Baaghi TV

Tag: انفراسٹرکچر

  • میئرکراچی تین روزہ دورے پر  چین روانہ

    میئرکراچی تین روزہ دورے پر چین روانہ

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب میئر شنگھائی گونگ ژینگ کی خصوصی دعوت پر چین روانہ ہوگئے ہیں، اس دورے کا مقصد کراچی اور شنگھائی کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا اور شہری ترقی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینا ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق میئر کے اس دورے کو کراچی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، میئر کراچی کی شنگھائی میں قیام کے دوران چینی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں، جہاں وہ شہری ترقی، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور دیگر اہم شعبوں میں ممکنہ اشتراک پر بات چیت کریں گے، ان ملاقاتوں کا مقصد دونوں شہروں کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا ہے،یہ دورہ کراچی کی شہری ترقی میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، شنگھائی جیسے جدید شہر کے تجربات اور ترقیاتی ماڈلز سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی قیادت میں یہ قدم دونوں شہروں کے درمیان دیرپا اور بامقصد تعلقات کی بنیاد فراہم کرے گا۔

    میونسپل کمشنر کے ایم سی ایس ایم افضل زیدی، مشیر مالیات گلزار علی ابڑو اور سینئر ڈائریکٹر اسپورٹس اینڈ کلچر مہدی مالوف بھی میئر کراچی کے ہمراہ ہیں، یہ وفد شنگھائی میں مختلف شہری منصوبوں کا مشاہدہ کرے گا ،شنگھائی کے دورے سے قبل میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بلاول ہاؤس میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے اہم ملاقات کی، اس ملاقات میں میئر کراچی نے شنگھائی کے میئر کی دعوت اور مجوزہ دورے کی تفصیلات سے بلاول بھٹو کو آگاہ کیا، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دورے کی اہمیت کو سراہتے ہوئے رہنمائی فراہم کی اور متعلقہ امور پر مشاورت مکمل کی.

    وزیراعظم سے مراد علی شاہ کی ملاقات، کینال منصوبے پر تبادلہ خیال

    پانی پر ہمارا حق ہے ، دفاع کریں گے، وزیر برائے توانائی

    سپریم کورٹ بار کا بھارتی عملےکو پاکستان سےنکالنےکا مطالبہ

    بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ،منہ توڑ جواب دیں گے، وزیر خارجہ

    دہشتگردی کا منصوبہ ، اردن نے الاخوان المسلمین پر پابندی لگا دی

    بھارت کا پاکستان پر الزام جھوٹا اور فریبی پراپیگنڈا ہے، فیصل واوڈا

  • سندھ:فارن فنڈنگ اسکیموں کے لیے سو ارب سے زائد کے فنڈز جاری

    سندھ:فارن فنڈنگ اسکیموں کے لیے سو ارب سے زائد کے فنڈز جاری

    صوبائی حکومت کو عالمی بینک کے تعاون اور فارن فنڈنگ سے چلنے والی مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لیے ایک کھرب 13 ارب روپے جاری کر دیے گئے۔

    سرکاری دستاویز کے مطابق سندھ میں مجموعی طور پر فارن فنڈنگ کے اشتراک سے 38 اسکیمیں جاری ہیں، رواں مالی سال کے بجٹ میں 3 کھرب 60 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے غیر ملکی امداد کے اشتراک سے صوبائی حکومت نے پورے کرنے ہیں۔غیر ملکی فنڈنگ کا مجموعی تخمینہ 3 کھرب 34 کروڑ روپے ہے، اور اب تک ایک کھرب 13 ارب روپے موصول ہو چکے ہیں۔ دستاویز کے مطابق فارن فنڈنگ سے مختلف شعبوں کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، جن میں تعلیم، صحت، توانائی، انفراسٹرکچر کے منصوبے پورے ہوں گے۔محکمہ بلدیات کی 5 اسکیموں کے لیے 15 ارب 98 کروڑ کی رقم سندھ حکومت کو دیے گئے، محکمہ صحت کی 3 اسکیموں کے لیے 4 ارب 52 کروڑ سے زائد رقم جاری کی گئی، محکمہ تعلیم کی 6 اسکیموں کے لیے 7 ارب 26 کروڑ سے زائد رقم جب کہ پی ایند ڈی کی 5 اسکیموں کے لیے 13 ارب سے زائد رقم سندھ حکومت کو دی گئی۔دستاویز کے مطابق محکمہ ایس جی اے اینڈ سی ڈی کی دو اسکیموں کے لیے 43 ارب 38 کروڑ سے زائد رقم، محکمہ زراعت کے لیے 5 ارب 86 کروڑ سے زائد کی رقم، محکمہ ٹرانسپورٹ کی دو اسکیموں کے لیے 4 ارب 68 کروڑ کی رقم، محکمہ توانائی کی ایک اسکیم کے لیے 3 ارب 29 کروڑ سے زائد رقم، اور محکمہ خزانہ کی ایک اسکیم کے لیے 83 کروڑ جب کہ محکمہ آب پاشی کی 5 اسکیموں کے لیے 3 ارب 35 کروڑ کی رقم دی گئی ہے۔

    ملائیشیا کیلئے بک کنٹینر سے 700 کلو آئس برآمد

  • شریکا 2030!!! — عارف انیس

    شریکا 2030!!! — عارف انیس

    پچھلے دنوں پڑوسیوں نے چپکے چپکے ایک کام کیا. میچ تو وہ ہار گئے. لیکن دوسری طرف بڑی چھلانگ مار دی.

    حال ہی میں، انڈیا نے برطانیہ کو دنیا کی پانچویں بڑی مالی طاقت کے رتبے سے ہٹا کر، یہ پوزیشن خود سنبھال لی ہے. اب تو لگتا ہے شاید ملکہ جی نے اسی بات کو دل سے نہ لگا لیا ہو. ہندوستان کی جی ڈی پی 3.535 ٹرلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے. اس کوارٹر میں اقتصادی گروتھ کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ 13.5 فیصد ہے.

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 2030 تک ہندوستان، جرمنی اور یورپ کو بھی پچھاڑ چکا ہوگا، اور امریکہ اور چین کے بعد تیسری مالی عالمی طاقت کی پوزیشن پر براجمان ہوگا.

    یاد رہے کہ اس فروری میں گوتم اڈانی 143 ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ ایشیا کا تیسرا امیر ترین شخص بن چکا ہے اور امیزان کے جیف بیزوس کو دوسرے نمبر سے پھسلوانے ہی لگا ہے.

    یارو، جب میزائل اور بم وغیرہ مقابلے کے بنا لیے تو مالی مسل بنانے میں کیا حرج ہے؟ میں انتظار کرتا رہا کہ شاید اس بڑی خبر پر کوئی لکھے گا، مگر لگتا ہے اپن کا انٹیلی جنشیا، ایشیا کپ دیکھنے میں مصروف تھا.

    ہندوستان میں ابھی بھی جہالت، بھوک اور غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، جن سے چالیس کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہیں. مگر نظر آ رہا ہے کہ اگلے بیس برس میں وہ خط غربت سے اوپر آ چکے ہوں گے. اور یہ سب "معجزہ” پچھلے تیس برس کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے.

    مسئلہ تو یہ ہے کہ آج ہم سمت بدلتے ہیں تو تیس برس بس پکڑنے میں لگ جائیں گے. مگر تیس برس بھی ٹھیک ہیں، چالیس برس ہوگئے تو پھر کیا ہوگا؟

    کرکٹ کے علاوہ، ہم کیوں کھیل سے باہر ہوتے جا رہے ہیں؟ منگتے ہونا یا دھمکی دینے کے علاوہ اپن کے پاس اور کیا کچھ ہے؟

    کیا وجہ ہے کہ ملتی جلتی مذہبی شدت، ایسی ہی فرسودہ بیوروکریسی، کٹا پھٹاانفراسٹرکچر اور بھرپور کرپٹ لیڈرشپ کے ساتھ، پڑوسی لوگ کدھر جا رہے ہیں اور ہم کدھر جارہے ہیں؟

    کدھر جارہے ہو، کدھر کا خیال ہے؟

    آپ کیا کہتے ہیں؟ اصل مسئلہ کیا ہے؟ ہم مالی سپر پاور بننے کی، ایشین بلی یا لگڑ بگڑ بننے کی بس کیسے پکڑ سکتے ہیں؟ ابھی، اسی وقت کیا، کرنا ضروری ہے؟

    صبح صبح مورال ڈاؤن کرنے اور مشکل سوال پوچھنے پر معافی!

  • اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اس سال کی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہی سے اگر کوئی ایک انتہائی اہم سبق سیکھا جا سکتا ہے تو وہ ہے “بروقت تیاری”۔ ہم اپنے سر پر کھڑی موسمیاتی تبدیلی کی اتنی بڑی آفت سے آنکھیں بند کرکے حسب معمول کالا باغ ڈیم بنانے یا نہ بنانے کی بحث کرنے، کرپشن کے قصوں کے چسکے لینے اور اپنے اپنے سیاسی لیڈروں سے وفاداری نبھانے میں مصروف ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جب ہلاکو خان کی فوج بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے شہر کے دروازے پر پہنچ چکی تھی تو شہر میں موجود عالم لوگ اس بحث میں مصروف تھے کہ سوئی کے چھید سے کتنے فرشتے گزر سکتے ہیں۔

    ماحولیاتی سائنسدان تو پچھلے بیس پچیس سال سے وقتا فوقتا موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں خبردار کر رہے تھے لیکن پاکستان میں اس سال اسے حاضر کی آنکھ سے دیکھا ہے جب سال کے پہلے نصف میں انتہا کی خشک سالی اور پھر جولائی سے شروع ہونے والی طوفانی بارشیں جونہ صرف پانی کی مقدار کے لحاظ سے بہت زیادہ تھیں بلکہ جن علاقوں میں ہوئی ہیں وہ عام طور پر مون سون کی بارش والے علاقے نہیں سمجھے جاتے جیسا کہ مغربی بلوچستان اور سندھ۔ ان کا آغاز کراچی میں خلاف معمول تباہ کن بارشوں سے ہوا۔

    پنجاب جسے روایتی طور پرمون سون کا مرکز مانا جاتا ہے وہاں اس دفعہ معمول کی بارش ہوئی اور کوئی دریائی طغیانی یا سیلاب نہیں آیا۔ کوہ سلیمان اور وسیب کا سیلاب بھی خلاف معمول تھا۔شمالی علاقوں خصوصا سوات میں بھی سیلاب نے 2010 کے سپر فلڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    سیلاب سے متاثر ہونے والی ہماری آبادی دنیا کے 150 ملکوں کی انفرادی آبادیوں سے زیادہ ہے اور سیلاب سے متاثرہ رقبہ بھی دنیا کے 150 ملکوں کے انفرادی رقبے سے زیادہ ہے۔ اس وقت جتنے پاکستان کے جتنے علاقے پر سیلاب کا پانی کھڑا ہے وہ دنیا کے 100 ملکوں کے انفرادی علاقے سے بھی بڑا ہے۔

    تباہی بہت بڑی ہے اور ہم سے کچھ نیا کرنے کو مانگتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں معمول کی ترکیبیں یا اقدامات کام نہیں آئیں گے۔سب سے اہم بات تو اگلی آفت سے پہلے آفت کی تیاری ہے تاکہ ہم جانی و مالی نقصانات سے بچ سکیں۔اس تیاری کے لئے جو وسائل چاہئے ہوں گے وہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے نقصانات سے انتہائی کم ہیں۔

    دنیا کے ماحول کو گندہ کرنے والے ممالک جن میں چاچا سام پیش پیش ہے نے گرین کلائمیٹ فنڈ کو جو 10 بلئین ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ دی ہے وہ رشوت کے پیسوں سے صدقہ کرنے کے مترادف ہے لیکن ہم اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے اور پچھلے اتنے سالوں میں کوئی منصوبہ بنا کر لانچ نہیں کر سکے۔ مجبوری میں امیر ملکوں کی طرف سے قائم کیا گیا یہ فنڈ بھی صدقہ خیرات یا قرض معاف کرنے کے لئے نہیں بلکہ قابل عمل زمینی منصوبوں کے لئے ہے۔

    پاکستان کو بھی اس موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کو سمجھتے ہوئے پر اپنی ترجیحات طے کرنی چاہئیں۔

    فوری ردعمل والے سیلاب کے پیشگی اطلاعاتی نظام بنانے ہوں گے۔

    سیلابی علاقوں کی نقشہ بندی کرکے آفت کی صورت میں محفوظ پناہ کے علاقے تلاشنے ہوں گے۔

    آفت کی صورت میں پانی، خوراک اور آمدورفت کو رواں رکھنے کا سوچنا ہوگا۔

    سیلابی پانیوں کو راستہ دینا ہوگا اور ان کی راہ میں رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا۔

    تمام انفراسٹرکچر منصوبے بشمول سڑکیں پانی دوست بنانا ہوں گے۔

    سیلاب کے بعد کھڑے ہونے والے پانی کی نکاسی کے مقامی پلان بنانے ہوں اور ان سب کاموں میں معیشت کو مضبوط کرنے کے بے انتہا مواقع چھپے ہوئے ہیں

    جتنے بڑے خطرے کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں اس کا حل آفت کو قابو کرنے کی بجائے اسے گلے لگانے میں ہے۔اپنے آپ کو آفت کا عادی بنانے میں ہے۔دنیا کی بہت سی مخلوقات حتی کہ بڑے بڑے ڈائنوسار بھی ارتقا کے عمل میں ختم ہوگئے لیکن کمزور حضرت انسان اس دھرتی پر اس لئے دندناتا پھر رہا ہےکہ اللہ نے انسان کو ماحول کے مطابق ڈھالنے کی بے پناہ صلاحیت رکھی ہے۔ “جو ڈھل گیا وہ چل گیا”

    اس ساری صورت کا مثبت پہلو درد دل رکھنے والے وہ افراد یا سماجی بھلائی کی تنظیمیں ہیں جو آفت کے آتے ہی اپنے آپ متحرک ہوئے اور جس کاجو سمجھ آتا تھا اس نے کر ڈالا ۔ ریسکیو، کھانا، راشن، خیمے ، کیش، کپڑے اور گھروں کی دوبارہ تعمیر میں مصروف ہوگئے۔

    مستقبل کی آفت کی تیاری کے عمل میں ایسے لوگ اور تنظمیں ریڑھ کی ہڈی ہیں جو آگے بڑھ کر مقامی طور پر لوگوں کی ذہن سازی، عوامی بیداری اور آفت سے پہلے بچاو کے پروگراموں کو عوام میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔ یہ کام جتنا زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر ہوگا،اتناموثر ہوگا۔اس کام کے لئے مرکز یا صوبوں کی سطح پر قائم ادارے فوری اور موثر رد عمل نہیں دے سکتے۔

    کاش ہم جنگ سے پہلے اپنے گھوڑے تیار رکھنے کی عادت اپنا لیں۔

  • نکاسی آب کا موثر نظام اور بہتر انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے، وزیراعظم

    نکاسی آب کا موثر نظام اور بہتر انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ملک کو قدرتی آفات سے بچانے کے لیے نکاسی آب کا موثر نظام اور بہتر انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے، وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ پوری مستعدی اور بین الاقوامی ماہرین سے مشاورت کے بعد ایک مضبوط نیشنل فلڈ کنٹرول پلان تیار کریں۔

    وزیراعظم نے ملک میں نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے ایک قابل عمل لائحہ عمل پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی تاکہ مستقبل میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صوبے ،وفاق اور متعلقہ ادارے سیلاب زدگان کی مشکلات کم کرنے کیلئے کوشاں ہیں ،سیلاب زدہ علاقوں اور متاثرین کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہے،مربوط کوششوں سے ہی حالیہ سیلاب جیسی آفت سےنمٹا جا سکتا ہے،سیلاب سے لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ،مال مویشی اور دیگراملاک کو نقصان پہنچا ،سیلاب زدگان کی فوری امداد کیلئے70ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،این ایف آر سی سی قومی سطح کے فیصلوں میں معاونت فراہم کرے گا،بطور قوم متحد ہو کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا،چیلنج بڑاہے تاہم مشکل وقت نے ہمیں مضبوط ہونے کا موقع دیا ہے.

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے یہ ہدایات زلزلہ بحالی اور تعمیر نو کے ادارے (ERRA) ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر (NFRCC) کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔

    وزیر اعظم نے صوبائی چیف سیکرٹریز سے کہا کہ وہ ریور بیڈ میں زمین کے استعمال سے متعلق زوننگ قوانین اور ضوابط پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسی کسی بھی تباہی سے بچا جا سکے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ "نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم اے)، پاکستان آرمی انجینئرنگ کور اور صوبائی محصولات کے محکموں کے نمائندوں کی طرف سے ایک مشترکہ سروے کیا جا رہا ہے تاکہ نقصانات سے متعلق معتبر اعداد و شمار اکٹھے کیے جا سکیں۔

    قبل ازیں وزیراعظم کو نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر (NFRCC) کی ٹیم نے بریفنگ دی۔ انہیں بتایا گیا کہ این ایف آر سی سی بچاؤ، ریلیف اور بحالی کی تین جہتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے تاکہ ملک میں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں تاریخی بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو مؤثر طریقے سے کم کیا جا سکے۔

    یہ بتانا ضروری ہے کہ نیشنل فلڈ ریسپانس اینڈ کورونیشن سنٹر (این ایف آر سی سی) وزیر اعظم کی ہدایت پر قائم کیا گیا تھا تاکہ ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی محکموں کی سیلاب سے نمٹنے کی کوششوں کو مربوط کیا جا سکے۔