Baaghi TV

Tag: انسانی حقوق

  • غزہ:  اسرائیلی فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد شہید

    غزہ: اسرائیلی فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد شہید

    اسرائیلی فضائی حملے نے جنوبی غزہ کے علاقے عبسان الجدیدہ میں ایک رہائشی گھر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 11 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں اکثریت بچوں پر مشتمل تھی۔

    عرب میڈیا کے مطابق مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ اس میں دو خاندان مکمل طور پر ختم ہو گئے۔ ملبے سے لاشیں نکالنے کا عمل جاری ہے جبکہ بعض افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق 70 ہزار سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔اسرائیل کی جانب سے محدود امداد کی ترسیل کے باعث قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

    غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف اسپتالوں میں 79 لاشیں لائی گئیں۔211 فلسطینی زخمی ہوئے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ادھر جبالیا پناہ گزین کیمپ میں بھی ایک اور گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 50 افراد جاں بحق یا لاپتہ ہو گئے۔ عینی شاہدین نے الجزیرہ کو بتایا کہ بمباری اتنی شدید تھی کہ "پورا خاندان ایک لمحے میں ختم ہو گیا۔”

    انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقامی حکام نے بین الاقوامی برادری کی خاموشی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ غزہ میں جاری جنگی صورتحال نے نہ صرف انسانی جانوں کا زیاں بڑھا دیا ہے بلکہ پوری آبادی کو بنیادی سہولیات سے محروم کر کے ایک انسانی المیے میں بدل دیا ہے۔

    ویزا فراڈ اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث خاتون سمیت 5 ملزمان گرفتار

    بنگلہ دیش نے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا

    فی تولہ سونا 3 لاکھ 54 ہزار روپے سے تجاوز کرگیا

    امیر مقام نے بھائی کو نیشنل کوآرڈینیٹر بنانے کی سفارش کر دی

    میرپورخاص: پبلک سکول کی بہتری کے لیے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس، اہم فیصلے

  • برطانیہ میں اسرائیل کو ایف-35 طیاروں کے پرزے دینے کا فیصلہ عدالت میں چیلنج

    برطانیہ میں اسرائیل کو ایف-35 طیاروں کے پرزے دینے کا فیصلہ عدالت میں چیلنج

    برطانوی حکومت کی جانب سے اسرائیل کو امریکی ساختہ ایف-35 لڑاکا طیاروں کے پرزوں کی فراہمی کا فیصلہ انسانی حقوق کی فلسطینی تنظیم "الحق” نے ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق درخواست گزار تنظیم نے موقف اختیار کیا ہے کہ برطانیہ نے اسلحے کی برآمد سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، کیونکہ ان پرزوں کو ممکنہ طور پر غزہ میں عام شہریوں پر حملوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں جاری بمباری کے نتیجے میں 55 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ایف-35 جیسے مہلک طیاروں کے لیے پرزوں کی فراہمی دراصل جنگی جرائم میں سہولت کاری کے مترادف ہے۔”

    واضح رہے کہ برطانیہ نے گزشتہ سال اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی کے کئی لائسنس معطل کر دیے تھے، تاہم ایف-35 طیاروں کے پرزے اس پابندی سے مستثنیٰ رکھے گئے تھے۔ یہ فیصلہ مبینہ طور پر ڈیفنس سیکرٹری کے مشورے سے کیا گیا تھا۔برطانوی حکومت کا موقف ہے کہ پرزوں کی فراہمی سے "عالمی امن و سلامتی” پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ اس اقدام کا عالمی سطح پر توازن قائم رکھنے میں کردار ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب، جنگ مخالف برطانوی اراکین پارلیمنٹ بھی اس مقدمے کی حمایت میں سامنے آ گئے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسرائیل کو کسی بھی قسم کی فوجی مدد بین الاقوامی اخلاقی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔عدالت کی جانب سے اس اہم مقدمے کا فیصلہ آئندہ چند روز میں سنائے جانے کا امکان ہے، جس کے عالمی سطح پر سیاسی و سفارتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان کا جوابی وار،اسلام آباد میں تعینات بھارتی سفارتی اہلکار کو ملک چھوڑنے کا حکم

    ڈیرہ اسماعیل خان،فورسز پر حملے کی کوشش ناکام، شرپسندوں کے ٹھکانے تباہ

    ٹرمپ کی ایک بار پھر پاک بھارت امن کی پیشکش،جنگ نہیں، تجارت کریں

    بھارت کا پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار کو ملک چھوڑنے کا حکم

  • ڈاکٹر عافیہ رہائی،امریکی ریاست ٹیکساس کی جیل کے باہر مظاہرہ

    ڈاکٹر عافیہ رہائی،امریکی ریاست ٹیکساس کی جیل کے باہر مظاہرہ

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے انسانی حقوق کے رضاکاروں اور ڈاکٹر عافیہ کے سپورٹرز نے امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع ایف ایم سی کارسویل جیل کے باہر ایک مرتبہ پھر پرامن مظاہرہ کیا جس میں مرد، عورتوں اور بچوں نے شرکت کی۔

    باغی ٹی وی کی اطلاعات کے مطابق مظاہرے میں معروف مسلم اسکالر امام عمر سلیمان نے بھی شرکت کی اور اس موقع پر شرکاء سے خطاب بھی کیا۔واضح رہے کہ ایف ایم سی کارسویل جیل کی انتظامیہ امام عمر سلیمان کو ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے پلان بی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ڈاکٹر عافیہ کے وکیل کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ کہہ چکے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ پر جیل میں جنسی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور انہیں گوانتاناموبے کے قیدیوں سے بھی زیادہ برے حالات کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

    چند ماہ قبل ملک کے معروف ماہرنفسیات ڈاکٹر اقبال آفریدی نے ایف ایم سی کارسویل جیل میں عافیہ کا طبی معائنہ کیا تھا۔ ان کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت ہے جو انہیں امریکی بیورو آف پرزنر کی طرف سے نہیں دی جار ہی ہے۔ جبکہ اس کے برخلاف وزارت امور خارجہ (Mofa) اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کر رہی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی صحت، زندگی اور رہائی سے متعلق دائر آئینی پٹیشن نمبر 3139/2015 کو خارج کیا جائے۔

    ٹیرف میں اضافہ، ایپل نے لاکھوں آئی فون بھارت سے نکال لیے

    کراچی، پراسیسنگ زون کی فیکٹری میں آگ لگ گئی ، ریسکیو آپریشن جاری

    ٹرمپ کا دورۂ سعودی عرب ، تیاری کیلئے سعودی وزیر خارجہ امریکہ پہنچ گئے

  • عوام ہی اصل طاقت کا سرچشمہ،حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔بلاول

    عوام ہی اصل طاقت کا سرچشمہ،حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ایک تفصیلی پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے انسانی حقوق کی اہمیت، پاکستان میں ان کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ "انسانی حقوق کی پاسداری ایک منصفانہ، جامع اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہیں اور ان کا تحفظ ایک پائیدار اور خوشحال مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق صرف قابلِ حصول مقاصد نہیں ہیں بلکہ یہ وقار، مساوات اور انصاف کے لیے بنیادی ستون ہیں، جو کسی بھی معاشرے کی کامیابی کی بنیاد ہوتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ "کسی بھی معاشرے کا مستقبل ان حقوق کو بلا تفریق تمام افراد کے لیے یقینی بنانے پر منحصر ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ "1973ء کے آئین میں شہید بھٹو کی جانب سے شامل کیے گئے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہم پرعزم ہیں۔” انہوں نے قائدِ عوام کا مشہور نعرہ "ایک شہری، ایک ووٹ” یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصول عوام کو طاقت کا اصل سرچشمہ بنانے کی بنیاد ہے۔

    بلاول زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "بی بی شہید نے خواتین کی خودمختاری، صنفی امتیاز کے خاتمے، غیرت کے نام پر قتل و تشدد کے خلاف اہم اقدامات کیے۔” بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ شہید بینظیر بھٹو نے آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے آمرانہ دور کے قوانین کا خاتمہ کیا اور اقلیتوں اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنے والد، سابق صدر آصف علی زرداری کی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "صدر زرداری کے دور میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے جمہوری اصولوں کو بحال کیا گیا اور انسانی حقوق کو محفوظ بنایا گیا۔” انہوں نے بتایا کہ "آرٹیکل 25-اے کی شکل میں تعلیم کے حق کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا اور کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے اور گھریلو تشدد کے خلاف قوانین کے نفاذ کو بھی نمایاں کیا گیا۔”انہوں نے کہا کہ "بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات نے پسماندہ طبقوں، خاص طور پر غریب خواتین، کے لیے ایک سماجی تحفظ فراہم کیا، اور یہ پیپلز پارٹی کے جامعیت اور سماجی انصاف کے عزم کا ثبوت ہیں۔”بلاول بھٹو زرداری نے حکومتِ سندھ کی انسانی حقوق کی پالیسی کی توثیق کرتے ہوئے اس کے مرحلہ وار نفاذ پر زور دیا اور کہا کہ "متعلقہ حکام اس پالیسی کو کامیابی سے نافذ کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں تاکہ شہری آزادیوں کا تحفظ اور جامع ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔”

    بلاول زرداری نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر اور غزہ میں جاری ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر اور غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے چاہیے۔” بلاول بھٹو زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے اصولوں پر اپنے عزم کا دوبارہ اظہار کرے۔آخر میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ "پیپلز پارٹی ہر شہری کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور ہم ایسے پاکستان کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں جو آزادی، مساوات اور انصاف کے اصولوں کی عکاسی کرتا ہو۔” انہوں نے کہا کہ "پیپلز پارٹی کا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ عوام ہی اصل طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔”چیئرمین پی پی پی نے اقوام متحدہ کی رواں سال کی تھیم کی بھی توثیق کی اور کہا کہ "ہم عالمی سطح پر انسانی حقوق کی ضمانت دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔”

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی کا پاکستان میں مذہبی بنیاد پر جرائم پر اظہار تشویش

    اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی کا پاکستان میں مذہبی بنیاد پر جرائم پر اظہار تشویش

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے پاکستان میں مذہبی بنیاد پر جرائم پر تشویش کا اظہار کیا ہے

    اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی نے پاکستان سمیت 6 ملکوں میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنی رپورٹ جاری کی ہے،کمیٹی نے پاکستان میں امتیازی سلوک، نفرت انگریز بیان بازی، نفرت پر مبنی جرائم، ہجوم کے تشدد اور مذہبی اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے،توہین مذہب کے جھوٹے الزام میں پھنسانے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کمیٹی نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ ان تمام واقعات کی تفتیش کرے اور ان جرائم میں ملوث افراد پر مقدمہ چلاکر انھیں سزا دلوائے۔

    پاکستان میں مذہبی آزادی ایک اہم موضوع ہے جس پر وقتاً فوقتاً بحث کی جاتی ہے۔ پاکستان کا آئین اپنے شہریوں کو مذہبی آزادی دینے کی ضمانت دیتا ہے،پاکستان کے آئین کے مطابق، ہر شہری کو اپنی پسند کے مذہب کو اختیار کرنے اور اس پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ آئین کی شق 20 کے تحت، تمام شہریوں کو اپنے مذہب، عقیدہ اور عبادات کی آزادی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ، 1985 میں آئین میں 23 ویں ترمیم کے ذریعے اقلیتی نمائندوں کو پارلیمنٹ میں نشستیں دی گئی ہیں تاکہ وہ اپنے حقوق کا دفاع کر سکیں۔

    پاکستان میں مذہبی اقلیتوں میں ہندو، عیسائی، سکھ کمیونٹیز شامل ہیں، جنہیں بعض اوقات اپنے مذہبی حقوق کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر، توہینِ مذہب کے قوانین کے باعث بعض افراد کو غلط استعمال اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ پاکستانی حکومت نے متعدد بار مذہبی آزادی کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان میں اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے کمیشن کا قیام، اقلیتی تہواروں کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنا، اور مذہبی رواداری کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی اداروں میں خصوصی پروگرامز کا انعقاد شامل ہے۔پاکستان کی مذہبی آزادی کے حوالے سے عالمی سطح پر بھی جائزے اور رپورٹیں سامنے آتی رہی ہیں۔ بین الاقوامی تنظیمیں جیسے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی حالت کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے مذہبی آزادی کے متعلق رپورٹ پاکستان مسترد کرتا ہے، دفتر خارجہ

    بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک،امریکہ کی مذہبی آزادی پر رپورٹ جاری

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • پاکستان میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر انسانی حقوق کارکنان کو دھمکا رہے ہیں،اقوام متحدہ

    پاکستان میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر انسانی حقوق کارکنان کو دھمکا رہے ہیں،اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 220 افراد اور 25 سے زائد انسانی حقوق تنظیموں کو دھمکیوں اور انتقام کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میں انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کی رپورٹ جینیوا میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے پیش کی پاکستان میں انسانی حقوق کارکنوں کے ساتھ حکومتی سلوک پر اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنان حکومتی نشانے پر ہیں، پاکستان میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر انسانی حقوق کارکنان کو دھمکا رہے ہیں رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کارکنان کی نگرانی بڑھائی گئی، کچھ کارکنان کو سزائیں بھی دی گئیں رپورٹ میں مئی 2022 سے لے کر 30 اپریل 2023 تک کے واقعات شامل کیے گئے ہیں۔

    میکسیکو میں چرچ کی چھت گرنے سے 10 افراد ہلاک

    دوسری جانب رپورٹ پر ترجمان حکومت بلوچستان جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کارکنوں اور بین الاقوامی غیرحکومتی تنظیموں کو مکمل آزادی حاصل ہے دنیا بھر میں ہر حکومت کے اپنے پروٹوکولز اورطریقہ کار ہوتے ہیں، بین الاقوامی تنظیمیں حکومتی پرو ٹوکولز پرعمل کرنے کی قانوناً پابند ہوتی ہیں پاکستان میں اس معاملےمیں بعض مغربی ممالک کے مقابلے میں بھی زیادہ آزادی ہے۔

    امریکا نے ایران کے سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ مدار میں لانچ کرنے کا اعتراف …

  • ایچ آر سی پی کا عام انتخابات سے متعلق غیر یقینی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار

    ایچ آر سی پی کا عام انتخابات سے متعلق غیر یقینی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی گورننگ کونسل نے ایک اجلاس میں عام انتخابات سے متعلق غیر یقینی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں اصرار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابی شیڈول کا اعلان فوری طور پر کرے تاکہ انتخابات مقررہ 90 دن کی مدت سے قریب تر ہوں۔

    تاہم بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ حلقہ بندیوں کے عمل کو بھی تیزی اور مؤثر طریقے سے مکمل کیا جائے اور کسی بھی صورت میں انتخابات میں مزید تاخیر کا بہانہ نہ بنایا جائے، ہیومن رائٹس کمیشن نے نادرا جیسے اداروں کی طرف سے انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کی گنجائش پر تشویش کا اظہار کیا اورالیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس امکان کو ختم کرے۔


    جبکہ ایک بیان میں مزید کہا گیا کہ ہیومن رائٹس کمیشن بڑھتے ہوئے پولرائزڈ ماحول سے بہت پریشان ہے، جس میں مذہبی اور فرقہ وارانہ تقسیم کو مبینہ طور پر انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے لیے مصنوعی سیاسی جگہ پیدا کرنے کے لیے بڑھایا جا رہا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ خیبرپختونخوا میں مسلسل دہشت گردی کے واقعات نے سیاسی جماعتوں کو صوبے میں انتخابی مہم چلانے کے حوالے سے خوف میں مبتلا کیا ہوا ہے، جس کا ہم پہلے بھی مشاہدہ کر چکے ہیں اور دوبارہ ایسا نہیں ہونا چاہئیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چینی کی قیمت 200 تک پہنچ گئی
    شادی جلدی یا لیٹ کبھی بھی ہو سکتی ہے ایشو والی بات نہیں‌عثمان مختار
    میں آج تک اقربا پروری کا شکار نہیں‌ہوئی غنا علی
    انڈر 23 ایشین کپ 2024 کوالیفائرز کیلئے 23 رکنی سکواڈ کا اعلان
    حلیم عادل شیخ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج
    ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق آزادانہ، منصفانہ اور قابل اعتماد انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے علاوہ، موجودہ نگران حکومت کا امتحان یہ ہے کہ وہ نہ صرف یہ دیکھے کہ آیا وہ لوگوں کے پرامن احتجاج کرنے کے حق کا تحفظ اور احترام کرے گی، بلکہ یہ بھی کہ وہ ان مسائل کا جواب دے گی جو عام شہریوں کو درپیش ہیں۔

  • افغانستان میں سیاحتی مقام جانے پر خواتین کو روک دیا گیا

    افغانستان میں سیاحتی مقام جانے پر خواتین کو روک دیا گیا

    طالبان نے خواتین کے افغانستان میں ایک مشہور سیاحتی مقام بند امیر نیشنل پارک جانے پر پابندی لگا دی ہے جبکہ فضیلت اور نائب کے قائم مقام وزیر محمد خالد حنفی نے کہا کہ پابندی ضروری تھی کیونکہ خواتین پارک کے اندر حجاب نہیں کرتی تھیں، اور یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ خواتین زائرین حجاب نہیں دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو دوبارہ پارک میں داخلے کی اجازت دینے سے پہلے ایک طریقہ کار تیار کیا جائے گا۔


    جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سفر پر جانا واجب نہیں ہے تاہم خیال رہے کہ طالبان کی خواتین پر بعض سرگرمیوں پر پابندی لگانے کی تاریخ ہے جس میں انہیں اسکول جانے اور کام کرنے سے روکنا بھی شامل ہے، واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بند امیر نیشنل پارک کے دورے پر پابندی خواتین کے حقوق پر پابندیوں کی ایک طویل فہرست میں تازہ ترین ہے۔


    خیال رہے کہ خواتین اور ہماری بہنیں اس وقت تک بند امیر کے پاس نہیں جا سکتیں جب تک ہم کسی اصول پر متفق نہ ہوں۔ سیکورٹی اداروں عمائدین اور انسپکٹرز کو اس سلسلے میں ایکشن لینا چاہیے۔ سیاحت کے لیے جانا واجب نہیں ہے، بامیان میں مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ حجاب نہ کرنے والی خواتین کا تعلق بامیان سے نہیں ہے اور حکومت کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے۔


    بامیان شیعہ علماء کونسل کے سربراہ سید نصر اللہ واعظی نے کہا کہ حجاب کی کمی یا خراب حجاب کی شکایات ہیں یہ بامیان کے رہائشی نہیں ہیں۔ وہ دوسری جگہوں سےدوسرے صوبوں سے یا افغانستان کے باہر سے یہاں آتے ہیں۔ جبکہ اس پابندی کو بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑاہے بہت سے لوگوں نے اسے خواتین کے حقوق کو محدود کرنے کے لیے طالبان کی جانب سے ایک اور قدم قرار دیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پیپلز پارٹی نے بھی کارکنان کو بجلی بلوں کیخلاف احتجاج کا کہہ دیا
    وزیر اعظم کا عوام کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کا حکم
    ذکاء اشرف نے قومی ٹیم کی پرفارمنس پر انعام کا اعلان

    واضح رہے کہ افغان رکن پارلیمنٹ مریم سلیمان خیل نے ایکس پر ایک نظم شیئر کی جو انہوں نے پابندی کے بارے میں لکھی تھی اور ہیومن رائٹس واچ کی فریشتہ عباسی نے اسے افغانستان کی خواتین کی مکمل بے عزتی قرار دیا ہے،

  • جڑانوالہ،اتوار تک تمام چرچ بحال کرنے کی ہدایت کی ہے، خلیل جارج

    جڑانوالہ،اتوار تک تمام چرچ بحال کرنے کی ہدایت کی ہے، خلیل جارج

    نگران وفاقی وزیر خلیل جارج نے وزارت انسانی حقوق اور ویمن ایمپاورمنٹ کا چارج سنبھال لیا۔

    انہوں نے 17اگست کو بطور نگران وفاقی وزیر حلف اٹھایا تھا، وہ 2013 سے 2018 تک رکن قومی اسمبلی رہے ہیں۔ وہ 2013 سے 2018 تک پارلیمانی سیکرٹری وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے عہدے پر تعینات رہ چکے ہیں۔ وہ پورٹس اینڈ شپنگ اور گلگت بلتستان سٹینڈنگ کمیٹی کے ممبر رہے ہیں۔ ماضی میں وہ 1999 میں دو بار ضلع کوئٹہ کے کونسلر منتخب ہوئے

    خلیل جارج نگران وفاقی وزیر انسانی حقوق اور ویمن امپاورمنٹ کا کہنا ہے کہ سانحہ جڑانوالہ کے کے متاثرین کی بحالی کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں۔ اتوار کو جڑانوالہ کے چرچز میں مسیحی برادری کی عبادت یقینی بنائیں گے۔مقامی انتظامیہ کو اتوار تک تمام چرچ بحال کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ ایک دو چرچز کو بحال کردیا گیا ہے۔ جڑانوالہ کے تمام چرچ پوری طرح بحال اور ان کی تزئین و آرائش کریں گے۔ سانحہ جڑانوالہ کے 80 متاثرہ خاندانوں کو 20، 20 لاکھ روپے کے امدادی چیک دیے گئے ہیں۔ متاثرین کی آباد کاری کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سانحہ جڑانوالہ کی معاشرے کے تمام طبقات نے مذمت کی ہے۔

    خلیل جارج کا کہنا تھا کہ متاثرین کی مدد و حمایت پر مسلمان بہن ،بھائیوں اور علماء کرام کے شکر گزار ہیں۔ نوجوان گمراہ کرنے والوں سے ہوشیار رہیں،بطور وزیر انسانی حقوق کے حوالے عوام کی بلا تخصیص مدد کروں گا۔ ہم دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے آئے ہیں،ان کے حقوق کے ضامن ہیں۔خواتین اور اقلیتوں سے ناروا سلوک کے خاتمے کے لئے مل کر کام کریں گے۔لفٹ میں پھنسے افراد کو باحفاظت نکالنے پر پاک فوج اور ریسکیو ٹیموں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا

  • قائمہ کمیٹی نے گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کا نوٹس لے لیا

    قائمہ کمیٹی نے گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کا نوٹس لے لیا

    رضوانہ کی صحت کل کے مقابلے میں بہتر ہو گئی ہے،سربراہ میڈیکل بورڈ

    سول جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی رضوانہ جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے،سربراہ میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم کا کہنا ہے کہ رضوانہ کی صحت کل کے مقابلے میں بہتر ہو گئی ہے ، سانس لینے میں جو مشکلات آرہی تھیں اور آکسیجن لگائی گئی اس کی ضرورت اب کم ہو رہی ہے ،رضوانہ کو جن انفکیشن کی وجہ سے مشکلات تھیں اب ان کے رزلٹ میں بہتری آئی ہے ، بچی نے آج ٹھوس غذا کھانے کے لیے مانگی ہے ،رضوانہ نے آج نرم غذا بھی شروع کر دی ہے۔ رضوانہ کو جوسز اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ رضوانہ کے ہوش و حواس میں تھوڑی بہتری آئی ہے اور وہ بات چیت کر رہی ہے ،رضوانہ سرجیکل آئی سی یو میں رہے گی،رضوانہ کو سانس لینے میں تکلیف ہے، رضوانہ کو آکیسجن لگائی گئی ہے،آکسیجن کی مقدار کو کم کر دیا ہے،ٹوٹے ہوئے بازوؤں پر فل الحال پلاسٹر لگا دیا ہے،زخموں کی نوعیت جانچنے کے لیے فرانزک والوں سے ٹیسٹ کروا رہے ہیں،

    دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے سول جج کی اہلیہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والی کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کا نوٹس لے لیا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس بدھ کو طلب کیا گیا ہےدوسری جانب لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج تشدد کا شکار گھریلو ملازمہ بچی کی حالت بدستور تشویشناک ہے میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد سول جج کی اہلیہ پر درج مقدمے میں اقدام قتل اور جسم کے بیشتر اعضا کی ہڈیوں کو توڑنے کی دفعات شامل کرلی گئیں۔

    واضح رہے کہ 24 جولائی کو تشدد کی شکار 14 سالہ بچی رضوانہ کا معاملہ سامنے آيا تھا، بچی کی ماں نے جج کی اہلیہ پر تشدد کا الزام لگایا تھا، جب بچی کو اسپتال پہنچایا گیا تو اس کے سر کے زخم میں کيڑے پڑ چکے تھے اور دونوں بازو ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ خوف زدہ تھی تشدد کا شکار گھریلو ملازمہ بچی رضوانہ 7 روز سے لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جس کی حالت تشویش ناک ہے –

    برصغیر کی ایک بے مثال و باکمال اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج پروفیسر الفریدظفر کا کہنا ہے کہ بار بار طبیعت بگڑنے پر آکسیجن لگانا پڑتی ہے،رضوانہ کے جگرکے انفیکشن میں معمولی کمی آئی ہے جب کہ گردوں کی انفیکشن ختم ہو چکی ہے، سائیکولوجسٹ بھی رضوانہ کے علاج میں شامل ہے اس کی روازانہ کونسلنگ کی جارہی ہے۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ بچی کے خون میں انفکیشن کی بیماری ہے جو سارے جسم میں پھیل چکی ہے، رضوانہ کے پلیٹ لیٹس 12ہزار سے بڑھ کر 24 ہزار ہوگئے ہیں اور جسم میں خون کی شرح 7 ہےرضوانہ کی والدہ نے اپنی بیٹی کو زہر دینے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس پر زہر کا ٹیسٹ بھی کروا لیا ہے، رپورٹس آنے پر ہی کچھ واضح ہوگا۔

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کے نہ آنے پر سماعت میں وقفہ