Baaghi TV

Tag: انٹرا پارٹی

  • پی ٹی آئی کو بڑا جھٹکا،انٹرا پارٹی کیس میں چاروں درخواستیں مسترد

    پی ٹی آئی کو بڑا جھٹکا،انٹرا پارٹی کیس میں چاروں درخواستیں مسترد

    الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی کیس میں پی ٹی آئی کی چاروں متفرق درخواستیں مسترد کردیں

    الیکشن کمیشن نے دس صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا،الیکشن کمیشن کا فیصلہ ممبر سندھ نثار درانی کی جانب سے تحریر کیاگیا ہے ،انٹراپارٹی انتخابات میں الیکشن کمیشن کے دائر ہ اختیار پر پی ٹی آئی کااعتراض مستردکر دیا گیا،الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کیس میں تحریک انصاف کے التواء کی درخواست بھی مسترد کردی ،انٹرا پارٹی انتخابات کی کاروائی مخصوص نشستوں میں کمیشن کی درخواست پرفیصلے تک موخر کی استدعا بھی مسترد کر دی گئی،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو ایف آئی اے سےپارٹی آفس سے لے جائے گئےدستاویزات کی واپسی کےلیے عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی ، الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017ءکی شق 208انٹراپارٹی انتخابات کے قانونی تقاضوں کاجائزہ لینا کمیشن کی ذمہ داری ہے شق209تھری کے تحت سرٹیفیکٹ کے اجراء کے حقائق دیکھنا کمیشن کہ ذمہ داری ہے،

    اس سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کے 3 مارچ کو کروائے گئے انٹراپارٹی الیکشنز پر 7 اعتراضات عائد کیے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی الیکشن نہیں کروائے، انتظامی ڈھانچہ ختم ہوگیا ہے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی رجسٹریشن پر سوالات اٹھائے تھے۔اعتراضات میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی نے الیکشنز ایکٹ کی سیکشن 208 ایک کے تحت انٹراپارٹی الیکشنز 5 سال میں نہیں کروائے، الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کا انتظامی ڈھانچہ پانچ سال سے نہیں ہے اب بطور سیاسی جماعت کیا اسٹیٹس ہے؟ پی ٹی آئی نے سیکشن 202 پانچ کے تحت فہرست میں شامل ہونے کیلئے درکار دستاویزات نہیں دیں۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں تھیں جس پر الیکشن کمیشن نے اعتراض عائد کر دیا تھا اور پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کئے تھے، رؤف حسن نے فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا یا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • جمعیت علما اسلام نے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے لیے مزید وقت مانگ لیا

    جمعیت علما اسلام نے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے لیے مزید وقت مانگ لیا

    الیکشن کمیشن میں جے یو آئی ف کے انٹراپارٹی انتخابات نہ کروانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے سماعت کی،جمعیت علما اسلام کی جانب سے معاون وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،دوران سماعت جمعیت علما اسلام نے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے لیے مزید وقت مانگ لیا،معاون وکیل نے کہا کہ جے یو آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات پہلے صوبوں میں ہو رہے ہیں ، صوبوں میں انٹراپارٹی انتخابات کے بعد وفاقی سطح پر ہوں گے، ہم نے متعلقہ ونگ کو درخواست دی ہے کہ تھوڑا ٹائم دیا جائے۔ڈی جی پولیٹیکل فنانس نے کہا کہ جے یو آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کی مدت 7 جولائی سے مکمل ہو چکی ہے، ٹائم مکمل ہونے پر تنظیمی ڈھانچہ ختم ہو جاتا ہے۔ممبر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایک پارٹی کا پہلے بھی تنظیمی ڈھانچہ مکمل ہو چکا ہے، جے یو آئی کا تنظیمی ڈھانچہ ختم ہو چکا ہے۔ممبر سندھ حکومت نے ہدایت کی کہ اگلی سماعت پر آ کے دلائل دیں بعد ازاں الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کردی۔

    رپورٹ. محمد اویس، اسلام آباد

  • انٹرا پارٹی الیکشن،پی ٹی آئی کو دستاویزت جمع کروانے کی مہلت مل گئی

    انٹرا پارٹی الیکشن،پی ٹی آئی کو دستاویزت جمع کروانے کی مہلت مل گئی

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت ہوئی

    ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے سماعت کی،ممبر کے پی نےکہا کہ پی ٹی آئی اب ایک ادارہ نہیں ہے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں وہ کونسی اتھارٹی ہے جس نے پارٹی الیکشن کروائے۔ بیرسٹر گوہر نے الیکشن کمیشن سے دستاویزات جمع کروانے کے لیے مہلت مانگ لی ،بیرسٹر گوہر نے کہاکہ سینٹرل سیکرٹیریٹ سے پولیس تمام دستاویزات حتی کہ واٹر ڈسپنسر بھی اٹھا کر لے گئی ہے۔الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو دستاویزات جمع کروانے کے لیے مہلت دے دی ،کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی، تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا

    سماعت کے بعد بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے حالیہ انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کا کوئی اعتراض نہیں آیا، انٹرا پارٹی الیکشنز کے حوالے سے صرف چند تکنیکی اور قانونی سوالات ہیں جن کا جواب ہم دیں گے۔

    تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں ،فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا گیا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو،تصاویر بھی خاتون کے پاس موجود ہیں،دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر سے فون پر چیٹ،تصاویر کا تبادلہ،پھر اس نے ملنے کا کہا،ملزمہ کا بیان

    خواتین آدھے کپڑے پہن کر مردوں‌کو ہراساں کررہی ہیں خلیل الرحمان قمر

    سونیا کی جرائت کیسے ہوئی وہ کہے کہ اس نے میرے پاس تم ہو رد کیا خلیل الرحمان قمر

    اچھی بیوی کون ہوتی ہے خلیل الرحمان قمر نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر نے پہلا لو لیٹر کس کو اور کس عمر میں لکھا

  • پی ٹی آئی کو ایک اور دھچکا، دوبارہ کروائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض عائد

    پی ٹی آئی کو ایک اور دھچکا، دوبارہ کروائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض عائد

    تحریک انصاف کے لئے ایک اور دھچکا، دوبارہ کروائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات پر بھی الیکشن کمیشن نے اعتراضات عائد کر دیئے ہیں

    الیکشن کمیشن نے اس ضمن میں تحریک انصاف کو نوٹس جاری کیا ہے ، الیکشن کمیشن پولیٹیکل فنانس ونگ نے تحریک انصاف کو 30 اپریل کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، تحریک انصاف نے 4 مارچ کو الیکشن کمیشن میں انٹراپارٹی الیکشنز کی تفصیلات جمع کروائی تھیں۔

    تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں ،فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا گیا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • بحیثیت چیئرمین پی ٹی آئی میرا انتخاب ہو چکا،عاطف حلیم کا خط

    بحیثیت چیئرمین پی ٹی آئی میرا انتخاب ہو چکا،عاطف حلیم کا خط

    پی ٹی آئی چیئرمین شپ کے امیدوار عاطف حلیم نے چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی کو خط لکھا ہے

    عاطف حلیم کا کہنا تھا کہ بحیثیت چیئرمین پی ٹی آئی میرا انتخاب ہو چکا ہے، الیکشن رولز کے مطابق میری تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، جنرل باڈی قرارداد اور الیکشن شیڈول کے مطابق میرے علاوہ کسی نے چیئرمین شپ کیلئے کاغذات جمع نہیں کرائے، میں نے کاغذات کے ساتھ پچاس ہزار روپے بھی جمع کرائے، کسی اور امیدوار کی جانب سے کاغذات جمع نہ کرانے پر میں بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہو گیا ہوں،عاطف حلیم نے رؤف حسن کو خط میں کہا ہے کہ دو فروری کو آپ نے کہا تھا امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرائیں انتخابات بعد میں ہونگے، دو فروری کو بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابات ملتوی کرنے کا بتایا جس کا سوشل میڈیا سے پتہ چلا، ملک بھر سے بلا مقابلہ منتخب ہونیوالوں کی فہرست فراہم کی جائے،

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات کیلئے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کا وقت ختم ہو گیا،انٹراپارٹی انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا وقت 25 فروری سہ پہر تین بجے تک تھا ،بانی چیئرمین کے نامزدکردہ امیدوار برائے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے انٹراپارٹی انتخابات کیلئے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ،مرکزی تنظیم کیلئے بانی چیئرمین کے نامزدکردہ امیدوار برائے مرکزی سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان کی قیادت میں 15 رکنی پینل کے کاغذاتِ نامزدگی بھی جمع ہو گئے،سندھ سے اشرف قریشی، بلوچستان سے محمد اسلم اور خیبرپختونخوا سے نوید انجم نے بھی چیئرمین کے عہدے کیلئے کاغذاتِ نامزدگی داخل کروا دیے ،پنجاب سے بانی چیئرمین کے نامزد کردہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے علاوہ محمد خان مدنی اور اسد حنیف نے بھی پنجاب کی صوبائی تنظیم کیلئے پینلز کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیے ،سندھ کی تنظیم کیلئے بانی چیئرمین کے نامزد کردہ حلیم عادل شیخ اور خاوند بخش غلام محمد کی قیادت میں دو پینلز کے کاغذاتِ نامزدگی موصول ہو گئے،بلوچستان سے بانی چیئرمین کے نامزد کردہ ڈاکٹر مینر بلوچ کے علاوہ 5 دیگر افراد نے اپنے پینلز کے ہمراہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیے ،بلوچستان کی تنظیم کیلئے اپنے پینلز کے ہمراہ کاغذاتِ نامزدگی داخل کروانے والوں میں سید جعفر آغا، نوابزادہ امین اللہ جوگیزئی، داؤد شاہ، سید عبدالصادق اور بابر مرغزانی شامل ہیں،خیبرپختونخوا سے بانی چیئرمین کے نامزد کردہ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں خیبرپختونخوا کی تنظیم کیلئے پینل کے کاغذاتِ نامزدگی بھی موصول ہو گئے،

    پاکستان تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹراپارٹی انتخابات میں شرکت کے خواہاں امیدواروں سے کاغذاتِ نامزدگی کی وصولی کیلئے مرکز اور صوبوں میں الگ الگ ریٹرننگ افسران مقرر کئے گئے ،ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات طے شدہ شیڈیول کے مطابق 3 مارچ کو منعقد کئے جائیں گے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

  • پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا شیڈو ل ایک بار پھر جاری

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا شیڈو ل ایک بار پھر جاری

    تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے انٹراپارٹی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا گیا

    پاکستان تحریک انصاف کے تمام رجسٹرد ممبران اپنی مرضی کے پینل یا چیئرمین کے امیدوار کے حق میں پاکستان بھر میں مختص مقامات پر ووٹ ڈال سکتے ہیں،پارٹی ممبران اپنا ووٹ ‘رابطہ ایپلیکیشن انٹرا پارٹی الیکشن ماڈیول’کے ذریعے بھی ریکارڈ کرا سکتے ہیں،31 جنوری 2024 تک رجسٹر ہونے والے تمام ممبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہو گی،انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ لینے والے تمام پینلز کی تفصیل تحریک انصاف کی آفیشل ویب سائٹ اور رابطہ ایپلیکیشن پر دستیاب ہو گی،الیکشن کے تفصیلی طریقہ کار کی وضاحت الیکشن رولز، 2020 میں موجود ہے جو ویب سائٹ اور رابطہ ایپ پر دستیاب ہے، پولنگ کا وقت 5 فروری بروز پیر صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک ہو گا ،الیکشن کے مقامات اور اپیلٹ ٹرائبینونل کی تاریخ کا اعلان یکم فروری 2024 کو کیا جائے گا ،کاغذات نامزدگی 1 سے 2 فروری 2024 تک تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ یا ویب سائٹ سے حاصل کیے جاسکیں گے،کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 2 فروری 2024 کی رات 10 بجے تک ہوگی، امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی مرکزی اور صوبائی سیکرٹریٹس اور ڈیجیٹلی بذریعہ ای میل بھی جمع کرا سکیں گے.انٹرا پارٹی الیکشن کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی کا عمل 3 فروری 2024 کو ہو گا،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی صورت میں اعتراضات جمع کروانے کا وقت 3 فروری 2024 رات 10 بجے تک ہوگا،انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ لینے والے تمام فائنل پینلز کی فہرستیں 4 فروری کی شام 4 بجے ویبسائٹ پر شائع کی جائیں گی،انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا باضابطہ اعلان 6 فروری 2024 بروز منگل کیا جائے گا

    تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن ,صوبائی سطح پر الیکشن کمشنر مقرر
    پاکستان تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ,تحریک انصاف نے صوبائی سطح پر الیکشن کمشنر مقرر کر دیئے ,قاضی محمد انور کو خیبر پختون خواہ، ولید اقبال پنجاب، نورالحق قریشی سندھ، سید اقبال بلوچستان جبکہ شاہ ناصر کو گلگت بلتستان کا الیکشن کمشنر مقرر کردیا گیا,
    چیف آرگنائزر تحریک انصاف عمر ایوب کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • الیکشن پراسس سے باہر کیا گیا تو یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہوگی،چیئرمین تحریک انصاف

    الیکشن پراسس سے باہر کیا گیا تو یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہوگی،چیئرمین تحریک انصاف

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہمارے انٹرا پارٹی الیکشن ایک سال سے الیکشن کمیشن میں زیر التوا پڑے رہے، الیکشن کمیشن کی طرف سے اس کا پہلا نوٹس دسمبر 2022 کو آیا، جس طرح 175 سیاسی جماعتوں کا سرٹیفکیٹ دیا ہمارا بھی دیں،

    بیرسٹر علی گوہر کا کہنا تھا کہ کل رات ورچوئل جلسہ کیا، 4 ملین لوگوں نے فیس بک اور ٹوئٹر پر دیکھا ہے، ہمارا جلسہ 9 بجے شروع ہوا، 2 بجے میری آخری تقریر تھی، الیکشن کمیشن سے استدعا ہے آپ کا فرض صاف و شفاف الیکشن کرانا ہے،الیکشن کمیشن کی آئنی ذمہ داری ہے کہ وہ صاف و شفاف انتخابات کروائے،اگر اس طرح پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کو الیکشن پراسس سے باہر کیا گیا تو یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہوگی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہر صورت 22 تاریخ سے قبل ہمارا سرٹیفکیٹ ایشو کیا جائے،22 تاریخ کاغذات نامزدگی فائل کرنے کی آخری تاریخ ہے، ہمارے امیدوار لکھتے ہیں کہ میں پی ٹی آئی کا ممبر ہوں اور آپ نہیں مانیں گے تو بہت بڑا رسک ہوگا، جمہوریت کیلئے خطرہ ہے، عمران خان کل بھی چئیرمین تھے، آج بھی چیئرمین ہیں اور انشاءاللہ کل بھی چیئرمین ہی رہیں گے۔ ہماری یہ دعا ہے کہ خان صاحب جلد سے جلد رہا ہوں اور ہم سب کے سامنے ہوں۔

    الیکشن کمیشن میں انٹرا پارٹی کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن کے 40 سوالوں کے بھی جواب دیں گے، الیکشن کمیشن نے جو رولز بنائے اسکے تحت الیکشن ہوئے، سب کو پتا تھا کس نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور کس دن الیکشن تھا، الیکشن کمیشن سے استدعا کی 14 لوگوں کی درخواستیں مسترد کی جائیں، درخواست گزاروں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ کس پوسٹ کیلئے الیکشن لڑنا چاہتے تھے، ان 14 لوگوں میں سے ایک نے بھی نہ تو الیکشن فارم کیلئے درخواست دی نہ ہی الیکشن لڑنے کیلئے درخواست دی، پی ٹی آئی کا الیکشن پینل بیسڈ ہوتا ہے، ہر پینل کیلئے 15 ممبر چاہئیں،ان 14 افراد میں سے کسی نے نہیں کہا کہ ہم 15 ممبر لے کر آئے تھے، جو درخواستیں الیکشن کمیشن میں دی گئیں ان میں کوئی ذکر نہیں کہ یہ کس پوسٹ کیلئے الیکشن لڑنا چاہتے تھے

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا فیصلہ محفوظ کرلیا

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا فیصلہ محفوظ کرلیا

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا معاملہ ، انٹرا پارٹی کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں ہوئی

    الیکشن کمیشن کےپانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیئے،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کمرہ عدالت پہنچ گئے،پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جون دوہزار بائیس کے انتخابات کو آپکی طرف سے کالعدم قرار دیا گیا تھا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جو الیکشن کمیشن نے آرڈر کیا تھا وہ معاملہ زیر بحث نہیں ہے،علی ظفر نے کہا کہ دو ہزار انیس کے آئین کے مطابق چیئرمین اور دوسری باڈی کے انتخابات متعلق قانونی طور پر آگاہ کیا تھا،چیئرمین پانچ سال اور پینل کی مدت تین سال ہوتی ہے،جب بلامقابلہ ہو تو انتخابات کی ضرورت نہیں ہوتی ہے،ہمارے الیکشن ہی بلامقابلہ تھے ریٹرننگ افسر جیتنے متعلق اعلان کرسکتا ہے،الیکشن ایکٹ 2017 اور پاکستان تحریک انصاف کے آئین میں انٹرا پارٹی الیکشنز کو پروسیجر نہیں بتایا گیا، اگر کوئی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کرتی ہے تو اس میں کوئی ممانعت نہیں ،پارٹی آئین کے مطابق صرف سیکیرٹ بیلٹ پیپرز کا زکر ہے، الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کو بطور الیکشن ٹریبونلز ریگلویٹ نہیں کرتا، کسی بھی سیاسی جماعت کے آئین میں انٹرا پارٹی انتخابات کے رولز اور قوانین موجود ہیں نہیں ،تاہم اپیلز متعلق طریقہ کار ضرور دیا گیا ہے،الیکشن ایکٹ میں انٹرا پارٹی انتخابات اور پارٹی رجسٹریشن متعلق ہے،الیکشن ایکٹ میں بتایا گیا ہے کون پارٹی ممبر ہوگا اور کون نہیںکل بحث ہورہی تھی ستر فیصد ووٹرز ہیں،صرف ممبرز ہی ووٹ دینے کے اہل ہونگے،جب کوئی کہے گا میں ووٹ دینا چاہ رہا ہوں تو آپ ان سے ممبرشپ مانگیں گے،الیکڑول کالج ممبرز سے ہی بنتا ہے،الیکشن کمیشن کا اپنا بائیس فروری 2023 کا فیصلہ ہے جو ممبر نہیں وہ انٹراپارٹی میں ووٹ نہیں دے سکتا،جو ممبر فیس نہیں دے گا وہ ممبر نہیں کہلائے گا،کوئی بھی پارٹی کسی بھی وقت کسی ممبر کو نکال سکتی ہے،اگر کسی ممبر کو پارٹی میں رہنے کا بہت شوق ہو تو وہ سول کورٹ جائے گا،آپ نے 20 روز دیئے ہمارے قوانین کہتے ہیں چھ ہفتے چاہیے،

    ممبر کمیشن نے کہا کہ نئے چیئرمین کے آنے تک چیئرمین کون تھا، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ گزشتہ چیئرمین ہی چیئرمین تھا یہ قانون ہے، صدر مملکت بھی اپنا وقت پورا کرچکے ہیں لیکن وہ تاحال صدر ہیں، الیکشن ایکٹ چار ڈاکومنٹ فراہم کرنے کی بات کرتا ہے، ممبر کمیشن نے کہا کہ قانون کہتا ہے کہ آپ سرٹیفیکیٹ لائیں اور ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا،لیکن وہ سرٹیفیکیٹ کوئی چیک تو کرے گا کہ ٹھیک ہے یا نہیں،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ آپ سرٹیفیکیٹ کی اصلیت دیکھ سکتے ہیں لیکن آپ الگ بات کررہے ہیں، ممبر کمیشن نے کہا کہ جرمانے کی بات وقت کی حد تک ہے،

    وکیل پی ٹی آئی علی ظفر نے کہا کہ انتخابی نشان نہ دینے کے سنگین نتائج ہیں سیاسی جماعت کے رجسٹریشن پر سوال ہے،ممبر کے پی نے کہا کہ جب ہم مطمئن ہونگے تب ہی سرٹیفکیٹ جارہی کرسکتے ہیں،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات کی تاریخ 28 نومبر کو میڈیا میں دی گئی،کہا گیا ہم ڈر رہے تھے اور چھپا کرانتخابات کروا رہے تھے،میں نے خود پریس کانفرنس کی اور بتایا انتخابات اسی ہفتے کو کرانے جارہے ہیں،انتخابات کا شیڈول ہم نے ہر دفتر کے باہر چسپاں کیا،ممبر کے پی نے کہا کہ پورے پاکستان کے انتخابات صرف پشاور میں ہوئے،علی ظفر نے کہا کہ ہر جماعت کا یہی ہوتا ہے یہ عام انتخابات نہیں،انٹرا پارٹی ہیں جو ایک جگہ ہوتے ہیں،ممبر سندھ نے کہا کہ پہلی بات جو ممبر نہیں وہ لڑ نہیں سکتے،دوسرا آپ نے کہا بلامقابلہ ہوئے تیسرا آپ نے کہا آئین میں کرانے کا طریقہ کار نہیں ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق میڈیا رپورٹس جمع کرا دیئے ، بیرسٹر علی ظفر نے مختلف میڈیا چینلز پر نشر کیے گئے خبروں کے حوالے دیئے اور کہا کہ ہم نے شیڈیول مختلف دفاتر کے باہر چسپاں کردیئے، ہم نے الیکشن کمیشن کو سیکورٹی کیلئے خط بھی لکھا ، آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری سے بھی بات ہوئی،کاغذات نامزدگی سے متعلق بھی خبریں رپورٹ ہوئیں، ممبر کمیشن نے کہا کہ آپ کے پاس کاغذات نامزدگی کا کوئی نمونہ ہے،آپ کے پاس کاغذات نامزدگی سے متعلق نوٹس کی کوئی کاپی ہے؟آپ ہماری تسلی کیلئے کوئی کاپی دکھائیں، چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان نے کہا کہ جی بالکل ہے لیکن یہاں پر نہیں لائے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جب سکروٹنی مکمل ہوئی تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ بلا مقابلہ ہے، بلا مقابلہ کے باوجود ہم نے سب کو جمع ہونے کی اجازت دی، الیکٹوریٹ باڈی میں سے کسی نے بھی الیکشن سے متعلق شکایت نہیں کی، غیر ممبر کے علاؤہ کوئی بھی آپ کے پاس نہیں آیا، ہم واحد پارٹی ہیں جن کا سب کچھ انٹرنیٹ پر موجود ہے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اب تو جلسے بھی انٹرنیٹ پر ہورہے ہیں ،جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے 8 لاکھ 37 ہزار ووٹرز ہیں،کوئی بھی ان میں سے آپکے پاس نہیں آیا سوائے ان چند افراد کے،ان سے پوچھیں کہ اگر ممبر نہیں تو کیسے آپ الیکشن میں حصہ لیتے، ہم واحد جماعت ہیں جس کا سب ریکارڈ آئن لائن ہے رابطہ ایپ بھی ہے، چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ جو سب آئے ہیں یہ کبھی تو آپکی پارٹی کا حصہ ہونگے،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ سوائے اکبر ایس بابر کے کوئی ممبر نہیں رہا ان میں سے کسی نے فیس جمع نہیں کرائی کسی کے پاس کارڈ نہیں،

    ممبر کمیشن نے کہا کہ آپ کے فارمز کہاں سے مل رہے تھے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ فارمز پارٹی آفسز سے مل رہے تھے ، بڑے ہی خوبصورت اور پانچ رنگوں کے تھے,ممبر سندھ نثار درانی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ان کو تو اک رنگ کا بھی نہیں ملا ، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر یہ لوگ پینل لے بھی آتے پھر بھی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے تھے، اس کی وجہ ہے کہ یہ ممبر ہی نہیں ہے،دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی کیلئے درخواست ہی نہیں دی، ممبر کمیشن نے کہا کہ درخواست گزاروں نے یہاں ویڈیو بھی چلائی تھی ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اس کا تو فرانزک ہوگا اوراس کے بعد پتہ چلے گا، ہر کوئی تو نہیں کہہ سکتا کہ خلاف ورزی کی گئی ،انتخابی نشان اور الیکشن لڑنا ہمارا بنیادی حق ہے، ان درخواست گزاروں کا کوئی حق نہیں بنتا،اکبر ایس بابر نے باقی پارٹیوں کا بھی ذکر کیا صرف پی ٹی آئی کا نہیں، اب اس درخواست کا کیا کرنا ہے یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے، کچھ درخواست گزاروں نے کہا وینیو کا پتہ نہیں چلا،انتخاب بلا مقابلہ تھا اس لیے ضروری نہیں،دوسری بات یہ ہے کہ یہ لوگ ممبر ہی نہیں، کچھ درخواست گزاروں کے پاس پینل ہی نہیں ہے، ان درخواست گزاروں کی درخواستیں مسترد کی جائیں،بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے.

    اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن نے جواب الجواب میں کہا کہ کسی ممبر کا ذکر نہیں بلکہ فرد کا ذکر ہے ،آپ نے آئین میں بتانا ہے کہ پروسیجر کیا ہونا چاہیے ،اکبر ایس کی ممبرشپ سے متعلق فیصلے لگادیئے ہیں،اکبر ایس بابر پارٹی کے سابق عہدے دار رہے ہیں ،انہوں نے اکبر ایس بابر کو کب شوکاز نوٹس دیا وہ کہاں ہے ؟ممبر کمیشن نے سوال کیا کہ آپ کی استدعا کیا ہے؟وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ ہم صرف دوبارہ جلد از جلد انٹرا پارٹی انتخابات چاہتے ہیں ، اکبر ایس بابر کے وکیل نے انٹرا پارٹی انتخابات دربارہ کروانے کی استدعا کر دی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم پر پی ٹی آئی نے 3 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا، جس میں بیرسٹر گوہر بلامقابلہ چیئرمین جبکہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے، اس کے علاوہ یاسمین راشد پنجاب کی صدر اور علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے صدر منتخب ہوئےپی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے ایک روز قبل انٹرا پارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کرتے ہوئے سارے عمل کو مشکوک قرار دیا تھا۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن حتمی فیصلہ نہیں کرسکتا،چیئرمین پی ٹی آئی

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن حتمی فیصلہ نہیں کرسکتا،چیئرمین پی ٹی آئی

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان الیکشن کمیشن پہنچ گئے

    پی ٹی انٹرا پارٹی کالعدم قرار دینے کا معاملہ.چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کمیشن کے سامنے پیش ہوئے،اکبر ایس بابر سمیت دیگر درخواست گزار بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،گزشتہ سماعت میں پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کیا گیا تھا

    چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو نوٹس کی کاپی مل گئی؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی نوٹس کی کاپی مل گئی، اکبر ایس بابر نے کہا کہ پچھلی سماعت پر میرے وکیل نے دلائل دیئے تھے،ہماری استدعا ہے کہ پی ٹی آئی نے جو الیکشن کے حوالے سے کاغذات دیئے وہ ہمیں دیے جائیں،جب ہمیں پی ٹی آئی کا رپلائی مل جائے گا تو ہم اچھے دلائل دے سکتے ہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر 20 روز کے اندر الیکشن کروائے، ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے دور رکھا جائے، الیکشن قریب آرہا ہے چاہتے ہیں اس کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے بھی پانچ سال الیکشن نہیں کروائے جو ہماری نظر میں درست نہیں، علی ظفر نے کہا کہ ہم نے آپ کے حکم کے مطابق انتخابات کروائے، پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ سماعت چلتی رہے گی لیکن الیکشن کمیشن فیصلہ نہیں کرسکتا،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ آپ اس معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکتے، ممبر کمیشن نے کہا کہ ہم نے تو کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، گوہر علی خان نے کہا کہ کمیشن اس معاملے میں حتمی فیصلہ کرچکا، علی ظفر نے کہا کہ پہلے آپ درخواست گزاروں کا موقف سن لیں پھر ہم دلائل دیں گے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کل کمیشن سماعت کے لئے دستیاب نہیں،کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردیتے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ گزارش ہے کہ پرسوں پہلے وقت سپریم کورٹ میں مصروفیت ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ ڈیڑھ بجے سماعت کا وقت رکھیں،

    ڈی جی لاء الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ الیکشن ایکٹ کہتا ہے سات روز میں انٹرا پارٹی انتخابات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کرائی جائیں،الیکشن کمیشن مطمئن ہوگا تو سرٹیفکیٹ جاری کرے گا،اگر الیکشن کمیشن مطمئن ہی نہیں تو سرٹیفکیٹ کیسے جاری کرے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم پر پی ٹی آئی نے 3 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا، جس میں بیرسٹر گوہر بلامقابلہ چیئرمین جبکہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے، اس کے علاوہ یاسمین راشد پنجاب کی صدر اور علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے صدر منتخب ہوئےپی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے ایک روز قبل انٹرا پارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چلینج کرتے ہوئے سارے عمل کو مشکوک قرار دیا تھا۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • پاکستان میں قانون پر عمل نہیں ہوتا مگر خدا کا بھی قانون ہے،اکبر ایس بابر

    پاکستان میں قانون پر عمل نہیں ہوتا مگر خدا کا بھی قانون ہے،اکبر ایس بابر

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کیس کی سماعت کے بعد اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن نام نہاد تھے،

    اکبر ایس بابرکا کہنا تھا کہ آج ہم ویڈیوز ثبوت کے طور پر پیش کیں،یہ الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن تھی، پی ٹی آئی نے فراڈ الیکشن کروایا، ورکرز کو ووٹ کے حق سے محروم رکھا گیا،اس حوالے سے ہم نے ایک درخواست دی تھی،دلائل پیش کیے گئے ثبوت دکھائے گئے،بتانا یہ تھا کہ الیکشن نہیں سلیکشن تھی، یہ اتنے زیادہ ثبوت ہیں کہ کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ فراڈ تھا یہ سب،کارکنوں سے بنیادی حق چھینا گیا ہے،ہم صحیع معنوں میں جمہوریت کا حصہ بنیں گے، آج سب سے بڑا فیصلہ یہ کرنا ہے کہ تحریک انصاف کے بوگس انتخابات کی توثیق اس لیے کریں کہ باقی سیاسی پارٹیاں ایسا کرتی ہیں، تحریک انصاف نے ایک ماڈل جماعت بننا تھا،پالیسیز پارٹی کی منتخب جماعت بناتی ہے،جب تک ہماری جماعتیں جمہوریت کو خود نہیں اپنائیں گی وہ جمہوری جماعت ہونے کا دعوی نہیں کر سکتیں، تمام جماعتیں انٹرا پارٹی الیکشن کرائیں، یہ کیسی جمہوریت ہے جو لوگوں کے مسائل حل نہیں کرتی غربت کم نہیں کرتی،یہ جمہوریت کے نام پر اقتدار کا کھیل ہے، ووٹ بینک کو لوگوں کے حوالے کرنا ہےنیلسن منڈیلا کی مثال دیتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے، پاکستان میں پچھلے 7 سالوں میں حملے ہوئے ایک شخص کو سزا نہیں ملی، پاکستان میں قانون پر عمل نہیں ہوتا مگر خدا کا بھی قانون ہے،

    دوسری جانب تحریک انصاف انٹرا پارٹی انتخابات کےخلاف الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کیا گیا، شرکاء نے بینرز پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور مطالبہ کر رہے تھےکہ انٹرا پارٹی بوگس انتخابات کو نہیں مانتے، دوبارہ انتخابات کروائے جائیں.

    واضح رہے کہ آج الیکشن کمیشن میں کیس کی سماعت کے دورا اکبر ایس بابر نے پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات دوبارہ کرنے کی استدعا کر دی، الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کی استدعا مسترد کر دی،ممبر کمیشن اکرام اللہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 215 واضح ہےدربارہ الیکشن کو بھول جائیں ،یہ نہیں ہوسکتا کہ بار بار انٹرا پارٹی الیکشن کا حکم دیں، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کر دی ،کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم پر پی ٹی آئی نے 3 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا، جس میں بیرسٹر گوہر بلامقابلہ چیئرمین جبکہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے، اس کے علاوہ یاسمین راشد پنجاب کی صدر اور علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے صدر منتخب ہوئےپی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے ایک روز قبل انٹرا پارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چلینج کرتے ہوئے سارے عمل کو مشکوک قرار دیا تھا۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کا بلے کا نشان برقرار رکھتے ہوئے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے رکھا ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف 20 دن میں انٹرا پارٹی الیکشن یقینی بنائے،الیکشن کے 7 دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے، اگر پارٹی الیکشن نہ کرائے گئے تو تحریک انصاف انتخابی نشان کے لیے نااہل ہو گی.