Baaghi TV

Tag: انسانیت

  • دکھی انسانیت کی خدمت ایک عبادت ہے،گورنر پنجاب

    دکھی انسانیت کی خدمت ایک عبادت ہے،گورنر پنجاب

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان سے معروف کاروباری اور سماجی شخصیت سعید ڈیرے والے کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی ہے.وفد میں مختلف انڈسٹریز سے وابستہ افراد میاں کلیم سعید، میاں ضعیم انور، میاں اظہر انور و دیگر شامل تھے،وفد نے گورنر پنجاب کو کاروباری برادری کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا

    سرکاری کمپنیاں ایک کھرب سالانہ سے زائد کے نقصانات کررہی ہیں. وزیر مملکت

    وفد سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام لانے بغیر ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا. مسلم لیگ ن کی قیادت کی تمام تر توجہ معیشت کی بہتری اور ترقی پر مبذول ہے.کاروباری افراد ملک کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں.

     

    پاکستان کو سیاسی صورتحال کے باعث آئی ایم ایف سے قرض میں تاخیر ہو رہی ہے: ریٹنگ ایجنسیز

     

     

    بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہمیشہ تاجر برادری کی فلاح بہبود کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں. کاروباری حضرات کے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کروں گا.

     

    آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: وزیراعظم

     

    گورنر پنجاب نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت ایک عبادت ہے. تاجر برادری نے ہر مشکل وقت میں ملک اور عوام کی خدمت کی ہے. ملک میں کورونا وبا کے دوران بھی تاجر برادری نے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا.

    بلیغ الرحمان نے وفد کو ہقین دلایا کہ گورنر ہاوس آپ کے فلاحی کاموں میں شانہ بشانہ کھڑا ہے.

  • لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    "ایک شخص راستے سے اوپر پڑی ہوئی درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس شاخ کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ یہ ان کو ایذا نہ دے تو اس شخص کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔”

    ہمارے گلی محلہ شہر کی سڑکوں پر گہرے کھڈے ہوتے ہیں جس کے باعث ہم یا اور کوئی کسی حادثے کا شکار ہوجاتا ہے، گندگی پھیلانے میں ہمارا اپنا ہاتھ ہوتا ہے، گندگی کو اس کے مقام تک پہنچانے کی بجائے ہم کہیں بھی اس کو گرا دیتے ہیں جس سے ماحول خراب اور فضاء میں بیماریوں کے انبار وجود میں آتے ہیں اور اس کا نقصان جانوروں اور انسانوں کو ہوتا ہے،

    ہم اکثر یا روزانہ کی بنیاد پر ایسے حالات کا سامنے کرتے ہیں اور پھر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں لیکن خود ہم یہ کام اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے کتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ پریشانیاں خود بخود اور ہمارے کچھ بھی کئے بنا ختم ہوجائے لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ جب ہم خود کچھ کرنا نہیں چاہتے تو اس پریشانی سے کسی کو کیا بچانا ہے ہم خود بھی نہیں بچ پاتے اور پھر اکثر اوقات ہمیں ایسی سستی کرنے عوض بھاری نقصان کا سامنا کر پڑجاتا ہے۔

    ہمیں چاہئیے کہ کم از کم اپنے گھر، تعلیمی و شعبہ سے متعلقہ جگہ کے سامنے پڑے کھڈوں کو مرمت، صفائی کا اہتمام، اور رات کے وقت کیلئے روشنی کا انتظام کر دیں ہمارے صرف اک اس عمل سے ہماری گلیاں، محلے، شہر، اور ملک صاف ستھرا، روشن اور حادثات سے کافی محفوظ ہوجائے اور کئی انسانی جانیں محفوظ ہوجائیں گی حادثات و بیماریوں سے۔

  • انسانیت آج بھی زندہ ہے ،قبائلی ضلع باجوڑ فرنٹیئر خیبر پختونخوا میں مثال قایم

    انسانیت آج بھی زندہ ہے ،قبائلی ضلع باجوڑ فرنٹیئر خیبر پختونخوا میں مثال قایم

    قبائلی ضلع باجوڑ فرنٹیئر کور نارتھ خیبر پختونخوا کی طرف سے افغان فوجی اہلکار کا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر علاج ۔
    آج باجوڑ سے ملحقہ افغان سرحدی چوکی پر تعینات افغان فوجی حکام نے اپنے ساتھی فوجی اہلکار کے ایمرجنسی علاج معالجے کی درخواست پاکستانی فوجی حکام سے کی۔جسے پاکستانی حکام نےانسانی ہمدردی اور دوستی کی بنیاد پر قبول کیا اور افغان فوجی اہلکار کو پاکستان کے سرحدی غاخی پوسٹ پر علاج معالجہ کے لیے لایا گیا جہاں پر طبی ماہرین اور ڈاکٹروں نے افغان فوجی اہلکار صلاح الدین کو علاج معالجے کے بعد واپس افغان فوجی اہلکاروں کے حوالے کیا گیا۔ افغان آرمی کے اہلکاروں نے فرنٹیئر کور نارتھ اور پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

  • مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بے گناہ لوگوں کی شہادت پر دنیا خاموش.انسانیت فراموش

    مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بے گناہ لوگوں کی شہادت پر دنیا خاموش.انسانیت فراموش

    پوری قوم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے،وزیراعلیٰ عثمان بزدارکایوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پیغام
    کشمیری عوام اپنے قیمتی لہو سے آزادی کی نئی تاریخ لکھ رہے ہیں،کوئی قوت پاکستانیوں اور کشمیریوں کے لازوال رشتے کو ختم نہیں کرسکتی
     مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بے گناہ لوگوں کی شہادت پر دنیا کی خاموشی کا کوئی جواز نہیں، اقوام عالم کو اب خواب غفلت سے بیدار ہونا پڑے گا
    بھارت ریاستی جبر وتشدوکے ذریعے زیادہ دیر تک کشمیریوں کو انکے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھ سکتا،بے گناہ شہید کشمیریوں کا خون رنگ لائے گا
    لاہور4فروری:  وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کہاہے کہ پوری قوم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے-نہتے کشمیریوں کی عظیم جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں -پاکستان اور کشمیر ایک لڑی میں پروے ہوئے ہیں – پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں -پاکستان کشمیر اور کشمیر پاکستان کے بغیر نامکمل ہے- کشمیریوں کے ساتھ ہمارا رشتہ محبت، بھائی چارے اوراخوت کا ہے-کشمیری عوام اپنے قیمتی لہو سے آزادی کی نئی تاریخ لکھ رہے ہیں -ہم کل بھی کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے،آج بھی ساتھ کھڑے ہیں اور کل بھی ساتھ کھڑے رہیں گے- کوئی قوت پاکستانیوں اور کشمیریوں کے لازوال رشتے کو ختم نہیں کرسکتی-وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پراپنے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بے گناہ لوگوں کی شہادت پر دنیا کی خاموشی کا کوئی جواز نہیں – اقوام عالم کو اس سلگتے مسئلے کے حوالے سے خواب غفلت سے بیدار ہونا پڑے گا-بھارت کو ہر ظلم کا حساب دینا ہوگا-بے گناہ شہید کشمیریوں کا خون رنگ لائے گا اور آزادی کشمیر کی صبح ضرور طلوع ہوگی-بھارت ریاستی جبر وتشدوکے ذریعے زیادہ دیر تک کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھ سکتا۔ کشمیری عوام اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کے ساتھ بھارت کے روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم یوم یکجہتی کشمیر پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی اخلاقی،سفارتی اور سیاسی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

  • درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ۔۔۔ اسامہ چوہدری

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ۔۔۔ اسامہ چوہدری

    آج پیپر دے کر کمرہ سے باہر آیا تو چلچلاتی ہوئی دھوپ محسوس ہوئی۔ سوچا باہر کسی فوڈ کارنر پہ بیٹھتا ہوں جب تک باقی دوست بھی باہر آجائیں گے۔سکول گیٹ سے باہر نکلا تو گیٹ کی ایک طرف معصوم سا بچہ کسی کالج کے فلائرز تقسیم کررہا تھا اسے دیکھتے ہی اچانک دل میں رحم سا آگیا۔ اس کے پاس گیا، اس سے پوچھا کہ آپ یہ کیوں تقسیم کررہے ہو تو اس نے جواب دیا کہ مجھے کسی انکل نے دیے ہیں جب میں یہ سارے تقسیم کرکے گھر جاوں گا تو مجھے سو روپیہ ملے گا ۔مجھے اس شخص پر بہت غصہ آیا کہ پھول جیسے بچے کو سو روپے کے لالچ میں تپتی دھوپ اور آگ جیسی لو میں کھڑا کیا ہوا ہے۔

    خیر باقی دوست پیپر دے کر باہر آئے تو میں نے ان کو اس بچے کے بارے بتایا اور کہا کہ ہم یا تو اس شخص سے ملیں جس نے اس اس کام پر لگایا ہے یا اسکے گھر جا کر اس کے حالات معلوم کریں کیا معلوم کہ اس کے گھر آج کی افطاری کے پیسے بھی نہ ہوں۔

    ہم نے منصوبہ بنایا کہ اس بچے کے سکول کا خرچہ ہم اپنے ذمے لیں گے ۔اس کے گھر پہنچے تو وہاں پر ایک درد ناک کہانی تھی ۔گھر کے مرکزی دروازے کا ایک حصہ ٹوٹا ہوا اور گھر حسرت و یاس کی تصویر نظر آرہا تھا۔

    اس کی امی کو بلایا گیا اور اپنا تعارف کروایا ،اور کہا کہ ہم آپکی ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہیں تو اس نے کہا بیٹا ہم تو باقیوں کی نسبت بہتر زندگی گزار رہے ہیں ،یہ بچہ سکول بھی پڑھتا ہے مگر سیکنڈ ٹائم کوئی نہ کوئی کام کرلیتا ہے، میرا اس سے بڑا بیٹا بھی ایک دکان پر کام کرتا ہے جس سے ہمارے گھر کا خرچ تو چل ہی جاتا ہے مگر میری ایک دوست ہے جس کے میاں فوت ہوچکے اور ان کا کمانے والا کوئی نہیں ہے اگر آپ ان کی مدد کرسکتے ہیں تو کیجیے ۔میں آپکا رابطہ ان سے کروا دوں گی ۔

    اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایسے لوگ بھی دنیا میں ہیں جو خود انتہائی کسمپرسی کی زندگی کے باوجود دوسروں کا خیال رکھنے والے ہیں۔

    اور دوسری طرف وہ بے حس کالج والے جو ایک معصوم بچے کو جس کی ابھی کھیلنے کودنے کی عمر ہے جس کے ہاتھ میں اپنی کتابیں کاپیاں ہونی چاہئے تھی وہ دوسروں کے لئے ایک کالج کے فلائرز تقسیم کررہا تھا۔