Baaghi TV

Tag: انقلاب

  • تم ایک گولی چلاؤ گے ہم 10 گولیاں چلائیں گے،علی امین گنڈا پور کا انقلاب کا اعلان

    تم ایک گولی چلاؤ گے ہم 10 گولیاں چلائیں گے،علی امین گنڈا پور کا انقلاب کا اعلان

    پشاور:علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ کوئی گولی برسائے گا ،تو اس پر گولی برسائی جائے گی، تم ایک گولی چلاؤ گے ہم 10 گولیاں چلائیں گے، تم ایک شیل اور لاٹھی ماروگے ہم 10 ماریں گے۔

    باغی ٹی وی : ایک ویڈیو بیان میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ملک میں پہلے ہماری عزتوں، چارد اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا لیکن ہم نے ملک کے لیے اف تک نہیں کی، اب ہم پر بھی گولیاں برسائی جا رہی ہیں آج ہمارے 2 کارکنوں کو گولیاں ماری گئی، تیسرے کارکن کو گولی ماری گئی جس کا پتہ نہیں چل رہا، ہم پر سیدھے شیل مار کر 50 سے زیادہ کارکنوں کو زخمی کیا گیا، پنجاب کی حدود میں ہر 3 کلو میٹر پر ہم پر شیل اور گولیاں برساتے رہے۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پورا پاکستان ہمارا ہے، پورے ملک کو مبارک باد دیتا ہوں، آج کئی پولیس اہلکار ہمارے ہتھے چڑھے لیکن میں نے ان کو ریسکیو کیا، پنجاب پولیس کے نوجوانوں اگر اپنے باپ کے اولاد ہو تو بیان دو کے ہم نے تم کو چھوڑ دیا تھا اس کے بعد کوئی گولی برسائے گا ،تو اس پر گولی برسائی جائے گی، تم ایک گولی چلاؤ گے ہم 10 گولیاں چلائیں گے، تم ایک شیل اور لاٹھی ماروگے ہم 10 ماریں گے۔

    پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں چند مقامات پر بارش کا امکان

    گنڈا پور نے کہا ہے کہ پختونخوا کے لوگوں قبائل میں جرگے کرو، سب متحد ہو جائیں، اگر تم لوگ کہتے ہو کہ یہ سب ہمارا ہے، اور وہ ہمیں ماریں گے تو پھر مرنے کے لیے تیار ہو جائیں، یہ میرا واضح پیغام ہے دھمکی نہیں ہے اور یہ اصلاح کی آخری وارننگ ہےادارے قوم کی آواز نہیں بن سکتے اور قوم کی رائے کی عزت نہیں کرسکتے تو سائیڈ پر ہوجائیں، عوام کے فیصلے عوام کو کرنے دیں، سیاستدانوں کو سیاست کے فیصلے کرنے دیں، ادارے بیچ میں نہ آئیں اور پھر دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے، آج باقاعدہ انقلاب کا اعلان کر رہا ہوں، انقلاب کے علاوہ کوئی حل نہیں۔

    مہنگی بجلی اور آئی پی پیز کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا آج ہوگا

  • درد کمر  میں مبتلا افراد کے لیے انجیکشن تیار  ،

    درد کمر میں مبتلا افراد کے لیے انجیکشن تیار ،

    درد کمر میں مبتلا افراد کے لیے انجیکشن تیار ،

    باغی ٹی وی: اوکلاہوما سٹی میں محققین نے ایک جیل تیار کیا ہے ۔یہ جیل بہت قابلِ تزریق ہے ۔ جس میں ریڑھ کی ہڈی ڈسکس میں انجیکشن کی مدد سے ڈال کر کمر کے نیچلے حصے ریڑھ کی ہڈی کے پاس تکلیف دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔
    مزید تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے امریکی سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ تقریباً 20 سے 68 برس کے درمیان 20 افراد میں یہ علاج کروانے کے بعد درد میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ان افراد کے کمر درد کی وجہ پتا چل گئی ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ افراد ڈسک کے ختم ہونے کی بیماری میں تھے جس کی وجہ سے ان کو کمر درد کی شکایت تھی ۔

    درد کمر کی شکایت ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں میں بھرتی جا رہی ہے ۔اگر ہم صرف امریکا کی بات کریں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ امریکا میں ہر سال تقریباً 6.5 لوگ اس درد کمر کی شکایت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ کمر میں درد کی وجہ سے مختلف بیماریاں ہوتی ہیں ۔ اس تکلیف سے بچنے کے لیے جسمانی تھیراپی کے ساتھ آرام بھی کرنا چاہئے ۔
    کمر درد کا جو نیا طریقہ جیل کا متعارف ہوا ہے اس میں جیل کو سرجری کے ذریعے ڈالا جاتا ہے ۔

    مزید یہ کہ کمر درد کے بہت سے راویتی طریقوں کو استعمال کر کے اس درد کو دور کیا جاتا رہا ہے ۔لیکن تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اس سے صرف وقتی طور پر آرام آتا ہے ۔
    لیکن یہ نیا جیل کا طریقہ ماہرین کے مطابق درد کو دور کرنے میں کافی مدد دیتا ہے ۔اور اس طریقہ پر ماہرین نے لوگوں پر تجربہ کیا ہے ۔جو لوگ کمر درد کی شکایت میں مبتلا تھے ۔ان پر نیا جیل کے طریقے کو متعارف کرایا گیا ہے ۔ساتھ ہی روایتوی طریقہ کا بھی ان لوگوں پر تجربہ ہوا لیکن اس تجربے کے بعد پتا چلتا ہے کہ روایتی طریقہ سے آرام تو آ جاتا ہے لیکن یہ آرام وقتی طور پر ہی آتا ہے ۔

  • بائی پولر کی شناخت کرنا اب مشکل نہیں ۔

    بائی پولر کی شناخت کرنا اب مشکل نہیں ۔

    بائی پولر کی شناخت کرنا اب مشکل نہیں ۔

    باغی ٹی وی :پیرس میں سائنس دانوں نے انسانی لہو میں 6 ایسے بایومارکر دریافت کر لیے ہیں۔ جو بائی پولر جیسے مریض کی شناخت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں ۔
    مزید تفصیلات کے مطابق مونٹ پولیئر یونیورسٹی ہسپتال، سوئزرلینڈ کے نفسیاتی ہسپتال لیس ٹوئسس ،فرانس ،اور جامعہ پٹس برگ میں موجود سائنس دانوں نے ایک کمپنی ایلسی ڈیاگ کے تعاون سے معلوم کیا جا چکا ہے کہ باقی ٹیسٹوں جس طرح مرض کی شناخت کر سکتے ہیں وہاں خون کا خون کا ٹیسٹ کرانے سے بائی پولر مرض کی شناخت ہو سکتی ہے ۔
    مزید یہ کہ ڈپریشن کا مرض بہت عام ہے بہت سے لوگ ڈپریشن کے اس مرض میں مبتلا ہیں ۔ڈپریشن میں مبتلا مریضوں کی تعداد تقریباً 30 کروڑ ہے ۔اور یہ کہ ان میں 40 فیصد لوگوں کی تعداد بائی پولر کی شکار بھی ہو سکتی ہے ۔

    بائی پولر کی مندرجہ ذیل اقسام ہو سکتی ہیں ۔
    انسان بہت زیادہ مایوس ہو جاتا ہے ۔اس کی خوشی اور غمی پہلے کی نسبت مختلف ہو جاتی ہے ۔مریض کا اپنے اوپر سے اعتبار ختم ہو جاتا ہے ۔اور وه کسی بھی طرح کا فیصلہ نہیں کر سکتا ہے ۔ماضی میں اس مرض کے حوالے سے کافی تجربے ہو چکے ہیں۔تاہم اب جا کے اس کی تشخیص کا طریقہ دریافت ہو چکا ہے ۔ اس کی تشخیص ایک بلڈ ٹیسٹ سے ہوتی ہے ۔اس بلڈ ٹیسٹ میں آراین اے اور مصنوعی ذہانت کو استعمال کیا جاتا ہے ۔جس سے اس کی درستگی 80 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہو جاتا ہے ۔ مزید چھ بایومارکر میں سے جتنے زیادہ موجود ہوں بائی پولر کا شبہ یقین میں ڈھلتا جاتا ہے۔ اس پورے منصوبے کو ایڈٹ بی کا نام بھی دیا جا چکا ہے ۔

  • دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی چپ تیار جو ایک سیکنڈ میں 2 ارب تصاویر پروسیس کر سکتی ۔

    دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی چپ تیار جو ایک سیکنڈ میں 2 ارب تصاویر پروسیس کر سکتی ۔

    دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی چپ تیار جو ایک سیکنڈ میں 2 ارب تصاویر پروسیس کر سکتی ۔

    پینسلوانیا میں پہلی مرتبہ سائنس دانوں نے عین دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی طاقتور آپٹیکل چپ بنائی ہے جو صرف ایک سیکنڈ میں دو ارب تصاویر پروسیس کرسکتی ہے۔
    پنسلوانیا کے ماہرین نے یہ برقی چپ اعصابی نیٹ ورک کے طرز پر تیار کی ہے ۔اس کے کام کرنے کا انداز تھوڑا مختلف ہے ۔یہ روایتی انداز کے برعکس کام کرتی ہے اور کسی بھی طرح سست نہیں ہوتی ہے ۔

    ساتھ ایک اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ وه خود ہی سیکھتے رہتے ہیں بلکل ہی نیورل نیٹ ورک کی طرح ہی ۔اور یہ اسی سیکھنے کے عمل کے دوران اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
    اس چپ کو آپٹیکل چپ کا نام بھی دیا گیا ہے ۔کیونکہ اس چپ میں برقی سگنل کی بجاۓ روشنی ایک سے دوسرے مقام سے گزرتی دکھائی دیتی ہے ۔
    جب اس چپ پر تجربہ ہوا تو پتا چلا کہ یہ ایک چپ 9.3 مربع ملی میٹر بنائی گئی ہے ۔

    مزید یہ کہ ہر ایک تصویر کو شناخت کرتے ہوئے چپ کو صرف 0.57 نینو سیکنڈ لگے ۔اس سے اس بات کا اندازہ بھی ہوا کہ صرف ایک ہی سیکنڈ کے اندر چپ پونے دوارب تصاویر دیکھ کر پروسیس کرسکتی ہے۔
    اب اس چپ کے دوسرے اہم پہلو کی طرف جاتے ہیں جس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس میں معلومات جزوقتی اسٹور نہیں ہوتی ہیں۔اور چپ میں میموری موجود نا ہونے کی سب سے اہم ترین وجہ بھی یہ ہی ہے۔اور یہ عمل اس طرح سےمحفوظ بھی ہے ۔

  • الیکسا تھرڈ ڈی کان لگانے والی پہلی خاتون :

    الیکسا تھرڈ ڈی کان لگانے والی پہلی خاتون :

    الیکسا تھرڈ ڈی کان لگانے والی پہلی خاتون:

    باغی ٹی وی :میکسکو سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جن کی عمر 20 سال کے لگ بھگ ہے اور ان کا نام الیکسا ہے انہوں نے پیدائشی طور پر کان کے نقص کے ساتھ جنم لیا تھا۔ان کے کان کا باہر والا حصہ بلکل بھی نہیں تھا ۔اب انہوں نے اپنے خلیوں سے بنا تھرڈ ڈی کان لگوایا ہے اور یہ دنیا کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے تھرڈ ڈی کان لگوایا ہے۔

    جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ سننا انسان کی بڑی ضرورتوں میں سے ایک ہے اس حوالے سے ڈاکٹروں نے امید دلائ ہے کہ یہ ٹرانسپلانٹ طب کی دنیا ’مائیکروٹیا‘ میں مبتلا افراد کے لیے علاج سامنے لاکر انقلاب برپا کر دے گا۔

    مائیکروٹیا ایک پیدائشی حالت ہوتی ہے جس میں ایک یا دونوں کانوں کے بیرونی حصے مکمل طور پر نہیں بنے ہوتے لیکن خیال رہے کہ یہ حالت سماعت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

    ڈاکٹر ار نے پہلے الیکسا کا نامکمل جزوی کان سرجری کے ذریعے ہٹایا اور اس کو پھر الیکسا کے سالم کان کے تھری ڈی اسکین کے ساتھ تھری ڈی بائیو تھیراپیوٹکس بھیجا۔

    پھر وہاں پہنچنے پر خاتون کے کونڈروسائٹس، وہ خلیے جو کارٹیلیج بناتے ہیں۔ ٹشو سے علیحدہ ہو کر بعد میں ان اجزاء کے ساتھ مل کر اربوں خلیوں میں بدل چکے تھے ۔

    اور پھر یہ سارا عمل اسی طرح سے جاری رہا خاتون کو تھرڈ ڈی کان لگواتے ہوۓ بلکل بھی دکت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔اور یہ کام انتہائی احتیاط اور مکمل منصوبے سے کیا گیا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر بونِیلا کا کہنا تھا کہ اگر سب چیزیں منصوبے کے مطابق کی جایئں تو یہ طب کی دنیا میں انقلاب برپا کردے گا ۔

    اس سب عمل میں وقت کا دورانیہ 10 منٹ سے کم کا تھا ۔

  • محمد بن سلمان کا نیا کارنامہ، سعودی عرب میں انقلاب آ گیا، سلمان خان کے ٹھمکے

    محمد بن سلمان کا نیا کارنامہ، سعودی عرب میں انقلاب آ گیا، سلمان خان کے ٹھمکے

    محمد بن سلمان کا نیا کارنامہ، سعودی عرب میں انقلاب آ گیا، سلمان خان کے ٹھمکے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے سعودی عرب سوشل میڈیا پر کافی ٹرینڈ کر رہا ہے ہر ایک چینل اور ویب سائیٹ پر سعودی عرب سے متعلق دو خبریں بھی خوب گردش کر رہی ہیں۔ ان میں ایک خبر تو حال ہی میں ہونے والے میوزیکل کانسرٹس ہیں اور دوسری خبر تبلیغی جماعت پر لگنے والی پابندی ہے۔ لیکن ان کے علاوہ ایک تیسری خبر بھی ہے جس پر ابھی زیادہ بات نہیں کی جا رہی اور وہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے بانی رہنما سید ابوالاعلی مودودی سمیت دیگر کئی مصنفین کی کتابیں سعودی حکومت نے لائبریریوں سے ہٹانے کی ہدایت کر دی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن ان دنوں خبروں کے حوالے سے یہ بات میری سمجھ سے بالکل باہر ہے کہ لوگ اتنا حیران کیوں ہیں۔ سوشل میڈیا پر اتنا واویلا کیوں ہو رہا ہے۔ سعودی عرب میں یہ حالات کوئی ایک مہینے، ایک ہفتے، ایک دن یا ایک رات میں تو پیدا نہیں ہوئے ہیں جو کہ آپ سب اتنا پریشان ہیں۔یہ سب تو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030کا حصہ ہے۔ اور جب سے وہ ولی عہد بنے تھے اس طرح کی تبدیلیاں تو تب سے ہی آہستہ آہستہ سعودی ماحول کو حصہ بننا شروع ہو گئیں تھیں اور ابھی اور بہت سی تبدیلیاں ہیں جو کہ آنے والے وقت میں ہم دیکھیں گے کہ کیسے سعودیہ عرب کو بالکل بدل دیا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب جو کبھی مکہ، مدینہ اور اپنی اسلامی روایات کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا آنے والے چند سالوں میں سعودی عرب اپنی Modernizationاور ترقی کی وجہ سے پہچانا جائے گا۔معاملہ کچھ یوں ہے کہ جمعہ کے روز سعودی عرب کی ایک بڑی جامع مسجد میں ایک خطبہ دیا گیا۔ جس کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ۔۔۔سعودی عرب کا ملک ایک ہی جماعت اور راستے پر چل رہا تھا کہ باہر سے کچھ جماعتیں آئیں، اس ایک جماعت اور ایک مذہب پر چلنے والے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے۔ ان معروف جماعتوں میں سے ایک تبلیغی جماعت بھی ہے جو اپنے آپ کو اس ملک میں احباب کے نام سے پکارتے ہیں۔اس جماعت کی اصل ہند یعنی برصغیر میں ہے۔ جماعت تبلیغ پیغمبر اسلام کے کئی طریقوں کے مخالف چلتے ہیں۔ یہ جماعت بغیر علم کے دعوت کے لیے نکلتی ہے۔ یہ اللہ اور پیغمبر اسلام کے طریقے کے برخلاف ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس سے دہشت گرد گروپ بھی پیدا ہوئے۔ ان کے ساتھ چلنے والے لوگ علم کی کمی کا شکار ہو کر تکفیری جماعتوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی وجہ سے دہشت گرد جماعتوں کے لوگ جو کہ سعودی عرب کی جیلوں میں بند ہیں، ان کے بارے میں تفتیش کی گئی تو پتا چلا کہ یہ پہلے تبلیغی جماعت میں شامل تھے۔ اس ملک یعنی سعودی عرب کی فتوی دینے والی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ اس جماعت یعنی تبلیغی جماعت یا احباب کے ساتھ شریک ہونا جائز نہیں ہے۔ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کی دعوت کو قبول نہ کریں۔ یہ جماعت اور اس جیسی جماعتیں ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیں گی۔ یہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔یہ الفاظ ایک خطبے کے ہیں جو کہ سعودی عرب ی جامع مسجد میں دیا گیا لیکن میں آپ کو بتاوں کہ باقی تمام مسجدوں میں بھی تقریبا یہ ہی بات کی گئی کیونکہ آپ سب کو معلوم ہے کہ سعودی عرب میں حکومت کی طرف سے ہدایات جاری کی جاتی ہیں اور اسی کے مطابق جمعہ کی نماز میں خطبہ دیا جاتا ہے۔اور یہ بات صرف مساجد میں دئیے جانے والے خطبات میں ہی نہیں کی گئی بلکہ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر شیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز نے اپنی ایک ٹویٹ میں بھی سعودی عرب میں جمعے کے خطبے میں تبلیغی جماعت کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے تو میں آپ کو بتاوں کہ تبلیغی جماعتوں سے سعودی حکام کبھی بھی بہت زیادہ خوش نہیں تھے لیکن اب ان پر اس طرح کی پابندی لگانا یا ان کو دہشت گردوں کے ساتھ ملانے کی ابت اس لئے کی جارہی ہے کیونکہ سعودی عرب کے اندر بہت سی تبدیلیاں آ رہی ہیں جن کی ایک مثال حالیہ ہونے والے میوزیکل کانسرٹس ہیں تو ان حالات میں محمد بن سلمان یہ نہیں چاہتے کہ سعودی عرب میں کوئی ایسی تنظیم یا جماعت ہو جو کہ ان کی پالیسیوں پر تنقید یا مخالفت کی وجہ بن سکے۔اور جہاں تک کانسرٹس کی بات ہے تو سعودی عرب میں سلمان خان کے کنسرٹ پر جو لوگ شور مچا رہے ہیں ان کو میں بتا دوں کہ سلمان خان کے کنسرٹ سے چند دن پہلے چھ دسمبر کو وہاں Famous international singer Justin bieberکا بھی کنسرٹ ہوا تھا۔ جس میں اس کی مسز مشہور ماڈل Hailey Bieberبھی اس کے ساتھ تھیں۔ جس میں تقریبا ستر ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی۔Justin beiberکے بعد اب سلمان خان کا کنسرٹ ہوا جس میں شلپا شیٹھی، جیکولین فرنینڈس اور کئی دوسرے فنکاروں نے بھی پرفارم کیا تھا۔ اور سلمان خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خاص فرمائش اور دعوت پر ریاض میں پرفارم کرنے کے لئے آئے تھے۔ ان کے اس ٹور کو دبنگ ٹور کا نام دیا گیا۔اور اس کنسرٹ میں 80,000لوگوں نے شرکت کی۔ سوشل میڈیا پر بھی اس وقت اس کنسرٹ کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ کنسرٹ سے پہلے سلمان خان کو اعزاز دینے کے لیے اس کے ہاتھوں کا نقش بھی لیا گیا تھا جو ریاض کی مصروف ترین شاہراہ پر نصب کیا جائے گا۔اور اس سب کو نام دیا گیا ہے روشن خیالی کا۔۔ اس طرح کے ایونٹس منعقد کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سعودی عرب روشن خیالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اور تبلیغی جماعت پر جو پابندی لگائی گئی وہ بھی اسی تمام کاروائی کا حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ ایک طرف Justin beiberکا کانسرٹ ہو رہا تھا دوسری طرف اسی دن ہی تبلیغی جماعتوں پر دہشت گردی کا ٹیگ لگایا جا رہا تھا۔اور ان تبلیغی جماعتوں کی مخالفت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سعودی عرب میں داخلے اور کام کے لئے جو اجازت نامہ دیا جاتا ہے جس کو ویزا یا اقامہ کہتے ہیں تو اس میں دعوت و تبلیغ کی کوئی کیٹیگری ہی نہیں ہے یعنی سعودی عرب میں دعوت و تبلیغ کے لیے داخلے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لئے کوئی ویزہ یا اقامہ جاری کیا جاتا ہے۔اور اگر کوئی انسان سعودی عرب جا کر اپنے اقامے یا ویزا میں دیے گئے کسی بھی کام سے ہٹ کر کچھ اور کرتا ہے تو یہ قانونی طور پر جرم ہے اس انسان کو فوری طور پر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔اور تبلیغ تو دور کی بات ہے اب تو اسلامک اسکالرز کی کتابوں پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے تعلیمی اداروں کو نوٹس جاری کئے ہیں کہ اخوان المسلمون کے بانی حسن البناء جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالااعلی مودودی مصری عالم دین یوسف القرضاوی سمیت دیگر کئی مصنفین کی 80 کتابیں لائبریریوں سے فوری ہٹائی جائیں۔ اور تمام ادارے اپنی لائبریریوں سے یہ کتابیں ہٹا کر دو ہفتوں کے اندر رپورٹ بھی جمع کروائیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان بظاہر تو اس تمام معاملے کو روشن خیالی کا نام دے رہے ہیں لیکن میں آپ کو بتاوں کہ ان تمام فیصلوں کے پیچھے دو اہم وجوہات ہیں۔ایک وجہ تو امریکہ اور انڈیا کے ساتھ گہری دوستی اور رابطے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ تبلیغی جماعت پر پابندی کا سلسلہ انڈیا سے شروع ہوا تھا۔ گزشتہ سال کرونا کی آڑ لیکر مودی سرکار نے تبلیغی جماعت پر پابندی لگائی تھی۔ حالانکہ کمبھ کا میلہ جس میں کروڑوں لوگ شرکت کرتے ہیں اس پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی لیکن تبلیغی جماعت والوں پر پابندی بھی لگائی گئی ان کے لوگوں کو مارا پیٹا بھی گیا تھا جیل میں بھی ڈال دیا گیا تھا۔ اور اب یہی کچھ سعودی عرب میں ہونے جا رہا ہے۔ اور یہ تو صرف ایک مثال ہےاس کے علاوہ بھی آپ کو یاد ہوگا کہ اسی سال مئی میں انڈین میڈیا میں اس بات پر خوب جشن منایا گیا تھا کہ محمد بن سلمان نے مودی سرکار کی محبت میں رامائن اور مہا بھارت کے علاوہ یوگا اور آیوروید جیسے ہندوستانی ثقافتی عناصر کو اسکولوں کے نصاب کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ نریندر مودی کو سعودی عرب کے دورے پر بلا کر شاہی محل میں سعودی عرب کے سب سے بڑے سول اعزاز شاہ عبدالعزیز ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حالانکہ تبلیغی جماعت کے حوالے سے میں آپ کو بتاوں کہ تبلیغی جماعت کا کوئی بھی کام خفیہ یا پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ لوگ نہ تو سیاست میں ملوث ہوتے اور نہ ہی اس جماعت کے لوگ کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کے کارکن یا رہنما ہوتے ہیں۔ نہ ہی ان کا کوئی سیاسی، معاشی یا معاشرتی ایجنڈا ہوتا ہے اور یہ ہر ایک کو اپنی صفوں میں قبول کرتے ہیں۔ یہ صرف اسلام کے معاملات کی بات کرتے ہیں جس میں لوگوں کو کلمہ، نماز، عربی میں دعائیں اور قران سکھانا شامل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، انڈیا، افریقہ اور یہاں کہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی پچھلے چند برسوں میں تبلیغی جماعت بہت مقبول ہوئی ہے۔ اور انڈیا کی محبت کے علاوہ جو دوسری بڑی وجہ ہے وہ پیسہ ہے۔ محمد بن سلمان کو اپنا نیوم سٹی بنانے کے لئے بہت پیسے کی ضرورت ہے اور اس کو اب نظر آ رہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت جس طرح سے فروغ پا رہی ہے تو مستقبل میں سعودی عرب کی تیل کی صنعت بری طرح متاثر ہونے والی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لئے محمد بن سلمان چاہتا ہے کہ آنے والے سالوں میں اپنی تجارت اور معیشت کا انحصار تیل کے علاوہ دیگر ذرائع پر کریں۔ ویژن 2030 کے تحت اگلے آٹھ سالوں میں سعودی عرب کو معاشی اور تجارتی مرکز بنا دیا جائے۔ ریاض میں بھی اب نائٹ کلب، سینما ہال اور ریستوران کھول کر انہیں ٹوکیو، لندن اور نیویارک کے برابر کھڑا کیا جائے۔ اس طرح کے کنسرٹ کروا کر اور سیاحت کو فروغ دے کر خوب پیسہ کمایا جائے۔اس لئے اب آپ کو آنے والے دنوں میں سعودی عرب کے حوالے سے ایسی خبریں خوب سننے کو ملا کریں گی اس لئے ان پر حیران ہونا چھوڑ دیں۔ مکہ اور مدینہ سے جو بحیثیت مسلمان ہماری عقیدت ہے اس کو الگ رکھیں اور سعودی حکومت کے معاملات کو الگ کیونکہ اب ان کا مقصد اسلامی تعلیمات اور روایات کی پاسداری کرنا نہیں بلکہ صرف اور صرف پیسہ کمانا اور انڈیا اور امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ اپنی دوستیاں بنھانا ہے۔