Baaghi TV

Tag: انٹرنیٹ

  • مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش کے انسانی حقوق پر منفی اثرات مرتب ہوئے

    مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش کے انسانی حقوق پر منفی اثرات مرتب ہوئے

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش کے انسانی حقوق پر منفی اثرات مرتب ہوئے
    ‘2021 وعدہ خلافی اور ناامیدی کا سال تھا’ ایمنسٹی انٹرنیشنل

    حقوق انسانی کی عالمی تنظیم نے گزشتہ برس کے شہری اور انسانی حقوق کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ امیدوں کے ٹوٹنے کا سال تھا۔ ایمنسٹی کے مطابق ڈیجیٹل دنیا بھی بڑی تیزی سے سرگرمیوں اور جبر کا مقام بنتی جا رہی ہے۔

    حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل دنیا بھر میں ہونے والی پیشرفتوں پر غور و فکر کے بعد انسانی اور شہری حقوق کے حوالے سے اہم ترین عالمی رجحانات کا تجزیہ ترتیب دیتی ہے۔ اسی سلسلے میں تنظیم نے 29 مارچ منگل کے روز اپنی تازہ ترین سالانہ رپورٹ جاری کی ہے۔مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں ایمنسٹی کے محقق اور ایڈو کیسی کے ڈائریکٹر فلپ لوتھر کہتے ہیں: "2021 واقعی وعدوں کے اعتبار سے بہت ہی اہم سال تھا۔” تاہم حقیقت اس کے بالکل بر عکس تھی۔” اس سالانہ رپورٹ میں حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2021 کے اواخر میں افریقہ میں تقریبا ایک سو ارب لوگوں میں سے آٹھ فیصد سے بھی کم کو بھی مکمل ویکسین دی گئی۔ عالمی سطح پر ویکسین کی یہ سب سے کم شرح ہے اور ڈبلیو ایچ او کے 40 فیصد ویکسین کے ہدف سے بہت دور ہے۔

    ایمنسٹی کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سی حکومتوں نے اس وبا کو اپوزیشن اور سول سوسائٹی کو دبانے کے لیے بھی استعمال کیا۔ لوتھر کہتے ہیں، "یہ صورت حال دنیا کے تمام خطوں میں یکساں ہے اور یہی سبب ہے کہ ہم نے اپنے عالمی تجزیے میں اس کو اہم طور پر اجاگر کیا ہے۔”حکومتیں اور غیر سرکاری تنظیمیں اب تیزی سے اپنا کام آن لائن کر رہی ہیں۔ لوتھر اس ترقی کو "دو دھاری تلوار” قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول "حکام خفیہ طور پر ٹیکنالوجی کو اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جس سے لوگوں کے انسانی حقوق پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں”

    ان کا مزید کہنا تھا کہ دیکھا یہ گیا ہے کہ "بہت سے معاملات میں حکومتیں بھی اس وقت ان ٹولز کو بند کرنے اور ان میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں، سول سوسائٹی جن کا استعمال ایک دوسرے کے ساتھ بہتر طور پر رابطہ کرنے اور معلومات پھیلانے کے لیے کرتی ہیں۔”ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ میں اس کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال، چار اگست 2019 سے پانچ فروری 2021 تک مقبوضہ جموں و کشمیر خطے میں انٹرنیٹ کی بندش کو، قرار دیا گیا ہے۔ماسکو میں ہونے والے مظاہروں کے دوران چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کا استعمال اور صحافیوں، اپوزیشن شخصیات اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کا استعمال بھی اس کی واضح مثالیں ہیں۔

    فائفر کے مطابق انٹرنیٹ سول سوسائٹی کے لیے منظم اور متحرک ہونے کا ایک اہم طریقہ کار ہے تاہم دنیا بھر میں، "حکومتوں نے جہاں خود کو ڈیجیٹل طور پر کافی اپ گریڈ کر لیا ہے وہیں وہ اب اٹرنیٹ کی آزادی کے خلاف ہی بہت سخت کارروائیاں بھی کر رہی ہیں۔”ان کے بقول حکومتیں اس کے لیے کبھی سنسرشپ کا راستہ اپناتی ہیں، تو کبھی انٹرنیٹ سروسز کو بند کر دیتی ہیں اور بڑے پیمانے پر اس کی نگرانی بھی کرتی ہیں۔ایمنسٹی نے نوٹ کیا ہے کہ گزشتہ برس روس، بھارت، کولمبیا، سوڈان، لبنان اور دنیا کے دیگر کم از کم 75 ممالک کے لوگ اپنے اور دوسروں کے حقوق کے لیے لڑنے کے لیے سڑکوں پر بھی نکلے۔

    رپورٹ، ہارون عباس

    زرداری بڑی بیماری،چیری بلاسم سے جوتا زیادہ چمکتا ہے، ڈیزل سستا ہوگیا ،وزیراعظم کا جلسے سے خطاب

    سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

    عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی

    پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی

    پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

    بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

    عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز

    حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

  • ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی ہدایت پرانٹرنیشنل سیف انٹرنیٹ ڈے سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے میں منعقد کیا گیا۔

    ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی ہدایت پرانٹرنیشنل سیف انٹرنیٹ ڈے سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے میں منعقد کیا گیا۔

    اسلام اباد :ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی ہدایت پرانٹرنیشنل سیف انٹرنیٹ ڈے سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے میں منعقد کیا گیا۔،اطلاعات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی صاحب کی ہدایت پر انٹرنیشنل سیف انٹرنیٹ ڈے آج بروز منگل 8 فروری 2022 کو سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے میں منعقد کیا گیا۔

    ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی کا کہنا ہے کہ یہ دن عوام کو انٹرنیٹ کے محفوظ اور مثبت استعمال کے بارے میں شعور فراہم کرنے کے حوالے سے آگاہی کا دن ہے۔

    اس موقع پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل محمد جعفر صاحب اور ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق پرویز صاحب کی ہدایات پر اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے سائبر کرائمز ونگ کے افسران نے بریفنگ دی۔

    اس موقع پر بچوں کے محفوظ اور مثبت انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے کچھ اہم پیرنٹل کنٹرول سوفٹ ویئرز کو بھی متعارف کروایا گیا۔ جس کے استعمال سے والدین اپنے بچوں کی انٹرنیٹ سرگرمیوں کی نگرانی کر سکیں گے۔

    مزید برآں اینٹی چائیلڈ پورنو گرافی سیل کے انچارج اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمران حیدر صاحب نے چائیلڈ پورنو گرافی پر مبنی کیسز اور ان میں سائبر کرائم ونگ کے افسران کی کاوشوں پر تفصیلی بریفنگ بھی دی اور سال 2021 میں ساٸبر مجرمان کی گرفتاریوں اور عدالتوں کی جانب سے دی گٸ سزاٶں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل محمد جعفر صاحب نے افسران کی کارکردگی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں سراہا اور انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے حوالے سے سائبر کرائم ونگ کی آگاہی مہم کو جاری رکھنے کی ہدایات دیں۔ ڈاٸریکٹر ساٸبر کراٸم ونگ نے امید ظاہر کرتے ہوٸے کہا کہ سائبر کرائم ونگ کی مزکورہ مہم سے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور جراٸم کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔

    مزکورہ دن کی مناسبت سے آؤٹ ڈور ایکٹیویٹی کے طور پر آگاہی مہم کی انچارج اسٹنٹ ڈائریکٹر زونی اشفاق صاحبہ کی سربراہی میں فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں بھی آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں اساتذہ اور سٹوڈنٹس نے کرونا ایس او پیز کو مد نظر رکھتے ہوئے شرکت کی اور ادارے کے اس اقدام کو سراہتے ہوٸے اسے ملک گیر سطح پر جاری رکھنے کی درخواست کی۔

  • شہریوں کیلئے انٹرنیٹ سروس بھی مہنگی ہوگئی:آن لائن روزگار والوں کے لیے سخت پریشانی

    شہریوں کیلئے انٹرنیٹ سروس بھی مہنگی ہوگئی:آن لائن روزگار والوں کے لیے سخت پریشانی

    لاہور :شہریوں کیلئے انٹرنیٹ سروس بھی مہنگی ہوگئی:آن لائن روزگار والوں کے لیے سخت پریشانی ،اطلاعات کے مطابق شہریوں کیلئے انٹرنیٹ سروس بھی مہنگی کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر کے انٹرنیٹ صارفین کو بری خبر سنائی گئی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی پی ٹی سی ایل اور دیگر ٹیلی کام کمپنیوں کے صارفین کو موصول ہونے والے ایس ایم ایس کے مطابق انٹرنیٹ سروس پر عائد ایڈوانس انکم ٹیکس میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ موبائل صارفین کو بتایا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کے احکامات کے مطابق 16 جنوری سے انٹرنیٹ کی تمام سروسز پر عائد ایڈوانس انکم ٹیکس بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل موبائل کمپنیوں نے بھی اپنے کالز اور انٹرنیٹ کے پیکجز مہنگے کر دیئے۔ سماء نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافے کے بعد 4 بڑی موبائل کمپنیوں کی جانب سے کال اور انٹرنیٹ پیکجز کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے ہفتہ وار انٹرنیٹ پیکجز 25 روپے تک مہنگے کیے گئے ہیں ، اسی طرح ماہانہ سپر لوڈ کے پیکجز میں بھی 50 سے 100 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے جب کہ ہفتہ وار آل ان ون پیکجز بھی 30 روپے تک مہنگے کیے گئے ہیں۔

    اس حوالے سے ٹیلی کام کمپنیوں نے موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ 22-2021 میں ود ہولڈنگ ٹیکس 8 فیصد تک لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن شرح میں 2 فیصد اضافہ کرکے 12 فیصد تک کر دیا ، منی بجٹ میں ٹیکس کے بعد ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں بچا اور ہم نے حکومتی ٹیکس کو صارفین پر منتقل کیا ، خود سے کوئی ٹيکس عائد نہيں کيا۔

    خیال رہے کہ منی بجٹ ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 10 سے 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی جو قومی اسمبلی نے منظور کرلی جس کے بعد موبائل کمپنیوں نے صارفین سے ری چارج پر اضافی ٹیکس وصولی شروع کر دی ہے ، موبائل کمپنیاں 100 روپے کے ری چارج پر 4 روپے اضافی کٹوتی کر رہی ہیں ، 100 روپے والے پریپیڈ کارڈ پر اب صارفین کو 27 روپے 20 پیسے دینے ہوں گے جس کے بعد صارفین کو 72 روپے 80 پیسے کا بیلنس کالز اور انٹرنیٹ کیلئے ملیں گے جو کہ پہلے 76 روپے 10 پیسے ملتے تھے ، کیوں کہ اس وقت کمپنیاں ایڈوانس ٹیکس کی مد میں 13 روپے لے رہی ہیں ، اس سے پہلے صارفین سے ایڈوانس ٹیکس کی مد میں 9 روپے 10 پیسے وصول کیے جاتے تھے۔

  • زیر آب انٹرنیٹ کیبل خراب:متبادل ذرائع کا انتظام کرتولیا:  مگربہتری میں چند دن لگ سکتےہیں:پی ٹی سی ایل

    زیر آب انٹرنیٹ کیبل خراب:متبادل ذرائع کا انتظام کرتولیا: مگربہتری میں چند دن لگ سکتےہیں:پی ٹی سی ایل

    اسلام آباد:زیر آب انٹرنیٹ کیبل خراب: متبادل ذرائع کا انتظام کرتولیا،مگربہتری میں چند دن لگ سکتےہیں:اطلاعات کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار سست ہونے کی رپورٹس پر کہا ہے کہ بین الاقوامی زیرآب کیبل میں خرابی پر انٹرنیٹ کے متبادل ذرائع کا انتظام کر لیا گیا ہے۔

    پی ٹی سی ایل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘اے اے ای-ون(ایشیا-افریقہ-یورپ-ون) سے ریفرینس کےساتھ انٹرنیشنل زیرآب کیبل منقطع ہوگئی ہے، ہم نے پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ذریعے کا انتظام کرلیا ہے’۔

    بیان میں کہا گیا کہ اقدامات کے ‘نتیجے میں صارفین نے کیبل کٹ جانے کے باجود خدمات میں بغیر کسی بڑے خلل کے بہتری دیکھی’۔اے اے ای-ون 25 ہزار کلومیٹر کنسورشیم کیبل سسٹم ہے جو جنوب مشرقی ایشا کو براستہ مصر یورپ سے ملاتا ہے۔

    اس نظام سے ہانگ کانگ، ویت نام، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، ملائیشیا، سنگاپور، میانمار، بھارت، پاکستان، عمان، متحدہ عرب امارات، قطر، یمن، جبوتی، سعودی عرب، مصر، یونان، اٹلی اور فرانس جڑے ہوئے ہیں۔

    اے ای ای-ون کیبل سسٹم 100 گیگابائیٹس فی سیکنڈ ٹرانسمیشن ٹیکنالوجی فراہم کرتا ہے، جس کے ساتھ کم ازکم 40 ٹیرابائیٹس فی سیکنڈ ڈیزائن کی صلاحیت ہے۔

    پی ٹی سی ایل نے یقین دہانی کروائی کہ انٹرنیٹ کی صلاحیت اگلے چند روز میں مزید بہتر کی جائے گی تاکہ مسائل حل ہوں۔بیان میں کہا گیا کہ ‘تاہم صارفین نظام مزید بہتر کرنے تک ملک بھر میں سروسز میں معمولی مشکلات کا سامنا کرسکتےہیں’۔

    بعد ازاں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بھی بیان جاری کیا اور کہا کہ انٹرنیشل زیرآب کیبل میں کراچی کے قریب رکاوٹ رپورٹ ہوئی تھی، جس سے کام کے عروج کے وقت انٹرنیٹ ٹریفک میں اثر پڑا تھا۔

    پی ٹی اے کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘رکاوٹ دور کرنے کے لیے کام جاری ہے، جو بہتر ہونے میں مزید وقت لے سکتا ہے’۔

    مزید کہا کہ سروس فراہم کرنے والوں کی جانب سے متبادل فراہم کیا گیا ہے اور اضافی بینڈوڈتھ حاسل کرلیا ہے تاکہ ملک میں انٹرنیٹ کے استعمال کی ضرورت پوری کی جائے اور بلاتعطل سروس فراہم کی جائے۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں صارفین کو اکتوبر میں بھی انٹرنیٹ میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا جب زیر آب کیبل میں متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کے قریب مسئلہ سامنے آیا تھا۔

    اسی طرح رواں برس فروری میں مصر میں ابو تلات کے قریب بین الاقوامی زیر آب کیبل سسٹم میں خرابی کے نتیجے میں پاکستان بھر کے صارفین کو انٹرنیٹ سروسز تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہوا تھا۔

  • موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    ایلن مسک جو دنیا کا امیر ترین آدمی ہے وہ خود کوکئی فیلڈز میں منوا چکا ہے اس پر تنقید کرنے والے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایلن مسک میں بچپن سے ہی کاروبار اور نت نئے تجربے کرنے صلاحیت تھی۔ لیکن آج کی اس ویڈیو میں۔۔ میں آپ کو بتاوں گا کہ اب وہ کیا نیا کرنے جا رہا ہے۔ وہ کونسی انڈسٹری ہے جس میں اب ایلن مسک انقلاب لانے والا ہے۔بارہ سال کی عمر میں ایک ویڈیو گیم بنا کر پانچ سو ڈالرز میں فروخت کرنے سے ایلن مسک نے اپنے کاروبار کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ پھر سولہ سال کی عمر میں اس نے اپنے بھائی اور کزن کے ساتھ مل کر ایکArcadeبنانے کی کوشش بھی کی۔ پھر کینیڈا میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نےZip 2نامی کمپنی بنائی، پھرPayPalSpace Xوغیرہ وغیرہ۔ یہ کہانی تو آپ سب نے ضرور سن رکھی ہو گی کہ اس نے کیا کیا کارنامے کر ڈالے۔لیکن ایلن مسک کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ جو سوچتا ہے یا جس چیز کو کرنے کی ٹھان لیتا ہے پھر وہ اسے کرکے دکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے جتنے بھی کاروبار ہیں ان میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے اور وہ اس کی کمپنیوں کے بلند عزائم ہیں وہ روزمرہ کے مسائل کو اس انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے خوابوں کو حقیت کا رنگ دینا ان کا بنیادی مقصد ہے۔ایلن مسک اس وقت جو مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ کوئی معمولی مسائل نہیں ہیں۔ وہ دراصل انسانیت کو لاحق کو تین خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔پہلا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی کا ہے جو انسانوں کی زندگیوں کو آئے روز کم کرتی جا رہی ہے اور اس کا مقابلہ وہ ٹیسلا کی ماحول دوست الیکٹرک کاروں سے کرنا چاہ رہا ہے۔دوسرا مسئلہ انسانیت کی بقا کا ہے اس کے خیال میں اگر ہم صرف اس سیارے تک ہی محدود رہ گئے تو کوئی تباہ کن واقعہ انسانیت کو ختم کر سکتا ہے۔ اسی لیے سپیس ایکس مریخ تک پہنچ کر وہاں نئی آبادیاں بسانے کے لئے کام کر رہی ہے۔تیسرا خطرہ جس کا وہ مقابلہ کر رہا ہے وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت ہے کیونکہ اس کے خیال میں مصنوعی ذہانت سے انسانوں کو کافی سنجیدہ خطرہ ہے۔ اسی لیے اس نے 2015 میں ایک فلاحی تنظیمOpen AIبنائی جو کہ مثبت انداز کی مصنوعی ذہانت کے فروغ کا کام کرتی ہے۔

    لیکن اس دنیا میں کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو کہ ایلن مسک کو اس کے متنازع بیانات کی وجہ سے نا پسند کرتے ہیں مگر آپ اسے پسند کریں یا ناپسند، آپ کو یہ ماننا ضرور پڑے گا کہ وہ دنیا کے ان چند افراد میں سے ایک ہے جس کی نہ صرف نظریں ستاروں کی جانب ہیں بلکہ اس کے قدم بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔اس لئے جب ایلن مسک کسی بھی نئی صنعت میں داخل ہوتا ہے تو سب کو پہلے سے ہی یقین ہوتا ہے کہ اب یہ اس مارکیٹ میں پہلے سے موجود بڑے بڑے Giantsکو ہلانے والا ہے۔ اور اب ایلن مسک جس انڈسٹری میں داخل ہو رہا ہے وہ ہے سمارٹ فون کی انڈسٹری۔ بہت جلد ایلن مسک کی مشہور و معروف ٹیسلا کمپنی اپنا سمارٹ فون لانچ کرنے جا رہی ہے۔ جو کہ AppleSamsungاورHuaweiکے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ ابھی تک یہ تینوں اسمارٹ فون کے بادشاہ ہیں یہ تینوں کمپنیاں ہر تین ماہ بعد لاکھوں فون بناتی ہیں اور بے تحاشا منافع کماتی ہیں۔ ایپل کا آئی فون، لیب ٹاپ اور دیگر پرسنل الیکٹرانکس دنیا بھرمیں ایکStatus symbolبن گئی ہیں اور یہاں تک بھی خبریں رپورٹ ہوتی رہی ہیں کہ ان مہنگے فونز کو حاصل کرنے کے شوق میں کئی لوگوں نے اپنا گردہ تک بیچ ڈالا تاکہ اپنی پسند کا iphone
    خرید سکیں۔Samsungکے فونز کی اپنی خوبیاں ہیں جو لوگ ٹیبلٹ استعمال کرنے کے شوقین ہیں وہ آجکل Samsungخریدتے ہیں تاکہ فون کی جگہ بھی استعمال ہو جائے اور اسی کو ٹیبلیٹ بنا کر بھی استعمال کیا جا سکے۔ ہواوے کے فونز اپنے بہترین کیمروں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں اس کا بھی ایکFolding phoneحالانکہ پچھلے کچھ عرصے میں اسےAndroid operating systemکو تبدیل کرکے اپنا سسٹم لگانے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے لیکن پھر بھی یہ دنیا میں فونز بیچنے والی تیسری بڑی کمپنی ہے۔اور آنے والے دنوں میں ان تینوں کے لئے امتحان یہ ہے کہ کیا یہ اپنے فونز پر ٹیسلا کےنئے سمارٹ فون کا حملہ کیسے برداشت کریں گے۔

    ٹیسلا کے سمارٹ فون کا نام ہے Tesla Model Piاور اس فون کی جو بھی انفارمیشن سامنے آئی ہیں وہ بہت ہی حیران کن ہے۔ اس میں جو ٹیکنالوجی ٹیسلا متعارف کروانے جا رہی ہے وہ اب سے پہلے کسی سمارٹ فون میں استعمال نہیں ہوئی ہیں۔ دیکھنے میں تو اس کی شکل کافی حد تک آئی فون سے ملتی جلتی ہے لیکن اپنے فیچرز کے حساب سے یہ مارکیٹ میں موجود اب تک کے سمارٹ فونز سے کافی مختلف ہو گا۔ اور اس سمارٹ فون کی جو سب سے بڑی کوالٹی ہو گی وہ یہ کہ یہ سٹارلنک کے ساتھ Intigratedہوگا۔ سٹارلنک دراصل ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا ہی ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہے۔ جس کا مقصد پوری دنیا کو سستا اور تیز ترین انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں ساٹھ فیصد userہر وقت انٹرنیٹ کے ساتھ
    connectہوتے ہیں اور ہر ایک انسان جو انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے انٹرنیٹ کی سپیڈ سب سے تیز ہو۔ ابھی تک تو انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئے زیادہ تر کیبل، ٹاور اور وائی فائی سگنل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن سٹار لنک پروجیکٹ کے تحت اسپیس ایکس نےLow Earth Orbitمیں کئی ہزار سیٹلائٹس لانچ کی ہیں۔ جو زمین کے قریب ہونے کی وجہ سےرابطہ کرنے کیلئے کم Latency استعمال کرتی ہیں جو 25 یا 35 ملی سیکنڈ ہونے کی وجہ سے ان کی پرفارمنس کیبل اور فائبر آپٹک کیبل سے کہیں زیادہ ہے- سٹار لنک
    Faster laser transmission کواستعمال کرتے ہوئے ایک سیٹلائیٹ سے 1TBفی سیکنڈ ٹرانسمیشن کو کنٹرول کرتے ہوئے ایک ہی وقت میں چالیس ہزار لوگوں کو4Kکوالٹی میں ویڈیو دکھا سکتا ہے- جس کا مطلب ہے کہ سٹار لنک انٹرنیٹ کی سپیڈ تقریبا 1GBفی سیکنڈ ہو گی جو کہ عامUserکی روز مرہ زندگی میں ایک انقلاب سے کم نہیں ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ دنیا کے جس مرضی کونے میں ہوں پہاڑوں پر ہوں ریگستانوں میں ہوں یا سمندر کے بیچ میں ہوں۔ آپ ٹیسلا کے پائی فون سے تیز ترین انٹرنیٹ استعمال کر سکیں گے۔ اور یہ ایک ایسا فیچر ہے جواس فون کو باقی تمام فونز سے منفرد بنا رہا ہے۔اس کے علاوہ جو اس فون کی سب سے Different qualityہو گی وہ نیورالنک ہے۔ ابھی تک ہم فونز کو ٹچ کرکے یا بول کر آپنی آواز کے زریعے کنٹرول کرتے ہیں لیکن سوچیں اگر آپ کو ایسا فون مل جائے جو صرف آپ کی سوچ سے ہی چلنے لگے تو یہ کتنا حیران کن ہے۔ اس فون میں ایک Brain computer interfaceاستعمال کیا جارہا ہے جو کہ آپ کے Mindکو پڑھ کر کام کرنے کے قابل ہوگا۔

    اس کے علاوہ اس فون میں تیسری سب سے منفرد چیز یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ اپنی ٹیسلا کار کو بھی آپریٹ کر سکتے ہیں۔ ابھی لوگ ٹیسلا کاروں کو اپنے فون میں موجود ٹیسلا ایپ سے کنٹرول کرتے ہیں لیکن سوچیں جب آپ کے پاس فون بھی ٹیسلا کا ہوگا اور آپ کی کار اس کے ساتھ Integratedہوگی تو اس کی سروس کا کیا معیار ہو گا۔اور اس میں ایک اور جو حیرت انگیز چیز ہے وہ سولر چارجنگ ہے یعنی آپ اگر اپنے فون کا سولر چارجنگ موڈ آن کرتے ہیں تو وہ خود بخود چارج ہوتا رہے گا آپ کو بیٹری Lowہونے یا ہر جگہ چارجر ڈھونڈنے کی بھی ٹینشن نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ یہ فون آپ کا Source of earning بھی بن سکے گا کیونکہ اس میں کرپٹو کرنسی Mining abilitiesبھی موجود ہوں گی جس سے آپ Mars coinsکی Mining
    کر سکیں گے۔اور یہ ایک ایسا Revolutionry phoneہوگا جس کو آپ زمین کے علاوہ مریخ پر بھی استعمال کر سکیں گے۔ٹیسلا پائی فون کا caseبنانے کے لئے Photo chroming coating
    کا استعمال کیا گیا ہے جو سورج کی روشنی میں مختلف رنگوں کے ساتھ چمکے گا۔اس کی بیک پر چار کیمرے ہوں گے۔ فرنٹ پر بھی کیمرہ ہوگا لیکن وہ نظر نہیں آئے گا کیونکہ یہ اسکرین کے نیچے ہو گا لیکن اس کا رزلٹ ویڈیوز کالز اور سیلفی کے لئے بہترین ہو گا۔ کیمروں کے ساتھ بیک پر ٹیسلا کا لوگو بھی ہوگا۔یعنی یہ ایکTruely revolutionary smart phoneہوگا۔یہ اس فون کے بارے میں اب تک ہونے والی تمام لیکس اور انفارمیشن ہیں جو کہ اس کے ٹریلر سے ملتی ہیں جو ٹیسلا کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ اور یقینا یہ تمام خوبیاں ٹیسلا کے اس پائی فون میں موجود بھی ضرور ہوں گی کیونکہ جب ٹیسلا راکٹس بنا سکتا ہے لوگوں کو خلا کی سیر کروا سکتا ہے مریخ تک پہنچ سکتا ہے تو اس طرح کا فون بنانا ایلن مسک کے لئے کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے۔اس لئے کہا یہ جا رہا ہے کہ AppleSamsungاورHuaweiکے لئے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ اگر انھوں نے خود کو اپ گریڈ کرکے مقابلے کے لئے تیار نہ کیا تو ان کا حال بھی وہی ہوگا جوNokiaBlackberryاورمائیکروسافٹ کے فونز کا ہوا ہے

  • فیس بک کی میانمار کے سوشل میڈیا کو بحال کرنے کی اپیل

    فیس بک کی میانمار کے سوشل میڈیا کو بحال کرنے کی اپیل

    سوشل میڈیا کمپنی کے ایک عہدیدار نے ہفتے کو بتایا کہ فیس بک میانمار میں انٹرنیٹ تک رسائی کو بند کرنے کے احکامات پر سخت پریشان ہے اور انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ سوشل میڈیا خدمات تک رسائی کو بحال کرٰیں۔

    میانمار کی نئی فوجی جنتا نے حالیہ دنوں میں فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو روکنے کا حکم دیا تھا ، لیکن ہفتہ کے روز انٹرنیٹ کی رسائی کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے۔

    "میانمار میں انٹرنیٹ بند کرنے کے احکامات سے ہمیں بہت تشویش ہے ،” ایپیک کے ابھرتے ہوئے ممالک ، پبلک پالیسی کے ڈائریکٹر ، رافیل فرانکل نے کہا۔ "ہم حکام سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا کی تمام خدمات کو بحال کرنے کا حکم دیں۔”