Baaghi TV

Tag: انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن

  • انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن آکسیجن لیکیج سے ہنگامہ،اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن آکسیجن لیکیج سے ہنگامہ،اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے روسی ماڈیول میں ہوا کے اخراج کی رفتار اچانک دگنی ہونے اور روس کی جانب سے مرمت کے متنازع طریقہ کار کے باعث اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے احتیاطی تدابیر کے طور پر پانچ خلابازوں کو فوری طور پر اسٹیشن خالی کرنے کی تیاری اور ’سیف ہیون‘ پروٹوکول کے تحت خلائی جہاز میں پناہ لینے کی ہدایت جاری کر دی تاہم، تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والے اس ہنگامی الرٹ کو بعد میں واپس لے لیا گیا ہنگامی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس کے خلابازوں نے ’زویزدا سروس ماڈیول‘ میں موجود دراڑ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک ’آری‘ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ناسا کے اعلیٰ حکام نے روس کے اس خطرناک طریقہ کار سے شدید اختلاف کیا، جس کے بعد ناسا نے فوری طور پر خلابازوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا ایک سینیئر ناسا عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ چند ماہ سے یہ لیکج معمولی تھی، لیکن جمعہ کے روز ہوا کے اخراج کی رفتار اچانک 1 پاؤنڈ روزانہ سے بڑھ کر 2 پاؤنڈ روزانہ تک پہنچ گئی، جس نے تشویش میں اضافہ کیا۔

    دوسری جانب روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اسٹیشن پر دو مختلف جگہوں پر معمولی لیکج کا پتا لگایا تھا، جن میں سے پہلی کو فوری طور پر سِیل کر دیا گیا جبکہ دوسری پر کام جاری ہے۔ روسی حکام کا مؤقف ہے کہ اس سے عملے یا اسٹیشن کے سسٹمز کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔

    ناسا کی ترجمان کے مطابق، جیسے ہی روسی عملے نے آری کی مدد سے مرمت کا کام عارضی طور پر روکا، ناسا نے اپنا ہنگامی الرٹ منسوخ کر دیا اور خلابازوں کو دوبارہ اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت دے دی وہ اب اس مسئلے کے مستقل اور محفوظ حل کے لیے روسی خلائی ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کی 27 سالہ تاریخ میں آج تک کبھی ایسی نوبت نہیں آئی کہ خلابازوں کو واقعی اسٹیشن چھوڑ کر زمین پر بھاگنا پڑا ہوخلائی ملبےکے ٹکراؤ کے خطرے یا ہوا کے دباؤ میں تبدیلی کے باعث ایسے الرٹس ماضی میں بھی انتہائی کم مواقع پر جاری کیے جاتے رہے ہیں یہ خلابازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے طے شدہ بین الاقوامی قوانین کا حصہ ہیں۔