Baaghi TV

Tag: انمول پنکی

  • انمول پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد  غیر معمولی ڈیٹا حاصل کرلیا گیا

    انمول پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد غیر معمولی ڈیٹا حاصل کرلیا گیا

    منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے غیر معمولی اور وسیع ڈیجیٹل ڈیٹا ریکارڈ تفتیشی ٹیم نے حاصل کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے موبائل فون کی تیار کردہ فرانزک رپورٹ تفتیشی افسر کے حوالے کر دی گئی ہے، جس میں اہم شواہد سامنے آئے ہیں فرانزک رپورٹ کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد ڈیٹا ریکور کیا گیا ہے اس کے علاوہ فون سے 75 ہزار سے زائد پیغامات بھی برآمد کیے گئے ہیں موبائل فون سے آن لائن ٹرانزکشنز، بینک سلپس اور اسکرین شاٹس بھی حاصل ہوئے ہیں جو مالی لین دین سے متعلق شواہد میں شامل ہیں۔

    تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے 13 ہزار سے زائد افراد کے ساتھ رابطوں کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے انمول عرف پنکی ایک ہی موبائل فون میں دو واٹس ایپ اکاؤنٹس استعمال کر رہی تھی، جن میں ایک نمبر پر عام واٹس ایپ اور دوسرے پر بزنس اکاؤنٹ فعال تھا حاصل ہونے والا ڈیجیٹل مواد مزید تحقیقات اور شواہد کے تجزیے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل انمول پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرایا گیا تھا جب کہ پولیس نے 5 ملزمان کو مفرور قرار دے دیا تھا، ان ملزمان میں حمیرا، صابرہ، اینا، اعزاز اور حمزہ شامل ہیں ملزمہ انمول عرف پنکی 16 سال سے منشیات کی تیاری میں ملوث تھی، ملزمہ نے اپنے سابق شوہر رانا ناصر سے کوکین کی تیاری سیکھی اور پھر طلاق کے بعد منشیات کا اپنا کام شروع کیا تھا، ملزمہ کراچی اور لاہور میں جگہیں بدل کر رہائش اختیار کرتی تھی۔

    چالان کے مطابق ملزمہ پنکی منشیات کی آن لائن فروخت کرتی تھی اوراپنے خریداروں کو ذیشان اور سہیل کے اکاؤنٹس نمبر دیتی تھی، ملزم ذیشان رقم کی وصولی کے اسکرین شاٹ بھیجتا تو پنکی رائیڈرز کے ذریعے منشیات گاہک کو بھیج دیتی ملزم ذیشان کے 5 اور سہیل کے 2 اکاؤنٹس سامنے آئے، ذیشان کے ایک بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں سے زائد کی ٹرانز یکشن کا انکشاف ہوا،پنکی کے لاہور کے بینک اکاؤنٹ میں چھ کروڑ انتالیس لاکھ کی رقم موجود تھی، ملزمہ سادہ کوکین 20 ہزار روپے جب کہ گولڈن سٹف 40 ہزار فی گرام فرو خت کر تی تھی، کراچی اور لاہور میں ملزمہ کے خلاف ستائس مقدمات درج ہیں۔

    تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمہ کی ٹریول ہسٹری حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھا ہے جب کہ اس سے برامد شدہ منشیات اور دیگر اشیاء کی کیمیکل معائنہ کروایا گیا، اداروں کی جانب سے جوابات موصول ہونے کے بعد حتمی چالان جمع کروادیا جائے گا۔

  • انمول  پنکی   کیخلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع

    انمول پنکی کیخلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع

    پولیس نے انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع کرادیا۔

    کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے جنوبی نے انمول عرف پنکی اور دیگرکےخلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت کی جہاں تفتیشی افسر نے عبوری چالان عدالت میں جمع کرادیا عبوری چالان کے مطابق کیس میں 3 خواتین سمیت 5 ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا اور عبوری چالان میں 16 گواہان کے نام بھی شامل ہیں، مقدمے میں انمول عرف پنکی، ذیشان الرحمٰن، سہیل الرحمٰن، محمد سمیر گرفتار ہیں، مفرور ملزمان میں بیسل امیکا عرف عینا، حمیرا، صابرہ بی بی میں شا مل ہیں۔

    عبوری چالان کے مطابق پولیس نے ملزمہ کو اُسکے گارڈن والے فلیٹ سے 11 مئی کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کیخلاف سال 2018 سے 2026 تک کراچی اور لاہور میں مقدمات درج ہوچکے ہیں، مفرور ہونے کی وجہ سے انمول کے بینک اکاؤنٹ، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک ہوچکے ہیں گرفتاری کے وقت تیار شدہ 1240 گرام کوکین جبکہ پندرہ کیپسول کوکین جسکا وزن 3 سو گرام ہے برآمد ہوئے، ملزمہ سے منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان اور نقدی بھی برآمد ہوئی-

    عبوری چالان کے مطابق ملزمہ 16 سال سےمنشیات کی تیاری میں ملوث ہے، ملزمہ نے سابق شوہر سے کوکین بنانا سیکھا اور ملزمہ نے طلاق کے بعد اپنا کام شروع کیا ملزمہ کراچی کے پوش علاقے میں کوکین فروخت کرتی ہے، ملزمہ تعلیمی ادارے اور پارٹیز میں کارندوں کے ذریعےکوکین فروخت کرتی ہے جب کہ ملزمہ کراچی اور لاہور میں جگہیں بدل کرقیام کرتی تھی ملزمہ کےموبائل فون فارنزک سےکراچی سے تین رائیڈرز اعزاز، حمزہ اور عاقب کے نام سامنے آئے جب کہ ملزمہ منشیات کی آن لائن فروخت کرتی تھی۔

    پراسیکیوشن نے پولیس تفتیش پر ایک مرتبہ پھر اعتراض کردیا، ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے تجویز دی کہ ملزمہ کی منقولہ و غیر منقولہ پراسیکیوشن نے پولیس تفتیش پر ایک مرتبہ پھر اعتراض کردیا، ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے تجویز دی کہ ملزمہ کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی معلومات حاصل کی جائیں۔

    عارف سیتائی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزمہ کے بینک اکاؤنٹس اور جائیداد کیلئے متعلقہ بینکوں اور اداروں کوخطوط لکھے جائیں، انمول عرف پنکی کے زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات حاصل کی جائیں، ایف آئی اے، اسٹیٹ بینک اور دیگر اداروں سے معلومات حاصل کی جائیں۔

    ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمہ کے ساتھیوں اور رشتہ داروں کی جائیداد کی معلومات بھی حاصل کی جائیں، معلومات کیلئے اسٹیٹ بینک (ایف ایم یو)۔ایف آئی اے، ایف بی آر۔ایکسائز اور اے این ایف سے بھی معلومات لی جائیں۔

  • پنکی کو  ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی درخواست دائر

    پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی درخواست دائر

    کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں منشیات کے مقدمے میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں وومن جیل سپرنٹنڈنٹ عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔

    دورانِ سماعت جیل حکام کی جانب سے ملزمہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی درخواست دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمہ کو آج تھانہ گارڈن میں درج مقدمے کے سلسلے میں عدالت میں پیش کیا جانا تھا، تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث اسے عدالت لانا ممکن نہیں، ملزمہ کو عد الت میں پیش کرنے سے نقصِ امن کا خطرہ ہے لہٰذا مقدمے کے لیے نئی تاریخ مقرر کی جائے۔

    جیل حکام نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت پر ملزمہ کو جیل سے آن لائن ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے گا، جس کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کا مقدمہ تھانہ گارڈن میں درج ہے۔

  • شوبزاور سیاسی شخصیات انمول پنکی کی کسٹمرز نکلیں

    شوبزاور سیاسی شخصیات انمول پنکی کی کسٹمرز نکلیں

    منشیات فروش انمول عرف پنکی کے کیس میں تحقیقاتی ٹیم نے مجموعی طور پر 16 مختلف اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا،کیس کی انتہائی حساس اور اہم دستاویزات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیش کر دی گئیں۔

    دستاویزات کے مطابق انمول پنکی کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے منتقل کرنے والوں میں حکمران اتحاد کے ایم این اے صادق افتخار، ان کی اہلیہ اور پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار منیب بٹ، اداکارہ میرا اور ماڈل سارہ کے نام سامنے آ گئے ہیں، گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 6 مختلف اکاؤنٹس کا استعما ل کرتے ہوئے تقریباً 3 کروڑ روپے کا لین دین کیا گیا جب کہ تحقیقاتی ٹیم نے مجموعی طور پر 16 مختلف اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا۔

    سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق گزشتہ 18 مہینوں کے دوران 6 مختلف بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 94 لاکھ 67 ہزار روپے منتقل کیے گئے، اس رقم کی منتقلی میں 21 خواتین اور 117 مرد شامل ہیں، جن میں ایم این اے صادق افتخار، ان کی اہلیہ سمیت اداکار منیب بٹ، اداکارہ میرا اور ماڈل سارہ کے ناموں نے سب کو حیران کر دیا ہے۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    بیسل امیکا نامی خاتون کے ایک اکاؤنٹ میں 85 لاکھ 62 ہزار روپے منتقل ہوئے، صداقت اللہ نامی شخص کے اکاؤنٹ میں 16 لاکھ 50 ہزار روپے ڈالے گئے، ہانی فرقان کے اکاؤنٹ میں 77 لاکھ 50 ہزار اور محمد سمیر کے اکاؤنٹ میں 63 لاکھ 75 ہزار روپے منتقل کیے گئے اسی طرح ظفرعلی کے اکاؤنٹ میں 27 لاکھ 80 ہزار منتقل ہوئے، اسکائے اوورسیز نامی اکاؤنٹ میں 10 لاکھ روپے منتقل ہوئےرقم منتقلی ذیشان اور سہیل نامی افراد کے ذریعے کی جاتی تھی۔

    پنجابی گلوکارہ شادی سے انکار پر قتل ، لاش نہر سے برآمد

    کراچی پولیس چیف آزاد خان نے سینیٹ کمیٹی کو کیس پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنکی کیس میں لا انفورسمنٹ والوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں، پنجاب میں 2018 سے 2024 تک 5 کیسز بنائے گئے، سندھ پولیس نے اب تک 4 کیسسز بنائے ہیں، پنکی کے پرانے گھر سے بھی کوکین برآمد ہو ئی ، ملزمہ کے فون کا بھی فرانزک کرایا گیا ہے، نادرا اورایف آئی اے کو بھی خطوط لکھے گئے ہیں۔

  • انمول پنکی کیس :کراچی پولیس چیف کی سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ میں بڑے انکشاف

    انمول پنکی کیس :کراچی پولیس چیف کی سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ میں بڑے انکشاف

    کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا ہے کہ انمول عالمی منشیات ڈیلر رانا عاصم کیساتھ کام کر رہی ہے۔

    انمول پنکی کیس پر سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے پولیس چیف نے کہا کہ کراچی پولیس اور حساس ادارے لمبے عرصے سے اس کیس پر کام کر رہے تھے، پنکی 18 سال سے ڈرگ سپلائی کر رہی ہے ، وہ آن لائن نیٹ ورک اور بائیکیا رائیڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ، 2018 سے کراچی میں بھی سپلائی جاری ہے،انمول کراچی کی ہے ، اس کی لاہور میں ڈرگ اسمگلر سے شادی ہوئی ہے ،انمول عالمی منشیات ڈیلر رانا عاصم کیساتھ کام کر رہی ہے۔

    آزاد خان نے کہا کہ کوکین ڈرگ سپلائی میں انمول کے دو بھائی اور خواتین کے علاوہ لاہور کے بڑے نام بھی انمول پنکی کیساتھ منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں، پنکی قتل کیس میں بھی ملوث ہے جس میں ریمانڈ نہیں ملا ، منشیات کی رقم آن لائن بھائیوں کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی تھی ، موبائل فون میں 860 غیر ملکیوں اور دیگر منشیات ڈیلرز کے نمبر موجود ہیں، پنکی کے موبائل سے بڑے ڈیلرز کے شواہد مل گئے ہیں۔

    کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ سندھ ،پنجاب ، خیبر پختونخوا کے منشیات ڈیلرز پنکی کیساتھ رابطے میں ہیں ، راجہ پرویز اشرف سے متعلق ایسی کوئی بات نہیں ، پنکی کے موبائل فون سے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیس آگے بڑھا رہے ہیں۔

  • انمول عرف پنکی گینگ کا مرکزی ممبر گرفتار

    انمول عرف پنکی گینگ کا مرکزی ممبر گرفتار

    کراچی :پولیس نے گلستان جوہر میں کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی گینگ کے ایک مرکزی کارندے ذیشان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار ملزم ذیشان اس پورے نیٹ ورک کے اکاؤنٹس اور مالی معاملات سنبھالنے کا ذمہ دار تھا اور اس سے ہونے والی ابتدائی تحقیقات میں کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں منشیات کی خرید و فروخت کے لیے ادائیگیوں کا ایک پیچیدہ نظام بنایا گیا تھا جس میں آن لائن ایپس اور موبائل بیلنس کی آڑ میں رقم منتقل کی جاتی تھی جبکہ ایک نجی کمیونیکیشن فرنچائز کو بھی لین دین کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    پنکی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ اب لاہور تک پھیل چکا ہے جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس نیٹ ورک کے حوالے سے خفیہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہےسی سی ڈی لاہور نے بھی باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور امکان ہے کہ پنکی کو قانونی کارروائی کے لیے لاہور منتقل کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ایک نئی رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ پوش علاقوں اور نجی تعلیمی اداروں میں کم عمر بچوں کو نشانہ بناتا ہے اسکولوں اور کالجوں میں منشیات کا جال پھیلانے کے لیے زیادہ خریداری کرنے والوں کو رعایتی پیکج بھی دیے جاتے تھے عدالت نے اس رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مزید تفتیش انتہائی ضروری ہے۔

    ادھر کراچی میں تفتیشی حکام کو ملزمہ کے بھائی شوکت کی تلاش ہے جس کا مجرمانہ ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف پہلے ہی منشیات فروشی کا مقدمہ درج ہے ملزمہ پنکی کے مبینہ شوہر سابق پولیس افسر رانا اکرام کو بھی اس کیس میں شامل تفتیش کرنے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے دوران تفتیش منشیات کی فراہمی کے انتہائی انوکھے طریقے کا بھی پتہ چلا ہے جس کے مطابق یہ 6 رکنی گروہ جس میں ایک خاتون اور پانچ مرد شامل ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے گاہک سے براہ راست نہیں ملتا تھا-

    پولیس حکام کے مطابق گروہ کا کارندہ کسی سنسان گلی یا مقام کا انتخاب کر کے وہاں پتھر کے نیچے منشیات چھپا دیتا تھا اور پھر خریدار کو اس مقام کی لوکیشن بھیج دی جاتی تھی،پنکی ایک گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی جبکہ پنکی منشیات کالین دین آئن لائن کرتی تھی،پولیس اب ملزم ذیشان کے بینک اکاؤنٹس اور آن لائن ڈیٹا کی مدد سے اس پورے گروہ کے دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    واضح رہے کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا جب کہ گزشتہ روز پنکی کے بھائی کے خلاف لاہور میں مقدمہ سامنے آیا ہے۔

    لاہور پولیس کا دعویٰ ہے کہ 2022 میں شاداب کالونی میں لگژری گاڑی سے پنکی کا بھائی ملزم ریاض بلوچ منشیات دینے اترا تو پولیس نے قابو کرلیا، اس کے ساتھ موجود اس کی بہن انمول عرف پنکی گاڑی دوڑا کر نکل گئی، پنکی کے بھائی ریاض بلوچ پر لاہور میں 7 جنوری 2022 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئر مین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔

    اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں کراچی سے گرفتار بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلر انمول عر ف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرعام منشیات فروشی میں ملوث ملزمہ پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی رہی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    انہوں نے ڈی جی اے این ایف کو ہدایت کی کہ پنکی کے سپلائرز اور نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں اور اس حوالے سے فوری انکوائری کی جائے سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ اگر کسی پارلیمنٹیرین یا بااثر شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو اس کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کی جائیں جن افراد کے نام کال لسٹ میں موجود ہیں، انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے، جبکہ جس جج نے ملزمہ کی ضمانت منظور کی، ان کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے۔ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ سے پنکی کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔

    کراچی پولیس اور وفاقی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جسے شہر بھر میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے ملزمہ طویل عرصے سے مفرور تھی اور اس کے خلاف 10 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے ملزمہ کی سٹی کورٹ میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت کے احاطے میں گھومتی دکھائی دی، ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا –

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا کہا کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق منشیات فروش انمول عرف پنکی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ملزمہ کو تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی تھی، ملزمہ کو آج دوبارہ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا،گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تھی، تاہم آج دوبارہ عدالت کے روبرو جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی،انہوں نے کہا کہ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ ان کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف ماضی میں درج مقدما ت کی تفصیلات بھی اکٹھی کر لی گئی ہیں۔

    جسمانی ریمانڈ کی منظوری کے بعد پولیس ملزمہ کو جیل سے لینے کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

    یاد رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد ہوئی تھیں۔

  • 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار ہونے والی مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق محض 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی کوکین نیٹ ورک کی اہم کارندہ بن گئی انمول کی پہلی شادی ایک وکیل سے ہوئی جو عالمی کوکین گینگ سے وابستہ تھا، جہاں سے اس نے منشیات کی دنیا میں قدم رکھا،وکیل سے طلاق کے بعد اس نے ایک پولیس افسر سے شادی کی اور اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر کوکین کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا-

    انمول کراچی کے علاقے نگارہ گوٹھ بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی، سال 2008 میں ڈیفنس اور کلفٹن میں ہونے والی ڈانس پارٹیز میں منشیات کی سپلائی کا آغاز کیا، ملزمہ نے اس فیلڈ میں اپنا نام پنکی رکھا اور پھر آہستہ آہستہ اپنے کام کو پھیلایاکراچی میں گزشتہ سال ارمغان کیس سامنے آنے کے بعد ملزمہ لاہور اور اسلام آباد میں روپوش رہی ، اور وہیں سے منشیات کا نیٹ ورک چلاتی رہی ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے 800 سے زائد کسٹمرز تھے جن کو وہ اپنے نیٹ ورک کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ۔

    حیران کن طور پر ملزمہ نے انٹرنیٹ کے ذریعے کوکین تیار کرنے کا طریقہ سیکھ کر اپنا “برانڈ” بھی متعارف کروا رکھا تھاملزمہ کا نیٹ ورک انتہائی پیچیدہ تھا جس میں کوئی بھی رکن ایک دوسرے سے براہِ راست نہیں ملتا تھا لاہور سے دو خواتین کے ذریعے ٹرین کے ذریعے کوکین کراچی بھیجی جاتی، جہاں سے با ئیک رائیڈرز اسے مختلف ڈیلرز تک پہنچاتے اور ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بتانا ہے کہ ملزمہ کے گروپ میں دیگر خواتین اور مرد بھی شامل ہیں ، نیٹ ورک کے کارندے کوکین اسمگل کرکے مختلف شہروں ، کراچی کی جامعات ، کالجز اور آن لائن فروخت بھی کرتے تھے۔

    ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزمہ کو پانچ سال قبل پنجاب پولیس نے گرفتار کیا تھا مگر مبینہ طور پر 7 کروڑ روپے رشوت لے کر چھوڑ دیا گیا ملزمہ اس غیر قانونی دھندے سے ماہانہ کروڑوں روپے کما رہی تھی اور اس نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی بنا رکھا ہے،جبکہ ملزمہ لاہور میں کپڑے کا کاروبار بھی کرتی ہے۔

    خیال رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا پولیس کا دعویٰ ہےکہ ملزمہ انمول عرف پنکی سے پستول،کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد کی گئیں انتہائی مطلوب اور 10 مقدمات میں مفرور ملزمہ شہر میں منشیات ڈیلنگ و سپلائی کے نیٹ ورک کو آپریٹ کررہی تھی ملزمہ آن لائن منشیات کو مخصوص رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کرتی تھی، اس کے علاوہ وہ خواتین رائیڈرز کا بھی استعمال کرتی تھی۔