Baaghi TV

Tag: انوارالحق کاکڑ

  • وزیراعظم کےبعد ایسا کونسا عہدہ رہ جاتا ہے جس کی مجھےخواہش ہو؟ انوارالحق کاکڑ

    وزیراعظم کےبعد ایسا کونسا عہدہ رہ جاتا ہے جس کی مجھےخواہش ہو؟ انوارالحق کاکڑ

    سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ‌نے کہا ہے کہ اگر چاہوں تو آج کابینہ کا رکن بن سکتا ہوں، ہوسکتا ہے وزیراعظم ان کے لیے کوئی کردار دیکھ لیں، وزیراعظم کےبعد ایسا کونسا عہدہ رہ جاتا ہے جس کی مجھےخواہش ہو؟

    وی نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں سابق وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ان کی وجہ سے آٹا سستا ہوگیا یہ کیسا اسکینڈل ہے؟ اللہ کے فضل سے کوئی کرپشن نہیں کی ! میں نے نجی شعبے کو گندم درآمد کا کوئی اجازت نامہ نہیں دیا،فارم 47 کے حوالے سے بیان کا تصور بھی نہیں کر سکتا، حنیف عباسی سے بات گندم کے بحران کے حوالے سے ہورہی تھی، لیکن ایک گروہ ملک میں انتخابات کو متنازع بنانا چاہتا ہے، حنیف عباسی کے ساتھ مکالمے کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، بلوچستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک گروہ شناخت کی بنیاد پر نیا جغرافیہ چاہتا ہے، وہ بھوک اور پسماندگی کی وجہ سے نیا جغرافیہ نہیں چاہتا، یہ علیحدگی پسندوں کا گروہ ہے۔ انکی وکالت کا اختیار بشمول وہ جو روزانہ رات کو آٹھ بجے دوکانداری لگا کر بیٹھ جاتے ہیں کسی کو نہیں ہے،

    انوارالحق کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کسی کو بھی اپنے برابر نہیں سمجھتے۔ میری عمران خان کیساتھ قربت رہی ہے تحریک انصاف کو دو مرتبہ 2013 اور 2018 میں ووٹ دیا لیکن یہ ووٹ اسلئے نہیں دیا تھا کہ وہ جاکر ریاست پر چڑھائی کردے، چیئرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی بننا کوئی آسان کام نہیں خصوصا جب آپ کسی بڑی جماعت کا حصہ نہ ہوں اسلئے میں کیوں ان عہدوں کیلئے کوشش کرتا، روز رات کو آٹھ بجے ‘اشرافیہ’ ٹی وی پر بیٹھ کر ‘چٹ پٹی’ سٹوریاں بنا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ اگر ایسی سٹوریاں نہیں بنائیں گے تو انکو دیکھنے والے کم ہوجائینگے اور پھر انکے مالکان ان سے سوال کرینگے کہ پروگرام چل نہیں رہے

    واضح رہے کہ انوارلحق کاکڑ کا گندم سیکنڈل میں نام آیا تھا وہیں ن لیگی رہنما حنیف عباسی کے ساتھ نجی ہوٹل میں تصادم کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں،تا ہم آج سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اس امر کی تردید کی ہے کہ حنیف عباسی کے ساتھ تصادم کے دوران فارم 47 کے حوالہ سے بات چیت نہیں ہوئی،

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • کیا ہم نے کوئی کوکین منگوائی تھی جو چھ ماہ میں اتنا زیادہ نفع مل گیا؟  انوار الحق کاکڑ

    کیا ہم نے کوئی کوکین منگوائی تھی جو چھ ماہ میں اتنا زیادہ نفع مل گیا؟ انوار الحق کاکڑ

    کوئٹہ: سابق نگراں وزیراعظم وسینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ میرے دور میں گندم کی خریداری کا جو فیصلہ ہوا اُس کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں، کیا ہم نے کوئی کوکین منگوائی تھی جو چھ ماہ میں اتنا زیادہ نفع مل گیا؟-

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ میں نے گندم کا معاملہ کبھی صوبوں یا کسی پر نہیں ڈالا،میرے دور میں گندم کی خریداری کا جو فیصلہ ہوا اُس کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں، اٹھارہو یں ترمیم کے بعد گندم خریداری کا ڈیٹا صوبے اکٹھا کرتے ہیں۔

    انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ گندم کی خریداری کے دو طریقے ہیں پہلا یہ کہ حکومت عالمی مارکیٹ سے خریداری کرے اور سبسیڈ ائز ریٹ پر لوگوں کو دے تاکہ مارکیٹ مستحکم رہے، دوسرا طریقہ پرائیوٹ سیکٹر کو گندم امپورٹ کی اجازت دینا ہےبدقسمتی سے تیسرے اور اہم نقطے پر اس بحران کے باوجود بھی کوئی بات نہیں کررہا اور وہ یہ ہے کہ اگر آر این ڈی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ) تھوڑی تحقیق کرے اور سرمایہ لگایا جائے تو چار ملین ٹن سے زائد کی پیداوار کی جاسکتی ہے۔

    سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد میں اضافے کا اصولی فیصلہ کیا ہے،وزیر …

    اُن کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے دور میں جب گندم درآمد کی گئی تو اُس وقت میں فوڈ اینڈ سیکیورٹی کا وزیر تھا اور دوسرے صاحب تو کابینہ میں بعد میں شامل ہوئے گندم درآمد کے حوالے سے صوبوں نے پی ڈی ایم حکومت کو سمری ارسال کی گئی جس کے بعد ہماری نگراں حکومت کے پاس یہ ڈیٹا آیا اور اُسی بنیاد پر قانون کے مطابق گندم درآمد کی گئی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا لاہور کو 22 کروڑ روپے مالیت کی 17 گاڑیوں کا تحفہ

    نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے تحریک انصاف دور میں جاری ہونے والے ایس آر او کے تحت گندم درآمد کی اور اب بھی وہی قانون موجود ہے، اس کے علاوہ پرائیوٹ سیکٹر کیلئے کوئی اضافی قانون بنایا گیا اور نہ ہی اجازت لی گئی دعویٰ کیا جا ر ہا ہے کہ گندم درآمد پر 85 ارب کا نفع ہوا، کیا ہم نے کوئی کوکین منگوائی تھی جو چھ ماہ میں اتنا زیادہ نفع مل گیا؟ ایک طرف ہم پر داغ لگا یا جارہا ہے تو دوسری طرف خالص قانونی چیز (ایس آر او) کو غیر قانونی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ گندم امپورٹ کے معاملے پر کاکڑ صاحب اور مجھ سے انکوائری کی جائے۔

    ٹھٹھہ: زمین کے تنازعہ پر 2 گروپوں میں تصادم،بچوں سمیت 8 افراد زخمی

  • گندم اسکینڈل:تحقیقاتی کمیٹی کی  انوارالحق کاکڑ اور محسن نقوی کو طلب کرنے کی خبروں کی تردید

    گندم اسکینڈل:تحقیقاتی کمیٹی کی انوارالحق کاکڑ اور محسن نقوی کو طلب کرنے کی خبروں کی تردید

    اسلام آباد: گندم درآمد اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اور محسن نقوی کو طلب کرنے کی خبروں کی تردید کردی-

    باغی ٹی وی : گندم درآمد اسکینڈل کی تحقیقات جاری ہیں اور گندم بحران پر تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کا اجلاس ہفتے کو جہاں تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے مختلف آپشنز زیر غور ہیں اور معاملہ تحقیقات کے بعد کارروائی کے لیے نیب، ایف آئی اے کے سپرد کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے چار ارکان پر مشتمل کمیٹی کوہدایت کی ہے کہ چار روز میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو بھی طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم،سابق نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک طلبی کا کوئی باقاعدہ نوٹس نہیں ملا، نگران وزیراعظم اور وزرا کو تحقیقات کے حوالے سے سوال نامہ بھی بھیجا جا سکتا ہے، جس میں ان تحقیقات کے حوالے سے وہ اپنا مؤقف پیش کرسکتے ہیں اور کمیٹی کا اجلاس اتوار کو دوبارہ ہوگا۔

    اسٹیڈیمز کی اپ گریڈیشن کیلئے انٹرنیشنل کنسلٹنٹ کی خدمات جلد لینے کا فیصلہ

    دوسری جانب وفاقی سیکریٹری کابینہ نے گندم کی انکوائری سے متعلق گمراہ کن خبر کی تردید کی اور وفاقی سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل نے اپنے بیان میں کہا کہ نہ تو نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور نہ ہی نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کو طلب کیا،دونوں حضرات کو طلب کیے جانے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کر رہا ہوں، میری انکوائری سے متعلق غلط خبریں چلائی جا رہی ہیں۔

    پی سی بی کی پی ایس ایل کے چار پلے آف نیوٹرل وینیو …

  • بلوچستان، سینیٹ کی تمام 11 خالی سیٹوں‌پر امیدوار بلامقابلہ منتخب

    بلوچستان، سینیٹ کی تمام 11 خالی سیٹوں‌پر امیدوار بلامقابلہ منتخب

    بلوچستان میں سینیٹ کی تمام 11 خالی نشستوں پر امیدواروں کا بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے ،سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور ایمل ولی خان بھی سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں

    بلوچستان اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو تین تین، جمعیت علما اسلام کو دو نشستیں مل گئی ہیںَ،نیشنل پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کا ایک ایک سینیٹر منتخب ہوا ہے،انوار الحق کاکڑ آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے ہیں تاہم انہیں بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت حاصل تھی-

    الیکشن کمیشن کے مطابق بلوچستان کے لیے مختص سینیٹ کی 11 خالی نشستوں پر انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے 33 امیدواروں میں سے 22 امیدوار دستبرار یا ریٹائرڈ ہو گئے۔جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں مسلم لیگ ن کے آغا شاہ زیب درانی اور سیدال خان ناصر، پیپلز پارٹی کے سردار محمد عمر گورگیج، جمعیت علماء اسلام کے احمد خان ، آزاد امیدوار سابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ، عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان ، نیشنل پارٹی کے جان محمد بلیدی شامل ہیں۔جبکہ خواتین کی دو نشستوں پر ن لیگ کی راحت جمالی اور پیپلز پارٹی کی حسنہ بانو ایوان بالا کی ممبر بنی ہیں۔ ٹیکنوکریٹ کے لیے مختص دو نشستوں پر جمعیت علما اسلام کے مولانا عبدالواسع پیپلز پارٹی کے شیخ بلال احمد خان مندوخیل بھی بلامقابلہ سینیٹر بن گئے ہیں-

    وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی اہم ملاقات

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    سیاسی جماعتوں کے سینئیر رہنما سینیٹ ٹکٹ سے محروم

    پنجاب میں بڑا معرکہ،سات سینیٹر بلا مقابلہ منتخب

  • لاپتہ بلوچ طلبہ کیس، نگران وزیراعظم عدالت پیش

    لاپتہ بلوچ طلبہ کیس، نگران وزیراعظم عدالت پیش

    اسلام آباد ہائیکورٹ، نگران وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ لاپتہ بلوچ طلبہ کیس میں طلب کیے جانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہو گئے ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ نے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو طلب کر رکھا ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی بلوچ لاپتہ طلبا کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کر رہے ہیں،نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ ، وزیر داخلہ گوہر اعجاز و دیگر عدالت پیش ہوئے،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کردیا

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم آئین کے اندر رہ کر کام کررہے ہیں، میں قانون کے مطابق جواب دہ ہوں ، آپ نے ہمیں بلایا ہم آگئے ہیں ، میں بلوچستان سے تعلق رکھتا ہوں ، ہم بلوچستان میں مسلح شورش کا سامنا کررہے ہیں،مجھے بلوچستان سے ہونے کی وجہ سے وہاں کے حالات کا زیادہ علم ہے، بلوچستان میں مسلح مزاحمت ہو رہی ہے، بلوچستان میں کچھ لوگ نئی ریاست بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،نان اسٹیک ایکٹرز کی خلاف ورزیاں بھی ریکارڈ ہوتی ہیں، ہمارے بلوچستان کے ایک سابقہ چیف جسٹس کو مغرب کی نماز کے وقت ان مسلح جتھوں نے شہید کیا تھا، ان چیف جسٹس صاحب نے ایک انکوائری کی سربراہی کی تھی، زندہ رہنے کا حق سر فہرست ہے،

    سسٹم میں کمی اور خامیاں ، ثبوت نہیں آتا تو کس کو کیسے سزا دیں،ہم مسلح جدوجہد کا سامنا کر رہے ہیں،نگران وزیراعظم
    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگی بالکل ایک مختلف معاملہ ہے، ریاستی اداروں کو معلوم ہے ملک کیسے چلانا ہے،لیکن لوگوں نے حقوق کی خلاف ورزی کرکے ملک نہیں چلانا،یواین کا بھی ایک طریقہ ہے وہ پوچھتے ہیں کون لاپتہ ہوا، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ وہ پوچھتے ہیں آپ جسٹس محسن اختر کیانی ہیں آپ لاپتہ ہو گئے ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ آپ مجھے بتا رہے ہیں کہ میں نے جبری لاپتہ ہو جانا ہے؟ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ میں مثال دے رہا ہوں، میں انوار کا نام لے لیتا ہوں،یہ بسوں سے اتار کر نام پوچھتے اور چودھری یا گجر کو قتل کر دیتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ سٹوڈنٹس کی لسانی بنیادوں پر پروفائلنگ نا کریں ،سسٹم میں کمی اور خامیاں ہیں، ثبوت نہیں آتا تو کس کو کیسے سزا دیں،ہم مسلح جدوجہد کا سامنا کر رہے ہیں،وہ ایک نئی ریاست تشکیل دینے کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں،ریاست اخلاقی طور پر خود کو بالادست سمجھتی ہے تو ان کی جوابدہی زیادہ ہوتی ہے،ایسا نہیں ہے کہ خود کش حملہ آور نیک نامی کا باعث بنتے ہیں،90 ہزار افراد آج تک اس ملک میں دہشت گردوں کا نشانہ بن چکے ہیں، فرقہ واریت کی بنا پر لوگوں کے نام پوچھ کر قتل کئے گئے ہیں، تم چوہدری ہو گولی، تمہارا نام گجر ہے گولی، یہ سلسلہ ہے، کلاشنکوف اٹھانے والا اور نہتا فرد ایک جیسے نہیں ہو سکتے،مجھے صحافی نے پوچھا کہ آپ بلوچستان واپس کیسے جائیں گے؟

    مطیع اللہ جان کو کسی نے اغوا کیا ہے تو بالکل کارروائی ہونی چاہیے ،نگران وزیراعظم
    جسٹس محسن اختر کیانی نے نگران وزیراعظم سے استفسار کیا کہ بلوچستان تو دور یہ آپ کے سامنے مطیع اللہ جان جان کھڑے ہیں، دن دھاڑے اسلام آباد سے انہیں اغواء کر لیا گیا۔لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالہ سے کامیاب اقدامات کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے، قانون کی پاسداری ہر شہری کا حق ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ مطیع اللہ جان کو کسی نے اغوا کیا ہے تو بالکل کارروائی ہونی چاہیے ،عدالت نے کہا کہ اس بات کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے 59 لوگوں میں سے صرف 8 لوگ رہ گئے ہیں،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پیرا ملٹری فورسز، کاؤنٹر ٹیرارزم کے اداروں پر الزامات لگائے جاتے ہیں، پوری ریاست کو مجرم تصور کرنا درست نہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اسی ملک نے بڑے بڑے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، سسٹم کمزور ضرور ہے لیکن بے بس نہیں ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ میرا بیٹا فوج میں بھرتی ہوتا ہے تو میں کیا چاہوں گا کہ قانون میرے ساتھ کھڑا ہو یا دہشت گردوں کے ساتھ؟بیس سال سے لڑائی چل رہی ہے، آئندہ پارلیمنٹ آئے گی وہ بھی دیکھے گی، آئے روز کے الزامات سے ریاست کو نکالنا چاہیے، ہم نے اس لیے ہتھیار نہیں اٹھایا کہ ریاست نے ہمارے حقوق کی گارنٹی دی ہے،میں صرف لاپتہ افراد کے حوالے سے وضاحت کر رہا ہوں، یہ لاپتہ افراد کا پوچھیں تو پانچ ہزار نام دے دیتے ہیں، یہ خود بھی اس ایشو کو حل نہیں کرنا چاہتے،آئین پاکستان مجھ سے غیرمشروط وفاداری کا مطالبہ کرتا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ خوبصورت باتیں کر رہے ہیں لیکن ہمارے پاس بہت سی مثالیں موجود ہیں،

    روزانہ اداروں کے جوانوں کے بچے یتیم ہورہے ہیں مگر ہم خاموش ہیں،نگران وزیراعظم
    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ یہ معاملہ ختم ہونا چاہیے، آئے روز ریاست پر الزامات کا سلسلہ روکنا چاہیے، قانون کو یہ دیکھنا ہوگا کہ نان سٹیٹ ایکٹرز اور سٹیٹ ایکٹرز کو کیسے دیکھنا ہوگا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بات عدالت ، ایمان مزاری اور آپ کی ایک ہی ہے، ریاست مخالف لوگوں کو کوئی عدالت پروٹیکشن نہیں دے سکتی، کیا اس معاملے پر آپ قانون سازی کرسکتے ہیں؟ نگران وزیراعظم نے کہا کہ میں نہیں کرسکتا ، نیا پارلیمان کے پاس اختیارات ہونگے وہ کرسکتے ہیں،عدالت نے کہا کہ پرچہ کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے کسی اور کے پاس نہیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اسی ملک میں بڑے بڑے دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزائیں ہوئیں،جن لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے انکو عدالتوں میں پیش کرنا لازم ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ یہ معاملہ بڑی سیاسی جماعتوں کو اٹھاکر حل کرنا چاہیے، ہمارے اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں، روزانہ اداروں کے جوان شہید ہورہے ہیں، روزانہ اداروں کے جوانوں کے بچے یتیم ہورہے ہیں مگر ہم خاموش ہیں،آئین پاکستان کا آرٹیکل 5 میرے سے غیر مشروط وفاداری مانگتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ نئی تشکیل پانے والی کابینہ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کر دی،جسٹس محسن اختر کیانی نےکہا کہ گرفتاری میں قانون کی خلاف ورزی ہو تو وہ غیرقانونی ہو جاتی ہے، کابینہ کے سامنے معاملہ رکھیں اور آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کریں، عدالت نے کیس کی سماعت 3 اپریل تک ملتوی کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نگران وزیراعظم کو پہلے بھی طلب کیا تھا تاہم وزیراعظم عدالت پیش نہیں ہوئے تھے جس پر عدالت نے دوبارہ انوار الحق کاکڑ کی طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا تھا، آج نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ عدالت پیش ہو گئے ہیں، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، آئی جی اسلام آباد بھی عدالت پہنچ چکے ہیں،پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی.

    آپ سے گفتگو کی کوشش کرتا ہوں آپ لڑنے کی کوشش کرتے ہیں،نگران وزیراعظم کا صحافی سے مکالمہ
    اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ عدالت سے نکلے تو صحافیوں سے بات چیت کی، اس دوران نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ میں نے عدالت میں جبری گمشدگی کا دفاع بالکل نہیں کیا، جبری گمشدگی کے نام پر جو الزامات لگ رہے ہیں، ان کا دفاع کیا، وزیراعظم اور صحافی کے درمیان سخت سوال و جواب ہوئے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ آپ سے گفتگو کی کوشش کرتا ہوں آپ لڑنے کی کوشش کرتے ہیں،صحافی نے سوال کیا کہ یہ افراد سی ٹی ڈی کی تحویل میں تھے تو پہلے کیوں نہیں بتایا گیا،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ الزام کو الہامی حیثیت دینا چاہتے ہیں،ہم انکوائری کریں گے پھر بتا دیں گے،صحافی نے سوال کیا کہ نگران حکومت نے کس آئین کے تحت 6 ماہ کا وقت لیا،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 1973 کے تحت،

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

  • نتائج،میڈیا نے جلد بازی کی، فسادیوں کو قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا،نگران وزیراعظم

    نتائج،میڈیا نے جلد بازی کی، فسادیوں کو قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا،نگران وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ انارکی کی کوئی حکومت اجازت نہیں دیتی، نہ ہم دینگے، فسادیوں کو قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہدہشتگردی کے خطرات کے باوجود پر امن انتخابات کا انعقاد ہوا، چیلنجز کے باوجود جمہوری تسلسل خوش آئند ہے، پاکستان اب بھی دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے، انتخابات کے کامیاب انعقاد پر سکیورٹی اداروں نے اہم کردار ادا کیا، مجھے 2018 کی باتیں یاد ہیں، کہا جاتا تھا پاکستان ڈھاکا بن جائے گا، پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے،ایسی بات سوچی بھی نہیں جا سکتی کہ پاکستان ڈھاکا بن جائیگا، پر امن احتجاج لوگو ں کا حق ہے،لوگ پر امن احتجاج نہ کریں تو یہ فاشزم کی طرف چلا جائے گا،کوئی حکومت انار کی اجازت نہیں دیتی، نہ ہم دیں گے، پرامن احتجاج ماضی میں بھی ہوئے، یہ جمہوریت کا حصہ ہے,الیکشن نتائج 36 گھنٹے میں تیار ہوئے، غیر حتمی نتائج کیسے آرہے ہوتے ہیں، میڈیا کا کیا سورس ہوتا ہے؟میڈیا نے انتخابی نتائج جاری کرنے میں جلد بازی کر دی،الیکشن کا رزلٹ 36 گھنٹے میں تیار ہوا،2018 میں انتخابی نتائج 66 گھنٹے میں مکمل ہوئے تھے،

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں قانون سازی نہیں کریں گی تو مسائل کیسے حل ہوں گے، ہر الیکشن میں ایسے مسائل ہوتے ہیں، الزامات لگاتے ہیں، الیکٹوریل پروسیس کو ایسا کرنا ہو گا کہ سب کو قابل قبول ہو،پرامن احتجاج کریں، تشدد برداشت نہیں کریں گے، نتائج میں تاخیر کا مطلب دھاندلی نہیں، 9 فروری کو قلعہ سیف اللہ میں داعش کے خلاف کامیاب انٹیلیجنس آپریشن ہوا لیکن وہ مجھے میڈیا یا سوشل میڈیا پر کہیں نظر نہیں آیا بس موبائل فون بند ہونے کا شور مچانے والے نظر آئے.ترقی یافتہ ممالک میں ووٹوں کی گنتی میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں، الیکشن ختم ہونے کے فوری بعد ہی سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعہ پھیلا دیا گیا کہ پاکستان میں دھاندلی ہوگئی ہے،ایک انقلاب آ گیا اور اسکو روک دیا گیا،ایسا نہیں ہے، کہیں دھاندلی ہوئی تو فورم موجود ہیں، پہلے ڈھائی گھنٹے میں یہ سب کیا گیا،

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

  • نگران وزیراعظم سے اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کی ملاقات

    نگران وزیراعظم سے اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کی ملاقات

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے اقوام متحدہ میں موجود پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم نے منیر اکرم کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے مؤقف کی مؤثر نمائندگی پر سراہا، وزیراعظم نے منیر اکرم کو اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کو تواتر سے اجاگر کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ عالمی سطح پر ملک کی معاشی فلاح و بہبود کے لیے مواقع کی نشاندہی کرنا پاکستان کے تمام سفارتی نمائندوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، منیر اکرم نے وزیراعظم کو اپنے مشن کی کارکردگی سے آگاہ کیا اور وزیراعظم سے خارجہ پالیسی کے ضمن میں ہدایات لیں

    قبل ازیں نگران وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان انوار الحق کاکڑ نے یوم حق خود ارادیت کے موقع پر پیغام میں کہا کہ آج دنیا بھر کے کشمیری اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان (یو این سی آئی پی) کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جس کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کا فیصلہ جمہوری طریقے سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کیا جائے گا۔ آج کا دن کشمیریوں کے اس ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کا اعادہ ہے جو بین الاقوامی قانون کے عین مطابق ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ یہ افسوسناک امر ہے کہ ساڑھے سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام اس بنیادی حق کا استعمال نہیں کر سکے۔ بھارت جموں و کشمیر کے عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ 5 اگست 2019 سے، بھارت ایک سازشی عمل میں مصروف ہے ، جس کا مقصدمقبوضہ جموں کشمیر کی آبادی کے ڈھانچے اور سیاسی منظر نامے کو تبدیل کر کے کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین میں ایک بے اختیار کمیونٹی میں تبدیل کرنا ہے۔جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے انکار کی جانب ایک اور قدم ہے۔ اس طرح کی قانون سازی اور انجینئرڈ عدالتی فیصلوں کے ذریعے کشمیریوں کی حقیقی امنگوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) ہر سال "عوام کے حق خود ارادیت کی عالمگیر احساس” پر ایک قرارداد منظور کرتی ہے جس کا مقصد جبری قبضے میں رہنے والے لوگوں کی حالت زار اور حقوق کی طرف بین الاقوامی توجہ مبذول کرانا ہے۔

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ، اس بات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری اٹھاتی ہے کہ IIOJK کے لوگ اپنے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کا استعمال کریں۔ پاکستان بہادر کشمیری عوام کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق سمیت ان کے حقوق کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی مکمل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • نگران وزیراعظم سے نیدر لینڈز کے وزیر اعظم کی ملاقات

    نگران وزیراعظم سے نیدر لینڈز کے وزیر اعظم کی ملاقات

    نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ سے نیدر لینڈز کے وزیر اعظم مارک روٹے کی ملاقات ہوئی

    ملاقات اٹھائیسویں کانفرنس آف پارٹیز کے موقع پر ہوئی،ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر بھی گفتگو کی گئی،ملاقات میں غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی تبادلہء خیال کیا گیا،دونوں رہنماؤں نے سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے پر اسلام آباد اور دی ہیگ میں منعقد ہونے والی تقریبات کو سراہا

    https://twitter.com/PakPMO/status/1730552718970814494

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہناتھا کہ پاکستان اور نیدر لینڈز کو باہمی دلچسپی کے امور پر دوطرفہ اور یورپی یونین کے ذریعے مل کر کام کرنا چاہیے، وزیراعظم نے ڈچ کمپنیوں کو زراعت، باغبانی، پانی کے انتظام اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی،دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات میں اضافے کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا، وزیر اعظم نے کاپ 28 کے حوالے سے بہتر نتائج کی امید کا اظہارکیا، اور کہا کہ کم کاربن خارج کرنے والے ممالک میں سے ایک ہونے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا شکار ہے،وزیراعظم نے نیدرلینڈز کے وزیراعظم کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی

  • گوادر بندرگاہ سمندری راستے سے تجارت کا مرکز ہوگا،نگران وزیراعظم

    گوادر بندرگاہ سمندری راستے سے تجارت کا مرکز ہوگا،نگران وزیراعظم

    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے گوادر شپنگ کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے وفد کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں گوادر شپنگ کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر عبد الرحیم ظفر، سیکٹری جنرل حمید بلوچ اور فیصل دشتی نے شرکت کی. ملاقات میں وفد نے وزیرِ اعظم کو درخواست کی کہ گوادر بندرگاہ کو مکمل فعال بنانے کیلئے ابتدائی طور پر سرکاری کارگو کا کچھ حصہ گوادر بندرگاہ سے پاکستان در آمد کیا جائے. وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے ایک جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی.

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ گوادر بندرگاہ مستقبل قریب میں سمندری راستے سے تجارت کا مرکز ہوگا. حکومت گوادر بندرگاہ میں صنعتوں کے قیام اور صنعتی علاقوں سے مواصلاتی روابط کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہی ہے،گوادر کے مقامی لوگوں کو روزگار اور بین الاقوامی معیار کی سہولیات کی فراہمی سی پیک کی اس اہم بندرگاہ کی ترقی کیلئے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں.

    وفد نے وزیرِ اعظم کو شپنگ کلیئرنگ اینجٹس کے مسائل کے حوالے سے بھی آگاہ کیا. وزیرِ اعظم نے وفد کو انکے مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کی یقین دہانی کرائی. وفد نے وزیرِ اعظم کو گوادر میں ماہی گیروں کے مسائل کے حوالے سے بھی آگاہ کیا. نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ گوادر میں فشریز کی صنعت کو جدت دی جائے. گوادر میں ماہی گیروں کو جدید مشینری، کشتیوں میں انجن و نیویگیشن آلات اور بین الاقوامی سطح پر رائج معیار کے مطابق مچھلی پکڑنے کے طریقہ کار کیلئے پیشہ ورانہ تربیت دی جا رہی ہے. گوادر سے فشریز کے شعبے میں برآمدات کی وسیع استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا. وفد نے حکومت کے ماہی گیروں کو روزگار کی فراہمی، پیشہ ورانہ تربیت اور گوادر کے مجموعی طور پر مسائل کے حل کیلئے اقدامات کی تعریف کی.

    ائیر پورٹ پرابھی پریس کانفرنس ہو رہیں کل کو یہاں فلمی تقریبات ہوں گی کرن جوہر کی طنز
    بلوچستان حکومت؛ شام کے زلزلہ متاثرین کیلئے امداد روانہ
    لاہور میں ریٹائرڈ ایس پی کے قتل کے الزام میں بھابھی سمیت 3 افراد گرفتار
    مفتی تقی عثمانی کا موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر اداروں کومشورہ
    گورنر ہاؤس میں خواتین کے لیے مفت مہندی لگانےکا اہتمام
    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار
    چودھری رحمت علی میموریل ٹرسٹ، خدمت انسانیت کی اعلی مثال

  • پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں زیادہ ہاتھ غیر قانونی تارکین وطن کا ہے،نگران وزیراعظم

    پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں زیادہ ہاتھ غیر قانونی تارکین وطن کا ہے،نگران وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ افغان عبوری حکومت آنے کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں 60 فیصد اضافہ ہوا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ خودکش حملوں میں ملوث افراد میں 15 افغان شہری ملوث تھے،اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا واضح ذکر کیا گیا ہے،دہشتگردوں کی فہرست بھی افغان عبوری حکومت کو بھیجی گئی، پاکستان نے اب داخلی معاملات کو اپنی مدد آپ کے تحت درست کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان میں بدامنی پھیلانے کا زیادہ ہاتھ غیر قانونی تارکین وطن کا ہے، تمام غیر ملکی خاندانوں کو عزت کے ساتھ واپس جانے کے مواقع فراہم کیے ہیں،ہم توقع کرتے ہیں افغان حکومت بھی واپس جانے والوں کیلئے احسن اقدامات کرے گی،

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ افغان عبوری حکومت کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ دونوں ریاستیں خود مختار ہیں،
    الزام تراشی نے پاکستانی غیور عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے،افغان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں اپنے ملک سے بھی غیر قانونی مقیم پاکستانیوں کو ہمارے حوالے کرے،ہم افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو جاری رکھیں گے،اب تک واپس جانے والوں کی تعداد 2 لاکھ 52 ہزار کے قریب ہے، رضاکارانہ طور پر ڈھائی لاکھ افراد کا واپس جانا معمولی بات نہیں،
    اُمید ہے ان اقدامات کے بعد ہمارے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی،پاکستانی پشتونوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا پنجابی، بلوچی، سندھیوں کا ہے، پاکستان کے اوپر کسی قسم کا دباؤ نہیں یہ ذہن سے نکال دیں کہ امریکا یا کسی اور ملک کا پاکستان پر دباؤ ہے، پاکستان نہ کسی کا دباؤ لیتا ہے نہ لے گا، پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی 4 دہائیوں تک میزبانی کی تاہم گزشتہ 2 سال میں افغان سرزمین سے دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ ہوا،گزشتہ 2 سال میں سرحد پار دہشت گردی کی وجہ سے 2 ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوئے،پاکستان سے وزیر دفاع کی سربراہی میں اعلیٰ سطح پر وفد افغان حکومت سے ملاقات کے لئے گیا جس میں آئی ایس آئی کے سربراہ بھی موجود تھے جب کہ اس سے قبل بھی رسمی اور غیر رسمی طریقے سے مختلف وفود بھی افغانستان جا چکے ہیں، اگر اس کے باوجود وہاں سے مثبت اشارے یا اقدامات نہ آئیں تو پاکستان بھی اپنے رویے پر نظر ثانی کرے گا،ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی دونوں ممالک کے حق میں ہے،