Baaghi TV

Tag: انتہا پسندی

  • قومی بیانیہ کی تشکیل کے لیے حکومت  نےکمیٹی قائم کر دی

    قومی بیانیہ کی تشکیل کے لیے حکومت نےکمیٹی قائم کر دی

    وفاقی حکومت نے قومی بیانیہ مرتب کرنے کے لیے قومی پیغام امن کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    یہ کمیٹی انتہا پسندی، دہشت گردی کے خاتمے، فرقہ واریت اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف قومی سطح پر متفقہ بیانیہ تیار کرنے کی ذمہ داری نبھائے گی، جس کی سربراہی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کریں گے۔وزارت اطلاعات کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں مختلف مکاتب فکر کے جید علمائے کرام، مشائخ، اقلیتوں کے نمائندگان اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام شامل ہیں۔اقلیتی برادریوں کو بھی کمیٹی میں مناسب نمائندگی دی گئی ہے، جبکہ صوبائی و علاقائی پیغام امن کمیٹیوں کے کوآرڈینیٹرز، منظور شدہ مدارس بورڈز کے نمائندگان، وزارت داخلہ اور وزارت مذہبی امور کے ایڈیشنل سیکریٹریز، اور ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیمات بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

    اعلامیے کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات کے ڈائریکٹر جنرل انٹرنل پبلسٹی ونگ کمیٹی کے سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ کمیٹی اپنی پہلی میٹنگ میں تفصیلی ٹی او آرز مرتب کرے گی، جنہیں بعدازاں "نیشنل کمیٹی آن نیریٹو بلڈنگ” کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

    اداکارہ حمیرا قتل کیس: فائنل میڈیکو لیگل رپورٹ نے معمہ مزید گہرا کر دیا

    اسرائیل کے صنعا اور الجوف پر فضائی حملے، حوثیوں کا طیارے پسپا کرنے کا دعویٰ

    پنجاب حکومت نے ریسکیو آپریشنز کے لیے جدید ایئرلفٹ ڈرون حاصل کر لیا

  • پہلگام واقعہ، بھارتی مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کے  واقعات  میں اضافہ

    پہلگام واقعہ، بھارتی مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کے واقعات میں اضافہ

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارتی مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کے واقعات میں اضافہ ہو گیا۔

    ذرائع نے بتایا کہ ریاست اتر پردیش، ہریانہ، مہاراشٹرا اور اترکھنڈ میں مسلمان ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر آگئے ہیں جب کہ بی جے پی کے اراکین کی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی بھرپور حمایت کی جارہی ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ، مسلمانوں کو حملوں اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔نفرت انگیز مواد پھیلانے کا مقصد مسلمانوں کے خلاف تشدد کو جواز فراہم کرنا ہے، آگرہ میں ایک مسلمان شخص کو قتل کردیا گیا جب کہ حملہ آور نے اسےپہلگام حملے کا بدلہ قرار دیا۔

    ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے مطابق 22 اپریل کے بعد بھارت میں 21 مسلمانوں کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور نفرت انگیز تقاریر کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ہندو انتہا پسندوں نے ہریانہ اور اتر پردیش میں مسلم تاجروں اور کارکنان کو نشانے پر رکھ لیا ہے جب کہ مہاراشٹر کے وزیر نیتیش رانے نے مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ کرنے کی کال دیتے ہوئے کہا کہ ’’صرف ہندوؤں سے خریداری کی جائے‘‘۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اتر پردیش میں ایک ریسٹورنٹ کے مسلم ملازم کو قتل کیا گیا جب کہ حملہ آوروں نے ’’26 کی موت کا بدلہ 2600 سے لینے کا دعویٰ کیا‘‘۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ کشمیری اور بھارتی مسلمان طلباء کو بھارت میں ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا جارہا ہے، کشمیر میں مقیم مسلم طلباء کو ہاسٹلوں میں حملوں اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔دوسری جانب مسلم خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوا جب کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، تشدد اور معاشرتی بائیکاٹ کی منظم مہم جاری ہے۔

    بھارت کا فالس فلیگ آپریشن، پنجاب وبلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع

  • پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل ارکان کی مخالفت کے بعد ڈراپ

    پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل ارکان کی مخالفت کے بعد ڈراپ

    اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل ارکان کی مخالفت کے بعد ڈراپ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : وزیر مملکت برائے قانون شہادت اعوان نے پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کا بل 2023 سینیٹ میں پیش کیا۔ بل پیش ہوتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئےپی ٹی آئی سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ لگتا ہے یہ بل تحریک انصاف کو الیکشن سے روکنے کا بل ہے اس بل کی تمام شقوں سے تحریک انصاف کے خلاف بو آ رہی ہے حکومتی اتحادی جماعتوں جے یو آئی ف اور نیشنل پارٹی نے بھی بل کی مخالفت کر دی-

    مسلم لیگ ن کے سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا کہ پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام بل 2023 اہمیت کا حامل ہے، اس بل کو پاس کرنے سے پہلے کمیٹی میں پیش کرنا چاہیے تھا،کل کو کوئی بھی اس بل کا شکار ہوسکتا ہے،ابھی جلد بازی میں بل پاس ہورہا ہے،کل کہا جائے گا بل پاس ہورہا تھا تو آپ کہاں تھے،سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل کل ہمارے گلے پڑے گا-

    زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی …

    سینیٹرکامران مرتضیٰ نے کہا کہ یہ بل کل ہم سب کیلئے مصیبت بنے گا، اعتماد میں لیے بنا قانون سازی نہیں کرنی چاہیے جے یو آئی ف کے مولانا عبدالغفورحیدری نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کسی کیخلاف نعرہ بھی لگایا گیا تو کہا جائے گا عوام کو اکسایا گیا ہے،سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ یہ بل پی ٹی آئی نہیں تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف ہے، یہ بل جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا،اس بل کی مخالفت کرتا ہوں۔

    سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ یہ بل جمہوریت کیخلاف ہے، یہ بل کل تمام جماعتوں کے گلے کا پھندہ بن جائے گا،یہ بل جمہوریت پر کھلا حملہ ہے، ہم اس بل کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں، اگر بل منظور کیا گیا تو ایوان سے ٹوکن واک آؤٹ کروں گا، پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کا حصہ نہیں، ن لیگ سے سخت گلہ ہے، کسی جماعت کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا،وفاقی وزیرشیری رحمان نے کہا کہ بل عجلت میں پاس کرنے میں کوئی ممانعت نہیں، ہم اس بل میں اپنی ترامیم لائیں گے۔

    گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے کانسرٹ کی وجہ سے2.3 شدت کا زلزلہ

    چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ یہ بل منظور کرنے کے لیے اجلاس نہیں بلایا ، حکومت کرے یا نہ کرے ، میں اس بل کو ڈراپ کررہا ہوں-

  • برطانیہ بھی نسلی منافرت کی لپیٹ میں،گراؤنڈ میں خفیہ اہلکار تعینات ہوں گے:انگلش کرکٹ حکام

    برطانیہ بھی نسلی منافرت کی لپیٹ میں،گراؤنڈ میں خفیہ اہلکار تعینات ہوں گے:انگلش کرکٹ حکام

    لندن:برطانیہ بھی نسلی منافرت اورانتہا پسندی کی لپیٹ میں آگیا ہے ، جس کی وجہ سے کرکٹ حکام نسل پرستانہ بدسلوکی کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے دوران ایجبسٹن میں ہجوم میں خفیہ اہلکار تعینات کریں گے۔تفصیلات کے مطابق وارکشائر، انگلش کاؤنٹی جس کا ہیڈ کوارٹر برمنگھم گراؤنڈ میں ہے۔

    وارکشائر نے ایجبسٹن میں ہندوستان کے خلاف انگلینڈ کے حالیہ ٹیسٹ میچ کے دوران متعدد شائقین کی جانب سے بدسلوکی کے واقعات کی اطلاع کے بعد نسل پرستی کو ختم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

    پولیس نے پہلے ہی پانچ کے چوتھے دن پیر کو کیے گئے نسل پرستانہ تبصروں کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جس کا اختتام انگلینڈ نے ایک ڈرامائی میچ سات وکٹوں سے جیت کر کیا۔

    وارک شائر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خفیہ فٹ بال کراؤڈ اسٹائل کے اہلکاروں کو بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران پورے اسٹیڈیم میں رکھا جائے گا تاکہ بدسلوکی کو سنیں اور فوری کارروائی کے لیے اس کی اطلاع دیں۔

    وارکشائر کے چیف ایگزیکٹیو سٹورٹ کین نے کہا کہ کلب کو ٹیسٹ میچ کو متاثر کرنے والے واقعات سے نمٹنے کے لیے مزید کچھ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک لاکھ لوگوں نے اس ہفتے کے شروع میں حالیہ تاریخ کے سب سے دلچسپ ٹیسٹ میچوں میں سے ایک دیکھا۔

    اسٹورٹ کین کے مطابق ہم ایرک ہولیس اسٹینڈ میں بھارت کی پیروی کرنے والے کچھ شائقین کے ذریعہ نسل پرستانہ بدسلوکی سے چھپ نہیں سکتے۔کین کا کہنا تھا کہ تھوڑی تعداد میں لوگوں کے ان ناقابل قبول اقدامات نے کھیلوں کے ایک شاندار مقابلوں کو گہنا دیا ہے، اور اس کے ذمہ دار لوگ کرکٹ فیملی کا حصہ بننے کے مستحق نہیں ہیں۔

    اسٹورٹ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں لوگوں کے ساتھ ساتھ ایک مقام کے طور پر، اس بات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری لینے کے لیے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے کہ کھیل دیکھتے وقت ہر کوئی محفوظ اور خوش آئند محسوس کرے۔”

    واضح رہے کہ آفیشل انڈیا سپورٹرز کلب نے کہا کہ ایجبسٹن گراؤنڈ میں ان کے بہت سے اراکین کو چند افراد کے گروہ نے نسل پرستی کا نشانہ بنایا۔یاد رہے کہ انگلینڈ اور بھارت کے درمیان تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز جمعرات کو ساؤتھمپٹن ​​کے قریب ہیمپشائر کے ایجیاس باؤل گراؤنڈ میں شروع ہوگی۔

  • بھارتی انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے بعد اب سکھوں کےجانی دشمن، پُرتشدد جھڑپیں

    بھارتی انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے بعد اب سکھوں کےجانی دشمن، پُرتشدد جھڑپیں

    بھارتی ریاست پنجاب کے شہر پٹیالہ میں دوگروہوں میں جھڑپوں کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے ہڑتال کی کال دیتے ہوئے خالصتان کے حامیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ شہر میں زبردست کشیدگی کی وجہ سے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند کر دی گئی ہے۔

    پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جبکہ تناؤ کے سبب جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ بھارتی ریاست پنجاب میں علیحدگی پسند تحریک خالصتان کے حامی 29 اپریل کو علامتی طور پر یومِ خالصتان مناتے ہیں۔ ہندو گروہوں نے اس کی مخالفت میں گزشتہ روز پٹیالہ میں ’’خالصتان مردہ باد‘‘ کے نام سے ایک ریلی کا اہتمام کیا تھا۔

    ہندو ریلی کی قیادت انتہا پسند جماعت شیو سینا کے ایک مقامی رہنما کر رہے تھے۔ جب یہ ریلی کالی ماتا مندر کے پاس پہنچی تو وہاں بڑی تعداد میں سکھ آ گئے اور دونوں گروہوں میں جھڑپ شروع ہو گئی جس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

    ریاست پنجاب کی حکومت نے پولیس کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے تین اعلیٰ افسران کا تبادلہ کر دیا ہے جبکہ پولیس نے اب تک متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔

    بھارتی صوبے پنجاب کو سکھوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست خالصتان بنانے کی مہم کافی پرانی ہے جس سے وابستہ بیشتر رہنما امریکا، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک میں رہ کر اپنی مہم چلاتے ہیں۔ خالصتان تحریک کی حامی ایک معروف تنظیم سکھ فار جسٹس (ایس جے) ہے۔

    گزشتہ برس اکتوبر میں سکھ فار جسٹس تنظیم نے مجوزہ خالصتان ریاست کے لیے ایک آن لائن ریفرنڈم کا اعلان بھی کیا تھا جس میں 18 برس سے زائد عمر کے تمام سکھوں سے حصہ لینے کی اپیل کی گئی تھی۔

    بھارت میں 2014ء سے اقتدار پر براجمان انتہا پسند جماعت بی جے پی کے وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں مسلم، سکھ اور عیسائی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگیاں مشکل کر دی گئی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوستان میں ہندوؤں کے علاوہ کسی اور کا وجود گوارہ نہیں۔

  • بھارت میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ،طالبات پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے پرپابندی

    بھارت میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ،طالبات پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے پرپابندی

    نئی دہلی: بھارت میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ،طالبات پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے پرپابندی ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں ایک اورمسلمان دشمن فیصلہ کرتے ہوئے مسلمان پولیس کیڈٹ پرحجاب کرنے پرپابندی عائد کردی گئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق کیرالہ کی حکومت نے مسلمان پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے اورپوری آستین کی قمیض پہننے پرپابندی لگادی۔کیرالہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ ریاستی اسکولوں کے طلبا کے لئے شروع کئے گئے اسٹوڈنٹ پولیس کیڈٹ پروجیکٹ میں شریک طالبات کے حجاب پہننے اورپوری آستین کی قمیض پہننے پرپابندی عائد کردی۔

    کیرالہ کے ریاستی حکام کے مطابق یونیفارم میں مذہبی علامات کو استعمال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اورنہ ہی اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔حجاب پرپابندی کیخلاف ایک مسلمان طالبہ نے کیرالہ کے ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی تھی۔عدالت نے درخواست فیصلے کے لئے ریاستی حکومت کو بھیج دی تھی۔

    ممبئی کے ملاڈ میں ہندوانتہا پسندوں نے ایک مسلمان رکشہ ڈرائیور پر چور ہونے کا الزام لگا کر اس کو مار مار کرجان سے مار دیا ہے۔ پولس کے ایک افسر نے بتایاکہ شاہ رخ شیخ نامی شخص کو دامو نگر کے لوگوں نے دس دن پہلے اس وقت پکڑ لیا تھا جب وہ وہاں پہلے سے کھڑے اپنے آٹو رکشہ کی دیکھ بھال کرنے پہنچا تھا۔
    پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ان انتہا پسندوں نے قتل کرنے کے بعد شیخ کو پاس کے ایک مقام پر پھینک دیا۔ اب مہلوک کے اہل خانہ نے احتجاج کرکے واقعے میں شامل لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • برطانیہ میں انتہاپسندی کی انتہا:مسلمان برطانوی رکن پارلیمنٹ کو وزارتی ذمہ داریوں سےفارغ کیا گیا

    برطانیہ میں انتہاپسندی کی انتہا:مسلمان برطانوی رکن پارلیمنٹ کو وزارتی ذمہ داریوں سےفارغ کیا گیا

    لندن :برطانیہ میں انتہاپسندی کی انتہا:مسلمان برطانوی رکن پارلیمنٹ کو وزارتی ذمہ داریوں سےفارغ کیا گیا ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ کی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کی مسلمان رکن پارلیمنٹ نصرت غنی نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں مسلم عقیدے کے سبب وزارتی ذمہ داریوں سے فارغ کیا گیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نصرت غنی کا کہنا ہے کہ ڈاوننگ اسٹریٹ میں مسلمانیت کو ایک مسئلہ کے طور پر اٹھایا گیا، چیف وہپ نے انہیں بتایا تھا کہ ان کا مسلم عقیدہ دیگر ساتھیوں کو بے چین کر رہا ہے۔

    خیال رہے کہ 49 سالہ نصرت غنی کو فروری 2020 میں کابینہ کی ردوبدل کے دوران ٹرانسپورٹ منسٹر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

    اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئےنصرت غنی کا کہنا تھا کہ ساکھ اور کیرئیر تباہ ہونے کے حوالے سے خبردار کیے جانے پر خاموشی اختیار کی۔

    دوسری جانب برطانیہ کی حزب اختلاف کے لیڈر سر کئیر اسٹارمر نے نصرت غنی سے اظہار یکجہتی کیا اور کہا کنزرویٹو پارٹی کو ان الزامات کی مکمل اور فوری تحقیقات کرنا ہوں گی۔

    برٹش پاکستانی رکن پارلیمنٹ افضل خان کا کہنا ہے کہ مذہبی بنیادپرنصرت غنی کو منافرت کا نشانہ بنایا جاناگھناؤنا اور خوفناک عمل ہے، ٹوری پارٹی میں ادارہ جاتی سطح پر اسلاموفوبیا واضح ہوگیا۔

    ادھر ہاؤس آف لارڈز کی رکن بیرونس سعیدہ وارثی نے نصرت غنی کی حمایت میں کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ اسلاموفوبیا پر نصرت غنی کی آواز سنی جائے۔

  • امریکی فوجیوں کا انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف

    امریکی فوجیوں کا انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف

    گزشتہ ایک سال میں 100 کے قریب فوجی کسی نہ کسی انتہا پسند سرگرمی کا حصہ بن چکے ہیں۔

    باغی ٹی وی :واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوجیوں کا انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے پینٹاگون کی رپورٹ کےمطابق 100 کے قریب اہلکاروں نےممنوع انتہا پسند انہ سرگرمیوں میں حصہ لیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ کس قسم کی سرگرمی میں ملوث تھےلیکن انہوں نے حکومت کا تختہ الٹنے یا ’گھریلو دہشت گردی‘ کی وکالت کا حوالہ دیا۔

    یہ قوانین ان انکشافات سے پیدا ہوئے ہیں کہ 6 جنوری کو امریکی کیپیٹل پر حملہ کرنے والوں میں فوجی اہلکار اور سابق فوجی بھی شامل تھے۔ اس سال عہدہ سنبھالنے کے بعد، وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اس بات کا مطالعہ کرنے کا وعدہ کیا کہ یہ مسئلہ کس حد تک پھیل سکتا ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

    افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات…

    تاہم رپورٹ سامنے آنے کے بعد فوجی ارکان کے لیے نئی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    پینٹاگون کے سربراہ لائیڈ آسٹن نے انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کی پالیسیوں پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے درجنوں سابق ارکان کیپیٹل ہل پر حملے میں ملوث تھےامریکی فوجی اس حلف کا احترام کرتے ہیں جو انہوں نے امریکہ کے آئین کی حمایت اور دفاع کے لیے اٹھایا تھا۔ تاہم چند ایسے لوگ بھی ان میں شامل ہیں جو اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

    امریکا میں اسلامو فوبیا کے خلاف بل منظور

    ان سفارشات میں سروس ممبران کے لیے انتہا پسند سرگرمیوں کے متعلق تربیت اور تعلیم میں اضافہ بھی شامل تھا جبکہ پینٹاگون نے سروس ممبران کے لیے نئی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق فوج کے ارکان کی ایک چھوٹی سی اقلیت نے ویکسین لگوانے کے احکامات سے بھی انکار کر دیا تھا اور کچھ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے امریکی کیپٹل ہل میں چھ جنوری کو ہونے والے مہلک فساد میں حصہ لیا تھا۔

    دوسری جانب سینئر امریکی دفاعی عہدیداروں نے کہا کہ پینٹاگون کا نقطہ نظر انتہا پسند گروپوں کی رکنیت کو واضح طور پر ممنوع نہیں کرے گا – اور کیپیٹل حملے میں حصہ لینے والے دائیں بازو کے گروہوں کے پھیلاؤ کے باوجود، خاص نظریات یا سیاسی جھکاؤ کو نشانہ نہیں بنائے گا۔ اس کے بجائے، یہ "کارروائیوں” کو حل کرنے پر توجہ مرکوز اور رویے کے بارے میں رپورٹ کرنے کے لیے زیادہ تر انفرادی سروس ممبران یا باہر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر انحصار کرے گا۔

    برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی  کے خاتمے کے لیے نیکٹا نے ترمیم شدہ پالیسی پیش کردی

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے نیکٹا نے ترمیم شدہ پالیسی پیش کردی

    اسلام آباد :پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے نیکٹا نے ترمیم شدہ پالیسی پیش کردی،اطلاعات کے مطابق نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد کے سلسلے میں قومی پالیسی برائے انسداد متشدد اور انتہا پسندی 2021ء نیشنل کاؤنٹر ٹیرارزم اتھارٹی (نیکٹا) نے نیشنل ایکشن پلان کی ترمیم شدہ پالیسی کا مسودہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو پیش کر دیا۔

    رواں سال ماہ اگست میں انسداد دہشتگردی اور انسداد انتہا پسندی سے متعلقہ مختلف شراکت داروں کے باہمی صالح مشورے کے نتیجے میں قومی ایکشن پلان کی نظرثانی کی گئی جس کے بعد ملک سے انتہا پسندی کے خاتمہ اور نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد کےلئے نیکٹا نے بڑا قدم اٹھالیا (نیکٹا)کے کوآرڈینیٹر مہر خالق داد لک نے قومی ایکشن پلان کی ترمیم شدہ پالیسی کا مسودہ وفاقی وزیر داخلہ کو پیش کی۔

    نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلے میں سونپی گئی ذمہ داری کے نتیجے میں تیار کی گئی پالیسی کا مسودہ دو حصوں پر مشتمل ہے، مسودے کا پہلا حصہ پالیسی کی وضاحت کرتا ہے، جبکہ دوسرا حصہ اس کے ادارہ جاتی نفاذ سے متعلقہ ذمہ داریوں اور مختلف محکموں کے کردار پر روشنی ڈالتا ہے۔

    پالیسی کا مسودہ مرتب کرنے کیلئے 250 سے زائد ماہرین سے مشاورت کی گئی۔ پالیسی مرتب کرنے کیلئے پچھلے تین ماہ کے دوران نیکٹا نے صوبوں اور وفاقی سطح پر موجود مختلف مکاتب فکر بشمول صحافی، علماء، دانشور، اقلیتی نمائندوں، وکلاء، محققین، انسانی حقوق کے تحفظ کے اداروں اور سول سوسائٹی کے ماہرین سے مشاورت کی۔