Baaghi TV

Tag: انٹارکٹیکا

  • انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے راز سامنے آ گئے

    انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے راز سامنے آ گئے

    سائنسدان یہ جاننے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ انٹارکٹیکا کی سرزمین میں برف کی موٹی تہوں کے نیچے کون سے حیران کن راز پوشیدہ ہیں۔

    ماہرین نے برف سے ڈھکے اس براعظم سے متعلق ایسی غیر معمولی تفصیلات پیش کی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی انٹارکٹیکا میں جمی ہوئی کئی کلومیٹر موٹی برف اب تک سائنس دانوں کے لیے اس کی اصل زمینی ساخت کو جاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی تاہم جدید نقشہ سازی کی انتہائی اعلیٰ تکنیک کے استعمال سے یہ مشکل بڑی حد تک حل کر لی گئی ہے۔

    تحقیق میں سیٹلائٹ ڈیٹا، جدید ریڈار سسٹمز اور انٹارکٹیکا میں گلیشیئرز کے سرکنے کی طبیعیات کو استعمال کیا گیا ہے تحقیق کے نتائج کے مطابق انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے ہزاروں بلند و بالا چوٹیاں، وسیع و عریض وادیاں اور گہری، تنگ گھاٹیاں دفن ہیں انکشاف ہونے والی یہ جغرافیائی ساخت بڑے پہاڑی سلسلوں، پیچیدہ زمینی نشیب و فراز اور وسیع وادیوں پر مشتمل ہے جو اس خطے سے متعلق اب تک کی سب سے حیران کن اور جامع دریافت سمجھی جا رہی ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق یہ معلومات نہ صرف انٹارکٹیکا کی جغرافیائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی بلکہ مستقبل میں برفانی چادروں کے پگھلاؤ اور عالمی سطح سمندر میں ممکنہ اضافے کی پیشگوئی کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوں گی۔

  • اسٹرابیری کی شکل کی عجیب وغریب سمندری مخلوق دریافت

    اسٹرابیری کی شکل کی عجیب وغریب سمندری مخلوق دریافت

    امریکا اور آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے انٹارکٹیکا کے سمندر کی گہرائی میں ایک خوفناک اورعجیب وغریب سمندری مخلوق دریافت کی ہے جو اسٹرابیری کی شکل سے مشابہت رکھتی ہے-

    باغی ٹی وی : ایملی میک لافلن، نیریڈا ولسن اور گریگ راؤس نے گزشتہ ماہ جرنل Invertebrate Systematics میں نئی ​​پائی جانے والی انواع کے بارے میں اپنے نتائج شائع کیے تھے،اس مخلوق کا سائنسی نام (Promachocrinus fragarius) رلکھا گیا ہے،(Fragarius) نام لاطینی لفظ (fragum) سے ماخوذ ہے جس کا مطلب اسٹرابیری ہے جسے محققین نے انٹارکٹک اوقیانوس سے گزرتے ہوئے 2008 اور 2017 کے درمیان دریافت کیا-

    سائنسدانوں نے سوشل میڈیا پر اس عجیب وغریب دریافت کی تصاویر بھی شیئر کیں ہیں۔ جنہیں دیکھ کر کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ ایک جاندار مخلوق ہے،مجموعی طور پر، سائنس دان Promachocrinus کے نام سے سات نئی انواع کی شناخت کرنے میں کامیاب رہے، جس سے انٹارکٹک کی ایسی انواع کی تعداد ایک سے آٹھ ہو گئی،ان میں ایک نئی نسل تھی جسے انہوں نے انٹارکٹک اسٹرابیری فیدر اسٹار کا نام دیا کیونکہ "اس کی شکل (اس کے جسم) کی اسٹرابیری سے مشابہت” تھی-

    ایرانی شہزادی نے امریکی شہری سے منگنی کرلی

    تحقیق کے مطابق انٹارکٹک اسٹرابیری فیدر اسٹار سطح سے 65 سے 1170 میٹر نیچے پائی جا سکتی ہے یہ سمندری مخلوق برگنڈی یا گہرے سرخ رنگ کی ہو سکتی ہے،محققین نے مطالعہ میں نوٹ کیا ہے کہ انٹارکٹیکا سے تاریک ٹیکسا، یا نامعلوم پرجاتیوں کو دریافت کرنے اور شناخت کرنے میں معمول سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے "کیونکہ نمونے لینے میں بڑی رکاوٹیں ہیں-

    محققین نے کہا کہ یہ سمجھنا کہ کون سا ٹیکس واقعی خفیہ ہے اور صرف مالیکیولر ڈیٹا سے پہچانا جا سکتا ہے، اور وہ جو سیوڈکریپٹک ہیں اور ان کی شناخت ایک بار مالیکیولر فریم ورک میں کریکٹرز پر نظر ثانی کرنے کے بعد کی جا سکتی ہےحیاتیاتی تنوع کی نگرانی کے لیے ٹیکسا کی مضبوط شناخت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ بہت پیچیدہ ہو سکتا ہے جب ٹیکسا واقعی خفیہ ہو۔”

    پاک چین دوستی اورسی پیک کوسبوتاژ کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی،چین

    محققین نے کہا کہ پروماچوکرینس کے تحت کچھ انواع کا تعین مورفولوجی، یا جانوروں اور پودوں کی ساخت اور شکل کے سائنسی مطالعہ کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے، لیکن "کچھ پرجاتیوں میں ابہام” باقی ہے۔

  • گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا ہے، تحقیق

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا ہے، تحقیق

    سِڈنی: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ انٹارکٹیکا کے گرد موجود برف کا پگھلاؤ 2050 تک بڑے سمندروں کی کرنٹ کو سست رفتار کر دے گا۔ ایسا ہونے سے سمندری نظام اور سمندری غذا پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: جرنل نیچر میں شائع نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی سربراہی میں اور بدھ کے روز شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ سمندری کرنٹ سمندر کے پانی کی مسلسل، متوقع، خم دارحرکات ہوتی ہیں جو کششِ ثقل، ہوا اور پانی کی کثافت کےسبب چلتی ہیں۔ سمندر کا پانی عمودی اور ممدودی دو سمتوں میں حرکت کرتا ہے ممدود حرکات کو کرنٹ جبکہ عمودی تبدیلیوں کو اپ ویلنگز یا ڈاؤن ویلنگز کہا جاتا ہے ایسا ہونے سے دنیا کا موسم صدیوں تک کے لیے تبدیل ہوسکتا ہے اور سطح سمندر میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوسکتا ہے۔

    سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیس کا اخراج موجودہ مقدار پر برقرار رہا تو سمندروں کے گہرے حصوں میں چلنے والی کرنٹ 30 سالوں کے اندر 40 فی صد تک سست ہوسکتی ہے یہ بالواسطہ اثر سمندری حیات، موسمیاتی طرز کو متاثر کرے گا اور سطح سمندر میں اضافے کا سبب بنے گا۔

    محققین کے مطابق ممکنہ سنگین نتائج سے بچنے کے لیے رواں دہائی میں گرین ہاؤس گیس کےاخراج کی بڑے مقدار میں کٹوتی ضروری ہے۔ اگر یہ کمی نہ کی گئی تو بڑے پیمانے پر سمندری حیات ختم ہوسکتی ہے اور سمندروں کو گرمی جذب کرنے اور اپنے اندر رکھنے میں مشکل کا سامنا ہوگا اور برف کے پگھلنے کا عمل مزید تیز ہوجائے گا۔

    یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز میں قائم کلائمیٹ چینج ریسرچ سے تعلق رکھنے والے اور تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر میٹ انگلینڈ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال گہرے سمندر کی کرنٹ کے انہدام کی جانب لے جارہی ہے۔

    آسٹریلوی ریسرچ کونسل کے سینٹر فار ایکسی لینس ان انٹارکٹک سائنس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو انگلینڈ نے کہا کہ "ماضی میں، یہ الٹنے والی گردشیں 1,000 سال یا اس سے زیادہ کے دوران تبدیل ہوئیں، اور ہم چند دہائیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ تو یہ بہت ڈرامائی ہے-

    زیادہ تر پچھلے مطالعات میں اٹلانٹک میریڈینل اوورٹرننگ سرکولیشن (AMOC) پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جو کرنٹ کا نظام ہے جو گرم پانی کو شمالی بحر اوقیانوس میں لے جاتا ہے جبکہ ٹھنڈا، نمکین پانی پھر ڈوب کر جنوب کی طرف بہتا ہے۔

    رپورٹ کے مصنفین نے ایک بریفنگ میں کہا کہ اس کے جنوبی بحر کے مساوی کا کم مطالعہ کیا گیا ہے لیکن یہ غذائیت سے بھرپور پانی کو شمال میں انٹارکٹیکا سے لے کر، نیوزی لینڈ سے گزرتے ہوئے اور شمالی بحر الکاہل، شمالی بحر اوقیانوس اور بحر ہند میں منتقل کرتا ہے گہرے سمندر کے پانی کی گردش کو سمندر کی صحت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہےاوریہ فضا سے جذب ہونے والے کاربن کو الگ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، جب کہ AMOC کی سست روی کا مطلب ہے کہ گہرا بحر اوقیانوس سرد ہو جائے گاانٹارکٹک میں گھنے پانی کی سست گردش کا مطلب ہے کہ بحر جنوبی کے گہرے پانی گرم ہو جائیں گےاس سست روی کے بارےمیں ایک چیز یہ ہے کہ انٹارکٹیکا کے ارد گرد برف کے شیلف کی بنیاد پر سمندر میں مزید گرمی کے بارے میں رائے ہوسکتی ہے۔ اور یہ زیادہ برف پگھلنے کا باعث بنے گا، اصل تبدیلی کو تقویت دے گا-

  • 1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا سے الگ ہوگیا

    1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا سے الگ ہوگیا

    1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا کی برنٹ آئس شیلف سے الگ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برٹش انٹارکٹک سروے (بی اے ایس) نے بتایا کہ 1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ 22 جنوری کو برنٹ آئس شیلف سے ٹوٹ کر الگ ہوگیا تھا اور اب یہ امکان ہے کہ وہ بحیرہ ودل میں بہنے لگے گا۔

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت


    خیال رہے کہ لاہور کا رقبہ 1772 اسکوائر کلومیٹر ہے، یعنی یہ برفانی تودہ اس سے کچھ زیادہ چھوٹا نہیں۔


    بی اے ایس کے مطابق برفانی تودے کی علیحدگی سے قبل ایک دراڑ نمایاں ہوئی تھی جس کے بعد وہ آئس شیلف سے علیحدہ ہوا یہ واقعہ بی اے ایس کے ہیلے ریسرچ اسٹیشن کے قریب پیش آیا اور وہاں موجود عملے کے 21 افراد محفوظ رہے۔

    برطانیہ :چھوٹے طیارے میں ہائیڈروجن-الیکٹرک انجن کی کامیاب آزمائشی پرواز

    ایک دہائی قبل بی اے ایس کے ماہرین نے آئس شیلف میں بڑی دراڑوں کو دیکھا تھا اور اب جاکر یہ برفانی تودہ الگ ہوا ہے بی اے ایس کی ڈائریکٹر ڈیم جین فرانسس کے مطابق ماہرین کو پہلے ہی ایسا ہونے کی توقع تھی۔


    انہوں نے بتایا کہ برفانی تودے کی علیحدگی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ نہیں اور ایسا قدرتی طور پر ہوا دراڑ چوڑی ہونے پر 2016 میں ہیلے اسٹیشن کو 23 کلومیٹر دور منتقل کیا گیا تھا اور 2017 سے وہاں صرف نومبر سے مارچ (جب انٹار کٹیکا میں موسم گرما ہوتا ہے)کے دوران عملے کو تعینات کیا جاتا ہے۔

    گزشتہ 2 سال کے یہ دوسری بار ہے جب اس خطے میں ایک بڑا برفانی تودہ الگ ہوا ہے اس سے قبل مئی 2021 میں دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا کے رونی آئس شیلف سے الگ ہوکر سمندر میں بہنے لگا تھا اس برفانی تودے کا رقبہ 4320 اسکوائر کلومیٹر تھا، یعنی وہ لاہور سے دوگنا سے بھی زیادہ بڑا تھا-

    دنیا کے سمندروں کی سطح بلند کرنے میں گرین لینڈ کا بڑا کردار

  • انٹارکٹیکا میں  7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت

    براعظم انٹارکٹیکا میں ماہرین نےغیرمعمولی آسمانی پتھر (میٹیورائٹس) دریافت کیا ہے جس کا وزن 7.6 کلوگرام ہے-

    باغی ٹی وی : انٹارکٹیکا ایک دشوار گزار اور سخت سردی میں گھرا مقام ہے لیکن اسی نیلگوں برف میں آسمانی پتھر کی بڑی تعداد نہ صرف یہاں گرتی ہے بلکہ انہیں سفید برفیلی چادر میں باآسانی ڈھونڈ نکالا جاسکتا ہے پھر وہاں موسمیاتی شدت کم ہے اور سیاہ پتھر زیادہ ٹوٹ پھوٹ کے شکار نہیں ہوتے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    برف میں گرنے کے بعد آسمانی پتھر عموماً باہر کی جانب نمایاں دکھائی دیتے ہیں اور یوں ان کو تلاش کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اب ماہرین کی بین الاقوامی ٹیم نے ایک ساتھ پانچ شہابی پتھر اٹھائے ہیں جن میں سے ایک کا وزن تقریباً 17 پاؤنڈ ہے۔

    اگرچہ انٹارکٹیکا میں شہابیوں کو تلاش کرنا آسان ہو سکتا ہے، لیکن براعظم اس کے منجمد ٹھنڈے حالات اور دور دراز مقام کے ساتھ اس پار سفر کرنا بالکل آسان نہیں ہےاس تلاش میں شامل ٹیم نےکئی دن جنگل میں کیمپنگ کرتےہوئے پیدل اور سنو موبائل سے چلتے ہوئے گزارے۔

    شُترمُرغ کے 4000 سال قدیم انڈے دریافت

    جامعہ شکاگو کے فیلڈ میوزیئم سے وابستہ ماریہ والدیزنے دیگر ممالک کے سائنسدانوں کے ساتھ مل کر یہ شہابی پتھر دریافت کئے ہیں جن کا تجزیہ اب رائل بیلجیئن انسٹی ٹیوٹ آف نیچرل سائنسِس میں کیا جائے گا۔ تاہم ان کے چھوٹے ٹکڑے کرکے بین الاقوامی ٹیم میں تقسیم کئے جائیں گے اور ہر ایک ٹیم مختلف پہلو سے اس کا مطالعہ کرے گی۔

    الینوائے کے فیلڈ میوزیم سے تعلق رکھنے والی کاسموکیمسٹ ماریا ویلڈیس کہتی ہیں، "جب شہابیہ کی بات آتی ہے تو اس کے سائز سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور یہاں تک کہ چھوٹے مائیکرو میٹیورائٹس بھی سائنسی اعتبار سے ناقابل یقین حد تک قیمتی ہو سکتے ہیں۔” "لیکن یقیناً، اس جیسا بڑا شہابیہ پانا نایاب ہے، اور واقعی دلچسپ ہے۔

    توقع ہے اس پر تحقیق سے مزید انکشافات سامنے آئیں گے۔

    زمین جیسا سیارہ دریافت

  • گلوبل وارمنگ بڑھتی رہی توانٹارکٹیکا کےنصف سےزیادہ جاندارناپید ہوجائیں گے

    گلوبل وارمنگ بڑھتی رہی توانٹارکٹیکا کےنصف سےزیادہ جاندارناپید ہوجائیں گے

    کیلیفورنیا: ایک نئی تحقیق میںماہرین نے بتایا ہے کہ اگر گلوبل وارمنگ اپنی موجودہ رفتار سے بڑھتی رہی تو اس صدی کے آخر تک انٹارکٹیکا کے نصف سے زیادہ مقامی جاندار ناپید ہوجائیں گے۔

    باغی ٹی وی : جرنل پی ایل او ایس بائیولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اگر دنیا نے فاسل ایندھن سے خارج ہونے والی آلودگی پر قابو نہ پایا تو انٹارکٹیکا کے مقامی پودے اور جانوروں کی اقسام (بشمول پینگوئن) اس صدی کے آخر تک ممکنہ طور پر ختم ہوجائیں گی۔

    جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین…

    تحقیق میں یہ بات واضح کی گئی کہ انٹارکٹیکا میں ماحول کے تحفظ کے لیے جاری کوششیں تیزی سے بدلتے برِ اعظم پر کارگر نہیں ہورہی ہیں محققین نے تحقیق سے نتیجہ اخذ کیا کہ کم لاگت والے مزید لائحہ عمل کا اطلاق انٹارکٹیکا کے خطرے سےدوچار حیاتیاتی تنوع کو 84 فیصد تک محفوظ کر سکتا ہے۔

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ جیسمین لی کے مطابق چونکہ انٹارکٹیکا میں بڑی تعداد میں لوگ نہیں آباد اس لیے اس خطے کا موسمیاتی تغیر میں کوئی خاص حصہ نہیں ہے لہٰذا اس برِ اعظم کو سب سے زیادہ خطرہ اس خطے کے باہر سے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں موسمیاتی تغیر پر علاقائی سطح پر کی جانے والی ماحولیات کے تحفظ کی کوششوں کے ساتھ عالمی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ انٹارکٹیکا میں جانداروں کو بقا کا بہترین موقع دیا جائے۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ انٹارکٹیکا میں ختم ہوتی برف ایمپرر اور ایڈیل نسل کی پینگوئن کو خطرے سے دوچار کردے گی جو اپریل سے دسمبر تک برف پر انحصار کرتی ہیں۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

  • دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا کونسا ہے؟

    انٹارکٹیکا !!

    مگر کیوں؟ انٹارکٹیکا میں تو برف ہی برف ہے۔ اور صحراؤں میں تو پانی نہیں ہوتا. یے ناں!! اسے سمجھنے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ صحرا دراصل کہتے کسے ہیں۔ صحرا زمین کا ایسا حصہ ہوتا ہے جہاں سارا سال بہت کم بارش ہو اور جہاں جانور، پرندے یا درخت وغیرہ باقی زمینی علاقوں کی نسبت بے حد کم ہوں۔ جہاں دراصل زندہ رہنا محال ہو۔

    انٹارکٹیکا زمین کا سب سے سرد علاقہ ہے۔ یہاں سالانہ اوسط درجہ حرارت منفی 57 ڈگری سے بھی کم رہتا ہے۔

    لہذا ایسے سرد موسم میں بارش نہیں ہوتی۔ البتہ انٹارکٹیکا چونکہ زمین کے جنوبی قطب پر واقع ہے تو یہاں دو ہی موسم ہوتے ہیں۔۔طویل سردیاں اور طویل گرمیاں۔ ایسے میں گرمیوں میں جب اسکے قریب ساحلی پٹی پر درجہ حرارت صفر سے اوپر جاتا ہے تو کبھی کبھی بارش ہو جاتی ہے ۔ ایسے ہی یہاں برف باری بھی یہاں سال بھر میں بےحد کم ہوتی ہے۔ اور رہی بات جانورں کی تو اسکے اردگرد سمندروں میں کچھ ہی جانور رہتے ہیں جن میں پینگوئین، سیل، وہیل مچھلیاں یا کچھ آبی پرندے شامل ہیں۔ پینگوئین انٹارکٹیکا پر یہاں کے قریب ساحلوں پر جمی برف پر کالونیوں کی صورت رہتی ہیں۔ یہ تعداد میں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ انٹارکٹیکا پر کام کرنے والے سائنسدان انہیں گن نہیں سکتے لہذا وہ خلا میں سٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر سے انکے کالونیوں اور تعداد کا اندازہ لگاتے ہیں۔ سفید انٹارکٹیکا پر خلا سے انکی کالونیوں کو ڈھونڈنا آسان ہے۔ وجہ؟ ان کے پاخانے کا رنگ جو سرخی مائل بادامی ہوتا ہے۔ سفید برف پر خلا سے دیکھنے پر اس رنگ کی لکیریں نظر آتی ہیں جن سے انکی کالونیاں با آسانی ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔

    اور رہی بات پودوں کی تو اتنے ٹھنڈے علاقے میں جہاں ہر طرف برف ہی برف ہو کونسا درخت یا ہودا اُگ سکتا ہے؟ البتہ کہیں کہیں پانیوں کے پاس ایلجی یا کائی موجود ہے۔ اسی طرح انٹارکٹیکا کے شمالی علاقے میں قریب بارہ قسم کے پھولدار پودے بھی پائے جاتے ہیں۔اتنی ٹھنڈ میں اور دنیا کے ایک الگ تھلگ سے کونے میں یہ پودے کہاں سے آئے؟ اسکی کہانی کچھ طویل ہے۔ مگر مختصر یہ کہ آج سے قریب 20 کروڑ سال پہلے انٹارکٹیکا ، افریقہ، انڈیا ، آسٹریلیا اور جنوبی امریکہ یہ سب ایک بڑے سے بر اعظم کا حصہ تھے جسے گونڈوانہ کہتے ہیں۔ زمین کے اندر ٹیکٹانک پلیٹس جن پر تمام بر اعظم تیر رہے ہیں ، ان پلیٹس کی آہستہ آہستہ حرکت سے یہ بر اعظم ایک دوسرے سے الگ ہوتے گئے اور ان پر موجود پودے بھی انہی کے ساتھ جاتے رہے۔ انٹارکٹیکا، گونڈوانہ سے آہستہ اہستہ جدا ہوتے، کھسکتے ہوئے آج سے تقریباً 7 کروڑ سال پہلے زمین کے شمالی قطب تک آ پہنچا۔

    یہاں سخت موسموں کے باعث بہت سے جاندار وقت کیساتھ ساتھ معدوم ہوتے گئے مگر چند ہی پودوں نے ارتقاء سے گزرتے زندہ رہنے کا فن سیکھ لیا۔ہم یہ سب کیسے جانتے ہیں؟

    کیونکہ ہمیں انٹارکٹیکا پر اور دنیا کی دوسرے بر اعظموں پر پرانے دور کے ایک جیسے جانداروں کے فوسلز ملے ہیں جو اس کہانی کو مکمل کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ زمین کی ٹیکٹانک پلیٹس کی ہونے والی حرکت کی رفتار اور سمت کو جان کر سائنسدان کمپوٹر ماڈلز کے تحت یہ بتا سکتے ہیں کہ ماضی میں یہ تمام برِ اعظم کیسے آپس میں جڑے ہوئے تھے۔۔ ویسے تمام برا اعظم اب بی آہستہ اہستہ اہنی موجود جگہیں بدل رہے ہیں اور آج سے 25 کروڑ سال بعد یہ تمام برا اعظم ایک بار پھر سے ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے۔

    انٹارکٹیکا سائنسدانوں کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے۔ یہاں سارا سال، دنیا بھر کے سائنسدان مشکل حالات اور سخت سردی میں رہتے ہوئے سائنسی تجربات اور دریافتیں کرتے رہتے ہیں۔ ناسا بھی انٹارکٹیکا کے موسم اور یہاں ہونے والی تبدیلیوں کو خلا سے مانیٹر کرتا رہتا ہے ۔۔جسکا مقصد دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر جاننا ہے۔

    انٹارکٹیکا میں برف اگر تیزی سے پگلنا شروع ہو جائے تو پوری دنیا کے سمندروں میں پانی کی سطح کئی فٹ بلند ہو جائے گی جس سے دنیا کے تمام ساءلی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ ناسا یہاں خلا میں انسانوں کی خوراک کی ضروریات کے حوالے سے بھی تجربات کرتا ہے۔ دراصل خلا میں بھی سورج کی روشنی خلابازوں کے جسم پر نہیں پڑتی اور ہم جانتے ہیں کہ سورج کی روشنی سے وٹامن بنتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے انٹارکٹیکا پر رہنے والے سائنسدان جو طویل عرصہ سورج کی روشنی حاصل نہیں کر پاتے ، اُن پر جسمانی اور نفسیاتی اثرات کو جانا جاتا ہے۔

    مگر سب سے اہم یہ کہ ناسا یہاں کئی ایسے روبوٹس کو بھی ٹیسٹ کرتا ہے جو مریخ پر بھیجے جانے ہوں۔ وجہ یہ کہ انٹارکٹیکا اور مریخ دونوں سرد ہیں اور دونوں صحرا کی طرح خشک ہیں۔

    ایک اور اہم بات، زمین پر گرنے والے شہابیوں کے ٹکڑے انٹارکٹیکا میں بھی گرتے ہیں اور یہاں سائنسدان انکو سفید برف میں آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہاں کے موسم کے باعث قدرے اچھی حالت میں محوفظ رہتے ہیں۔ اس طرح ہم ان شہابیوں کا تجزیہ کر کے نظام شمسی اور زمین کے ماضی کے بارے میں بی بہتر جان سکتے ہیں۔

  • انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    برسلز: ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد شہابیے یا آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں جتنے شہابیے ہیں ان کی 66 فیصد تعداد انٹارکٹیکا سے ہی اٹھائی گئی ہے سفید برف میں دبے گہرے رنگ کے پتھر آسانی سے شناخت کئے جاسکتے ہیں اب مصنوعی ذہانت سے پتا چلا ہے کہ شہابی پتھر کہیں بھی گریں ان پر مزید برف پڑتی رہتی ہے اور وہ خود برف کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن اس پر وہ رکتے نہیں اور کھسک کر براعظم کے کناروں تک پہنچتے رہتے ہیں اور وہاں جمع ہوجاتے ہیں اب انہیں تلاش کرنا قدرے آسان ہوگا-

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    اس مقام کو ’نیلی برف‘ کہا گیا ہے کیونکہ ہوا کے دوش پر برف ہلکی ہوتی ہے اور اس میں نیلی رنگت نمایاں ہوتی ہے اس سے پہلے بھی نیلی برف سے ہی شہابی پتھرملتے رہے ہیں۔

    جامعہ برسلز میں گلیشیئر کی ماہر ڈاکٹر ویرونیکا ٹولے نار اور ان کے ساتھیوں نے سیٹلائٹ تصاویر اور مصنوعی ذہانت سے ان مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں شہابی پتھر موجود ہوسکتے ہیں سافٹ ویئر نے 83 فیصد درستگی سے 600 ایسے مقامات کی نشاندہی کی جہاں شہابئے موجود ہوسکتے ہیں ڈرون اور دیگر ٹیکنالوجی کی مدد سے وہاں شہابیوں کی شناخت کرکے انہیں با ہرنکالا جاسکتا ہے اس پورے نقشے کو خزانے کا نقشہ کہا گیا ہے۔

    پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں،ماہرین

    شہابی پتھر ہمارے نظامِ شمسی میں گھوم رہے ہیں اور ان کے ٹکڑے زمین کے پاس سے گزرتے ہوئےثقلی قوت سے زمین کی جانب لپکتے ہیں یہ اکثر فضا سے رگڑ کھاکر بھڑک اٹھتے ہیں اور روشنی کی ایک لکیر کی شکل میں بھسم ہوجاتے ہیں لیکن بعض پتھر زمین پر آگرتے ہیں ان کے مطالعے سے نظامِ شمسی کے ماضی اور خود اس کی تشکیل کی معلومات مل سکتی ہیں۔

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی