Baaghi TV

Tag: انٹر ا پارٹی

  • پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن نے جواب مانگ لیا

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن نے جواب مانگ لیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات کے حوالے سے کیس چیف الیکشن کمیشن کی سربراہی میں سناگیا

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور چیف فیڈرل الیکشن کمیشنر رئوف حسن الیکشن کمیشن پیش ہوئے،ڈی جی پولیٹیکل فنانس الیکشن کمیشن مسعود اختر الیکشن کمیشن پیش ہوئے،ڈی جی پولیٹیکل فنانس نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات منعقد کرائے، سپریم کورٹ کا 23 نومبر اور 22 دسمبر کا فیصلہ ہے،انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراضات ہیں اس کی وضاحت ضروری ہے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو جو بھی اعتراض ہے اس کا جواب دیں گے، ہمیں تحریری طور پر کچھ نہیں دیا گیا تحریری طور پر دیں گے تو جواب دے دیں گے نوٹس ملا تو جواب دیا ۔الیکشن کمیشن نے اعتراضات کی تفصیلات پی ٹی آئی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی اور آئندہ سماعت پر جواب مانگ لیا،آئندہ سماعت کی تاریخ کا اعلان بعد میں ہوگا.

    ہمارے ساتھ جو زیادتیاں ہونی تھی ہو چکی اب انصاف ہونا چاہیے،بیرسٹر گوہر
    الیکشن کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ جو الیکشن ہم نے تین مارچ کو کروائے تھے اس پر مجھے اور رؤف حسن کو نوٹس آیا تھا،نوٹس میں صرف سماعت کی تاریخ کا بتایا گیا تھا، اس میں جس طریقے سے آخری جو ہیرنگ کی تھی اس میں کچھ پوائنٹ ہمیں بتائے گئے تھے لیکن اس بار نہیں بتائے گئے،ہمیں کوئی اعتراض نوٹس میں نہیں بتایا گیا تھا،آج الیکشن کمیشن نے سٹاف سے پوچھا آپ کیا کہنا چاہیں گے، سٹاف نے کہا کہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے آرڈر میں کچھ ہماری آبزرویشن ہیں، پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات پر آج مختصر سماعت ہوئی،پی ٹی آئی جواب جمع کرائےگی، کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی، اب الیکشن کمیشن ہمیں کونسی تاریخ دے گی اس پر پھر بات میں بحث ہو گی، پاکستان کی 175سیاسی جماعتیں ہیں، ان میں تحریک انصاف کی طرح کسی نے بھی شفاف انٹراپارٹی الیکشن نہیں کرائے، ہمارا انٹراپارٹی الیکشن صاف شفاف ہوا ہے، ہم نے الیکشن کمیشن کے آرڈ ر کو مدنظر رکھا،جس میں الیکشن کمیشن نے ہمیں بیس دن کا وقت دیا تھا،ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے سوشل میڈیا پر بھی آگاہ کر دیا تھا،تین کا الیکشن تھا چار کا نوٹیفکیشن تھا ہمیں آج تک نوٹیفیکشن نہیں ملا،ہمیں بلے کا نشان بھی ملنا چاہیے،جتنی اوبزرویشن ہم نے پوائنٹ آؤٹ کی ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ سب ٹھیک ہیں،سیاسی درجہ حرارت کم ہونا چاہیے،ہمارے ساتھ جو زیادتیاں ہونی تھی ہو چکی اب انصاف ہونا چاہیے،عوام نے بینگن، چمٹے کو ووٹ دئیے،ہم بائیکاٹ کی طرف نہیں گئے اپنے حقوق کے لیے باہر نکلے،ہر طرح سے ہمیں دبانے کی کوشش کی گئی لیکن عوام نے ہمارا ساتھ دیا،ہم پارلیمنٹ کا حصہ بنے ہیں لیکن ہم پر بھی طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں تھیں جس پر الیکشن کمیشن نے اعتراض عائد کر دیا تھا اور پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کئے تھے، رؤف حسن نے فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا یا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • انٹرا پارٹی الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے،یہ جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے، اکبر ایس بابر

    انٹرا پارٹی الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے،یہ جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے، اکبر ایس بابر

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کے حوالہ سے سیاسی جماعتوں کا ردعمل سامنے آیا ہے

    بانی رہنما پی ٹی آئی اکبر ایس بابر نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں ،میں نے گزشتہ روز اپنے تحفظات کااظہار کیاتھا، میرے گزشتہ روز کےتحفظات سچ ثابت ہوئے ہیں،کیسے الیکشن ہوئے ،کیسے نتائج آئے ہیں سب کے سامنے ہیں،ہم نے گزشتہ روز ووٹر لسٹ مانگی تھی جونہیں دی گئی ، تیار شدہ نتائج کا اعلان کرکے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ،انٹرا پارٹی الیکشن کا جو بھی حصہ تھا اس نے خود کو بے نقاب کیا،انٹراپارٹی الیکشن کہاں ہوئے ،مقام بھی چھپایا گیا ،ہم انٹرا پارٹی الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے ،انٹراپارٹی الیکشن جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے ،پی ٹی آئی شفاف ادارہ بننے تک ہماری جنگ جاری رہے گی ،

    آر۔ٹی۔ایس‘ بٹھا کر اقتدار میں آنے والوں کی عادت نہیں بدلی،مریم اورنگزیب
    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے چئیرمین پی ٹی آئی کا انتخاب ”سلیکشن“ قرار دے دیا،مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں ایک بار پھر سلیکشن کا عمل صرف پندرہ منٹ میں مکمل ہوگیا، پریس ریلیز ڈیڑھ گھنٹے تک روک کر عوام، الیکشن کمشن اور اپنے پارٹی ورکرز کی آنکھوں میں ”مٹی ڈالنے“ کی کوشش کی گئی، نامعلوم اور خفیہ مقام پر یہ کیسا الیکشن تھا جس کا نہ کوئی تجویز کنندہ تھا نہ تائید کنندہ، نہ ووٹرز تھے نہ ووٹر لسٹ، نہ پرائیذائیڈنگ افسر تھا نہ الیکشن پراسیس؟ بانی راہنماﺅں اور کارکنوں کے خوف سے انہیں الیکشن پراسیس سے ہی باہر کردیاگیا،اسے کہتے ہیں ”دھاندلا“، اسے کہتے ہیں ”آمریت“، اسے کہتے ہیں ”سلیکشن“ یہ جمہوریت ، الیکشن کمیشن اور پارٹی ورکرز سے سنگین مذاق اور انتخابی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، پارٹی میں بانی راہنماﺅں اور کارکنوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہ دینے والے ملک میں لیول پلئینگ فیلڈ کے مطالبوں کے ڈرامے کررہے ہیں، ’آر۔ٹی۔ایس‘ بٹھا کر اقتدار میں آنے والوں کی عادت نہیں بدلی،اب الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کو دھمکیاں اور گالیاں دیں گے، الزام لگائیں گے، روئیں گئے، پیٹیں گے، مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اپنے پارٹی ورکرز کا سامنا کرنے کی بھی ہمت نہیں، عوام کا سامنا کیسے کریں گے ؟ جو کچھ ہوا ، جو کچھ ہورہا ہے اور جو کچھ ہوگا، اس سب کا ذمہ دار 9 مئی کا منصوبہ ساز خود ہے،

    ن لیگی رہنما طلال چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی،یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہوئی ہے،الیکشن پراسیس پر عمل نہیں کیا گیا ،

    کیسا الیکشن جس میں ووٹر ہے نہ ریکارڈ ،انٹرا پارٹی الیکشن فراڈ ہے،پرویز خٹک
    تحریک انصاف کے سابق رہنما ،سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا ایک انتخاب 2012کا تھا جو صحیح ہوا، یہ کیسا الیکشن ہے جس میں ووٹر ہے نہ ریکارڈ اور نہ کسی کو موقع دیا گیا ،انٹرا پارٹی الیکشن فراڈ ہے جو آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کیا گیا ،بیرسٹر گوہر خان کو ہم نے ڈیڑھ سال پہلے پارٹی میں شامل کرایا،پہلے بھی اسی طرح جعلی الیکشن کرائے گئے ہیں ،کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ پی ٹی آئی کے لوگ کہاں گئے،

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن بوگس او ر پری پلان ریگنگ ہے،مرتضی جاوید عباسی
    مسلم لیگ ن کے پی کے، کے سیکرٹری جنرل مرتضی جاوید عباسی نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن پر ردعمل میں کہا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن بوگس او ر پری پلان ریگنگ ہے، ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن کی آنکھوں میں دھول جھونکا گیا ،
    کسی امیدوار کو کاغذات نامزدگی جاری کیے گئے اور نہ ہی جمع کیے گئے، پھر نتائج کیسے آگئے؟ پچھلے 22 سالوں کی طرح یہ بھی عمران خان کا ایک ٹوپی ڈرامہ تھا، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن بھی فارن فنڈنگ کیس کا تسلسل ہے،الیکشن کمیشن اس جعلسازی کافوری نوٹس لے اور لوٹے کو فارغ کرے،

    واضح رہےکہ ،بیرسٹر گوہر علی خان بلامقابلہ تحریک انصاف کے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن میں ایک پینل سامنے آیا ، قواعد کے مطابق اعلان کر رہے ہیں، قانون کی بالا دستی اور پاسداری پر ملک قائم ہوگا ،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کا بلے کا نشان برقرار رکھتے ہوئے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے رکھا ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف 20 دن میں انٹرا پارٹی الیکشن یقینی بنائے،الیکشن کے 7 دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے، اگر پارٹی الیکشن نہ کرائے گئے تو تحریک انصاف انتخابی نشان کے لیے نااہل ہو گی.