Baaghi TV

Tag: انوار الحق کاکڑ

  • مغرب کو احساس ہو گیا، جس گھوڑے پر داؤ لگایا وہ پاکستان سے ہار گیا،انوار الحق کاکڑ

    مغرب کو احساس ہو گیا، جس گھوڑے پر داؤ لگایا وہ پاکستان سے ہار گیا،انوار الحق کاکڑ

    پاکستان کے سابق نگراں وزیراعظم اور موجودہ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ مغرب اب یہ حقیقت سمجھ چکا ہے کہ جس گھوڑے پر انہوں نے سرمایہ لگایا تھا، وہ پاکستان سے ہار گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نجی نیوز چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کاکڑ کا کہنا تھا کہ مغرب کو گمان تھا کہ پاکستان جواب نہیں دے گا، لیکن اب دنیا میں پاکستان کا تاثر مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ پاکستان کو علاقائی سطح پر نئے اتحاد کی ضرورت ہے تاکہ جغرافیائی اور تزویراتی خطرات سے نمٹا جا سکے۔انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ آج کا سومنات بھارتی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا ہیڈکوارٹر ہے اور پاکستان نے اس پر محمود غزنوی جیسے حملے کرکے مودی حکومت کی بدمعاشی کو روکا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ چین، بنگلہ دیش اور پورا جنوبی ایشیا بھارت کی شدت پسندی سے خطرے میں ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اب تکبر اور مایوسی کے بیچ جھول رہا ہے، اور یہ سچ ہے کہ انڈیا پاکستان کو ہینڈل کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے پاک فوج کی حالیہ کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر فیلڈ مارشل سے بڑا کوئی عہدہ ہوتا تو وہ پاکستان کے سپہ سالار کو دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے سامنے دہشت گردوں کے حقوق کی کوئی حیثیت نہیں، سول سوسائٹی چاہے دہشت گردوں سے عشق کرتی رہے۔

    بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے حوالے سے سینیٹر نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اب معاشرے میں بلوچ دہشت گردی پر کوئی کنفیوژن نہیں رہا۔ اگر گورننس یا کرپشن ہی مسئلہ ہوتا تو تمام بلوچ بندوق نہ اٹھاتے، صرف مخصوص گروہ ہی اس راستے پر کیوں؟ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت بی ایل اے اور ٹی ٹی پی میں مزید سرمایہ کاری کرے گا لیکن پاکستان کی سیکیورٹی فورسز جلد اس اندرونی خطرے پر قابو پالیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت گزشتہ پانچ دہائیوں سے تکبر کے خمار میں مبتلا رہا، مگر پاکستان کے دوٹوک جواب اور حکمت عملی نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ ان کے مطابق انڈیا اب مایوسی اور تباہی کی راہ پر گامزن ہے۔سینیٹر کاکڑ نے سمندر پار پاکستانیوں سے دو قومی نظریے پر ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اس پر فالس فلیگ آپریشن کی بنیاد رکھی اور جنگ بھڑکانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مذہبی شناخت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اس کے دفاع کے لیے آخری حد تک جائے گا۔

    واضح رہے کہ سینیٹر کاکڑ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاک-بھارت تعلقات میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے اور خطے میں بین الاقوامی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔

    آئی ایم ایف کا پاکستان کے معاشی ایجنڈے پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی

    پی ایس ایل 10: لاہور قلندرز کی شاندار فتح، کراچی کنگز ٹورنامنٹ سے باہر

    کراچی کے لیے بجلی 5 روپے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ 1,900 روپے سستا

    عازمین حج کے لیے اردو سمیت 8 زبانوں میں صحت آگاہی کٹ متعارف

  • پاکستان کی ترقی روز اول سے بھارت سے برداشت نہیں ہو رہی، انوار الحق کاکڑ

    پاکستان کی ترقی روز اول سے بھارت سے برداشت نہیں ہو رہی، انوار الحق کاکڑ

    سابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہےکہ پاک بھارت حالات کشیدہ چل رہے ہیں، پاکستان نے کبھی بھارت سے پہلے دراندازی نہیں کی ،پاکستانی اپنے فوج کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں، ایسی بےہودگی جس کا الزام پاکستان پر لگ رہا ہے ہم مسترد کرتے ہیں

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےسابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ کے متعلق کیسی باتیں کر رہے ہیں، کیا بتاتے ہیں کہ ہم نے دو ہتھیار بنا لیے تو دنیا کو دکھائیں، آپ اس سب سے منہ چھپاتے پھریں گے، بھارت کی جانب سے جو الزام لگایا جا رہا ہے جلد حقیقت سامنے آ جائے گی پاکستان نے کبھی بھارت سے پہلے دراندازی نہیں کی کشمیر کو بھار ت کا حصہ ہی نہیں سمجھتا۔

    انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ 70 سالا تاریخ میں کبھی ثبوت نہیں ملے کہ پاکستان نے دہشتگردی کی ہو ، ہمیشہ سے ہی دہشتگردی بھارت نے ہی کی جس کے ثبوت موجود ہیں، ہمیشہ ہندوستان دہشتگردی کر کے کھلم کھلا کریڈٹ لیتا ہ

    بھارتی جھوٹے بیانیے کو بدترین شکست کا سامنا،انڈین میڈیا کا اعترافے، بلوچستان میں دہشتگردی میں بھار ت ملوث ہے ایسی بےہودگی جس کا الزام پاکستان پر لگ رہا ہے ہم مسترد کرتے ہیں۔

    انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کی پوزیشن کشمیر پر پرنسپل پوزیشن ہے، کشمیر کو پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، یہ مسئلہ شروع سے کلیئر ہے، یہ ایک disputed ٹیرٹری ہےمیں اور پاکستان کی پوری قوم کلئیر ہے کہ یہ ہم پر الزام ہے، بھارت کے ارادے نیک نہیں ہیں، بنگلادیش میں بھارت کو شدید ناکامی ہوئی ہےہمارے دو صوبوں میں دہشتگردی کے جو حالات تھے اس سے لگتا ہے انڈیا نے کچھ سوچا ہو ، یہ ا ن کا خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں ہے کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہے۔

    گوجرہ:فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی، مکمل شٹر ڈاؤن، احتجاج اورریلیاں

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو دولخت کرنے میں کھلم کھلا کردار ادا کیا گیا، میرے صوبہ بلوچستان میں بھی شواہد موجود ہیں، ان کی تخریب کاری کے شواہد موجود ہیں، ان کے وزیر اعظم کہتے ہیں بلوچستان سے اور گلگت سے لوگ مجھے آوازیں دے رہے ہیں، پاکستان کی ترقی روز اول سے ان سے برداشت نہیں ہو رہی پاکستان کی ریاست دوسروں کے معاملات میں بولنے کی عادت نہیں رکھتی ، ہمسائے کے طور پر ہم خوش ہیں کہ کوئی ترقی کرتا ہے۔

    پہلگام واقعہ کی شفاف تحقیقات کیلئے پاکستان تعاون کرے گا ،محسن نقوی

    انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا کہے کہ کینیڈا اور امریکہ کا الزام غلط ہے کہ انڈیا نے مداخلت کی، دنیا کہے کہ کینیڈا اتھارٹی نے جھوٹ بولا،امریکی اتھارٹی نے جھوٹ بولا کل فلور آف دی ہاؤس پر سب نے دیکھا سب یک زبان تھےبھارتی میڈیا پراپگنڈا کرتا ہے ، پہلگام کا واقع کتنے فاصلے پر ہوا ،آپ مسلمانوں کو ہندوستانی بنانے چلے ہیں، اگر کہیں تخریب کاری ہوئی ہے تو خود پر غور کریں، آپ اپنے رونے پر غور کریں ،پوری دنیا میں یہ منفی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں ،اتنے منفی کردار سے یہ ایکسپوز ہو جائیں گے ،ہندوتوا براہمن فلاسفی سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے ،پوری دنیا کے معاشروں پر ان کی حقیقت عیاں ہوگی۔

    بھارتی آبی جارحیت ، بغیر اطلاع دریائے جہلم میں اچانک پانی چھوڑ دیا

  • پاکستان میں ایکس کی سروس بحال ہے، انوار الحق کاکڑ کا  دعویٰ

    پاکستان میں ایکس کی سروس بحال ہے، انوار الحق کاکڑ کا دعویٰ

    اسلام آباد: نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس( سابق ٹوئٹر) کی سروس بحال ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) یا کسی دوسرے سرکاری اہلکار کی جانب سے دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے ایک پر غیر واضح پابندی کے حوالے سے کوئی واضح تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

    تاہم اب ”اردو نیوز“ کو دئیے گئے ایک انٹرویو کے دوران نگراں وزیراعظم نے سوال پر کہ پاکستان میں ایکس یا ٹوئٹر کی سروسز کیوں بند ہیں اور کب تک بحال ہوں گی؟ کہا کہ میرے خیال میں ایکس (ٹوئٹر) بحال ہے اور اگر اس میں کوئی ٹیکنیکل ایشوز ہیں تو امید ہے کہ جونہی نئی حکومت آئے گی تو وہ اس کو ایڈریس کرے گی اور حل کر لے گی۔‘

    واضح رہے کہ عوام میں بھی کچھ لوگ ایکس کے استعمال کیلے وی پی این کا سہارا لے رہے ہیں، تاہم، اب کچھ رپورٹ میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وی پی این پر بھی پابندی عائد کیے جانے کا امکان ہے،گزشتہ ہفتے، سندھ ہائی کورٹ نے PTA کو ملک بھر میں ایکس کی سروسز مکمل طور پر بحال کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم عدالتی حکم کے باوجود پاکستان میں ایکس بلاک ہے۔

  • نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ 17 اکتوبر کو 2 روزہ دورے پر چین جائیں گے

    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ 17 اکتوبر کو 2 روزہ دورے پر چین جائیں گے

    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ 17 اکتوبر کو 2 روزہ دورے پر چین جائیں گے جبکہ چینی صدر نے نگراں وزیراعظم کو دورے کی دعوت دی تھی اور اب دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کے مطابق دورہ چین کے دوران وزیر اعظم بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے کیلئے جائیں گے ، وزیر اعظم 18 اکتوبر کو ایک کھلی عالمی معیشت میں رابطے کے عنوان سے منعقد ہونے والے اعلیٰ سطح کے فورم سے خطاب کریں گے۔

    جبکہ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ صدر شی جن پنگ اور سینئر چینی رہنماؤں کے علاوہ فورم میں شرکت کرنے والے رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے اور ترجمان دفتر خارجہ نے جمعرات کو پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ وزیراعظم چین میں دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کے لیے سرکردہ چینی تاجروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان نے استثنیٰ کی بنیاد پر عدالت سے مقدمہ اخراج کی استدعا کردی
    زہر پینے کی اجازت مانگنے والے شہری کی درخواست خارج
    ویویک اوبرائے کے ساتھ کروڑوں کا فراڈ
    بھارت کی دوسری وکٹ بھی گرگئی
    انڈونیشین طیارہ پاکستان اور پی آئی اے طیارے وہاں، مزاکرات مکمل
    انڈونیشین طیارہ پاکستان اور پی آئی اے طیارے وہاں، مزاکرات مکمل
    ورلڈ کپ کا کانٹے دار مقابلہ، مودی کے لئے سب سے بڑا سبق
    دوسری جانب نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا تھا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات سدا بہار ہیں، پاکستان اور چین کے تعلقات میں کبھی اتار چڑھاؤ نہیں آیا اور انہوں نے کہا تھا کہ پاک چین تعلقات کی خوبصورت تاریخ ہے، بیلٹ اور روڈ منصوبہ خوشحالی کا راستہ ہے جبکہ مرتضیٰ سولنگی نے مزید کہا کہ نگراں وزیراعظم جلد چین کا دورہ کریں گے، جس میں سی پیک کے نئے باب کا آغاز ہوگا۔

  • انتخابات:پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی,نگراں وزیرِ اعظم

    انتخابات:پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی,نگراں وزیرِ اعظم

    پاکستان کے نگراں وزیرِ اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی ممکنہ گرفتاری اور جیل بھیجنے کے بارے میں حکومت نے وزارت قانون سے رائے طلب کی ہے۔

    اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد پاکستان واپسی سے قبل لندن میں قیام کے دوران برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اُردو کو دیے گئے انٹرویو میں انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ چاہتےہیں نوازشریف کی واپسی پرقانون اپناراستہ اختیار کر ے، وطن واپسی پرممکنہ گرفتاری یا جیل بھیجنے کے معاملے پر وزارت قانون سے رائے مانگی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی, موجودہ صورتحال میں لگ رہا ہے کہ عمران خان کا مقابلہ فوج سے نہیں بلکہ ریاست سے ہے۔

    بی بی سی اردو سے گفتگو میں نگران وزیراعظم نے نوازشریف کی پاکستان واپسی اوراڈیالہ جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی کو درپیش قانونی مشکلات پربات کی,نگران وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے نوازشریف کی پاکستان واپسی سے متعلق وزارت قانون سے رائے لی ہے کہ جب وہ واپس آئیں گے تو قانون کے مطابق نگراں حکومت کا انتظامی رویہ کیا ہوناچاہیے۔ انہوں نےبتایا کہ اس ضمن میں ایک اجلاس بھی طلب کیا جائے گا۔

    آئندہ عام انتخابات جیتنےکیلیے مودی حکومت کا

    ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے عمران خان کی سزا کے بارے میں جو اشارتاً بات کی اس کا مقصد تھا کہ عدالتی نظام میں جتنے بھی مواقع ہیں اگرانہیں استعمال کرنے کے بعد بھی قوانین کے تحت عمران خان کو الیکشن سے روکا گیا، تو یہ ہمارے مینڈیٹ سے باہر ہو گا کہ ہم کوئی ریلیف دے سکیں۔ قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا اگرعدالتوں سے ریلیف نہ ملاتو پھر بدقسمتی سے عمران خان کو ان نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے معاملے کے دو پہلو ہیں، ایک سیاسی ہے تاہم اس بحث میں جائے بغیر مروجہ قوانین کے تحت دیکھا جائے تو فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔ ایک سزا یافتہ شخص کو عدالتوں نے اجازت دی تھی، ایگزکٹیو نے نہیں دی تھی وازشریف کے خلاف جو فیصلہ آیا تھا وہ فردِ واحد کیخلاف فیصلہ تھا جس پرکچھ نے شادیانے بجائے لیکن اسی سیاسی شخص کی جماعت نے اگلے انتخابات میں 90 کے قریب نشستیں بھی حاصل کی تھیں-

    ورلڈ کپ 2023: قومی ٹیم کی سپورٹ کے بیان پر

    پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی

    انتخابات میں غیرجانبداری یقینی بنانے سے متعلق سوال پرانوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی ہاں اُن لوگوں کے ساتھ قانون کے مطابق ضرور نمٹا جائے گا جو منفی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے اور وہ مخصوص افراد ہیں جو پچیس کروڑ کی آبادی میں پندرہ سو، دو ہزار بنتے ہوں گے، اُنہیں پی ٹی آئی سے جوڑنا منصفانہ تجزیہ نہیں ہو گا تحریک انصاف کیخلاف کارروائی کا جنرل ضیاء کے زمانے میں پیپلز پارٹی کیخلاف یاجنرل مشرف کے زمانے میں مسلم لیگ کیخلاف ہونے والی کارروائی سے موازنہ کرنا ’بیہودہ تجزیہ اورغلط بات‘ ہو گی۔

    کرپشن نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا,نگران وزیرداخلہ

    بحران روکنا نگراں حکومت کا مسئلہ نہیں

    نگراں وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگرکوئی سیاسی رہنما انتخابات میں حصہ نہیں لے پاتا تو اس سے بحران پیدا ہو یا نہ ہو، یہ نگراں حکومت کا مسئلہ نہیں کیونکہ ہمارا مقصد بحران روکنا یا پیدا کرنا نہیں، قانون کے تحت ہمارا کردار الیکشن کروانا ہے۔الیکشن کے نتیجے میں بحران پیدا ہونا پورے معاشرے اور ریاست کا معاملہ ہے، نگراں حکومت کا نہیں-

    عام انتخابات کی 90 روزہ آئینی مدت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بنیادی طور پرالیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، جہاں آئین میں 90 دن کی مدت ہے وہیں 254 آرٹیکل میں یہ بھی درج ہے کہ کوئی چیز وقت کے اندرنہیں ہوتی تو وہ محض تاخیر کے باعث غیرآئینی اور غیرقانونی نہیں ہوجاتی-

    نگران حکومت نے چین اور سعودی عرب سےمد

  • نگران وزیراعظم کا دورہ گلگت،یادگار شہداء پر حاضری

    نگران وزیراعظم کا دورہ گلگت،یادگار شہداء پر حاضری

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ گلگت میں یادگار شہدا پر حاضری دی ،فاتحہ خوانی کی اور پھول چڑھائے۔

    وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ گلگت آمد پر نگران وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔نگران وفاقی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی اورنگران وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مرتضیٰ سولنگی، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ بھی اس موقع پر موجود تھے ۔چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے نگران وزیراعظم کو مختلف امور پر بریفنگ دی ۔ نگران وزیراعظم نے سکول کے طلبا و طالبات سے بھی ملاقات کی اور انہوں نے طلبہ کے بنائے گئے مختلف ماڈلز کا معائنہ کیا۔انہوں نے طلبہ کی پینٹنگز، تعلیمی،سائنسی و توانائی سے متعلق ماڈلز میں گہری دلچسپی کا اظہارکیا اوربچوں کےماڈلز اورطلبا و طالبات کی صلاحیتوں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے اساتذہ کی خدمات کوسراہا ۔

    انہوں نے ایک طالبہ کے سائنسی ماڈل کو سراہتے ہوئے اسے تعریفی سند دینے کی ہدایت کی ۔نگران وزیراعظم نے طلبہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے متعلق سوالات کئے۔ نگران وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے بچوں میں سائنس کے میدان میں آگے بڑھنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا دو روزہ دورہ گلگت بلتستان،نگران وزیراعظم سے گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کی ملاقات ہوئی ہے،سید مہدی شاہ نے وزیر اعظم سے گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی میں خصوصی دلچسپی لینے پر اظہارِ تشکر کیا،گورنر گلگت بلتستان نے وزیر اعظم کو امن و امان کی صورتحال پر آگاہ کیا

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے وزیر اعلی گلگت بلتستان گلبر خان کی ملاقات ہوئی ہے،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے گلگت میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق آگاہ کیا.وزیراعلیٰ نئ عوامی فلاحی منصوبوں،صحت و تعلیم کے شعبوں کی ترقی کیلئے اقدامات پر بھی بریفنگ دی،وزیراعلیٰ نے نگران وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں سیاحت کی ترقی کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا.وزیراعلیٰ نے نگران وزیراعظم کو گلگت بلتستان کی روایتی پوشاک بھی پیش کی

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    انوار الحق کاکڑ پاکستان کے آٹھویں نگران وزیراعظم بن گئے 

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کابینہ مختصر رکھیں گے

  • ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے،نگران وزیراعظم

    ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے،نگران وزیراعظم

    اسلام آباد: نگران وزیراعظم انوارالحق کا کہنا ہے کہ پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے، ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی : بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے 75ویں یوم وفات پراپنے پیغام میں نگراں وزیراعظم بے کہا کہ ہم قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرتےہیں،ان کی قیادت کےبغیرآزادریاست کاخواب پورانہ ہوتا، آئین قائداعظم کے 14نکات کی نمائندگی کرتا ہے-

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک مشکل دورسےگزررہاہے اور ہمیں قائد کے اصولوں پرعمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے آئیں عہد کی تجدید کریں کہ ہم اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

    پرویزالٰہی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی

    نگران وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم کی زندگی اصول پسندی، آئینی جدوجہد، ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں کا عملی نمونہ تھی، قائد کے پاکستان میں کسی کو لسانی، طبقاتی، مذہبی اور عددی بنیادوں پر فوقیت حاصل نہیں۔

    قائد اعظم کے درجات کی بلندی کی دُعا کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑنے مزید کہا کہ سب کومل کرپاکستان کی ترقی کیلئےمحنت کرنی ہوگی-

    امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے

  • کاروباری افراد ویزا آسانی سے حاصل کرسکیں گے،نگران وزیراعظم

    کاروباری افراد ویزا آسانی سے حاصل کرسکیں گے،نگران وزیراعظم

    اسلام آباد:نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ آج ایپکس کمیٹی میں اہم فیصلے لئے گئے ہیں، ایس آئی ایف سی کے پلیٹ فارم پر نئی ویزہ پالیسی پر غور کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے اوپن پاکستان کے حوالے سے نئی ویزا رجیم کا فیصلہ کیا ہے کاروباری افراد یا سرمایہ کار بیرون ملک سے بین الاقوامی کاروباری اداروں کی دستاویز پر پاکستان کا ویزا آسانی سے حاصل کرسکیں گے۔

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی اپیکس کمیٹی کے پانچویں اجلاس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کےپلیٹ فارم سےآج اوپن پاکستان کےحوالےسے نئی ویزا رجیم کے متعلق انتہائی اہم فیصلے لیے گئے ہیں جس کے تحت کاروباری افراد اور کاروبار سے منسلک بیرون ملک مقیم لوگ اگر پاکستان آنا چاہیں تو ان ممالک یا بین الاقوامی کاروباری اداروں کی جانب سے جاری ایک دستاویز پر ان کو آسانی سے پاکستان کے تمام مشنز ویزا کا اجرا کریں گے۔

    محمد بن سلمان نے انڈیا-سعودی اکنامک کوریڈور کا اعلان کردیا

    وزیراعظم نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے تمام چیمبرز اور کاروباری افراد پاکستان سے باہر کسی فرد کو ایسی دستاویز جاری کریں گےاس کی بنیاد پراس فرد کو ویزا کے اجراء میں آسانیاں ہوں گی افراد کے ساتھ ساتھ درمیانے اور بڑے کاروباری اداروں سے منسلک افراد کو بھی یہ آسان ویزا رجیم کی سہولیات میسر ہوں گی پاکستان کاروبار اور معیشت کے ایک نئے دور میں داخل ہونے جارہا ہے۔

    دنیا بھر کے سمندروں کو لاحق غیرمعمولی خطرات پرماہرین کا کھلا خط