Baaghi TV

Tag: انصار عباسی

  • رانا شمیم پر فرد جرم عائد،انصار عباسی سمیت دیگر میڈیا نمائندوں پر فرد جرم کی کارروائی موخر

    رانا شمیم پر فرد جرم عائد،انصار عباسی سمیت دیگر میڈیا نمائندوں پر فرد جرم کی کارروائی موخر

    رانا شمیم پر فرد جرم عائد،انصار عباسی سمیت دیگر میڈیا نمائندوں پر فرد جرم کی کارروائی موخر

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جج رانا شمیم پر فرد جرم عائد کر دی ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے خود فرد جرم پڑھ کر سنائی ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی ، دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رانا شمیم جلدی روسٹرم پر آجائیں فرد جرم عائد کرنی ہے، عدالت حکم دے چکی ہے آج فرد جرم عائد ہوگی۔ رانا شمیم نے استدعا کی کہ میرے وکیل راستے میں ہیں، تھوڑا وقت دے دیں جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی اور وکیل کے پہنچنے کے بعد فاضل جج نے فرد جرم پڑھ کر سنا دی

    اس سے قبل عدالت نے ریمارکس دیے کہ رانا شمیم نے بیان حلفی میں سنگین الزامات عائد کیے، ہمیں کچھ نہیں چھپانا،نہ چھپائیں گے، بتائیں جولائی 2018سے آج تک کون ساحکم کسی کی ہدایت پرجاری ہوا؟، آپ بتادیں اس عدالت کے ساتھ کسی کوکوئی مسئلہ ہے،اس عدالت کی بہت بےتوقیری ہوگئی، اس عدالت کےحوالے سے ہی تمام بیانیے بنائے گئے، آئینی عدالت کے ساتھ بہت مذاق ہوگیا، عدالت لائسنس نہیں دے سکتی کہ کوئی ایسے بےت وقیری کرے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کواحساس نہیں کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی، یہ عدالت اوپن احتساب پریقین رکھتی ہے، اخبارکے آرٹیکل کا تعلق ثاقب نثارسے نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہے، لوگوں کو بتایا گیاکہ اس کورٹ کے ججزکمپرومائزڈ ہیں، کیس 2 روز بعد سماعت کیلئے مقررتھا جب سٹوری شائع کی گئی، اگرکوئی غلطی تھی توہمیں بتادیں ہم اس پرایکشن لیں گے ۔عدالت نے رانا شمیم پر فرد جرم عائد کر دی جس میں رانا شمیم پر عائد الزامات پڑھ کر سنائے گئے

    رانا شمیم نے صحت جرم سے انکارکر دیا ،رانا شمیم نے کہا کہ آپ مجھے سنیں تو صحیح ایک ایک کرکے الزامات کا جواب دینا چاہتا ہوں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک تاریخ دے دیتے ہیں،آپ جواب جمع کرادیں انصار عباسی سمیت دیگر میڈیا نمائندوں پر فرد جرم کی کارروائی موخر کر دی گئی

    افضل بٹ نے عدالت میں کہا کہ اس سارے کیس سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے، زیرالتواء کیسز سے متعلق کوئی رولز مرتب کیے جانے چاہئیں،اگر عدالت ہمیں موقع دے تو ہم کچھ ایسا طریقہ کار بنا لیں کہ آئندہ ایسا نہ ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اخبار کو بہت موقع دیا لیکن ان کو کوئی پچھتاوا نہیں ہے،یہ عدالت لائسنس نہیں دے سکتی کہ کوئی سائل اسکی بے توقیری کرے،یہ عدالت سرعام احتساب پر یقین رکھتی ہے،اگر احتساب نہیں ہو گا تو بہتری نہیں ہو سکے گی،کیا یہ عدالت خاموشی سے بیٹھ کر خود پر اعتماد ختم ہونے دے، افضل بٹ نے کہا کہ یہ بات حلف پر کہنے کو تیار ہوں کہ صحافی اس کورٹ پر مکمل یقین رکھتے ہیں،ہم سمجھتے ہیں یہ عدالت آخری امید ہے،جس پر عدالت نے کہا کہ اگر کوئی غلطی تھی تو ہمیں بتا دیں ہم بھی اس پر ایکشن لیں گے،سینئر صحافی ناصر زیدی نے کہا کہ مجھے بھی کچھ کہنے کی اجازت دی جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں، ہم پہلے بھی کہہ چکے کہ ان کا ثانوی کردار ہے، کل کو کوئی بھی تھرڈ پارٹی ایک کاغذ دے گی اور اس کو ہم چھاپ دیں گے تو کیا ہو گا اتنا بڑا اخبار کہے کہ اس حوالے سے کوئی قانونی رائے نہیں لی تو پھر یہ زیادتی ہو گی

    ناصر زیدی نے کہا کہ اس پروسیڈنگ سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے،کورٹ پروسیڈنگ کی کوریج کے دوران احتیاط کرنی چاہیے،ہم نے ملٹری کورٹس کا سامنا کیا اور آج آزاد عدلیہ کا سامنا کر رہے ہیں جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے تو خود کوڑے بھی کھائے ہیں، اسی وجہ سے آپ کو بھی آزادی ملی، عدالت نے ناصر زیدی سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ کوڑا زیادہ زور سے لگتا ہے؟ ناصر زیدی نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے سے دنیا بھر میں غلط میسج جائے گا،عدالت خود آزادی اظہار رائے کے حق میں ہے، عدالت نے کہا کہ یہ ہمارے لیے سیکھنے کا عمل ہے،آپ چاہتے ہیں کہ میں ریسرچ پیپر لکھوں،آزادی اظہار رائے نہیں ہو گی تو آزاد عدلیہ بھی نہیں ہو گی، ناصر زیدی نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ ہماری لرنینگ کے پراسیس میں کی گئی کوتاہیوں کا نظر انداز کر دیں ہمارے ملک میں پہلے ہی آزادی رائے کی گنجائش کم ہے، کارروائی ہوئی تو آزادی رائے کے لیے ماحول مزید تنگ ہوجائے گا

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ آج پہلی بار میڈیا کی جانب سے اظہار ندامت سامنے آیا ہے رانا صاحب اپنے بیان حلفی مان رہے ہیں انکو فیئر ٹرائل کا موقع دیا جانا چاہیے،اگر رانا صاحب کسی اور کو پراسیکیوٹر چاہتے ہیں تو کر دیں، اٹارنی جنرل نے انصار عباسی، ایڈیٹر اور ایڈیٹر انچیف پر فرد جرم موخر کرنے کی استدعا کر دی اور کہا کہ لوگ استعمال بھی ہو جاتے ہیں لیکن میڈیا کو اس سے سیکھنے کا موقع ملے گا ،عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ صحافتی لیڈران نے جو ندامت کا اظہار کیا ملزمان کو بھی کرنا چاہیے، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صحافیوں پر فرد جرم نہ ہو اور رانا شمیم کے خلاف ہو جائے یا تو سب پر فرد جرم موخر کر دی جائے یا پھر سب پر جارچ فریم کیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تو اس کے نتائج خطرناک ہیں ، فیصل صدیقی نے کہا کہ جس اخبار کےخلاف کیس چل رہا تھا اسی اخبار نے عالمی تنظیموں کے بیانات بھی چھاپے، رانا شمیم کے بیٹے احمد حسن نے عدالت میں کہا کہ میں درخواست پڑھ کر سنا دیتا ہوں،عدالت نے کہا کہ ہاں ہاں، آرام سے پڑھیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم کی دونوں متفرق درخواستیں خارج کر دیں رانا شمیم نے بیان حلفی کی انکوائری کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی رانا شمیم نے اٹارنی جنرل کو بطور پراسیکیوٹر تبدیلی کی بھی درخواست دائر کی تھی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت صحافیوں پر فرد جرم عائد نہیں کر رہی، اگر ٹرائل میں کوئی بات سمجھ آئی کہ خبر جان بوجھ کرلگائی گئی تو کارروائی کرینگے،عدالت نے کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کر دی

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے رانا شمیم کی کردار کشی روکنے اور پی ٹی آئی رہنماوں کی نااہلی کی اپیل مسترد کر دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم کی بہو، پوتے اور پوتی کی انٹراکورٹ اپیل بھی خارج کردی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے فیصلہ سنایا درخواست گزار کی جانب سے احمد حسن رانا ایڈووکیٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

    عدالت کی جانب سے سابق جج رانا شمیم کو حلف نامہ جمع کرانے کے حکم میں اہم پیشرفت

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    عدالت کو مطمئن نہ کیا گیا تو فرد جرم عائد ہوگی،رانا شمیم کو ملا آخری موقع

    رانا شمیم کے الزامات پر انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    بیان حلفی پر توہین عدالت کیس،رانا شمیم، انصارعباسی ایکبار پھر طلب

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

    رانا شمیم توہین عدالت کیس، اہم شخصیت بیمار،استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی

    رانا شمیم مشرف طیارہ کیس میں ن لیگ کا وکیل رہا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

  • رانا شمیم توہین عدالت کیس. فرد جرم کی کاروائی ہوئی مؤخر

    رانا شمیم توہین عدالت کیس. فرد جرم کی کاروائی ہوئی مؤخر

    رانا شمیم توہین عدالت کیس. فرد جرم کی کاروائی ہوئی مؤخر
    رانا شمیم توہین عدالت کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    انصار عباسی، ودیگر عدالت میں پیش ہوئے .چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ انصار عباسی آپ نے درخواست میں کسی کلیریکل غلطی کی نشاندہی کی ہے،یہ جو بیانیہ بنا ہے کہ ثاقب نثار نے ایک جج کو کال کی اس سے سائلین پر کیا اثر ہوگا، آپ کی خبر نے یہ تاثر دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو اپروچ کیا جاسکتا ہے اس بنچ سے زیادہ کوئی آزادی اظہاررائے کا حامی نہیں ،

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ میرشکیل الرحمان کہاں ہیں ، انصار عباسی نے عدالت میں کہا کہ میر شکیل الرحمان کی فیملی میں شادی ہوئی تھی جس کے بعد اہلیہ کو کورونا ہوگیا .میر شکیل الرحمان اہل خانہ کے ساتھ قرنطینہ میں ہیں، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے توہین عدالت کے ملزم انصار عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے خود تحریری طور لکھا ہے کہ آپ کو معلوم نہیں ہے کہ رانا شمیم نے بیان حلفی میں سچ بولا ہے یا جھوٹ،آپ تحقیقاتی صحافی ہیں، آپ خود کہہ رہے ہیں کہ شاید رانا شمیم نے سو فیصد جھوٹ بولا ہو،لیکن آپ کا کام حقائق چیک کرنا نہیں ہے؟ ملزم انصار عباسی نے عدالت میں کہا کہ میں لیگل مائنڈ نہیں ہوں، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے توہین عدالت کے ملزم انصار عباسی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ان بنیادی چیزوں کا پتا ہونا چاہیے تھا ورنہ آپ کسی وکیل سے پوچھ لیتے،

    انصار عباسی نے عدالت میں کہا کہ ڈان اخبار کے ایڈیٹر ظفر صاحب نے ٹویٹ کیا کہ اگر میرے پاس یہ بیان حلفی آتا تو میں بھی وہی کرتا جو انصار عباسی نے کیا۔ جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شکر ہے انہوں نے نہیں کیا ورنہ توہین عدالت کا کیس ان پر چل رہا ہوتا۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پوری سماعت میں آپکو سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ نے کیا غلطی کی ہے، انسان سے انجانے میں بھی غلطی ہوجاتی ہے اس عدالت کیلئے سائلین کے حقوق سب سے زیادہ اہم ہیں، اگر کوئی معروف آدمی بیان حلفی دے چاہے وہ جھوٹا ہو تو آپ چھاپ دینگے؟ بیانیہ یہ ہے کہ ایک جج نے ثاقب نثار سے بات کی، لیکن وہ بنچ میں شامل ہی نہیں تھے، بنچ میں جسٹس محسن اختر کیانی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے، وہ اپیلیں بعد میں میرے بنچ نے بھی سنیں، اس بیانیے کے مطابق ہم تینوں پر اثرانداز ہوا جا سکتا ہے،جن کے نام خبر میں لکھے ہیں دو دن بعد ان کے کیسز لگے تھے، مجھ پر جتنا مرضی کوئی تنقید کرے مجھے فرق نہیں پڑتا، آپ کا کیس چل رہا ہے اپنے پچھلے اخبار دیکھ لیں آپ کیا چھاپ رہے ہیں، آپ نے کہا کہ بیان حلفی شاید غلط ہوا ہو لیکن ہم پھر بھی چھاپیں گے، آپکا اتنا بڑا اخبار ہے آپکو یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ خبر کس کیس پر اثرانداز ہو گی، یا تو آپ کہہ دیں کہ آپ کو یہ بھی معلوم نہیں تھا،پھر فرد جرم عائد کرتے ہیں اس کے بعد آپ اپنا موقف دیدیں،جنگ اخبار صحافتی تنظیموں کی جو خبریں چھاپ رہا ہے وہ اس کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے،آپ اس حلف نامے کی انکوائری کروانا چاہتے ہیں تو کروالیں، لیکن انکوائری ان کی نہیں ہوگی جن کے نام ہیں ۔انکوائری ان کی ہوگی جو اس بینچ میں موجود ہیں،

    ناصر زیدی نے عدالت میں کہا کہ اس عدالت کے تمام ججز کا احترام ہم دل سے کرتے ہیں، اس اندھیر نگری میں آپ روشنی ہیں اور ہمیں ہمیشہ آپ سے انصاف ملتا ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کیرئیر میں میں نے صرف 2توہین عدالت کی کاروائیاں شروع کی ہیں .انصار عباسی نے کہا کہ میرے خیال سے فرد جرم عائد نہیں کرنی چاہیے جس پر عدالت نے کہا کہ آپ عدالت کو ڈکٹیٹ ناکریں عدالت طے کرے گی فرد جرم عائد کرنی ہے کہ نہیں. اگر آپ کا موقف مان لیا جائے تو یہ آئندہ کے لیے سب کو لائسنس دینے کے مترادف ہوگا کہ کوئی بھی اخبار کسی کا بھی جھوٹا بیان حلفی، کسی بھی عدالت پر اثر انداز ہونے کے لیے چھاپ دے گا،

    ریما عمر نے جسٹس شوکت عزیز کی تقریر کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اٹھا دیا جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریما عمر کو روک دیا اور کہا کہ یہاں سیاسی باتیں نہ کریں، عدالت نے حکم دیا کہ پلیز آپ جاکر بیٹھ جائیں، عدالت نے ریما عمر کو بات کرنے سے روک دیا. ریما عمر نے کہا کہ اس کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے بہت الزامات لگائے جو میڈیا نے رپورٹ کیے، عدالت نے کہا کہ کیا پھر یہ بیانیہ درست ہے کہ جو سزا معطل کی تھی وہ بنچ کسی کے کہنے پر بنے تھے؟ کیا آپ شک کر رہی ہیں کہ اس کورٹ کے بنچز کسی کے کہنے پر بنتے ہیں؟ کیا آپ کو شک ہے کہ اس عدالت کے بنچز کوئی اور بناتا ہے، ریما عمر نے کہا کہ بالکل نہیں، میں جو کہنا چاہ رہی ہوں وہ تو سن لیں، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ شک نہیں تو پھر آپ کو یہ حوالہ بالکل نہیں دینا چاہیے تھا، آپ عدالتی معاون ہیں، پلیز اپنی نشست پر تشریف رکھیں، رانا شمیم کے وکیل عبدالطیف آفریدی کو سن لیتے ہیں، وکیل رانا شمیم نے کہا کہ آج تو ہم چارج کے لیے تیار ہو کر آئے تھے عبدالطیف آفریدی نے کہا کہ انصار عباسی کو بہت پہلے سے جانتا ہوں، وہ عوام تک سچ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ اس موضوع پر کم علمی کی وجہ سے ایسا ہوا ہو،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عبدالطیف آفریدی بطور عدالتی معاون دلائل دے رہے ہیں،یہ کہنا چاہتے ہیں کہ صحافی کو چھوڑ دیں اور میرے کلائنٹ کے خلاف کارروائی کریں،

    عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ فردوس عاشق اعوان توہین عدالت کیس میں پریس کانفرنس تمام میڈیا نے کوور کی اور شائع بھی کی جس پر عدالت نے کسی میڈیا نمائندے کو عدالت میں نہیں بلایا.فردوس عاشق اعوان توہین عدالت کیسز کا فیصلہ ایک مثال تھا اس کیس سے ہم سب کی تربیت ہورہی ہے زیر سماعت اپیلوں کے فریقین میں سے کسی نے عدالت کو اس خبر پر کوئی درخواست نہیں دی میری تجویز ہے کہ انصار عباسی پر فرد جرم عائد نہ کی جائے صحافی کی لاپرواہی پر کرمینل پروسیڈننگ کا اغاز نہیِں ہوتا رانا شمیم کی حد تک یہ مجرمانہ توہین عدالت کا کیس بنتا ہے، صحافیوں کے خلاف نہیں،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ میں سیاسی نہیں بلکہ مکمل طور پر قانونی بات کر رہا ہوں، ایک بیانیہ کافی عرصے سے بنایا جا رہا ہے،
    یہ کہہ سکتا ہوں بیانیہ بنانے والا اس عدالت میں موجود نہیں، میڈیا نمائندگان کیرییر ہیں بیانیہ بنانے والے کوئی اور لوگ ہیں مجھے یقین ہے اس کاروائی سے عامر غوری اور انصار صاحب نے مستقبل کے لیے سبق سیکھا ہوگا یہ فیصلہ کریں اور عدالت کے روبرو کہیں کہ ہم نے گڈ فیتھ میں اس خبر کو شائع کیا اگر غلطی ہوئی تو اسے مانتے ہیں ہم قانونی لوگ ہیں ہمیں سیاست کے بجائے قانون کا دفاع کرنا ہے .عدالت نے کہا کہ بیانیے ججز کو متاثر نہیں کرتے ہمارے فیصلے اور کنڈکٹ بولتا ہے ملزم میر شکیل الرحمن کی فیملی میں 3 افراد کو کرونا ہوگیا ہے، اس لیے وہ نہیں آئے،فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی 20 جنوری تک کے لیے موخر کر دی گئی

    سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے .صحافی نے سوال کیا کہ رانا صاحب آج فرد جرم عائد ہو گی کیا کہیں گے ؟ جس پر رانا شمیم نے کہا کہ جو عدالت فیصلہ کرے گی ،آج عدالت رانا شمیم و دیگر پر فردم جرم عائد کرے گی

    قبل ازیں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم بیان حلفی توہین عدالت کیس ،اٹارنی جنرل پاکستان توہین عدالت کیس کے پراسیکیوٹر مقرر کر دیئے گئے

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

    عدالت کی جانب سے سابق جج رانا شمیم کو حلف نامہ جمع کرانے کے حکم میں اہم پیشرفت

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    عدالت کو مطمئن نہ کیا گیا تو فرد جرم عائد ہوگی،رانا شمیم کو ملا آخری موقع

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

  • مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا
    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ن لیگ کی رہنما مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست مسترد کر دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ،فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جوڈیشل آفس چھوڑنے پر جج عدلیہ اور عدالت کا حصہ نہیں رہتا،ریٹائرمنٹ کے بعد جج کا اسٹیٹس پرائیویٹ شہری کا ہو جاتا ہے،ریٹائرڈ جج آرڈیننس 2003 کے تحت عدلیہ کا حصہ باقی نہیں رہتا،ریٹائرڈ جج ہتک عزت پر پرائیویٹ شہری کے طور پر عدالت سے رجوع کر سکتا ہے،ججز کا کام انصاف کی فراہمی ہے، ججز کو عوامی تنقید سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے،ایک آزاد جج تنقید سے کبھی بھی متاثر نہیں ہوتا،توہین عدالت کی کارروائی صرف عوامی مفاد میں عمل میں لائی جاتی ہے،ایک پرائیویٹ پرسن کی ہتک عزت پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں بنتی، قانون میں پرائیویٹ پرسن کی عزت کی حفاظت کیلئے دیگر شقیں موجود ہیں، سابق چیف جسٹس کو ان کی ذاتی حیثیت میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ،ذاتی حیثیت میں تنقید پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہو سکتی،درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی جاتی ہے

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں عدلیہ کو اسکینڈلائز کرنے کا مبینہ الزام ،مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار وکیل کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا،درخواست خاتون وکیل کی جانب سے دائر کی گئی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ ثاقب نثار کے خلاف جو باتیں پریس کانفرنس میں ہوئیں وہ توہین عدالت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو خود متاثرہ ہے وہ بھی ہتک عزت کا دعویٰ کر سکتا ہے،ریٹائرڈ آدمی سے متعلق بات کرنے سے توہین عدالت نہیں ہوتی، چاہے چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو،وکیل درخؤاست گزار نے کہا کہ انصار عباسی والا شوکاز نوٹس کیس بھی آپ کے پاس ہے زیر سماعت ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ الگ کیس ہے اس کے ساتھ نہ ملائیں، پہلی بات یہ ہے کہ تنقید سے متعلق ججز اوپن مائنڈ ہوتے ہیں، سابق چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو، توہین عدالت نہیں ہوتی، ججز بڑی اونچی پوزیشن پر ہوتے ہیں تنقید کو ویلکم کرنا چاہیے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائردرخواست میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی توہین عدالت کے مرتکب ہوئے دونوں نے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ شاہد خاقان اور مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے

    قبل ازیں گزشتہ روز گلگت بلتستان کے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اورنوازشریف کو کندھا دینے والے جج رانا شمیم کے الزامات پرجاری شوکاز نوٹسز میں سے جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا ہےجبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں‌ ابھی تک گلگت بلتستان کی سپریم اپیلٹ کورٹ کے سابق چیف جج رانا شمیم کا جواب داخل نہیں ہو سکا، دی نیوز کے ایڈیٹر انوسٹی گیشن انصار عباسی اور ایڈیٹر عامر غوری کے جواب بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی ،نصف سی سی ٹی وی خراب نکلے،گرفتاریاں شروع

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی،ابتدائی رپورٹ پیش،وزیراعلیٰ نے کیا اجلاس طلب

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی،میڈیکل مکمل،سینے، کمر پر خراشوں کے ملے نشانات

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی،عثمان بزدار نے اہم اجلاس کیا طلب

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، ایک اور ملزم کی ضمانت،شناخت پریڈ کب ہو گی؟

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی کیس ، پولیس نے سب کی دوڑیں لگوا دیں

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، ملزم کی درخواست ضمانت پر عدالت نے سنایا فیصلہ

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، عائشہ اکرم نے کتنے ملزمان کی شناخت کر لی؟

    مینار پاکستان، دست درازی،عائشہ اکرم نے کن ملزمان کی شناخت کی، نام سامنے آ گئے

    کس نے بلایا، کس نے چھیڑا، کس نے نازیبا حرکات کیں، سب سامنے آ گئے

    عدالتی شوکاز میں کہا گیاتھا کہ میر شکیل الرحمان دی نیوز کے ایڈیٹر انچیف کے طور پر اہم عہدے پر فائز ہیں، 15 نومبر کو دی نیوز پر انصار عباسی کی طرف سے خبر شائع، رپورٹ کی گئی، جس کا عنوان تھا ثاقب نثار نے 2018 الیکشن سے قبل نواز، مریم کو رہا نہ کرنے کی ہدایت کی۔شوکاز میں کہا گیا کہ جسٹس (ر) رانا محمد شمیم کے مبینہ بیان حلفی کا مواد خبر میں شائع کیا گیا، مبینہ حلف نامے، خبر کی رپورٹ میں بے بنیاد، توہین آمیز الزامات لگائے گئے، اس خبر کی رپورٹ کا مواد عدالت کے ساتھ بدسلوکی کے مترادف ہے، عدالت کی طرف سے کی گئی کارروائیوں پر جھوٹا الزام لگانا جرم ہے۔شوکاز میں کہا گیا کہ مواد کا مقصد عدالت کے سامنے زیر سماعت اپیلوں میں مداخلت معلوم ہوتا ہے، مریم نواز کی اپیلوں پر انصاف کے راستے کو موڑنے کی کوشش کی ہے، خبر لکھنے والے اور میرشکیل الرحمان نے حقائق کی تصدیق کی کوشش نہیں کی،اور ان لوگوں کا ورژن طلب کر کے پیش کیا گیا جن کے خلاف سنگین بد دیانتی کے الزامات تھے، اور اس عدالت کے رجسٹرار یا آزاد ذرائع سے تصدیق سے پہلے ہی رپورٹ کی اشاعت کی گئی۔شوکاز کے مطابق تصدیق کیے بغیر خبر کی اشاعت نہ صرف ادارتی بلکہ صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، تصدیق کے بغیر خبر کی اشاعت شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی پامالی ہوتی ہے، منصفانہ مقدمے کی سماعت کو میڈیا ٹرائل کے ذریعے تعصب کا نشانہ بنایا گیا، ایسی خبریں شائع کرنا انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔شوکاز میں کہا گیا کہ ایسی خبر عدالت اور ججز پر عوام کے اعتماد کو بغیر کسی خوف ختم کر دیتی ہے، اس قسم کی خبریں شہریوں کے حقوق اور آزادی کو مجروح کرتی ہے۔شوکاز کے مطابق اس خبر کی رپورٹ اور مذکورہ بالا کارروائیوں کو آرٹیکل 204 کے ساتھ پڑھا گیا، توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت قابل سزا مجرمانہ توہین کے مرتکب ہوئے، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری 7 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرائیں، سابق چیف جج جی بی بھی 7 دن کے اندر تحریری جواب ہائیکورٹ میں جمع کرائیں۔

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر