار کا دوسرا نام

    تحریک انصاف انتشار کا دوسرا نام

    پاکستان میں سب سے زیادہ پرتشدد احتجاج کی تاریخ رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی کو جب جب جلسے کی اجازت ملی، تب تب اس نے انتشار کو فروغ دیا۔
    پی ٹی آئی کو 2014 میں احتجاج کی اجازت دی گئی، انہوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا، پی ٹی وی کے ہیڈکوارٹر پر قبضہ کیا۔ ڈی چوک کا آدھا حصہ جلا دیا، کئی عمارتوں پر حملہ کیا جن میں جیو کا دفتر اور علاقے کا اسپتال شامل تھے۔

    2016 میں انہیں احتجاج کی اجازت دی گئی، انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کو بند کرنے کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کو اسلام آباد اور پنجاب پولیس پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی فورس کو وفاقی حکومت کی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کروایا۔ انہوں نے پولیس افسران پر حملے کیے، ان کی وینز کو جلایا، جبکہ عمران خان نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے ان پر پٹرول بم بھی پھینکے۔

    25 مئی 2022 کو انہیں اسلام آباد کے باہر احتجاج کی اجازت دی گئی لیکن انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہر کی سڑکوں کو جلایا۔ اس کی توہین عدالت کا کیس ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔
    9 مئی کو انہیں عمران خان کی گرفتاری پر پرامن احتجاج کی اجازت دی گئی، لیکن انہوں نے کور کمانڈر ہاؤس اور 200 سے زیادہ دیگر مقامات کو جلا دیا۔
    ان کے وزیر اعلیٰ جلسے سے پہلے اس بات پر ریکارڈ پر ہیں کہ وہ اسلام آباد آ کر بیٹھیں گے اور عمران خان کو جیل سے نکالیں گے۔

    ایسی پارٹی پر بھروسہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہمارے پولیس افسران کی جانیں اور عوامی انفراسٹرکچر اتنے سستے ہیں کہ ہم پی ٹی آئی کو اس پر ناچنے دیں اور عوام اس کی قیمت ادا کرے؟

    https://twitter.com/AmjadHBokhari/status/1832827929723646257

    تجزیہ:سید امجد حسین بخاری

  • علیمہ خان نے بشریٰ بی بی کے انتشارکو بےنقاب کیا،عطا تارڑ

    علیمہ خان نے بشریٰ بی بی کے انتشارکو بےنقاب کیا،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ انتشار کی سیاست کی بنیاد ہی بانی پی ٹی آئی نے رکھی،

    عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ تحریک انتشارملک کو نقصان پہنچانے کی سیاست کررہی ہے،نفرت کی سیاست کا انجام اچھا نہیں ہوتا،تحریک انتشار میں مختلف گروپس بن گئے ہیں،بشریٰ بی بی ہمدردی کیلئے جھوٹا اور من گھڑت بیانیہ پھیلارہی ہیں،تحریک انتشار میں کئی ڈس انفارمیشن سیل چل رہے ہیں،پی ٹی آئی پر قبضے کی جنگ جاری ہے،سیاسی مفادات کیلئے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہورہی ہیں،علیمہ خان نے بشریٰ بی بی کے انتشارکو بےنقاب کیا ہے، پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے،

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کئی ڈس انفارمیشن سیل چلا رہی ہے،ایک رؤف حسن چلا رہا تھا، دوسرا علیمہ خان کے مطابق بشریٰ خود چلا رہی تھی، ہارپک والی سٹوری کہ زیر دیا جا رہا تھا وہ جھوٹی ثابت ہوئی، کوئی بات سچ نہیں نکلی، یہ جھوٹے بیانیے پر مبنی بیانیہ بنا رہے ہیں، یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ہارپک کے قطرے ڈال دیئے گئے تھے،کھانا تو گھر سے آتا تھا، پارٹی پر قبضہ کی کوشش کی وجہ سے دونوں گروپس میں لڑائی شدت اختیار کر گئی، ہم کہتے تھے انتشار، نفرت، تقسیم کی سیاست مت کرو، آج آپکی اپنی پارٹی میں انتشار، تقسیم ہے، علیمہ گروپ یہاں موجود ہے ، بشریٰ گروپ کے بہت سے لوگ ملک سے باہر ہیں جو ڈس انفارمیشن پھیلا رہے ہیں، اس سے ملک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے،جب معاشرے کو تقسیم کرتے ہیں ملک میں لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑاتے ہیں تو اسکا انجام اچھا نہیں ہوتا، اب انکی اپنی پارٹی انتشار کا شکار ہے

    بشریٰ بی بی ڈس انفارمیشن سیل چلا رہی، علیمہ خان کا اعتراف

    جلسہ ملتوی ہونے پر علیمہ خان اعظم سواتی پر برس پڑیں

    لگ رہا عمران خان کو اگلے ہفتے سزا سنا دی جائے گی،علیمہ خان

    عمران خان کا برطانوی دوست علیمہ خان کے ہمراہ اڈیالہ پہنچ گیا

    تفتیشی افسر نے علیمہ خان سے فون نمبر مانگ لیا

    ہمیں علیمہ خان نہیں بلکہ عمران خان کو فالو کرنا ہے،علی امین گنڈا پور

    جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • اداروں کیخلاف زہراگلنے پر نیازی کی تقاریر پرپیمرا کو پابندی لگانی چاہئے،مطالبہ آ گیا

    اداروں کیخلاف زہراگلنے پر نیازی کی تقاریر پرپیمرا کو پابندی لگانی چاہئے،مطالبہ آ گیا

    اداروں کیخلاف زہراگلنے پر نیازی کی تقاریر پرپیمرا کو پابندی لگانی چاہئے،مطالبہ آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اداروں پر تنقید کے بعد ن لیگی رہنما ، رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کی تقاریر دکھانے پر پیمرا پابندی لگائے،

    ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے کہا ہے کہ ملک کو بچانا ہے تو انتشار پھیلانے نیازی اور اسکی جماعت پر پابندی لگانا ہوگی۔۔۔یہ شخص اپنے اقتدار کے لالچ میں ملک میں آگ لگا رہا ہے، عوام کے ساتھ ساتھ اداروں میں بھی تقسیم کی سازش کر رہا ہے۔۔

    حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی آنٹیاں جو لندن میں حرکات کر رہی ہیں ان کو دیکھ کر پاکستانی ہونے کے ناطے شرم آتی ہے۔۔۔کیا اس جماعت نے سب پاگل ہی بھرتی کر رکھے ہیں؟ اگر کسی کو کوئی غلط فہمی ہے تو دور کر لے، حکومت اپنا وقت پورا کرے گی، اور انتخابی اصلاحات کے بعد ہی ہم الیکشن میں جائیں گے عمران خان کو اس وقت نکالنا اس لئے ضروری تھا کیونکہ وہ ملک کیلئے سکیورٹی رسک بن چکے تھے

    حنا پرویز بٹ کا مزید کہنا تھا کہ اداروں کے خلاف زہر اگلنے والے نیازی کی تقاریر پر پیمرا کو پابندی لگانی چاہئے ۔یہ شخص دشمن سے بڑھ کر اداروں کیخلاف کام کر رہا ہے، اسکو لگام نہ ڈالی گئی تو ملک کا بہت نقصان ہوگا

    شیخ راشد شفیق کی عدالت پیشی،عید گزاریں گے جیل میں

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج