Baaghi TV

Tag: انتہا پسند ہندو

  • بھارت،  دو مسلم نوجوانوں کے قتل کی ویڈیو، انتہا پسند  ہندوتنظیم نے ذمہ داری لی

    بھارت، دو مسلم نوجوانوں کے قتل کی ویڈیو، انتہا پسند ہندوتنظیم نے ذمہ داری لی

    بھارتی ریاست اُتر پردیش کے علاقے رام نگر میں مبینہ طور پر دو مسلم نوجوانوں کے قتل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ویڈیو میں ایک انتہا پسند ہندو شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’دو کٹویں مارے گئے ہیں‘‘، جب کہ خود کو ’چھتری ورچہ دل‘ نامی تنظیم سے منسلک قرار دیتے ہوئے اس واقعے کی ذمہ داری بھی قبول کی گئی ہے۔ویڈیو میں مذکورہ شخص مزید کہتا ہے کہ "بھارت ماتا کی سوگند، چھبیس کا بدلہ چھببیس سو سے نہ لیا تو میں بھارت ماتا کا پتر نہیں۔” ویڈیو کے اختتام پر ’جئے شری رام‘ اور ’جئے ہندو راشٹر‘ کے نعرے بھی لگائے جاتے ہیں۔

    یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شدید تشویش کا باعث بنی ہے اور اس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے واقعے کی مذمت کی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    واضح رہے کہ بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف انتہاپسندانہ کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    پہلگام حملے میں افغانستان میں چھوڑا امریکی اسلحہ استعمال ہونے کا دعویٰ

  • انتہا پسند ہندوؤں نے بھارت  کے پہلے وزیراعظم کے مجسمے کو توڑ دیا،ویڈیو وائرل

    انتہا پسند ہندوؤں نے بھارت کے پہلے وزیراعظم کے مجسمے کو توڑ دیا،ویڈیو وائرل

    بھوپال: بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں ہندو انتہا پسندوں نے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے مجسمے کو ہتھوڑے اور لاٹھیاں مار کر توڑ دیا جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے سنتا میں ایک مصروف مقام پر بھارت کے اولین رہنماؤں میں سے ایک اور ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے مجسمے پر ایک درجن کے قریب ہندو انتہا پسندوں نے دھاوا بول دیا۔

    بھکاری نے بیوی کیلئے 90 ہزار روپے کی موٹرسائیکل خرید لی

    انتہا پسندوں نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے مجسمے پر ہتھوڑے برسائے، پتھر مارے اور لاٹھیوں سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جس سے مجسمے کو شدید نقصان پہنچا تاہم وہ گرنے سے بچ گیا۔


    اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس کے بعد پولیس متحرک ہوئی اور 6 افراد کو حراست میں لے لیا تاہم گرفتار ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ ان کی سیاسی وابستگی سے متعلق بھی معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔

    قبل ازیں بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی نے کہا تھا کہ بی جے پی حکومت ہٹلر، اسٹالن اور موسولینی سے بھی بدتر ہے۔انھوں نے کہا بی جے پی کی زیر قیادت حکومت کے تحت حالات اُس سے کہیں زیادہ بدتر ہیں، جو ایڈولف ہٹلر، جوزف اسٹالن یا بینیٹو مسولینی جیسے آمروں کے دور میں تھے۔

    ’مودی حکومت ہٹلر، اسٹالن، موسولینی سے بدتر ہے‘:ممتابینرجی

    حکمران جماعت پر تنقید کرتے ہوئے ممتا نے کہا تھا کہ حکومت ریاستی معاملات میں مداخلت کے لیے مرکزی ایجنسیوں کو استعمال کر رہی ہے، اور ملک کے وفاقی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے۔

    ممتا بینر جی کا کہنا تھا کہ مرکزی ایجنسیوں کو جمہوریت کو بچانے کے لیے مکمل اختیارات دینے چاہئیں، ایجنسیاں با اختیار ہونی چاہئیں اور انھیں کسی سیاسی مداخلت کے بغیر غیر جانب دارانہ طور کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

    ترکی:استنبول میں داعش کا سربراہ گرفتار

  • نئی دہلی: گائے ذبح کرنے کا الزام،مسلمان بزرگ تشدد سے جانبحق،کرناٹک:مسلمان پھل فروش پر چاقو سے حملہ

    نئی دہلی: گائے ذبح کرنے کا الزام،مسلمان بزرگ تشدد سے جانبحق،کرناٹک:مسلمان پھل فروش پر چاقو سے حملہ

    نئی دہلی: بھارتی دارلحکومت میں ایک دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے گائے ذبح کرنے کے الزام میں ہندو انتہا پسندوں کے مشتعل ہجوم نے ایک مسلمان شخص پر تشدد کرکے اسے جاں بحق کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دہلی کے چھاؤنی علاقے میں گائے کے رکھوالوں نے گائے ذبح کرنے کے الزام میں ایک ادھیڑ عمر کے شخص کو بے دردی سے پیٹا، جس کے بعد علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔

    بھارت میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شرمناک ہیں،امریکا

    پولیس کے مطابق بری طرح زخمی شخص کو اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔

    معاملے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ چھاؤنی پولیس نے موقع پر پہنچ کر نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے ان کی تلاش شروع کر دی اب تک 5 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    گذشتہ کچھ سالوں کے دوران گائے اسمگل کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں ہندو انتہا پسندوں کے حملوں میں متعدد مسلمان مارے جاچکے ہیں-

    یاد رہے کہ اکثریتی ہندو آبادی کے ملک بھارت میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے جبکہ ملک کی کئی ریاستوں میں اس کے ذبح کرنے پر پابندی ہے۔

    بھارت: ہندوانتہا پسندوں نےمسلمان ڈرائیوروں کے خلاف مہم شروع کر دی

    ناقدین کے مطابق 2014 کے انتخابات میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کی وجہ سے ان انتہاپسند افراد کو زیادہ حوصلہ ملا۔

    دوسری جانب کرناٹک پولس نے پیر کو دھارواڑ ضلع میں ایک مسلم فروش کی ملکیت والی پھلوں کی گاڑی میں توڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کیا گرفتار لوگوں کی شناخت چدانند کلال، کمار کٹیمنی، میلارپا گڈپناور اور مہلنگا ایگلی کے طور پر کی گئی ہے۔

    پھل فروش نبی صاب کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کرانے کے بعد پولیس نے اسے حراست میں لے لیا دھارواڑ دیہی پولیس نے جان بوجھ کر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے، غیر قانونی اجتماع، فسادات اورامن کو خراب کرنے کی جان بوجھ کر کوشش کرنےکےالزام میں 8 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

    زیادہ بچے پیدا کریں، ورنہ ہندوستان سے ہندوختم ہو جائیں گے

    پھل فروش کی دکان میں توڑ پھوڑ کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی۔ کمارسوامی نے بھی پھل فروش نبی صاحب کی مالی مدد کی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق 15 سال سے نبی صاب کی دکان نوگیکیری ہنومان مندر کے احاطے سے چل رہی ہے 9 اپریل کو مندر کے احاطے میں آنے والے لوگوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور کہا کہ وہ اپنا کاروبار یہاں بند کریں-

    بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کے وزیرقانون جے سی مادھو سوامی نے ایوان کے فلور پر کہا تھا کہ غیر ہندو مندر کے احاطے اور مذہبی میلوں میں اپنا کاروبار نہیں کر سکتے تب سے کچھ گروہ تمام مذہبی مقامات سے مسلم دکانداروں کو خالی کرانے کا پرزور مطالبہ کر رہے ہیں۔

    جبکہ حال ہی میں کرناٹک میں شدت پسند ہندو تنظیموں نے مسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی اور ہندوؤں سے کہا تھا کہ وہ مسلمان پھل فروشوں سے خریداری نہ کریں تاکہ پھلوں کے کاروبار پر مسلمانوں کی مبینہ اجارہ داری ختم ہوسکے۔

    اس حوالے سے ہندو جاگرتی سمیتی کے کوآرڈینیٹر چندرو موگر کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں اس ںے ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ صرف ہندو دکانداروں سے ہی پھل خریدیں-

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے…

  • راجستھان:بھارتی انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کےگھرجلانے کا سلسلہ جاری

    راجستھان:بھارتی انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کےگھرجلانے کا سلسلہ جاری

    راجستھان: راجستھان:بھارتی انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کےگھرجلانے کا سلسلہ جاری ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع کرولی میں مسلمانوں کے گھروں ، ان کی جائیدادوں اور مال مویشیوں کو جلانے کا سلسلہ جاری ہے اور بڑے نقصان کے بعد کرفیو میں 7اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ریاستی حکومت نے ضلع کرولی میں کرفیو میں 7 اپریل تک توسیع کرنے اورضلع میں دفعہ 144کے نفاذ اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی کاحکم جاری کیا ہے ۔

    ہندوانتہاپسند تنظیموں وشوا ہندو پریشد ، راشٹریہ سوایم سیوک سنگھ اور بجرنگ دل کی طرف سے ہفتہ کے روز ضلع میں مسلمانوں کے مکانوں اور دکانوں میں آگ لگانے ، توڑ پھوڑ کرنے اور مسلمانوں پر پتھرائو کرنے کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی کی وجہ سے کرفیو نافذ ہے ۔

    راجستھان کانگریس نے پیر کو کرولی میں مسلمانوں کی املاک کو نذر آتش کرنے اور ان پر پتھرائو کے واقعے کی تحقیقات کیلئے تین رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ کمیٹی میں ایم ایل اے جتیندر سنگھ اور رفیق خان اور کرولی ضلع کے انچارج للت یادو شامل ہیں۔ یہ پینل کرولی کا دورہ کرے گا اور راجستھان پردیش کانگریس کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔

    ادھر بھا رتی دارلحکومت نئی دلی کی انتظامیہ نے ہندوئوں کے تہوار نوراتری کے نام پر 11اپریل تک گوشت کی دکانیں بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔

    جنوبی دلی کے میئر مکیش سورین نے میونسپل کمشنر کے نام ایک مراسلہ میں ہدایات جاری کی ہیں کہ آج سے 11اپریل تک نئی دلی میں گوشت کی دکانیں بند رکھی جائیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ شہری ادارے کی طرف سے نوراتری کے دوران گوشت کی دکانیں بند رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    ایس ڈی ایم سی کمشنر گیانیش بھارتی کو لکھے ایک خط میں، سورین نے کہا ہے کہ نوراتری کے دوران پوجا کرنے کے لیے جاتے ہوئے گوشت کی دکانوں کے سامنے سے گزرتے وقت بھگتوں کے مذہبی عقائد اور جذبات متاثر ہوتے ہیں۔لہذا 11اپریل تک نوراتری تہوار کے دنوں کے دوران گوشت کی دکانوں کو بند رکھنے کے لیے کارروائی کی جائے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ مستقبل میں قصابوں کے نئے لائسنس کی پالیسی میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ نوراتری کے دوران گوشت کی دکانیں بند کرنی ہوںگی۔

  • مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا فرمان جاری

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا فرمان جاری

    نئی دہلی : انتہا پسند ہندوؤں نے بھارت میں مسلمانوں کا جینا دو بھر کر دیا، بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہندو مذہبی رہنماؤں کی پنچایت میں ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا فرمان جاری کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق مہاراشٹرا نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ کر دیا راج ٹھاکرے نے کہا کہ مدارس پاکستانی حامیوں سے بھرے ہوئے ہیں ممبئی پولیس کو بھی معلوم ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے ہمارے ارکان اسمبلی انہیں ووٹ بینک کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ

    دوسری جانب رمضان کے موقع پر ممبئی میں انتہا پسند ہندو رہنما نے دھمکی دی ہے کہ اگر مساجد سے لاؤڈ اسپیکر نہیں ہٹے تو مساجد کے دروازں پر ہندوؤں کے مذہبی گيت بجائے جائیں گے۔

    ریلی سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ مسجدوں کے باہر لاؤڈ سپیکر کی کیا ضرورت ہے؟ کیا جب مذہب کی بنیاد رکھی گئی تھی تو لاؤڈ سپیکر موجود تھے؟ اگر حکومت نے انہیں ہٹایا نہیں تو پھر ہمارے کارکنان اس کے سامنے ہنومان چالیسا بجائیں گے۔

    پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے نرسنگھا نند نے کہا کہ اگر بھارت میں کوئی مسلمان وزیر اعظم بن جاتا ہے، تو آئندہ بیس برس کے دوران آپ میں سے 50 فیصد اپنا عقیدہ بدل دیں گے اور باقی 40 فیصد ہندو مار دیئے جائیں گے جس کے بعد انہوں نے مزید کہا کہ تو یہ ہے ہندوؤں کا مستقبل، اگر آپ اسے بدلنا چاہتے ہیں تو مرد بنو۔ اور مرد ہونا کیا ہے؟ وہ شخص جو ہتھیاروں سے لیس ہو۔

    3 افراد نےحاملہ بکری کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کرمار ڈالا،ایک ملزم گرفتار

    دوسری جانب نئی دہلی میں مسلمانوں پر ہندو تہوار کے موقع پر 10 دن کے لیے اپنی گوشت کی دکانیں بند رکھنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے درگاہ مائی کی پوجا کے نام سے 10 دن تک جاری رہنے والے مشہور ہندو تہوار کے آغاز پر ہی مسلمانوں کو گائے کے گوشت کی دکانیں بند رکھنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

    جنوبی اور مغربی نئی دہلی کے میئرز نے تجویز دی ہے کہ تہوار کے 10 دن تک مندر میں آمد و رفت زیادہ ہوجاتی ہے ایسے میں مندر آنے والوں کو دکانوں پر لٹکا ہوا گائے کا گوشت دیکھ کر تکلیف ہوگی اس سے ہندو کمیونیٹی کے جذبات بھڑک سکتے ہیں اور امن و عامہ کا مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے اس لیے مسلمان ان 10 دنوں میں دکانیں بند رکھیں۔

    کرناٹک میں طالبات کےحجاب پر پابندی کے بعدگائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی

    میونسپل اداروں کے سربراہان نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ گائے کی باقیات کو ٹھکانے لگانے کے بجائے سڑک پر پھینک دیا جاتا ہے جسے کتے کھاتے ہیں اور گندگی پھیلتی ہے۔

    اس سے قبل ہی مودی کی جماعت کے کارندوں نے گوشت کی دکانیں بند کروانا شروع کردی ہیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

    بھارت میں 2014 میں نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد سے اقلیتوں، خاص طور پر مسلم برادری، کے خلاف اس طرح کے نفرت انگیز بیانات میں اضافہ ہوا ہے چند ماہ قبل ہری دوار میں بھی اسی طرح کی ایک پنچایت میں مسلمانوں کی ‘نسل کشی کرنے” کا نعرہ لگایا گيا تھا۔

    ہندو اگرشاہ رخ خان کی فلموں کا بائیکاٹ کردیں، تو وہ سڑکوں پر آجائیں گے ،ہندوانتہا…

  • بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ

    نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت میں ’ہندو مہاپنچایت‘ نامی تقریب میں انتہا پسند جنونیوں نے مسلمان صحافیوں کو جہادی قرار دیکر حملہ کردیا اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

    باغی ٹی وی : انتہا پسند ہندوؤں نے برے القابات سے پکارا اور انہیں جہادی بھی کہا تشدد کی وجہ سے صحافی زخمی بھی ہوئے ہیں جب کہ پولیس نے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پانچوں صحافیوں کو تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر کے ان کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا۔

    بھارت میں پٹرول کی قیمت میں 8 روز میں ساتویں باراضافہ

    بھارتی میڈیا کے مطابق ہندو مہاپنچایت کے موقع پر دو انتہاپسند ہندو رہنماؤں اور ایک دائیں بازو کے منظورِ نظر ٹی وی چینل کے چیف ایڈیٹر نے اشتعال انگیز تقاریر کیں اور مسلمان صحافیوں کو جہادی قرار دیا جس پر مسلمان صحافیوں نے احتجاج کیا تو جنونی انتہا پسند ہندوؤں نے صحافیوں پر حملہ کردیا۔ ان کے کیمرے توڑ دیئے اور تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ مدد کو آنے والے ہندو صحافیوں کے ساتھ بھی مارپیٹ کی گئی۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچی اور پانچوں صحافیوں کو تحویل میں لے کر مکھر جی نگر تھانے منقتل کردیا جن پانچ صحافیوں کو تھانے منتقل کیا گیا ہے ان میں سے تین مسلمان ہیں جن کے نام ارباب علی، میر فیصل اور محمد مہربان ہیں بعد ازاں ان زخمی صحافیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔


    دہلی پولیس کی آفیسر اوشا رنگانی کے مطابق پولیس اہلکار شکایت ملنے پر فوراً ہندو مہاپنچایت پہنچے اور وہاں موجود صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا۔

    وزیر اعلیٰ کے گھر پر حملہ :حملہ کرنے والے کون؟جان کرہرکوئی حیران

    پولیس نے تقریب کے منتظمین، دو انتہا پسند ہندو رہنماؤں اور سدھرشن نیوز کے چیف ایڈیٹر کے خلاف اشعال انگیز تقاریر کرنے اور تشدد پر اکسانے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔


    بھارتی صحافی محمد سلمان نے اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری بیان میں کہا کہ میرے دوست ارباب علی اور دو مزید صحافیوں میر فیصل اور محمد مہربان پر دائیں بازو کے گروپوں کے اراکین نے دہلی کے علاقے براری میں ہندو مہاپنچایت میں حملہ کیا اور انہیں ہراساں کیا تینوں ہندو مہاپنچایت کی کوریج کے لیے گئے تھے۔


    محمد سلمان کے مطابق ان کے کیمرے و فونز چھین لیے گئے اور انہیں جہادی بھی قرار دیا گیا۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ صحافیوں کو ان کا کام کرنے سے روکا گیا اور ان پر حملہ کیا گیا۔

    کرناٹک میں طالبات کےحجاب پر پابندی کے بعدگائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی


    بھارتی صحافی رانا ایوب نے ایک ٹویٹ میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے امید ہے کہ دنیا انڈین صحافیوں خصوصاً مسلمان صحافیوں پر ہونے والے حملوں کو دیکھ رہی ہیں بھارت میں موجود ہر صحافی کو سچ بولنا چاہیے اور سب کا احتساب کرنا چاہیے۔


    زخمی صحافی ارباب علی نے بھی ٹوئٹس میں ہندو مہاپنچایت میں خود پرکیے گئے تشدد کی مذمت کی-

    بھارت نے روس سے روسی کرنسی میں تجارت کی تو نتائج بھگتنا ہوں گے، امریکا

  • کرناٹک میں طالبات کےحجاب پر پابندی کے بعدگائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی

    کرناٹک میں طالبات کےحجاب پر پابندی کے بعدگائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی

    بنگلورو: بھارتی ریاست کرناٹک میں طالبات کے حجاب پر پابندی اور ہندو فیسٹیول میں مسلم دکاندا روں کو کاروبار سے روکے جانے کے بعد انتہا پسند ہند وؤں کے جتھے نے گائے کے گوشت کی فروخت بھی بند کروا دی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کرناٹک میں بجرنگ دل کے کارکنان نے سپر اسٹور پر گائے کے گوشت کی فروخت کو روک دیا جب کہ ایک ہوٹل میں حلال گوشت کے پکوان پر ویٹرز کے ساتھ مارپیٹ بھی کی۔

    نوبیاہتا جوڑے کی شادی کے چند گھنٹوں بعد دسویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی

    گائے کے گوشت کی فروخت کے خلاف ان پُرتشدد واقعات کا آغاز کرناٹک کے دارالحکومت میں ہندوؤں کی انتہا پسند جماعت کے رہنماؤں کی ایک مہم کے بعد ہوا بجرنگ دل کے رہنماؤں نے بازاروں میں جا کر گائے کے گوشت کی فروخت کے خلاف تقاریر کیں اور مسلم دوکانداروں کو ڈرایا دھمکایا۔

    انتہا پسند ہندو جماعت کے کارکنان نے پمفلٹس بھی تقسیم کئے جس میں گائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا پولیس نے مسلم تاجروں کے مطالبے پر بجرنگ دل کے 6 کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

    ہندو اگرشاہ رخ خان کی فلموں کا بائیکاٹ کردیں، تو وہ سڑکوں پر آجائیں گے ،ہندوانتہا…

    خاص طور سے اگادی کے بعد ، جو کہ ہندو نئے سال کا تہوار ہے اگادی کے ایک دن بعد،’نان ویجیٹیرین‘ ہندوؤں کا ایک طبقہ بھگوان کو گوشت چڑھا تا ہے اور نئے سال کا جشن مناتا ہے۔ کئی لوگ ایسے گوشت پیش کرتےہیں جسے کچھ دائیں بازو کے کارکن لوگوں سے ترک کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں یہ کال کرناٹک کے کچھ حصوں میں ہندو مذہبی میلوں کے دوران مندروں کے آس پاس مسلم دکانداروں پر پابندی کے بعد آئی ہے۔

    واضح رہے کہ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کردی گئی تھی جس کے بعد مسلم تاجروں کو ہندو فیسٹیول میں اسٹالز لگانے سے روک دیا گیا تھا۔

    وزیر اعلیٰ کے گھر پر حملہ :حملہ کرنے والے کون؟جان کرہرکوئی حیران

  • مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    اسلام آباد: مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت کا معاشرہ غیر مستحکم قیادت میں تیزی کے ساتھ زوال کی طرف جا رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھارتی ریاست کرناٹک میں مسلمان طالبات کے حجاب پہننے پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

     

     

     

    فواد چوہدری نے مودی کی انتہا پسندانہ سوچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کے بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خوفناک ہے، حجاب پہننا کسی بھی دوسرے لباس کی طرح ذاتی پسند ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو حجاب کے انتخاب میں آزادی ہونی چاہیے۔

    فواد چوہدری نے بھارتی حکومت کو خبردار کرتےہوئے کہا ہےکہ مسلمان خواتین کے خلاف نفرت پھیلانے کو اس قسم کی گھٹیا حرکتوں سے باز رہنا چاہیے پاکستان اپنے مسلمان بہن بھائیوں‌ پرہونے والے مظالم کی مذمت کرتا ہے اور اس قسم کی انتہا پسندی کو کبھی بھی قبول نہیں کرے گا

    یاد رہے کہ آج بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں نے باحجاب طالبات پر زندگی تنگ کردی ۔

    کرناٹک میں سڑک سے گزرتی اکیلی طالبہ کو زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کی جانب سے تنگ کرنے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہورہی ہے۔

     

     

    کالج جانے والی طالبہ کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا۔

    نہتی مسلمان لڑکی ہندو انتہا پسندوں کے سامنے ڈٹ گئی، ویڈیو میں کالج میں ایک لڑکی کو جے شری رام کا نعرہ لگانے والے ہجوم کی طرف سے ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ہجوم میں شامل لوگ آگے بڑھے اور لڑکی کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے، لڑکی نے اس دوران مشتل ہجوم سے ڈرنے کے بجائے ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور اونچی آواز میں ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔

  • انتہا پسند ہندووں کی ایک اور سازش،بھارت کو” ہندو ریاست” بنانے کا مطالبہ

    انتہا پسند ہندووں کی ایک اور سازش،بھارت کو” ہندو ریاست” بنانے کا مطالبہ

    بھارت میں انتہا پسند ہندووں کی ایک اور سازش، ہندو مذہبی رہنماؤں نے عام ہندوؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو ‘ہندو راشٹر‘ یعنی ہندو ریاست لکھنا اور کہنا شروع کر دیں جس کے بعد حکومت بھی یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ہندو مذہبی رہنماؤں نے عام ہندوؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو ‘ہندو راشٹر‘ یعنی ہندو ریاست لکھنا اور کہنا شروع کر دیں جس کے بعد حکومت بھی یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گی ان مذہبی رہنماوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ہندوؤں کا ‘احترام‘ نہ کرنے والے مسلمانوں کو پاکستان بھیج دیا جائے۔

    بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    دسمبر کے بعد ہندوں کی مذہبی پارلیمنٹ کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں اجلاس میں ہندوؤں کے مذہبی لحاظ سے انتہائی محترم سمجھے جانے والے متعدد لیڈروں سمیت تقریباً 400 سنت شریک ہوئے اس اجلاس میں قرارداد پیش کی گئی، جس کے تحت تبدیلی مذہب کو ملک سے غداری اور ایسا کرنے میں ملوث پائے جانے والوں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

    بھارت میں بجٹ پیش، عام آدمی کو نہ مل سکا ریلیف، کسان بھی دیکھتے رہ گئے

    اجلاس میں کہا گیا کہ اسلامی جہاد انسانیت کے لیے بڑا خطرہ ہے اور اسے کچلنے کے لیے چین جیسی پابندیوں کی پالیسی اپنانا ہوگی سناٹی سب کا ہدف ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں یکساں نظام تعلیم اور انصاف کا نفاذ کیا جائے یہ بھی مطالبہ کیا کہ چٹائیوں اور مندروں پر حکومتی قبضے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اگر میٹ اور مندر حاصل کیے جا رہے ہیں تو مساجد اور گرجا گھروں کو بھی حاصل کیا جانا چاہیے۔

    ہندوستان :ریپستان بن گیا:اجتماعی زیادتی کیس میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد گرفتار

    یاد رہے پربودھانند نے اس اجلاس میں انتہائی اشتعال انگیز تقریر کرتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کے لیے روہنگیا باشندوں کے قتل عام جیسی کارروائی کا مشورہ دیا تھا انہوں نے بھارتی پولیس، فوج اور سیاست دانوں سے مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے متحد ہوجانے کی اپیل بھی کی تھی۔

    بھارت نے جاسوسی کیلئے اسرائیل سے پیگاسس اسپائی وئیرخریدا،رپورٹ

  • بھارت میں انتہا پسند ہندو وکیلوں کا اذان پر پابندی کا مطالبہ

    بھارت میں انتہا پسند ہندو وکیلوں کا اذان پر پابندی کا مطالبہ

    بھارت میں ہندو سادھو اور سیاستدانوں کے بعد خود کوپڑھا لکھا تعلیم یافتہ کہلانے والا کالا کوٹ طبقہ بھی مسلم دشمنی میں میدان میں آگیا ہے بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ہندو وکیلوں نے ریاست کے وزیر داخلہ سے اذان پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ہندو انتہاپسند سوچ کے حامل وکلا نے صوتی آلودگی کو بہانہ بناتےہوئے لاؤڈ اسپیکروں سے اذانوں کی آوازوں پرپابندی کا مطالبہ کیا ہے اس کیلئے وکلاء نے اندور کے ڈویژن کمشنر اور وزیر داخلہ نروتم مشرا کو میمورنڈم بھی ارسال کردیا ہے۔

    جنرل بپن راوت کے ہیلی کا حادثہ،تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پیش

    وکلاء کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام کو مسلم تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے مسلم مذہبی رہنماؤں نے اسے مذہبی تعصب سے تعبیرکیا ہے مدھیہ پردیش کی جمعیت علماء نے بیان دیا جس میں کہا گیا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ سبھی مذاہب کے لوگ اپنی تقریبات میں استعمال کرتے ہیں۔

    مغربی ممالک میں نسل پرستی کا سامنا رہا،کمارسانو کی بیٹی کا انکشاف

    جمعیت کا کہنا تھا کہ صوتی آلودگی تو دیگر سیاسی اجتماعات، شادیوں پر بینڈ باجے، گاڑیوں کے شور سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ پابندی کا مطالبہ کرنے والے لوگ اپنی مذہبی تقریبات میں تو شریک ہوتے نہیں اور دوسروں کو بھی تکلیف دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔

    بھارت میں مسلم نسل کُشی عروج پر:مودی سرکارکو مہلت دینے والے ذمہ دار:دنیا کوکچھ…

    دوسری جانب مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کا کہنا ہے کہ انہیں لاؤڈ اسپیکرکے استعمال سے متعلق وکلاء کی جانب سے ایک میمورنڈم موصول ہوا ہے جسے جانچ پڑتال کے لیے متعلقہ محکمہ میں بھیج دیا گیا ہے، اس حوالے سے رپورٹ آنے کے بعد کوئی بات کی جا سکتی ہے۔

    بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول…