Baaghi TV

Tag: انور مقصود

  • ملک کا حال برا ہو تو میرا حال بھی برا ہو جاتا ہے، انور مقصود

    ملک کا حال برا ہو تو میرا حال بھی برا ہو جاتا ہے، انور مقصود

    پاکستانی معروف ڈرامہ نگار، ٹیلی وژن میزبان و مزاح نگار انور مقصود نے کہا ہے کہ،ملک کا حال برا ہو تو میرا حال بھی برا ہو جاتا ہے، ملکی حالات اور لوگوں پر 68 سال سے لکھ رہا ہوں۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ میرا نیا ڈرامہ ’ہاؤس اریسٹ‘ سیاسی نہیں، مزاحیہ ہے، یہ مہاجر خواتین کے درد کے بارے میں ہے جنہیں بیٹے نے گھر میں قید کر رکھا ہے، اسکرپٹ میں 109 ترامیم ہوئی ہیں،الحمرا میں ڈرامے کی اجازت نہیں ملی کیونکہ اس میں ناچ کے بجائے پرانے گانے شامل ہیں، اسلام آباد میں دو شو ہوئے تو چھاپہ پڑ گیا، کسی سیاسی پارٹی کا رکن نہیں ہوں، صرف پاکستان کے ساتھ ہوں، ملک کا حال برا ہو تو میرا حال بھی برا ہو جاتا ہے، ملکی حالات اور لوگوں پر 68 سال سے لکھ رہا ہوں۔

    ڈرامے کے ڈائریکٹر داور محمود کا کہنا تھا کہ ’ہاؤس اریسٹ‘ ڈرامہ 3 اگست تک فیروز پور روڈ پر ایک آڈیٹوریم میں پیش کیا جائے گا،ڈرامے کی پروڈیوسر وجیہہ نے اس موقع پر کہا کہ کراچی اور اسلام آباد میں بہت پیار ملا ہے۔

    دنیا بھر میں بھارتی شہریوں کی جیلوں میں قید ہونے کی تعداد میں اضافہ

    ملک میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی پیشگوئی

    چین، 24 گھنٹوں کے دوران سال بھر کی اوسط بارش ریکارڈ، سڑکیں اور گھر زیر آب،19 ہزار افراد کا انخلا

  • میرے پاس ہتھیار نہیں قلم کی طاقت ہے،انور مقصود

    میرے پاس ہتھیار نہیں قلم کی طاقت ہے،انور مقصود

    اسلام آباد:معروف مزاح نگار اور دانشور انور مقصود نے کہا کہ میرے پاس ہتھیار نہیں قلم کی طاقت ہے، مشکل حالات میں معلوم ہوتا ہے کہ فوج کیوں ضروری ہے، ہمیں اس راہ پر چلنا چاہیے جہاں ہماری حکومت اور فوج چاہتی ہے۔

    آرٹس کونسل کراچی میں کابینہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ آج پچیس کروڑ لوگ سپاہی بن گئے ہیں، میرے پاس ہتھیار نہیں قلم کی طاقت ہے، میں اپنے پرچم کی اس طرح عزت کرتا ہوں جس طرح ہندوستان کرتا ہے ملک آبادی اور رقبے سے پہچانے نہیں جاتے، میرے لیے پاکستان اتنا ہی بڑا ہے جتنا ایک بھارتی باشندے کے لیے بھارت ہے۔

    اگر امن کی ہماری خواہش کو کمزوری سمجھا گیا، تو ہم ہر سطح پر جواب دیں گے،شازیہ مری

    انہوں نے کہاکہ جنگ شروع کرنا آسان ہے مگر ختم کرنا مشکل ہے ، ہم نے پانچ جہاز گرائے اس کی خوشی کم ہے مگر معصوم بچوں کی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے، بھارت کا میڈیا کبھی نہیں بدل سکتا مودی ووٹوں سے جیتے ہیں مگر شاید اس حادثے کے بعد ان کو عقل آجائے کہ میں مسلمانوں کے ساتھ ٹھیک نہیں کررہا، زمانہ بدل گیا جنگ کوئی نہیں چاہتا، ہم سب چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کریں، ہمیں اس راہ پر چلنا چاہیے جہاں ہماری حکومت اور فوج چاہتی ہے۔

    بھارت کو اب تھیٹر اور سینیما سے نکل کر اصل کی طرف لوٹنا ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    معروف شاعر افتخار عارف نے وڈیو لنک پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انسانی جانیں جہاں بھی ضائع ہوتی ہیں ہم اس کے خلاف ہیں، پہلگام میں جو بھی ہوا اس کی مذمت کرتے ہیں، ہم شروع دن سے کہہ رہے ہیں کہ پہلگام واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں، ابھی واقع ختم بھی نہیں ہوتا بھارت پاکستان پر الزام لگا دیتا ہے، ہم اپنی خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔

    کشیدگی میں کمی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، خواجہ آصف

  • ادیب، مصنف ، ڈرامہ نگار اور میزبان انور مقصود

    ادیب، مصنف ، ڈرامہ نگار اور میزبان انور مقصود

    اردو کے ممتاز ادیب، مصنف ، ڈرامہ نگار اور میزبان انور مقصود 7ستمبر 1935 میں حیدر آباد دکن ہندستان کے ایک ادبی خاندان میں پیدا ہوئے۔

    باغی ٹی وی : انہوں نے ابتدائی تعلیم حیدر آباد میں حاصل کی ۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی پاکستان منتقل ہو گئے ۔ انور مقصود کی دو بہنیں ثریا بجیا اور زہرہ نگاہ مشہور ادبی شخصیات ہیں ۔ ان کی اہلیہ عمرانہ مقصود ایک ناول نگار ہیں جبکہ انہوں نے اپنے شوہر انور مقصود کے بارے میں ایک کتاب ” الجھے سلجھے انور” لکھ کر شائع کی ہے ۔ انور کے بھائی احمد مقصود سندھ کے چیف سیکرٹری رہ چکے ہیں انور کے بیٹے بلال مقصود گلوکار اور موسیقار ہیں ۔ انور نے معین اختر اور بشریٰ انصاری کے ساتھ کافی عرصے تک کام کیا۔ انور مقصود کے تحریر کردہ مشہور ڈراموں میں ، ففٹی ففٹی ، آنگن ٹیڑھا، شو ٹائم، ہاف پلیٹ ، اور نادان نادیہ وغیرہ شامل ہیں ۔ انور مقصود کو حکومت پاکستان کی جانب سے ملک دو بڑے ایوارڈز سے نوازا گیا ہے ۔

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • شیخ رشید ،ریما اور شہباز شریف، میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید فلم انڈسٹری بچ جائے:انورمقصود

    شیخ رشید ،ریما اور شہباز شریف، میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید فلم انڈسٹری بچ جائے:انورمقصود

    لاہور: معروف فنکار اور ڈراما نگار انور مقصود کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت عوام کی مدد نہیں کر رہی تو فلم کو کیا کرے گی۔اب تو بس ایک ہی حل ہےکہ اگرشیخ رشید ،ریما اور شہباز شریف، میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید حکومت فلم انڈسٹری کونئی زندگی مل سکے ورنہ حالات کچھ بہتر نظرنہیں آرہے

    انور مقصود کا پلے ”ساڑھے 14 اگست “یوم آزادی کے موقع پر پیش کیا جائیگا

    نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انورمقصود نے فلم انڈسٹری کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں فلم انڈسٹری کو حکومت کی حمایت حاصل ہوتی ہے ہمارے یہاں نہیں ہے۔انورمقصود نے کہا کہ ہمارے یہاں عوام کو نہیں ہے تو فلموں کو کیا کریں گے، وزیر کے لئے ضروری ہونا چاہیے کہ وہ کسی نہ کسی ہیروین کے ساتھ فلموں میں کام کریں۔ اگر شیخ رشید ، ریما اور شہباز شریف اور میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید پاکستانی فلم انڈسٹری کے حالات بہتر ہو جائیں۔

     

     

    لقمان ولا میں انور مقصود کی آنر میں تقریب کا اہتمام

    پاکستان کی موجودہ صورت حال پر خوبصؤرت تبصرہ کرتے ہوئے کراچی کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ بعض شہراجڑنے کے لئے بنائے جاتے ہیں کراچی ان میں سے ایک ہے۔ لوگ کراچی سے نکل کر لاہور اور اسلام آباد جا رہے ہیں، کچھ دن بعد لوگ لاہور اور اسلام آباد سے بھی نکل کر کہیں اور جائیں گے ۔

    انور مقصود کو معافی مانگنی پڑ گئی لیکن کیوں؟

    انورمقصود شہروں میں ویرانیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ک ڈیفنس کی خراب صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ ڈیفنس کی حالت تو 1947 سے بہت اچھی ہے لیکن ہاں ڈیفنس سوسائٹی کی حالت خراب ہے۔ وہ خیابان بخاری میں رہتے ہیں جہاں ہفتوں تک ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ تک پانی ان کے گھر کے باہر کھڑا رہا۔

    عمران خان کے نو حلقوں سے بیک وقت انتخابات لڑنے کے حوالے سے انور مقصود نے کہا کہ وہ کرکٹ کے کھلاڑی ہیں گیارہ سے بیک وقت لڑسکتے ہیں۔ مگر غلطی سے عمران خان ہاکی کے اسٹیڈیم میں آگئے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اتنے لوگوں کو کبھی نکلتے ہوئے نہیں دیکھا، ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ جو عمران کی طرف جا رہے ہیں وہ کسی اور کے خلاف اس کے طرف جا رہے ہیں۔

  • انور مقصود کو معافی مانگنی پڑ گئی لیکن کیوں؟

    انور مقصود کو معافی مانگنی پڑ گئی لیکن کیوں؟

    معروف لکھاری، دانشور اور طنز و مزاح نگار انور مقصود سے ہیں ان کے پرستار کچھ ناراض. پرستاروں کی ناراضگی کو جائز جانتے ہوئے انور مقصود نے مانگ لی ہے ان سے معافی. رپورٹس کے مطابق انور مقصود نے اپنے سیاسی مزاحیہ تھیٹر ڈرامہ ساڑھے 14 اگست میں آئٹم سانگ شامل کیا جس پر شائقین بےحد ناراض ہوئے .انہوں نے اعتراف کیا کہ تھیٹر ڈرامہ ساڑھے 14 اگست پاک و ہند کی تاریخ ، تہذیب اور ثقافت پر مبنی ہے، چونکہ جدید تقاضوں سے بھی اس ڈرامے کو ہم آہنگ کرنا تھا اسلئے آج کی تہذیب و ثقافت دکھانا بھی ضروری تھا اس لئے آئٹم سانگ شامل کر لیا لیکن میں ان سب سے معافی مانگتا ہوں کہ جن کو یہ تجربہ اچھا نہیں لگا. انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ساڑھے 14 اگست کے لئے یہ

    آخری ڈرامہ ہے اسکے بعد اب میں اس سیریز کا کوئی بھی ڈرامہ نہیں لکھوں گا.اب کوئی نئی کوشش کروں گا. یاد رہے کہ انور مقصود آج کل کے ڈراموں کے حوالے کہتے ہیں کہ آج کا ڈرامہ جس طرح کا بن رہا ہے اسے اگر لوگ پسند کررہے ہیں تو اچھی بات ہے لیکن میں کم از کم ایسے ڈرامے نہیں لکھ سکتا نہ ہی کسی کی ڈکٹیشن پر چل سکتا ہوں اس لئے میں نے خود بخود ہی کنارہ کشی اختیار کر لی ہے.

  • انور مقصود کا پلے ”ساڑھے 14 اگست “یوم آزادی کے موقع پر پیش کیا جائیگا

    انور مقصود کا پلے ”ساڑھے 14 اگست “یوم آزادی کے موقع پر پیش کیا جائیگا

    انور مقصود جو کہ تھیٹر ہو یا ٹی وی بامقصد کھیل پیش کرنے پر یقین رکھتے ہیں رواں برس فروری کے مہینہ میں‌انہوں نے اعلان کیا تھا کہ چوداں اگست کے موقع پر ساڑھے 14 اگست پیش کیا جائیگا. یہ کھیل کراچی آرٹس کونسل میں پیش کیا جائیگا اور کراچی آرٹس کونسل نے اس کی تصدیق بھی کردی ہے. اس کھیل کا ٹیزر بھی جاری کر دیا گیا ہے.ٹیزر میں ایک فوٹوگرافر کو مہاتما گاندھی اور قائد اعظم محمد علی جناح کی ایک ساتھ تصویر لینے کی کوشش کرتے دکھایا گیا ہے۔انور مقصود کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ 2011 میں ہم نے پونے چودہ اگست کیا، لوگوں نے کہا کہ چودہ اگست کیوں نہیں، میں نے کہا کہ جس دن چودہ اگست ہوگی تب اعلان کر دیں

    گے۔ 3 سال بعد سوا چودہ اگست لکھا یہ اسی سلسلے کی آخری کڑی ”ساڑھے چودہ اگست “ہے۔تھیٹر پلے کی کہانی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ اس کھیل میں ایک شخص نے قائداعظم اور گاندھی پر مقدمہ دائر کیا ہے کہ تقسیم کے بجائے اگر یہ ایک ہی ریاست رہتی تو کتنا اچھا ہوتا. یاد رہے کہ انور مقصود کے آج کے ڈرامے سے نالاں ہیں ان کا کہنا ہےکہ جو کچھ لکھا جا رہا ہے میں وہ نہیں لکھ سکتا لیکن میں یہ بھی نہیں‌کہتا کہ آج لکھنے والے اچھا نہیں‌لکھ رہے لیکن اگر ان کا لکھا ہوا لوگ پسند کررہے ہیں تو پھر ٹھیک ہے.

  • بلال مقصود وزیراعظم بننے کے بعد پہلا کام کیا کریں گے

    بلال مقصود وزیراعظم بننے کے بعد پہلا کام کیا کریں گے

    انور مقصود اور معروف گلوکار و کمپوزر بلال مقصود سے حال ہی میں ایک انٹرویو ہوا ہے اس میں ان سے سوال پوچھا گیا کہ فرض کریں آپ وزیراعظم بن گئے ہیں تو سب سے پہلا کام کیا کریں گے تو بلال نے کہا کہ میں سب سے پہلا کام یہ کروں گا کہ پاکستان کا نام امریکہ رکھ دوں گا ایسا کرنے سے کافی مسئلے حل ہو جائیں گے. بلال مقصود کا یہ جواب سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہا ہے ان کے پرستار اس جواب پر طرح طرح کے تبصرے کررہے ہیں. بلال مقصود بہت کم انٹرویوز دیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی بہت

    کم کسی کے سوال کا جواب دیتے ہیں ان کے حالیہ جواب کو بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے. یا د رہے کہ بلال مقصود نے کافی عرصہ تک کوک سٹوڈیو بھی کیا ہے. ان کا معروف بینڈ سٹرنگز نے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی بہت شہرت پائی ان کے گانے بھارتی میوزک چارٹ میں نمبر ون کی پوزیشن پر کئی ہفتوں تک قائم رہے. بلال مقصود اپنے والد انور مقصود کی طرح بہت بولڈ ہیں بولتے کم ہیں لیکن جب بھی بولتے ہیں جو بھی دل میں آتا ہے کہ بغیر ڈرے کہہ ڈالتے ہیں پھر چاہے کوئی کتنا بھی ناراض ہی کیوں‌نہ ہوجائے.اس کا اندازہ ان کے حالیہ جواب سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں‌نے برملا کہا کہ میں اگر وزیراعظم بنا تو پاکستان کانام امریکہ رکھ دوں گا.

  • آج جو ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہے میں وہ نہیں لکھ سکتا امجد اسلام امجد

    آج جو ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہے میں وہ نہیں لکھ سکتا امجد اسلام امجد

    امجد اسلام امجد کہتے ہیں‌ کہ آج کل جو کچھ ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہے میں وہ نہیں لکھ سکتا اور نہ ہی اسکو فیملی ڈرامہ کہہ سکتا ہوں. اپنے حالیہ انٹرویو میں‌انہوں نے کہا کہ مجھے آج بھی لکھنے کی پیشکش ہوتی تو ہے لیکن مجھے پتہ کہ میں‌ جیسا لکھوں گا وہ ویسا دکھایا نہیں‌جائیگا جب مجھے یقین ہوجائیگا کہ جو میں‌لکھ رہا ہوں ویسا ہی دکھایا جائیگا تو یقینا لکھوں گا. ایک سوال کے جواب میں‌ انہوں نے کہا صرف پاکستان میں‌ ہی نہیں‌پوری دنیا میں‌ادب پر زوال آیا ہے لیکن یہ مستقل نہیں‌رہے گا اچھا وقت آئیگا ہمارے بعد میں آنے والے بچے اچھا لکھ رہے ہیں مجھے یقین ہے کہ اچھا ادب ہمارا منتظر ہے.امجد اسلام امجد کہتے ہیں کہ آج ڈائریکٹرز بھی اچھے ہیں اور ایکٹرز بھی لیکن پرڈیوسر اور لکھنے والوں مںٰ مسئلہ ہے ان کو ٹھیک ہونا پڑے گا. اور جو ڈرامہ اس وقت بن رہا ہے کم از کم میرا ضمیر اسکو اپنی فیملی کے

    ساتھ بیٹھ کر دیکھنے کی اجازت نہیں دے گا .اس وقت ڈراموں میں‌پاکستان کی جو تصویر دکھائی جا رہی ہے وہ ٹھیک نہیں ہے یہ جواز بالکل غلط ہے کہ سوسائٹی میں‌جو کچھ ہو رہا ہے ہم وہی دکھا رہے ہیں.امجد اسلام امجد نے چونکہ لقمان ولا کی تقریب میں‌شریک تھے اور انورمقصود کے لئے خاص کر آئے تھے انہوں‌ نے ان کے حوالے سے کہا کہ ٹی وی کی ہسٹری میں بہت سارے لکھنے والے رہے ہیں سب نے اچھا کام کیا لیکن جتنا اچھا کام انور مقصود نے کیا ہے اس پہ ہمیں فخر ہے اور جتنا لمبا عرصہ انہوں‌ نے کام کیا ہے اس اعتبار سے دیکھا جائے تو نسلوں کو باشعور بنانے میں انور مقصود کی تحریروں کا بہت بڑا حصہ ہے.

  • لقمان ولا میں انور مقصود کی آنر میں تقریب کا اہتمام

    لقمان ولا میں انور مقصود کی آنر میں تقریب کا اہتمام

    آج شام لقمان ولا میں انور مقصود کی آنر میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تقریب مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سرکردہ افراد نے بھرپورشرکت کی۔ شوبز سے جڑی جو شخصیات وہاں موجود تھیں ان میں اداکار سلمان شاہد ، اداکار فیصل رحمان، امجد اسلام امجد و دیگر کے نام قابل زکر ہیں۔ انکے علاوہ وہاں حاجی اقبال اور عبدرئوف خصوصی طور پرتشریف فرما تھے. تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس اس تقریب میں انور مقصود نے وہاں موجود مہمانوں سے اپنے روایتی مگر ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کی. انور مقصود باتوں ہی باتوں میں‌چٹکلے بھی سناتے رہے اور وہاں موجود لوگ ان کی پیار بھری اور سوال اٹھانے والی گفتگو سے محظوظ ہوتے رہے. انور مقصود نے اداکار سلمان شاہد کو اپنے برابر کھڑا کرکے سوال پوچھا کہ بلدیاتی الیکشن ہونے والے ہیں آپ کس کے خیمے میں‌ نظر آئیں گے تو سلمان شاہد بولے پچھلی بار خیموں میں گیا تھا نتیجہ اچھا اخذ نہیں ہوا تھا.اسی طرح سے انور مقصود نے آج اپنے آنر میں‌ہونے والی تقریب میں کہا ہے کہ وہ چھیاسٹھ برس سے کام کررہے ہیں اور

    اس دوران مجھے چار بڑے ایوارڈز ملے پہلا ایوارڈ پرائیڈ آف پرفارمنس،بے نظیر کے دور میں، دوسرا ایوارڈ ستارہ امتیاز بے نظیر کی دور میں، تیسرا ایوارڈ ہلال امتیاز زرداری کے دور میں، چوتھا ایوارڈ ملا قائداعظم گولڈ میڈل زرداری کے دور میں. انہوں‌نے کہا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کے ماضی کے بارے میں تو بات کی جا سکتی ہے لیکن حال کے بارے میں کچھ نہیں‌ کیا جا سکتا.آرٹسٹ بہت سچے لوگ ہوتے ہیں وہ جس کو بھی چاہتے ہیں دل سے چاہتے ہیں یہ جو بھی کام کرتے ہیں ایمانداری سے کرتے ہیں. کس بات کے رد عمل میں بولے بائیس کروڑ کی آبادی میں اکیس کروڑ بے ایمان ہیں اس لئے مجبورا کسی نہ کسی کو تو ووٹ دینا ہی پڑتاہے.