Baaghi TV

Tag: انتقال

  • پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما تاج حیدر انتقال کرگئے

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما تاج حیدر انتقال کرگئے

    پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر تاج حیدر مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اہل خانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تاج حیدر کراچی کے مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔پیپلزپارٹی کے سینیٹر وقار مہدی نے کہا ہے کہ تاج حیدر کی سیاسی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، وہ ہمارے دیرینہ ساتھی اور بہترین سیاسی کارکن تھے، تاج حیدر پیپلزپارٹی کے بنیادی ونظریاتی کارکنان میں سے ایک تھے۔

    پیپلزپارٹی کے چیئررمین بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹر تاج حیدر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاج حیدر کی سیاسی اور سماجی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ تاج حیدر تہذیب اور شائستگی کا ایک باوقار پیکر تھے، ان کی جمہوریت کے لیے جدوجہد اور قربانیاں نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہیں۔تاج حیدر پاکستانی سیاست میں شعور اور دانش کی ایک شناخت تھے، ان کے انتقال سے دلی دکھ اور صدمہ ہوا۔

    یاد رہے کہ تاج حیدر پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر 2021 سے 2027 تک سینیٹر منتخب ہوئے تھے، اس سے قبل وہ 2012 سے 2018 تک بھی سینیٹر رہ چکے ہیں۔

    چنیوٹ: فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، 500 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف، لاکھوں جرمانہ

    حج آپریشن 2025 کی تیاریاں مکمل، پہلی حج پرواز نجی ملکی ائیرلائن آپریٹ کرے گی

  • سعودی شہزادہ عبدالعزيز بن مشعل انتقال کرگئے

    سعودی شہزادہ عبدالعزيز بن مشعل انتقال کرگئے

    سعودی شہزادہ عبدالعزيز بن مشعل بن عبدالعزيز آل سعود انتقال کرگئے۔

    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ایون شاہی کی جانب سے اعلان میں کہا گیا کہ شہزادہ عبد العزیز بن مشعل بن عبد العزیز آل سعود انتقال کرگئے ہیں۔ایوان شاہی کے مطابق بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ ہمارے ہر دلعزیز شہزادے کے لیے رحمت و مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کریں۔شہزادہ عبدالعزيز بن مشعل کی نماز جنازہ دارالحکومت ریاض کی جامع مسجد امام ترکی بن عبد اللہ میں عصرکی نماز کے بعد ادا کی گئی۔نماز جنازہ میں مرحوم شہزادے کے اہل خانہ سمیت شاہی خاندان کے افراد اور اعلیٰ سیاسی و سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    ملک میں ناکافی بارشوں کے باعث خشک سالی کا اندیشہ

    چین سے21 الیکٹرک بسیں 7 سال بعد لاہور پہنچ گئیں

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 24 جنوری کو طلب

    ملک میں عالمی برانڈز کی جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت کا انکشاف

  • سعودی شہزادی عبطا بنت سعود کا انتقال ، نماز جنازہ ادا

    سعودی شہزادی عبطا بنت سعود کا انتقال ، نماز جنازہ ادا

    سعودی شہزادی عبطا بنت سعود بن عبدالعزیز آل سعود انتقال کرگئیں ہیں اور سعودی عرب کے ایوانِ شاہی کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق شہزادی عبطا بنت سعود کا انتقال اتوار کے روز ہوا تھاجبکہ سعودی ایوانِ شاہی کے مطابق شہزادی کی نماز جنازہ آج بعد نماز عصر ریاض کی جامع مسجد امام ترکی بن عبداللہ میں ادا کی گئی۔

    تاہم شہزادی کے انتقال پر سعودی عرب میں مختلف شخصیات کی جانب سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شاہی خاندان سے تعزیت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلیے اسلامی نظریاتی کونسل کو مزید متحرک ہونا ہو گا،وزیراعظم
    نومبر یا مارچ میں الیکشن کرایا جائے ، مولانا عبدالواسع

    جبکہ ا س سعودیہ شہزادی کو سپردخاک کردیا گیا ہے اور ان کے جنازہ میں سارے اعلی حکام نے شرکت کی جبکہ سعودیہ کے کئی اہم لوگ بھی اس میں شامل تھے اور انہوں نے خاندان سے دلی تعزیت کی ہے اور خاندان والوں کو حوصلہ دیا ہے جبکہ مرحومہ کی مملکت میں دعایہ تقریبات بھی ہوئی ہیں.

  • اولمپئین ظفر احمد خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

    اولمپئین ظفر احمد خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

    کراچی: پاکستان کے لیجنڈ اولمپئین ظفر احمد خان طویل علالت کے بعد 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    باغی ٹی وی: اولمپیئن ظفر احمد خان کی نماز جنازہ اتوار بعد نماز ظہر مسجد ابراہیم بلاک اے نارتھ ناظم آباد میں ادا کی جائے گی، پی ایچ ایف کے صدر بریگیڈیئر( ر) خالد سجاد کھوکھر اور سیکریٹری جنرل حیدر حسین نے اولمپیئن ظفر احمد خان کی رحلت پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی ہے۔

    ایشیا کپ 2023: بی سی سی آئی پاکستان کے ہائبرڈ ماڈل پرآمادہ؟

    اولمپئین ظفر احمد خان 14 دسمبر 1929 کو پیدا ہوئے ظفر احمد خان 1964 ٹوکیو میں منعقدہ کے سمر اولمپک میں شرکت کرنے والی پاکستان ہاکی ٹیم کے رکن تھے اور پاکستان کسٹمز کی نمائندگی کرتے تھے۔

    اسٹار فٹبالر کریم بینزیما سعودی کلب کا حصہ بن گئے

  • پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان ندا ڈار کی والدہ انتقال کر گئیں

    پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان ندا ڈار کی والدہ انتقال کر گئیں

    پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان ندا ڈار کی والدہ انتقال کر گئیں۔

    باغی ٹی وی : خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ندا ڈار کی والدہ گزشتہ چند دنوں سے شدید علیل تھیں خاندانی ذرائع کے مطابق ندا ڈار کی والدہ کی نماز جنازہ آج بعد نماز عصر ادا کی جائے گی ندا ڈار کی والدہ گزشتہ چند دنوں سے شدید علیل تھیں ۔

    پاکستان کی موجودہ صورتحال:اراکین کانگریس نےانٹونی بلنکن کو خط لکھ دیا

    36 سالہ ندا ڈار دائیں ہاتھ کی بیٹر اور دائیں ہاتھ سے آف بریک باؤلر کے طور پر کھیلتی ہیں اور اپریل 2023 میں انہیں بسمہ معروف کی جگہ پاکستان ویمنز کرکٹ کی کپتان مقرر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے فروری میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا جہاں ٹیم اپنے چار میں سے تین میچ ہار گئی تھی۔

    پاکستان نے بھارت کےساتھ نیوٹرل وینیو پر ٹیسٹ سیریز کیلئے گرین سگنل دیدیا

  • سینئر اداکار  شبیر رعنا طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

    سینئر اداکار شبیر رعنا طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

    کراچی: پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے سینئر اداکارہ شبیر رعنا طویل علالت کے بعد کراچی میں اتوار کی صبح انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی : مرحوم کے اہلخانہ کے مطابق شبیر رعنا دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور چند سال قبل بائی پاس بھی ہوا تھااور بیماری کے باعث گزشتہ کئی روز سے قومی ادارہ برائے امراضِ قلب میں زیرِ علاج تھے جہاں وہ آج صبح انتقال کرگئے۔

    ٹیکساس کے شاپنگ مال میں فائرنگ،8 افراد ہلاک اور 9 زخمی

    شبیر رعنا یوٹیوبر اذلان شاہ کے والد تھے، اذلان شاہ والد کے انتقال کی تصدیق کی اذلان شاہ کے مطابق مرحوم کی نمازِ جنازہ آج عصر کی نماز کے بعد رحمانیہ مسجد طارق روڈ پر ادا کی جائے گی۔

    سینئر اداکار شبیر رعنا کو عید الفطر کی تعطیلات کے دوران دل کا دورہ پڑا تھا، جس کے باعث انہیں فوری طور پر اسپتال لایا گیا تھا جہاں ان کو طبی امداد دی گئی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے-

    مسقط سے لاہور پہنچنے والا پاکستانی طیارہ تیز بارش کے باعث راستہ بھٹک کر بھارتی حدود میں جا پہنچا

    مرحوم شبیر رعنا نے 4 دہائیوں سے زائد عرصہ ٹیلی ویژن ڈراموں میں کام کیا اداکار طویل عرصے تک ایڈوٹائزنگ انڈسٹری سے وابستہ رہے جبکہ انھوں نے بطور ڈائریکٹر لاتعداد ٹی وی کمرشل کی ڈائریکشن بھی دی۔ بعدازاں ڈرامہ انڈسٹری سے بطور ایکٹر وابستہ ہوئے۔

    ذاتی طور پر اداکار دلیپ کمار سے متاثر ہونے کے سبب شبیر رعنا کی اداکاری میں ان کی جھلک ملتی تھی۔ نجی چینلز کے کئی کامیاب ٹی وی سیریز میں بطور کریکٹر ایکٹر کردار نگاری کی۔

    قبول نہیں کرتے کہ سعودی عرب کو ہمارا دشمن سمجھا جائے،ایران

  • سینئیر سیاستدان رضا ہارون کی والدہ انتقال کر گئیں

    سینئیر سیاستدان رضا ہارون کی والدہ انتقال کر گئیں

    کراچی: سینئیر سیاستدان رضا ہارون کی والدہ انتقال کر گئیں-

    باغی ٹی وی: رضا ہارون کی والدہ کے انتقال پر سیاسی و سماجی اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا ہے سنئیر صحافی مبشر لقمان نے بھی رضا ہارون کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا-

    پچھلے 20 سال سے دیکھ رہے ہیں پی ٹی آئی کی ڈیمانڈ کا کوئی سر …


    انہوں نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ رضا ہارون بھائی کی والدہ کے انتقال کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔ اللہ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ تمام گھر والوں کے صبر عطا فرمائے-

    پنجاب اسمبلی کےعام انتخابات،مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت لیگی رہنماؤں کو آزاد حیثیت سے …

    محمدرضا ہارون ایک پاکستانی سیاست دان ہیں رضا ہارون نے 1987ء میں متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت اختیار کی اور لندن میں 1994ء آپریشن کلین-اپ کے بعد لندن چلے گئے۔ 2007ء میں، پاکستان واپس آئے اور صوبائی اسمبلی کے رکن متحدہ قومی مومنٹ کے ٹکٹ پر حلقہ پی ایس۔115 (کراچی) 2008ء میں منتخب ہوئے –

    2009ء میں سندھ کے صوبائی وزیر بطور انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے خدمات انجام دیں مارچ 2016ء میں، متحدہ قومی موومنٹ چھوڑ کر سید مصطفیٰ کمال کی نئی سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی-

    ایک نہایت مضحکہ خیز ایف آئی آر میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی ہے،عمران خان

  • ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوئم 96 سال کی عمر میں چل بسیں۔


    برطانوی میڈیا کے مطابق شاہی محل بکنگھم پیلس نے ملکہ برطانیہ کے انتقال کا اعلان کردیا ہے۔شہزادہ چارلس برطانیہ کے آئندہ بادشاہ بن جائیں گے۔

    برطانوی حکومت نے ملکہ برطانیہ کے انتقال پر دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات آج لندن میں اد ا کی جائیں گی.

    رپورٹ کےمطابق ان کے بچے پہلے سے ہی بالمورل کی طرف روانہ ہو چکے تھے، جن میں ولی عہد 73 سالہ شہزادہ چارلس، 72 سالہ شہزادی عینی، 72 سالہ شہزادہ اینڈریو اور 58 سالہ شہزادے ایڈورڈ شامل ہیں۔

    ان کے ہمراہ شہزادہ چارلس کے بڑے صاحبزادے شہزادہ ولیم، ان کے چھوٹے بیٹے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن بھی شامل ہیں، جو شاہی زندگی کو ترک کر کے امریکا جانے کے بعد غیر معمولی دورے پر برطانیہ آئے ہیں۔


    رائل فیملی کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا گیا کہ ملکہ الزبتھ کا انتقال ہو گیا ہے،برطانوی ملکہ اور بادشاہ فی الحال بالمورل میں رہیں گے، اور کل لندن روانہ ہوں گے۔

    اس سے قبل بکنگھم پیلس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ملکہ برطانیہ طبیعت خراب ہونے کے باعث بیلمورل کاسل میں زیرِ علاج تھیں۔ ڈاکٹروں کی جانب سے ملکہ کی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کیے جانے کے بعد طبی نگہداشت میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ مزید جائزہ لینے کے بعد ملکہ کے ڈاکٹر اُن کی صحت کے بارے میں فکرمند تھے اور انھوں نے ملکہ کو طبی نگہداشت میں رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے بتایا تھا کہ برطانیہ کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والی 96 سالہ ملکہ برطانیہ گزشتہ اکتوبر سے صحت کے مسائل سے دوچار ہیں، انہیں چلنے اور کھڑے ہونے میں مشکلات درپیش ہیں۔

    برطانوی وزیر اعظم لِز ٹرس نے کہا تھا کہ خبر کے باعث پورے ملک میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ میری اور پورے ملک کی نیک تمنائیں ملکہ اور ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔

    ملکہ ایلزبتھ دوم کا مکمل نام ایلزبتھ الیگزینڈرا میری تھا، وہ مملکت متحدہ کی ملکہ اور دولت مشترکہ قلمرو کی آئینی ملکہ ہیں۔ ملِکہ ایلزبتھ 21 اپریل 1926 کو لندن میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ 1947 میں ان کی شادی شہزادے فلپ کے ساتھ ہوئی، جن سے 4 بچے ہیں۔ جب ان کے والد بادشاہ جارج ششم کا 1952 مین انتقال ہوا، تب ایلزبتھ دولتِ مشترکہ کی صدر اور مملکت متحدہ، کناڈا، اوسٹریلیا، نیو زیلینڈ، جنوبی افریقا، پاکستان اور سری لنکا کی حکمران بن کئیں۔ ان کی تاجپوشی سال 1953 میں ہوئی اور یہ اپنی طرح کی پہلی ایسی تاج پوشی تھی جو ٹیلی ویژن پر نشر ہوئی۔ 9 ستمبر 2015 کو انھوں نے ملِکہ وِکٹوریا کے سب سے لمبے دورِ حکومت کے ریِکارڈ کو توڑ دیا اور برطانیہ پر سب سے زیادہ وقت تک حکومت کرنے والی ملِکہ بن گئیں۔ وہ پورے عالم میں سب سے عمردراز حکمران اور سب سے لمبے وقت تک حکومت کرنے والی ملِکہ ہیں۔

    1936ء میں جب ایلزبتھ کے والد پرنس البرٹ اپنے بھائی کے تخت چھوڑنے کے بعد بادشاہ بنے، تو ایلزبتھ ان کی ولی عہد بن گئی۔

    2 جون 1953ء کو ویسٹ منسٹر ایبے، لندن میں تخت نشینی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ملکہ ایلزبتھ باقاعدہ طور پر مملکت متحدہ، کناڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، پاکستان اور سری لنکا کی حکمران بن گئیں۔

    6 فروری 1952 کو پاکستان کے بادشاہ جارج ششم کی موت کے بعد ان کی بیٹی شہزادی الزبتھ پاکستان کی نئی حکمران بن گئیں۔ ملکہ الزبتھ کو پاکستان سمیت اپنے تمام علاقوں میں ملکہ قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان میں 8 فروری کو گورنر جنرل نے اعلان کیا کہ ملکہ معظمہ الزبتھ دوم اب اپنے علاقوں اور ریاستوں کی ملکہ اور دولت مشترکہ کی سربراہ بن گئی ہیں۔ انہیں پاکستان میں 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

    مورخ اینڈریو میچی نے 1952 میں لکھا تھا کہ ملکہ الزبتھ برطانیہ کا تو چہرہ تھی ہیں ساتھ ہی وہ برابری سے پاکستان کا بھی چہرہ تھی، 1953 میں ملکہ الزبتھ کی تاجپوشی کے دوران انہیں پاکستان کی ملکہ اور دولت مشترکہ قلمرو کا تاج پہنایا گیا۔ ملکہ نے تاجپوشی کے دوران یہ حلف لیا کہ وہ پاکستان کی عوام پر لوگوں کے متعلقہ قوانین اور رواج کے مطابق حکومت کریں گی۔

    ملکہ کے تاجپوشی گاؤن پر ہر دولت مشترکہ قوم کے نشانیاں سے کڑھائی کی گی تھی۔ شاہی گاؤن میں پاکستان کے تین نشانات نمایاں تھے: ہیرے اور سنہرے کرسٹل کے بنے گندم ، چاندی اور سبز ریشم اور پٹ سن سے بنا کپاس ، اور سبز ریشم اور سنہرے دھاگے سے بنا پٹ سن۔ پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرا نے بھی اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ساتھ لندن میں تاجپوشی کی تقریب میں شرکت کی۔ تاجپوشی کی پریڈ میں پاکستانی فوجیوں اور جہازوں نے بھی حصہ لیا۔

    23 مارچ 1956 کو جمہوریہ آئین کو اپنانے پر پاکستانی بادشاہت ختم کر دی گئی۔ تاہم پاکستان دولت مشترکہ کے ممالک میں ایک جمہوریہ بن گیا۔ ملکہ الزبتھ نے صدر مرزا کو ایک پیغام بھیجا جس میں انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کے ملک کے قیام کے بعد سے اس ملک کی ترقی کو گہری دلچسپی کے ساتھ پیروی کی ہے۔ میرے لیے یہ جان کر بہت اطمینان کا باعث ہے آپ کا ملک دولت مشترکہ میں رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مجھے یقین ہے پاکستان اور دولت مشترکہ کے دیگر ممالک ترقی کرتے رہیں گے اور ان کی باہمی رفاقت سے فائدہ اٹھائیں گے۔

    ملکہ نے 1961ء اور بعد میں 1997ء میں پاکستان کی آزادی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پاکستان کا دورہ کیا۔ ان کے ساتھ شہزادہ فلپ ، ڈیوک آف ایڈنبرا بھی تھے۔

  • سابق گورنر رحیم الدین خان انتقال کر گئے

    سابق گورنر رحیم الدین خان انتقال کر گئے

    مسلح افواج کے سربراہان نے جنرل (ر) رحیم الدین خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افواج کے سربراہان نے جنرل (ر) رحیم الدین خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے جنرل (ر) رحیم الدین خان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل رحیم الدین کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ جنرل رحیم الدین مرحوم پیشہ ورانہ سولجرتھے۔ انہوں نے سندھ و بلو چستان کے گورنر کی حیثیت سے ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا اوروطن کے دفاع اور امن و امان کے قیام کیلئے مرحوم کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ جنرل رحیم الدین نے اپنے دورمیں بلوچستان میں قیام امن کیلئے مثالی کردار اداکیا۔چیئرمین سینیٹ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مرحوم کواپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور غم زدہ خاندان کو یہ صدمہ حوصلے اورصبر سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر مرزا محمد آفریدی، قائد ایوان سینیٹ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے بھی سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل رحیم الدین کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے

    بلوچستان اور سندھ کے سابق گورنر رحیم الدین خان پیر کو انتقال کرگئے۔ اہل خانہ کے مطابق مرحوم کی نماز جنازہ منگل یعنی آج شام کیولری گراؤنڈ لاہور میں ادا کی جائےگی ،رحیم الدین خان آفریدی پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل ہیں-

    رحیم الدین 20 ستمبر 1978ء سے 22 مارچ 1984ء تک بلوچستان کے اور24 جون 1988ء سے 11 ستمبر 1988ء تک سندھ کے گورنر بھی رہ چکے ہیں-

    رحیم الدین پاکستان کے پہلے کیڈٹ تھے جو فوج میں اعلیٰ ترین منصب تک پہنچے۔ وہ 21 جولائی 1926 کو قائم گنج اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کالج سے حاصل کی جس کی بنیاد ان کے چچا بھارت کے سابق صدر ذاکر حسین نے تقسیم برصغیر سے قبل رکھتی تھی۔

    قیام پاکستان کے بعد پاکستان ملٹری اکیڈیم (پی یو اے) ابتدائی مراحل میں تھی جہاں جنرل (ر) رحیم الدیٰ کو اس کا پہلا کیڈٹ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ انہوں نے بلوچ رجمنٹ کے انفنٹری آفیسر کی حیثیت سے پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ انہوں نے ایک کیپٹن کی حیثیت سے لاہور کے ہنگاموں کو کچلنے کے لئے ملٹری ایکشن میں حصہ لیا۔ انہوں نے مجلس احرار کے رہنماء مولانا عبدالستار نیازی کو گرفتار کیا رحیم الدین خان نے مسجد وزیر خان کے محاصرے کے لئے جنرل حیاء الدین کے احکامات ماننے سے انکار کیا۔

    وہ 1978 سے 1984 تکے طویل ترین گورنر بلوچستان رہے انہوں نے بلوچستان میں عام معافی کا اعلان کر کے صوبے میں فوجی آپریشن بند کئے۔ فراری باغیوں کے پاس جا کر متاثرین کے لئے معاوضوں کا اعلان کیا اور 1980 تک بغاوت کو کچلنے میں جنرل رحیم کامیاب ہوگئے ۔

    انہوں نے کوئٹہ اور دیگر بلوچستان کے شہروں اور قصبوں کے لئے قدرتی گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا مرکزی مزاحمت ہونے کے باوجود بلوچستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ۔وہ چاغی میں ایٹمی تجربات کے لئے سائنس کی تعمیر کی نگرانی کرتے رہے۔جہاں 1998 میں نواز شریف حکومت کے دور میں ایٹمی تجربات کئے گئے اور پاکستان ایٹمی طاقت کاحامل پہلا اسلامی ملک بن گیا جنرل رحیم الدین مرحوم کو فوج میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔وہ ملک کے چوتھے چیئرمین جائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی رہے ۔

    وہ فوجی افسران کی ملازمتوں میں توسیع کے شدید مخالف تھے ۔انہوں نے خود جنرل ضیاالحق کی جانب سے اپنی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع ٹھکرادی تھی ۔09۔1987 میں ریٹائر ہوگئے ۔جس پر جنرل کے ایم عارف کو وائس چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے توسیع دی گئی ۔لیکن ایک سال کے اندر ہی وہ جنرل ضیاء الحق اور وزیراعظم محمد خان جونیجو میں بڑھتی خلیج کی نذر ہوگئے ۔

    جنرل رحیم الدین 1988 میں سندھ کے سویلین گورنر بھی رہے ۔جب مختصر عرصہ کے لئے گورنر راج لگایا گیا تھا انہوں نے جرائم پیشہ طور لینڈ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا مرکز کو ایم کیو ایم کی حمایت سےروکا جب اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان سندھ میں وزارت اعلیٰ کو بحال کرنا چاہا تو جنرل رحیم گورنر کےعہدے سے مستعفی ہوگئے ۔

    راولپنڈی میں اپنی ریٹائرمنٹ کےدنوں میں انہوں نے آرمی چیف کے لیے جنرل آصف نواز اور جنرل عبد الوحید کاکڑ کی حمایت کی ۔ وہ اپنے چالیس سالہ پیشہ ورانہ کیرئیر میں اپنی دیانت داری سے نام کمایا۔

  • جگنو محسن کے والد سید محسن کرمانی انتقال کر گئے

    جگنو محسن کے والد سید محسن کرمانی انتقال کر گئے

    ایم پی اے جگنو محسن کے والد سید محسن کرمانی انتقال کر گئے، سید محمد محسن کرمانی سینئر اینکر پرسن نجم سیٹھی کے سسر تھے۔

    ممتاز صنعتکار سید محسن کرمانی سماجی خدمات کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے۔سید محسن کرمانی کی نماز جنازہ بدھ دن 2 بجے شیرگڑھ اوکاڑہ میں ادا کی جائے گی۔سید محمد محسن کرمانی مچل فروٹ فارمز کے چیئرمین تھے، ان کی عمر 91 برس تھی۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن کے والد اور سینئر صحافی نجم سیٹھی کے سسر کی وفات پر رنج وغم اور افسوس کا اظہارکیا ہے.

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ممتاز صنعت کار سید محسن کرمانی ایک خداترس اور عوام کی بے لوث خدمت کرنے والے نیک انسان تھے ،وہ خاموشی سے دکھی انسانیت ، یتیموں اور ناداروں کی خدمت کرتے تھے ،ایسے نیک دل انسان کی وفات یقینا پورے معاشرے کا نقصان ہے ،وزیراعظم نے ایم پی اے جگنو محسن اور نجم سیٹھی سمیت تمام اہل خانہ سے اظہار ہمدردی اور تعزیت کیا،اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرجمیل دے۔ آمین