Baaghi TV

Tag: انٹرپول

  • امیربالاج ٹیپو قتل کیس، انٹرپول نےملزم گرفتار کر لیا

    امیربالاج ٹیپو قتل کیس، انٹرپول نےملزم گرفتار کر لیا

    ایف آئی اے کی جانب سے بیرون ملک سےگرفتار اشتہاری ملزم بلاول امیر بالاج قتل کیس کا ملزم نکلا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق گزشتہ برس لاہور میں انڈر ورلڈ سے تعلق رکھنے والے امیر بالاج ٹیپو کے قتل کا تیسرا ملزم گرفتار کر لیا گیا ہے۔لاہور پولیس کےمطابق امیر بالاج قتل کیس کا تیسرا شوٹر جو طیفی بٹ کا بھتیجا ہے، اسے خیلجی ملک سے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کیا گیا ہے۔
    ملزم بلاول واردات کے بعد بیرون ملک فرار ہو گیا تھا۔کیس میں 2 نامزد ملزم اب بھی اشتہاری ہیں۔یاد رہے کہ امیر بالاج کو 18 فروری کو شادی کی تقریب میں قتل کیا گیا تھا۔امیر بالاج ٹیپو ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں سابق ڈی ایس پی اکبر اقبال کے بیٹے کی شادی کی تقریب میں شریک تھا،شادی کی تقریب کے دوران وہاں موجود ایک حملہ آور نے فائرنگ کردی جس سے امیر بالاج ٹیپو سمیت تین افراد زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

    پولیس کے مطابق امیر بالاج ٹیپو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔بالاج ٹیپو لاہور کے انڈر ورلڈ کے سابق ڈان ٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے تھے۔ ان کے والد کو بھی سنہ 2010 میں لاہور ایئرپورٹ کی پارکنگ میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔گزشتہ برس 9 ستمبر 2024 کو لاہور میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے امیر بالاج کے قتل میں نامزد طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ ہلاک جبکہ اُن کی اہلیہ شدید زخمی ہو گئی تھیں۔

    پاک بحریہ کا بحیرہ عرب میں ریسکیو آپریشن، 8ماہی گیروں کو بچا لیا

    بچوں پر تشدد کے کیسز کے حل کے لئے موثر قانون سازی ، اصلاحات کا مطالبہ

    5 فروری کو عام تعطیل کا اعلان

    کراچی کی بزرگ خاتون نے امریکا سے آئی خاتون کو بہو قراردیدیا

    کراچی کی بزرگ خاتون نے امریکا سے آئی خاتون کو بہو قراردیدیا

  • ایف آئی اے کی کامیابی، سنگین جرائم میں مطلوب 9 ملزمان  یو اے ای سے گرفتار

    ایف آئی اے کی کامیابی، سنگین جرائم میں مطلوب 9 ملزمان یو اے ای سے گرفتار

    ایف آئی اے این سی بی انٹرپول کی تاریخی کامیابی،خصوصی آپریشن کے دوران سنگین جرائم میں مطلوب 9 ملزمان کو یو اے ای سے گرفتار کر لیا گیا۔

    ملزمان کی گرفتاری انٹرپول اسلام آباد کی انٹرپول ابوظہبی کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی کے نتیجے میں عمل میں لائی گئی،گرفتار ملزمان پنجاب پولیس کو مطلوب تھے۔گرفتار ملزمان میں عرفان اصغر، فرحان نزاکت، ثمر عباس، نجیب اللہ، صدام حسین شامل ہیں،گرفتار ملزمان میں محمد رفیق، محمد ثاقب، محمد عثمان اور طارق محمود شامل ہیں،ملزمان کے خلاف قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمے درج تھے۔ملزم طارق محمود گزشتہ 14 سال سے پنجاب پولیس کو مطلوب تھا،جبکہ ملزم محمد رفیق کے خلاف سال 2011 میں مقدمہ درج ہوا تھا،ملزم نجیب اللہ سال 2014 جبکہ ملزم صدام حسین سال 2018 میں قتل کر کے بیرون ملک فرار ہو گیا تھا،دیگر گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات سال 2020 سے 2023 کے دوران درج کئے گئے۔

    گرفتار ملزمان میں سیالکوٹ پولیس کو 3, ڈی جی خان پولیس کو 2 ملزمان مطلوب تھے۔جبکہ فیصل آباد، گجرانوالہ، پاکپتن اور بھکر پولیس کو 1،1 ملزم مطلوب تھا،ملزمان قتل کر کے بیرون ملک فرار ہو گئے تھے جنہیں یو اے ای کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔ملزمان کو یو اے ای سے پاکستان منتقل کرنے کے لئے ٹیم روانہ کر دی گئی،گرفتار ملزمان کو لاہور ائرپورٹ پر پنجاب پولیس حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

  • اشتہاری شہزاد اکبر کی گرفتاری کے لئے انٹرپول کو خط

    اشتہاری شہزاد اکبر کی گرفتاری کے لئے انٹرپول کو خط

    سابق مشیر احتساب شہزاد کی گرفتاری کا معاملہ،وفاقی پولیس نے ایف آئی اے انٹر پول کو لکھ دیا۔

    شہزاد اکبر تھانہ سیکرٹریٹ کے مقدمہ میں دو دسمبر کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا،ایف آئی اے نے شہزاداکبر کی گرفتاری کے لئے انٹر پول کو خط لکھ دیا ۔مرزا شہزاد اکبر کو سول جج احمد شہزاد گوندل کی عدالت سے اشتہاری قرار دیا گیا ہے ،شہزاد اکبر کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں 8 دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔شہزاد اکبر کے خلاف مقدمہ نمبر 156 فراڈ اور دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

    شہزاد اکبر مبینہ حملے میں پاکستانی اداروں پر الزامات مسترد کرتے ہیں،ترجمان دفترخارجہ

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل،ریاستی ملکیت ریکارڈ شہزاد اکبر نے غائب کر دیا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    دوسری جانب 190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں،نیب رپورٹ کے مطابق این سی اے کے ساتھ خط و کتابت کا ریکارڈ اثاثہ جات ریکوری یونٹ سے غائب ہے،190 ملین پاونڈ سیٹلمنٹ سے پہلے ملک ریاض کی شہزاد اکبر کے ہمراہ سابق وزیراعظم سے ملاقات کی بھی تصدیق ہوئی ہے، محرر پی ایم ہاوس ریکارڈ کیمطابق ملاقات11 جولائی 2019 کو ہوئی تھی،غائب ہونے والا ریکارڈشہزاد اکبر اور ضیا المصطفی نسیم کے پاس تھا، ریکارڈ ریاست پاکستان کی ملکیت تھا،ریکارڈ کو سیاہ کاریاں چھپانے کیلئے غائب کیا گیا، ریکارڈ کا غائب ہونا تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے تھا،کابینہ ڈویژن ریکارڈ غائب ہونے کی انکوائری کروا چکا،انکوائری میں ریکارڈ گم ہونے کی ذمہ داری شہزاد اکبر اور ضیا المصطفی نسیم پر عائد ہو چکی،

  • پاکستان نے مفرور بہنوں صوفیہ مرزا اور مریم مرزا کی گرفتاری کے لیے انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کر دیے

    پاکستان نے مفرور بہنوں صوفیہ مرزا اور مریم مرزا کی گرفتاری کے لیے انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کر دیے

    حکومت پاکستان نے سابق ماڈل و اداکارہ صوفیہ مرزا (خوش بخت مرزا) اور ان کی بہن مریم مرزا کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ واضح رہے کہ صوفیہ اور مریم دونوں گزشتہ کئی ماہ سے لندن میں مقیم ہیں جبکہ ان کے خلاف دبئی میں مقیم بزنس مین عمر فاروق ظہور کی جانب سے پاکستان میں مقدمات درج کرائے گئے تھے، دونوں کے درمیان بچوں کی تحویل کے حوالے سے طویل عرصے سے تنازع چل رہا ہے۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے توسط سے ملزمین (مفرور) کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرتے ہوئے نوٹس نمبر 2023/66146 کے تحت صوفیہ مرزا اور نوٹس نمبر 2023/66156 کے تحت مریم مرزا کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے کے متعلقہ ڈائریکٹر نے نوٹس میں لکھا ہے کہ مجھے ہدایت کی جاتی ہے کہ ایف آئی آر نمبر 156/23 میں ملوث ملزمان خوش بخت مرزا اور مریم مرزا کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرنے کے لیے مجاز اتھارٹی یعنی اسپیشل سیکرٹری ایم او آئی سے منظوری لی جائے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹرپول سیکریٹریٹ، فرانس کے سیکریٹری جنرل سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ملزمان خوش بخت مرزا اور مریم مرزا کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کے لیے ریڈ نوٹس جاری کریں۔ انٹرپول کی جانب سے ریڈ نوٹس کا تعلق سابق وزیر احتساب شہزاد اکبر، ماڈل صوفیہ مرزا، ان کی ٹینس کھلاڑی مریم مرزا اور دیگر کے خلاف 2020 کے موسم گرما میں جھوٹے اور انتقامی مقدمات درج کرنے پر اسلام آباد میں دائر مجرمانہ شکایت سے ہے۔ یہ شکایت پی پی سی 1860 کی دفعہ 420، 468، 471، 385، 386، 389، 500 اور 506 کے تحت دھوکہ دہی، جعلی دستاویزات کی تیاری، بھتہ خوری، ہتک عزت اور مجرمانہ دھمکیوں کے تحت درج کی گئی تھی۔

    ایف آئی آر کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کارپوریٹ کرائم سرکل (سی سی سی) لاہور نے مئی 2020 میں عمر فاروق ظہور اور دیگر کے خلاف انکوائری نمبر 72/20 کا آغاز کیا تھا جس میں ان کی سابق اہلیہ خوش بخت مرزا کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست کو ذرائع کی رپورٹ کے طور پر لیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں نامزد افراد نے ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل لاہور میں عمر فاروق ظہور کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرکے ان سے رقم وصول کرنے کا کام کیا۔

    ایف آئی آر کی درخواست میں خاص طور پر شہزاد اکبر کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے عمر فاروق ظہور کے خلاف مہم چلانے کے لئے کابینہ کو استعمال کیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ فوجداری مقدمات کے اندراج کے بعد وزیر اعظم کے اس وقت کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے غیر قانونی مالی فائدے کے لیے سی آر پی سی 1898 کی دفعہ 1898 کے تحت دھوکہ دہی سے کابینہ سے منظوری حاصل کی اور اس حقیقت کو چھپایا کہ سوئٹزرلینڈ اور ناروے میں مقدمات پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔ درخواست گزار سال 2023 میں تحقیقات میں شامل ہوا اور ایف آئی آر نمبر 36/20 اور 40/20 کی تحقیقات کے لئے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم مکمل تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ مذکورہ ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات جھوٹے، بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ بعد ازاں جے آئی ٹی ایف آئی اے نے بورڈ کی منظوری سے دونوں ایف آئی آرز میں سی آر پی سی کی دفعہ 173 کے تحت منسوخی رپورٹ مجاز عدالتوں میں جمع کرائی۔ فاضل عدالت نے منسوخی کی رپورٹس کو قبول کیا اور اجازت دی .

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 2006 میں عمر فاروق ظہور سے شادی کرنے والی صوفیہ مرزا (خوش بخت مرزا) نے درخواست گزار کو بلیک میل کرنے اور اس سے رقم وصول کرنے کے لیے اس کے خلاف تحویل کا مقدمہ شروع کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمر فاروق ظہور نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر سال 2013 میں انہیں 10 لاکھ روپے کی خطیر رقم بھی ادا کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے اس تنازعے کا ہمیشہ کے لیے فیصلہ کیا تھا۔ تاہم خوش بخت مرزا نے سال 2020 میں وزیراعظم کے اس وقت کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور عمید بٹ اور علی مردان شاہ (ایف آئی اے کے افسران) کے ساتھ مل کر درخواست گزار کو ایک بار پھر بلیک میل کرنا شروع کر دیا تاکہ اس سے مزید رقم وصول کی جا سکے۔ اس کے بعد خوشاب مرزا مذکورہ افراد کی مدد سے درخواست گزار اور اس کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف جھوٹے مجرمانہ مقدمات درج کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ درخواست گزار کو بلیک میل کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور ہراساں کیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈ کپ؛ نیوزی لینڈ نے بنگلہ دیش کو 8 وکٹ سے شکست دے دی
    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    مقدمات درج کرتے وقت صوفیہ مرزا نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے شکایت کنندہ خوش بخت مرزا کے طور پر اپنا نام استعمال کیا اور یہ حقیقت بھی کہ ظہور ان کا سابق شوہر تھا اور دونوں اپنی دو کم عمر بیٹیوں کی تحویل کے حوالے سے عدالتی تنازعمیں ملوث تھے۔ عمر فاروق نے عوامی طور پر الزام عائد کیا ہے کہ صوفیہ اور اس کے ساتھیوں نے اس سے بھتہ لینے کی کوشش کی اور جب اس نے انکار کیا تو انہوں نے پی ٹی آئی حکومت میں اپنے حکومتی روابط کا استعمال کرتے ہوئے اس کے خلاف مقدمات شروع کردیئے۔ ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات ریکارڈ پر لائی گئی کہ عمر فاروق ظہور نے نہ صرف الزامات کی تردید کی بلکہ ناروے پولیس کی جانب سے ایک خط بھی پیش کیا جس میں تصدیق کی گئی کہ مذکورہ انکوائری شواہد کی کمی کی وجہ سے بند کردی گئی اور کیس خارج کرنے کی سفارش کے ساتھ اوسلو پولیس کی ایک اور دستاویز پبلک پراسیکیوٹر کو بھی پیش کی۔ جب صوفیہ مرزا سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ریڈ نوٹسز کے بارے میں علم نہیں ہے۔

  • قتل کے سنگین مقدمے میں مطلوب ملزم ،ایف آئی اے انٹرپول پاکستان نے گرفتار کر لیا

    قتل کے سنگین مقدمے میں مطلوب ملزم ،ایف آئی اے انٹرپول پاکستان نے گرفتار کر لیا

    ایف آئی اے انٹرپول پاکستان کی کارروائی ،قتل کے سنگین مقدمے میں مطلوب ملزم کو ایف آئی اے انٹرپول پاکستان نے گرفتار کر لیا

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق اشتہاری ملزم زاہد اقبال پنجاب پولیس کو مطلوب تھا۔ ملزم کو ریاض سے گرفتار کر کے اسلام آباد ائیرپورٹ منتقل کر دیا۔ملزم زاہد اقبال کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا۔ ایف آئی اے NCB انٹرپول پاکستان نے ملزم کی گرفتاری کے لئے ریڈ نوٹس جاری کیا تھا۔ بعد ازاں ایف آئی اے امیگریشن نے ملزم کو گجرانوالہ پولیس کے حوالے کر دیا۔ملزم کی حوالگی انٹرپول اسلام آباد کی انٹرپول ریاض کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ انتہائی مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لئے این سی بی انٹرپول پاکستان 24/7 خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

    پنجاب کے شہر میں دو خواجہ سراؤں کو گھر میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    دوسری جانب بیرون ملک منشیات بھجوانے والا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ،تھانہ ماڈل ٹاون پولیس نے ٹرسٹ پلازہ میں نجی کورئیر دفتر میں کاروائی کی،بیرون ملک ہیروین کورئیر کروانیوالے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا،ملزمان کے قبضے سے لاکھوں روپے مالیت کی دو کلو سے زائد ہیروین برآمد کر لی ،ملزمان کاشف اور ناصر کو ہیروین کا کاٹن بک کرواتے ہوئے گرفتار کیا گیا،ملزمان سپورٹ بیلٹ،جوتے اور شاپروں کے ذریعے مختلف ممالک میں منشیات اسمگل کرتے تھے،ملزمان کے خلاف تھانہ ماڈل ٹاؤن میں مقدمات درج کر لیے گئے،

    دوسری جانب اے کیٹیگری کا ایک اور خطرناک اشتہاری متحدہ عرب امارات سے واپسی پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ قتل کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری عبدالرزاق متحدہ عرب امارات سے واپسی پر ائیر پورٹ سے گرفتار ہوا۔ وہاڑی پولیس کو مطلوب عبدالرزاق کا نام پنجاب پولیس نے پرڈویڑنل نیشنل آئی ڈنٹیفکیشن لسٹ میں شامل کرایا تھا۔ائیر پورٹ امیگریشن کلیرنس کے دوران انٹر بارڈر مینجمنٹ سسٹم پر کریمینل ڈیٹا میں نشاندہی پر ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ ملزم نے رواں برس وہاڑی میں تنازعہ پر شہری کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا اور بیرون ملک فرار ہو گیا تھا۔ ملزم کو مزید قانونی کارروائی کےلئے وہاڑی پولیس کے حوالے کر دیا گیا،ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ عبدالرزاق کی گرفتاری سے بیرون ملک سے گرفتار خطرناک اشتہاریوں کی تعداد 102 ہو گئی

  • انٹرپول پاکستان کی یو اے ای میں کامیاب کارروائی، تین مطلوب ملزمان گرفتار

    انٹرپول پاکستان کی یو اے ای میں کامیاب کارروائی، تین مطلوب ملزمان گرفتار

    انٹرپول پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں کامیابی سے کارروائی کی جس کے نتیجے میں تین مطلوب ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: یہ آپریشن ایف آئی اے کے نیشنل سینٹرل بیورو نے کیا، جسے انٹرپول پاکستان بھی کہا جاتا ہے متعلقہ پولیس کی درخواست کے بعد، این سی بی کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ریڈ نوٹس جاری کیے گئے ایف آئی اے امیگریشن نے ملزمان کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا ہے جس کے بعد انہیں فیصل آباد لے جایا جائے گاگرفتارافراد میں محمد ذیشان، محمدعثمان اورمحمد ثقلین شامل ہیں یہ تمام افراد اغوا اور جنسی زیادتی کےالزام میں فیصل آباد پولیس کو مطلوب ہیں۔

    بہو سے شادی کیلئے دادا نے 6 سالہ پوتے کو قتل کر دیا

    واجح رہے کہ گزشتہ ماہ سعودی عرب میں ایف آئی اے کے این سی بی نے ایک مجرم کو پکڑا تھا ملزم ابرار احمد سیالکوٹ پولیس کو زیادتی کے ایک مقدمے میں مطلوب تھا این سی بی دیگر انٹرپول ممبر ممالک کے ساتھ ہم آہنگی اور مجرمانہ تحقیقات میں بین الاقوامی تعاون کی سہولت فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے۔

    گوجرخان :بڑے بھائی نے فائرنگ کرکے چھوٹے بھائی کو قتل کر دیا

  • انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارتی درخواست مسترد کر دی

    انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارتی درخواست مسترد کر دی

    بھارت کو ایک بار پھر سبکی کا سامنا کرنا پڑ گیا، انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارت کی درخواست مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی : انٹرپول (انٹرنیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن) نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے ممتاز خالصتان مہم کار گروپتونت سنگھ پنوں کے خلاف دہشت گردی کے الزامات پر ریڈ کارنر نوٹس (آر سی این) جاری کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

    بھارت ٹیم کاورلڈ کپ اسکواڈ : گیراج میں کھڑی بہترین گاڑی جیسا ہے،بریٹ لی

    گروپتونت سنگھ پنوں علیحدگی پسند گروپ سکھ فار جسٹس کے رہنما ہیں۔ بھارت نے گروپتونت سنگھ پنوں پرپنجاب میں دہشتگردی میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر انٹرپول سے انہیں گرفتار کر کے بھارت کے حوالے کرنے کی درخواست کی تھی۔

    انٹر پول نے بھارتی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت گروپتونت سنگھ پنوں کے پنجاب میں دہشتگردی میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت نہیں دے سکا۔

    انٹرپول نے تصدیق کی ہے کہ اس نے پنوں کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس جاری کرنے کی ہندوستان کی درخواست کو مسترد کردیا، جو علیحدگی پسند گروپ سکھس فار جسٹس (SFJ) کے بانی اور قانونی مشیر ہیں، جس نے کینیڈا،برطانیہ، یورپ اور پورے ملک میں خالصتان ریفرنڈم ووٹنگ کی قیادت کی تھی۔

    بھارت نے انٹرپول سے درخواست کی تھی کہ وہ پنوں کی حوالگی اور بھارت کے حوالے کرنے یا دیگر قانونی کارروائی تک اسے تلاش کرکے حراست میں لے۔ آر سی آر ایک بین الاقوامی دستاویز ہے جو انٹرپول کی طرف سے مطلوب افراد کے خلاف جاری کی جاتی ہے، جس میں دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اس شخص کا سراغ لگائیں اور انہیں اپنی تحویل میں لیں۔

    آئی سی سی نےبھارتی نژاد کھلاڑی پر 14 سال کی پابندی عائد کر دی

    انٹرپول کمیشن – جو امریکہ، برطانیہ، لبنان اور مراکش کے چار اراکین پر مشتمل ہے – نے گروپتونت سنگھ پنوں کے خلاف ریڈ نوٹس کی ہندوستانی درخواست کو مسترد کر دیا، یہ معلوم کرتے ہوئے کہ ہندوستانی الزامات بنیادی طور پر سیاسی یا مذہبی تھے۔ اور کسی جرم کے ثبوت کمزور تھے-

    اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کو انٹرپول کے نظام کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ وہ ریڈ نوٹس جاری کرے جس میں مسٹر پنوں کو ان کے جائز انسانی حقوق اور علیحدگی پسند سرگرمیوں بشمول خالصتان ریفرنڈم مہم کے لیے گرفتاری اور حوالگی کی درخواست کی جائے۔

    انٹرپول کمیشن کا فیصلہ ریفرنڈم 2020 مہم کی قانونی حیثیت کی ایک اہم شناخت کی نمائندگی کرتا ہے اور سکھوں کے لیے آزاد خالصتان کو فروغ دینے کے لیے اظہار رائے کی آزادی کی حمایت کرتا ہے جب تک کہ یہ پرامن اور جمہوری طریقوں سے جاری رہے گا۔

    ایران میں احتجاج جاری: ملک کی سب سےبڑی آئل ریفائنری کےملازمین نے ہرٹال کر دی

    بھارت کئی سالوں سے علیحدگی پسند سکھوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس نے دلیل دی تھی کہ پنوں پنجاب میں دہشت گردی کو بحال کرنے، سیاسی رہنماؤں کو قتل کرنے اور غیر قانونی علیحدگی پسند ایجنڈے کو فروغ دینے کی مجرمانہ سازش میں مصروف تھا۔ انٹرپول کو ہندوستان کی درخواستوں کے جواب میں، پنوں نے دلیل دی تھی کہ ہندوستانی الزامات کی جڑیں ہندوستان کی طرف سے ان پر سیاسی یا مذہبی ظلم و ستم اور ‘سکھس فار جسٹس’ کے ساتھ انسانی حقوق کے کام کا بدلہ ہے-