Baaghi TV

Tag: انمول پنکی

  • منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئر مین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔

    اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں کراچی سے گرفتار بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلر انمول عر ف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرعام منشیات فروشی میں ملوث ملزمہ پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی رہی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    انہوں نے ڈی جی اے این ایف کو ہدایت کی کہ پنکی کے سپلائرز اور نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں اور اس حوالے سے فوری انکوائری کی جائے سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ اگر کسی پارلیمنٹیرین یا بااثر شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو اس کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کی جائیں جن افراد کے نام کال لسٹ میں موجود ہیں، انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے، جبکہ جس جج نے ملزمہ کی ضمانت منظور کی، ان کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے۔ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ سے پنکی کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔

    کراچی پولیس اور وفاقی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جسے شہر بھر میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے ملزمہ طویل عرصے سے مفرور تھی اور اس کے خلاف 10 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے ملزمہ کی سٹی کورٹ میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت کے احاطے میں گھومتی دکھائی دی، ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا –

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا کہا کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق منشیات فروش انمول عرف پنکی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ملزمہ کو تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی تھی، ملزمہ کو آج دوبارہ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا،گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تھی، تاہم آج دوبارہ عدالت کے روبرو جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی،انہوں نے کہا کہ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ ان کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف ماضی میں درج مقدما ت کی تفصیلات بھی اکٹھی کر لی گئی ہیں۔

    جسمانی ریمانڈ کی منظوری کے بعد پولیس ملزمہ کو جیل سے لینے کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

    یاد رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد ہوئی تھیں۔

  • 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار ہونے والی مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق محض 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی کوکین نیٹ ورک کی اہم کارندہ بن گئی انمول کی پہلی شادی ایک وکیل سے ہوئی جو عالمی کوکین گینگ سے وابستہ تھا، جہاں سے اس نے منشیات کی دنیا میں قدم رکھا،وکیل سے طلاق کے بعد اس نے ایک پولیس افسر سے شادی کی اور اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر کوکین کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا-

    انمول کراچی کے علاقے نگارہ گوٹھ بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی، سال 2008 میں ڈیفنس اور کلفٹن میں ہونے والی ڈانس پارٹیز میں منشیات کی سپلائی کا آغاز کیا، ملزمہ نے اس فیلڈ میں اپنا نام پنکی رکھا اور پھر آہستہ آہستہ اپنے کام کو پھیلایاکراچی میں گزشتہ سال ارمغان کیس سامنے آنے کے بعد ملزمہ لاہور اور اسلام آباد میں روپوش رہی ، اور وہیں سے منشیات کا نیٹ ورک چلاتی رہی ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے 800 سے زائد کسٹمرز تھے جن کو وہ اپنے نیٹ ورک کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ۔

    حیران کن طور پر ملزمہ نے انٹرنیٹ کے ذریعے کوکین تیار کرنے کا طریقہ سیکھ کر اپنا “برانڈ” بھی متعارف کروا رکھا تھاملزمہ کا نیٹ ورک انتہائی پیچیدہ تھا جس میں کوئی بھی رکن ایک دوسرے سے براہِ راست نہیں ملتا تھا لاہور سے دو خواتین کے ذریعے ٹرین کے ذریعے کوکین کراچی بھیجی جاتی، جہاں سے با ئیک رائیڈرز اسے مختلف ڈیلرز تک پہنچاتے اور ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بتانا ہے کہ ملزمہ کے گروپ میں دیگر خواتین اور مرد بھی شامل ہیں ، نیٹ ورک کے کارندے کوکین اسمگل کرکے مختلف شہروں ، کراچی کی جامعات ، کالجز اور آن لائن فروخت بھی کرتے تھے۔

    ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزمہ کو پانچ سال قبل پنجاب پولیس نے گرفتار کیا تھا مگر مبینہ طور پر 7 کروڑ روپے رشوت لے کر چھوڑ دیا گیا ملزمہ اس غیر قانونی دھندے سے ماہانہ کروڑوں روپے کما رہی تھی اور اس نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی بنا رکھا ہے،جبکہ ملزمہ لاہور میں کپڑے کا کاروبار بھی کرتی ہے۔

    خیال رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا پولیس کا دعویٰ ہےکہ ملزمہ انمول عرف پنکی سے پستول،کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد کی گئیں انتہائی مطلوب اور 10 مقدمات میں مفرور ملزمہ شہر میں منشیات ڈیلنگ و سپلائی کے نیٹ ورک کو آپریٹ کررہی تھی ملزمہ آن لائن منشیات کو مخصوص رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کرتی تھی، اس کے علاوہ وہ خواتین رائیڈرز کا بھی استعمال کرتی تھی۔