Baaghi TV

Tag: انٹرا پارٹی انتخابات

  • پی ٹی آئی انٹر اپارٹی انتخابات،اکبر ایس بابر نے کاغذات نامزدگی حاصل کر لیے

    پی ٹی آئی انٹر اپارٹی انتخابات،اکبر ایس بابر نے کاغذات نامزدگی حاصل کر لیے

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا معاملہ،اکبر ایس بابر نے کاغزات نامزدگی حاصل کر لئے،

    اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی سینٹرل سیکرٹریٹ سے کاغزات نامزدگی موصول کئے، اکبر ایس بابر نے اپنے نمائندے کے ذریعے کاغزات نامزدگی موصول کروائے،اکبر ایس بابر انٹرا پارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کرنے کا اعلان کر چکے ہیں،

    قبل ازیں گزشتہ روز الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کی بھی درخواست دائر کی گئی،اکبر ایس بابر کے ساتھی محمود احمد حسن نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی، درخواست گزار نے پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے اتحاد یا انضمام معاہدے کی دستاویزات مانگ لیں،درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اراکین کیلئے قابل تشویش ہے، پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے اتحاد سے سیاسی صورتحال تبدیل ہوگئی ہے

    اکبر ایس بابر نے گزشتہ روز کہا تھا کہ تمام موجودہ پی ٹی آئی قیادت کالعدم ہوچکی ہے، اس لیے کسی نئی مہم جوئی کا بھرپور قانونی اور سیاسی مقابلہ کیا جائے گا۔کالعدم قیادت کی جانب سے پی ٹی آئی وسائل کا استعمال غیر قانونی ہے، اس پر پابندی عائد کی جائے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے 3 مارچ کو انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کا اعلان کر رکھا ہے،الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر 2023 کو انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے بلے کے نشان کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا، آزاد امیدوار جیتے تو انہوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کر لی

    پی ٹی آئی کی کالعدم قیادت کی طرف سے انٹرا پارٹی کے نام پر ناٹک رچانے کی کوشش کی گئی،اکبر ایس بابر

    اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن کرانے کا اعلان کردیا

    چاہتا ہوں پارٹی کو موقع ملے،حقدار لوگ جیتیں،وکیل اکبر ایس بابر

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

  • پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کب کروائے گی ،تاریخ اور شیڈول جاری

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کب کروائے گی ،تاریخ اور شیڈول جاری

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انٹرا پارٹی انتخابات کرانےکا اعلان کر دیا،پارٹی 3 مارچ کو انتخابات کرائے گی-

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی23 اور 24 فروری کو جمع کرائے جا سکتے ہیں، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے اسکروٹنی 25 فروری کو ہوگی، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات میں کاغذات نامزدگی پر فیصلے27 فروری تک ہوں گے، اس کے علاوہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے پولنگ 3 مارچ کو ہوگی، انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے پولنگ سینٹرل آفس سمیت چاروں صوبائی سیکرٹریٹ میں ہوگی۔

     

    انتخابات میں دھاندلی کا الزام:پی ٹی آئی پشاور کی انتظامی افسران کے خلاف …

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس: نامزد ملزم طیفی بٹ کی گرفتاری کیلئے …

    قومی اسمبلی میں ن لیگ کو 20، پی پی کو 13 …

  • انٹرا پارٹی انتخابات، آپ کے جواب کو سن کر جلد فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، چیف الیکشن کمشنر

    انٹرا پارٹی انتخابات، آپ کے جواب کو سن کر جلد فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، چیف الیکشن کمشنر

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی کیس میں الیکشن کمیشن کیجانب سے بھیجے گئے سوالات کا معاملہ ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان کمیشن پیش ہوئے،پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس سوالنامے میں چالیس سوال ہیں، چالیس سوال تین کیٹیگریز میں آتے ہیں، کل کی سماعت کے فوری بعد چالیس سوالات تھما دیئے گئے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جتنے بھی سوالات دیئے گئے وہ ایک پروسس کا حصہ ہے،کمیشن نے جب دیکھا تو اس لیے آپکو سننے کا فیصلہ کیا ،اس کیس کی تو کل پہلی بحث تھی،ہم نے سوالات دے کر ٹائم بچایا ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم اس اقدام کو بہت زیادہ سراہتے ہیں،الیکشن کمیشن کے رویے سے مایوسی ہوئی ہے، ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ پہلے آپ سوالات کے جواب دیں مایوس نہ ہوں ، چیف الیکشن کمشنر راجہ سلطان سکندر راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن آپ کے جواب کو سن کر جلد فیصلہ کرنا چاہتا ہے،علی ظفر نے کہا کہ مجھے کل تک 40 سوالوں کا نہیں معلوم تھا،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پہلے آپ سے ابتدائی سوالات پوچھے گئے تھے،جب آپ نے جوابات جمع کروائے تو مذید سوالات اس لئے پوچھے گئے کہ آپ کو سنا جائے،یہ ہم نے آپ کی سہولت کے لئے سماعت رکھی تاکہ آپ کو سنا جائے،

    وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے دیگر سیاسی جماعتوں کے انٹراپارٹی انتخابات دیکھے ہیں،ہمیں کہا جاسکتا ہے پارٹی کے مجاز سے دستخط کروائیں،پہلے ہم نے کروائے تو کہا گیا ہیڈ سے کروائیں اب کہا جارہا ہے مجاز سے کرائیں،اس بنیاد پر انتخابات ختم نہیں کیے جاسکتے ،پوچھا گیا فارم 65 چیئرمین نے کیوں دستخط کیا ،رول کہتا ہے کہ پارٹی ہیڈ کو دستخط کرنا ہوں گے ،مسلم لیگ ن کے شہباز شریف جبکہ اے این پی کے اسفندیار ولی خان نے دستخط کیے، ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کیوں ہورہا ہے،ہمیں بتا دیں کہ مجاز شخص نے دستخط کرنے ہیں یا پارٹی ہیڈ نے کرنے ہیں، یہ ایسا معاملہ نہیں کہ آپ انتخابی نشان روک دیں گے،آپ نے انتخابات کروانے کا کہا ہم نے کروائے ، آپ نے کالعدم کیے اور پھر کروانے کا کہا ، آپ نے بیس روز میں انتخابات کروانے کا کہا ، ہم نے کروائے ،اب آپ خود سے پوچھ رہے ہیں کیوں کروائے، ہم نے کل سب دستاویزات دیکھائی کہ ہم نے میڈیا کے ذریعے آگاہ کیا ،آٹھ لاکھ و ووٹرز میں سے کوئی پینل دوسرا سامنے نہیں آیا، ہم نے انتخابات لڑنے سے کسی کو نہیں روکا، الیکشن کمیشن نے ہمیں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا، ہم الیکشن کرا چکے ہیں، سوالنامے میں سوال نمبر ایک کی کوئی مطابقت نہیں، دوسرے سوال میں الیکشن سے قبل شیڈول اور ووٹر لسٹیں مشتہر نہ کرنے کا سوال پوچھا گیا،ہم نے کسی کو انٹرا پارٹی الیکشن لڑنے سے نہیں روکا، الیکشن کمیشن اس کیس میں براہ راست متاثرہ فریق نہیں،تیسرے سوال میں پوچھا گیا نیشنل کونسل کیوں نہ بنائی اور وفاقی الیکشن کمشنر کیوں مقرر نہیں کیا، یہ ایسا ہی سوال ہے کہ پہلے مرغی آئی یا انڈہ، جب تک الیکشن نہ ہو جائیں نیشنل کونسل کا قیام ممکن نہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایک سوال پوچھا کہ پارٹی آئین کیوں نہیں لگایا؟ پہلے اعتراض کے بعد پارٹی آئین جمع کرایا جاچکا ہے،یہ دراصل ڈانٹ ڈپٹ ہے کہ پہلے کیوں نہیں جمع کرایا،الیکشن کمیشن نے پوچھا پارٹی آئین کے رولز فراہم نہیں کئے گئے؟ رولز فراہمی کا سیکشن 209 کے تحت پارٹی سرٹفیکیٹ سے متعلق نہیں ہے، رولز اس لئے فراہم نہیں کہ قانون میں اس کی فراہمی کا زکر نہیں ہے،قانون کے مطابق صرف پارٹی آئین جمع کرانے کےپابند ہیں، اگر الیکشن کمیشن کہتا کہ رولز فراہم کریں تو فراہم کردیتے،کہا گیا ویب سائیٹ پر رولز کیوں نہیں ڈالے،رولز 2022 میں ڈالے تھے اب کتابچہ چھاپ دیا ہے، الیکشن کمیشن کے پاس 175 جماعتیں رجسٹرڈ ہیں صرف 20 جماعتوں کی ویب سائیٹ ہے،
    کیا الیکشن کمیشن نے باقی جماعتوں سے پوچھا ویب سائیٹ کیوں نہیں؟ ممبر سندھ نے کہا کہ ہوسکتا ہے بڑی جماعتوں کی ہوں، بیرسٹر ظفر نے کہا کہ چلیں جن کو نشان الاٹ ہوا یا جن کا ہوگا ان سے پوچھا ؟چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ان کا مطلب ہے آپ سپیشل جماعت ہیں،چیف الیکشن کمشنرکے جملہ پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، بیرسٹر علی ظفر نےا کہا کہ اس سوال کا پارٹی سرٹیفکیٹ سے کوئی تعلق نہیں،پھر پوچھا گیا کہ انٹرا پارٹی کے دو شیڈول کیوں نہیں دئیے؟بپھر وہی سوال جس کا جواب دیدیا گیا ہے،کیا یہ سوالات کسی اور جماعت سے پوچھے گئے؟ممبر کے پی نے کہا کہ کیا آپ نے کسی اور کے الیکشنز چیلنج کیوں نہیں کئے؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم کیسے کرسکتے ہیں یہ اختیار کمیشن کا ہے ہم سے جو سوالات کمیشن نےپوچھے ہیں اس کو بھی کسی نے چیلنج نہیں کیا،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کئی جماعتوں کے انٹراپارٹی الیکشنز ختم کئے ہیں، ابھی وقت نہیں ہے ورنہ آپ کو تفصیلات دیتے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پوچھا گیا کہ پینل بلامقابلہ کیوں ہوئے الیکشنز میں کیوں نہیں گئے؟ اب ہم انتظار کرتے کہ مخالف پینل آئے تو الیکشن کرائیں؟ بلامقابلہ الیکشنز پارٹی آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم پر پی ٹی آئی نے 3 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا، جس میں بیرسٹر گوہر بلامقابلہ چیئرمین جبکہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے، اس کے علاوہ یاسمین راشد پنجاب کی صدر اور علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے صدر منتخب ہوئےپی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے ایک روز قبل انٹرا پارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کرتے ہوئے سارے عمل کو مشکوک قرار دیا تھا۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

     

  • انٹرا پارٹی انتخابات،پشاور ہائیکورٹ نےپی ٹی آئی کیخلاف حتمی فیصلے سے روک دیا

    انٹرا پارٹی انتخابات،پشاور ہائیکورٹ نےپی ٹی آئی کیخلاف حتمی فیصلے سے روک دیا

    پشاور ہائیکورٹ، انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کو نوٹس کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    پشاورہائیکورٹ، جسٹس عتیق شاہ اور جسٹس شکیل احمد نے سماعت کی،پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کیخلاف حتمی فیصلے سے روک دیا، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کیخلاف کیس نہیں سن سکتا، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی سے بلا کا نشان لے سکتا ہے،جسٹس عتیق شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپ اب سے کیسے اندازہ لگا سکتے ہیں،قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے دائر ہ اختیار سے تجاوز کررہا ہے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 175 سیاسی جماعتیں ہیں ابھی تک کسی نے انٹرا پارٹی انتخابات چیلنج نہیں کئے،جس نے پارٹی انتخابات چیلنج کئے وہ پارٹی کا حصہ نہیں ہے، الیکشن کمیشن نے نوٹس دیا ہے کہ اگر پیش نہیں ہوئے تو غیرموجودگی میں کیس سنا جائیگا،الیکشن کمیشن پر ہمیں تحفظات ہیں، فارن فنڈنگ کیس میں بھی صرف ہمارا کیس سنا گیا،الیکشن کمیشن کا نوٹس غیر قانونی ہے، جسٹس عتیق شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکا مطلب ہے کہ قانون میں انٹرا پارٹی انتخابات چیلنج کرنے کا کوئی سکیشن نہیں،عدالت نے کہا کہ پارٹی کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی 7 دن میں جواب جمع کروایا جائے،الیکشن کمیشن کیس جاری رکھے لیکن کوئی حتمی فیصلہ جاری نہیں ہوگا،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم پر پی ٹی آئی نے 3 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا، جس میں بیرسٹر گوہر بلامقابلہ چیئرمین جبکہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے، اس کے علاوہ یاسمین راشد پنجاب کی صدر اور علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے صدر منتخب ہوئےپی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے ایک روز قبل انٹرا پارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چلینج کرتے ہوئے سارے عمل کو مشکوک قرار دیا تھا۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کا بلے کا نشان برقرار رکھتے ہوئے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے رکھا ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف 20 دن میں انٹرا پارٹی الیکشن یقینی بنائے،الیکشن کے 7 دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے، اگر پارٹی الیکشن نہ کرائے گئے تو تحریک انصاف انتخابی نشان کے لیے نااہل ہو گی.

  • پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف الیکشن کمیشن میں  درخواست دائر

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف پہلی درخواست دائرکر دی گئی۔

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی ممبر راجہ طاہر نواز عباسی کی جانب سے درخواست دائر کی گئی،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں کروائے گئے،ڈمی پینل تشکیل دے کرانٹرا پارٹی انتخابات کروائے گئے، انٹرا پارٹی انتخابات کروانا سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کی ذمہ داری تھی۔

    الیکشن کمیشن سے استدعا کی گئی کہ انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دے کر سیکرٹری جنرل کو دوبارہ کروانے کی ہدایت کی جائے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے بھی پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے اور وہ آج الیکشن کمیشن میں باقاعدہ درخواست دائر کریں گے، اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے انٹر پارٹی الیکشن کو الیکشن کہنا ہی قابل اعتراض ہے، تمام غیر جانبدار مبصرین و تجزیہ کاروں نے بھی اس الیکشن پر سوالات اٹھائے ہیں کبھی کسی نے نہیں دیکھا کہ کسی الیکشن میں 15 سے 20 لوگ جمع ہوں اور وہ نعرے لگائیں قبول ہے قبول ہے، اور کچھ دیر بعد ہی انتخابات کا اعلان ہو جائے۔

    سابق چئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلیت سےمتعلق کیس کا فیصلہ محفوظ

    بانی رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں تمام عہدے بلامقابلہ ہی دے دیے گئے، اور اگر ہمارا موازنہ کسی دوسری جماعت سے کیا جائے کہ وہاں بھی ایسے ہی عہدے مل جاتے ہیں یا یہ برائی وہاں بھی ہے تو یہاں بھی اسے تسلیم کرلیا جائے تو پھر پی ٹی آئی کے وجود کی کیا ضرورت تھی۔

    اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ میں پارٹی بنانے والوں میں سے ہوں، ہم نے اس جماعت کا آئین لکھا تھا، میرے علاوہ حامد خان، فوزیہ قصوری، معراج محمد خان، سعید اللہ نیازی بھی تھے، پارٹی آئین میں لکھا گیا تھا کہ پارٹی کا چیئرمین 3 تین سال کے لئے دو ٹرم رہے گا، اور جمہوری طریقے سے انتخاب ہوگا۔ 2013 میں جو انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے اس میں ایک سال لگا تھا، دفاتر میں رونق تھی، کارکنان آتے تھے کاغذات نامزدگی جمع ہوتے تھے، الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی الیکشن کی نگرانی کرے، جب تک جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہوگی وہ مخلص قیادت نہیں بن سکتی۔

    انٹرا پارٹی انتخابات:چئیرمین پی ٹی آئی نے دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرادیں

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا چیئرمین جس شخص کو بنایا گیا اس کی جماعت میں کیا خدمات یا میرٹ ہے، اگر ملک میں جمہوریت لانی ہے اور اہل لوگوں کو سامنے لانا ہے، لیکن ان کے راستے بند ہیں، ان کی جماعتیں وارثتی سیاستدانوں پر مشتمل ہیں، جو اہل لوگوں کو اقتدار کی سیڑھی سمجھتے ہیں، اور ان کے کندھوں پر چڑھ کر کرسی حاصل کرتے ہیں۔

  • انٹرا پارٹی انتخابات:چئیرمین پی ٹی آئی نے دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرادیں

    انٹرا پارٹی انتخابات:چئیرمین پی ٹی آئی نے دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرادیں

    لاہور: تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہےکہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرادی ہیں۔

    باغی ٹی وی: ایک بیان میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جلد ہی الیکشن شیڈول کا اعلان ہونے والا ہے، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرادی ہیں۔

    واضح رہے کہ بیرسٹر گوہر علی خان بلامقابلہ تحریک انصاف کے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں ،تحریک انصاف کے رجسٹرڈ ووٹرز نےنئے چیئرمین کا انتخاب کیا تھا، بیرسٹر گوہر خان نے چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے تھے ان کے مقابلے میں کسی نے کاغذات جمع نہیں کروائے-

    چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی کے مطابق عمر ایوب پی ٹی آئی کے بلا مقابلہ مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے ہیں، علی امین گنڈاپور تحریک انصاف خیبرپختونخوا،یاسمین راشدپنجاب کی صدر منتخب ہوئی ہیں، حلیم عادل شیخ سندھ پی ٹی آئی کے صدر منتخب ہو گئے ہیں،جبکہ منیر احمد بلوچ بلوچستان کے صدر پی ٹی آئی منتخب ہوئے ہیں

    چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن میں ایک پینل سامنے آیا ، قواعد کے مطابق اعلان کر رہے ہیں، قانون کی بالا دستی اور پاسداری پر ملک قائم ہوگا ،

    دوسری جانب تحریک انصاف کورکمیٹی نے قومی انتخابات کے لیے فنڈز کے عدم اجرا پر اظہار تشویش کیا ہے،تحریک انصاف نے نگران حکومت سے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے فوری فنڈز جاری کرنےکا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔