قصور کے تھانہ گنڈا سنگھ کی حدود سہجرہ کے مقام پر ایک بھارتی شہری کو پاکستانی حدود کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا گیا۔
پاک رینجرز کے جوان نصیر نے بھارتی شہری شرندیپ سنگھ ولد ستنام سنگھ کو سرحد پار کر کے پاکستانی علاقے میں داخل ہونے پر حراست میں لیا،گرفتار بھارتی شہری کا تعلق پوئی پور، تحصیل شاہکوٹ ضلع جالندھر سے بتایا جاتا ہے رینجرز نے ابتدائی کارروائی کے بعد شرندیپ سنگھ کو مزید قانونی کارروائی کے لیے تھانہ گنڈا سنگھ پولیس کے حوالے کر دیا۔
برطانیہ کے دفاعی جریدے ایرو کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 52 منٹ کی فضائی جنگ کے دوران بھارتی فضائیہ کے چار رافیل جنگی طیارے تباہ ہوئے تھے۔
رپورٹ میں ان طیاروں کے سیریل نمبرز (BS-001, BS-021, BS-022, BS-027) بھی ظاہر کیے گئے پاکستان کے “ملٹی ڈومین آپریشنز” نے بھارتی فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا، جس میں رافیل کے علاوہ MiG-29، Su-30 اور Heron ڈرونز کے بھی نقصانات شامل تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ 10 مئی کو جے ایف 17 سی بلاک 3 نے ادھم پور میں دفاعی نظام ایس 400 اور برنالا میں بھارتی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کیا،پاکستانی سائبر یونٹس نے بھارت کے تقریباً 96 فیصد سوشل نیٹ ورکس، ڈیجیٹل نظام کو مفلوج کیا، پہلی بار کسی فضائیہ نے سائبر اور روایتی عسکری اقدامات یکجا کرکے کارروائی کی۔
واضح رہے کہ بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں بھارتی طیاروں کی تباہی تسلیم کی تھی۔
وی لاگ کے آغاز میں مبشر لقمان نے ناظرین کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ وہ واٹس ایپ کے ذریعے آنے والے سوالات کے جوابات دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، اور آڈیو سوالات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پیغام گویا اور واضح رہے۔
ایک سوال کے جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ بعض نقطۂ نظر کے مطابق حماس کے بعض اقدامات اسرائیل کو مطلوبہ سیاسی اور عسکری نتیجے دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ حقیقی تباہی اور جانی نقصان اصل میں اسرائیلی حملوں سے سامنے آیا ہے۔ انہوں نے دونوں جانب انسانی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور صورتحال کی پیچیدگی پر زور دیا۔
پاک-ہند تعلقات اور ممکنہ جنگی منظرنامے
مبشر لقمان نے کہا کہ اگرچہ نظریاتی طور پر دونوں ملک نیوکلیئر صلاحیت رکھتے ہیں، مگر عالمی سطح پر کوئی بھی طاقت اس حد تک کشیدگی برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستان نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا تب ابتدائی موبلائزیشن میں 12 تا 15 دن درکار ہوں گے اور اندرونی سیاسی معاملات (مثلاً انتخابی کیلنڈر) اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دفاعی طور پر خود کفیل ہے اور ضروری جنگی ضروریات کی بڑی مقدار مقامی صنعتیں فراہم کر رہی ہیں، نیز سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی بھی ایک اہم عنصر ہے۔
وی لاگ میں مبشر لقمان نے JF-35 طیاروں کے بارے میں کہا کہ وہ رواں سال نومبر–دسمبر میں پاکستان کو موصول ہونے کی اطلاعات ہیں (بیان صرف وی لاگ میں موجود کلیم تک محدود ہے) اور انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ موجودہ فضائی اور بحری صلاحیتیں مطلوبہ ردعمل دینے کے قابل ہیں۔
سی پیک، چین اور علاقائی حکمتِ عملی
انہوں نے ذکر کیا کہ سی پیک (CPEC) پاکستان کی مفاد میں ہے اور اس کے سبب علاقائی متنازعہ فریقین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مبصر نے یہ بھی کہا کہ چین نے پہلے ہندوستان کو بھی اسی منصوبے میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی، جسے ہندوستان نے قبول نہیں کیا۔
عوامی ذمہ داریاں: ماحولیات اور پانی کی حفاظت
مبشر لقمان نے عوامی شراکت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دو عملی مشورے دئیے: (1) درخت لگائیں — آکسیجن اور صحت کے لیے مفید، (2) پانی کی بچت کریں — روزمرہ کے غیر ضروری پانی کے استعمال پر قابو پائیں۔ انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ خود ان کے گھر میں بعض چیزیں ابھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئیں لیکن وہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تحفّے اور رشوت میں فرق
ناظرین کے سوال پر مبشر لقمان نے واضح کیا کہ تحفہ اور رشوت میں فرق سمجھنا ضروری ہے — سادہ تحفے باہمی تبادلے ہوتے ہیں، جب کہ ایسی چیزیں جو وصول کنندہ واپس نہیں کر سکتا یا جن کا تعلق اختیارات/فوائد کے بدلے میں ہو وہ رشوت کہلائیں گی۔وی لاگ میں مبشر لقمان نے کہا کہ اگر پاکستان واقعی اسلامی قوانین کے مطابق چلنا چاہتا ہے تو سود (ربا) کا خاتمہ اہم شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سود کا نظام برقرار رہے گا، وہ ملک کو اسلامی ریاست نہیں کہلائے گا — یہ ان کا ذاتی موقف تھا جو انہوں نے ناظرین کے سوال کے جواب میں واضح کیا۔
غیرقانونی مقیم افغانوں اور شناختی کارڈز
ایک اور سوال پر انہوں نے غیرقانونی طور پر مقیم افراد کی بڑھتی ہوئی شکایات کا اعتراف کیا اور کہا کہ ایسے معاملات پر کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ بعض غیر قانونی حرکات پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں۔مبشر لقمان نے کہا کہ حقیقی پالیسی سازی اور عوامی مسائل کا حل عموماً مقامی حکومتوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ انتخابی اصلاحات پر ان کا خیال تھا کہ سیاسی جماعتیں مکمل اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں چونکہ شفاف نظام میں موجود بعض قوتیں متاثر ہوں گی۔
بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے ایک دور دراز گاؤں میں آزادی کے 78 سال بعد پہلی بار بجلی پہنچی ہے-
ضلع تھانے کے علاقے پہاڑی شاہ پور تعلقہ کے گاؤں وراسواڑی کے رہائشیوں نے اس موقع پر آتشبازی کر کے اور خوشی کے نعرے لگا کر جشن منایا،مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی کے مطابق، گاؤں کے 15 گھروں کو بجلی فراہم کی گئی ہے، جبکہ سڑکوں پر اسٹریٹ لائٹس بھی نصب کی گئی ہیں، اس منصوبے کے لیے 67 کھمبوں کی تنصیب اور 63 کے وی اے کے نئے ٹرانسفارمر کی ضرورت تھی، جس پر 50 لاکھ بھارتی روپے سے زائد کی لاگت آئی۔
حکام نے بتایا کہ اگرچہ اس منصولے کی منظوری دو سال قبل دی گئی تھی، لیکن گاؤں تک سڑکوں کے فقدان اور جنگلاتی علاقہ ہونے کی وجہ سے کھمبے اور ٹرانسفارمر لے جانا انتہائی مشکل تھا۔ محکمہ جنگلات سے اجازت لینے کے عمل نے بھی اس منصولے میں تاخیر کا باعث بنا۔
گاؤں والوں کے لیے یہ لمحہ انتہائی جذباتی تھا، جب پہلی بار ان کے گھروں میں بجلی کی روشنی آئی رہائشیوں کا کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی میں آنے والی سب سے بڑی تبدیلی ہےیہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت جیسے ترقی پذیر ملک میں اب بھی ایسے علاقے موجود ہیں جو بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ملکی مصنوعات کے بجائے مقامی اشیا استعمال کریں –
مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور بھارت کے تجارتی تعلقات میں تناؤ پایا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد مودی نے ایک بار پھر ’سودیشی‘ یعنی بھارت میں تیار کردہ اشیا کے استعمال پر زور دیا ہے۔
مودی نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ہم روزمرہ کی زندگی میں بے شمار غیر ملکی مصنوعات استعمال کرتے ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس عادت کو ترک کریں اور صرف بھارتی مصنوعات خریدیں، انہوں نے ریاستی حکومتوں اور دکانداروں سے بھی کہا کہ وہ مقامی اشیا کی پیداوار اور فروخت کو ترجیح دیں تاکہ ملکی معیشت کو سہارا مل سکے۔
نریندر مودی نے قوم سے خطاب میں کہاکہ بہت سی مصنوعات جو ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں غیر ملکی ہیں، ہمیں اس کا پتا نہیں ہوتاہمیں ان سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گاہمیں وہی مصنوعات خریدنی چاہییں جو بھارت میں بنی ہوں،’ تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔
مودی نے اپنے خطاب میں جی ایس ٹی اصلاحات کا اعلان بھی کیا، جس کے تحت اب زیادہ تر روزمرہ کی اشیا پر صرف 5 اور 18 فیصد کے دو ٹیکس سلیب ہوں گے اس اقدام سے خوراک، دواؤں اور ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی اور کاروبار و سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مودی کے حامیوں نے امریکی برانڈز جیسے میکڈونلڈز، پیپسی اور ایپل کے بائیکاٹ کی مہم بھی شروع کر دی ہے بھارت کی بڑی مارکیٹ میں یہ برانڈز خاص طور پر مقبول ہیں اور آن لائن ریٹیلر ایمیزون کے ذریعے ان کی رسائی چھوٹے شہروں تک بھی بڑھ چکی ہے،گزشتہ چند ہفتوں میں کئی کمپنیوں نے مقامی مصنوعات کی تشہیر میں اضافہ کر دیا ہے۔
بھارت کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل جلد ہی واشنگٹن کا دورہ کریں گے تاکہ تجارتی مذاکرات میں شریک ہو سکیں، یہ دورہ دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے دوران ہو گا
بھارت نے امید ظاہر کی ہے کہ سعودی عرب دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفادات اور حساسیت کو مدنظر رکھے گا۔
’روئٹرز‘ کے مطابق سعودی عرب اور ایٹمی طاقت پاکستان نے بدھ کو دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، اگرچہ معاہدے کی تفصیلات کم ظاہر کی گئی ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ریاض کو اس معاہدے کے تحت ایک عملی ایٹمی تحفظ حاصل ہو جائے گا،معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی فریق پر ہونے والی جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران صحافیوں سے کہا کہ بھارت اور سعودی عرب کے درمیان ایک وسیع اسٹریٹجک شراکت داری ہے جو پچھلے چند برسوں میں خاصی گہری ہوئی ہے،ہم توقع کرتے ہیں کہ اس اسٹریٹجک شراکت داری میں باہمی مفادات اور حساسیتوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔
سعودی عرب بھارت کو تیل برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے، اور اس سال دونوں ممالک نے خام تیل اور مائع پیٹرولیم گیس کی سپلائی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہےبھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے اس سال کہا تھا کہ دونوں ممالک ریفائنری اور پیٹروکیمیکل منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں،جمعرات کو بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہے کہ یہ معاہدہ زیر غور تھا اور نئی دہلی کے لیے اس کے مضمرات کا مطالعہ کرے گی-
پاکستان واحد ایٹمی طاقت رکھنے والا مسلم ملک ہے، اس کے پاس 6 لاکھ سے زیادہ فوجی ہیں جو اپنے بڑے حریف بھارت کے خلاف دفاع پر توجہ مرکوز کرتے ہیں،دونوں پڑوسی 3 بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں، ساتھ ہی متعدد جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں مئی میں ہونے والا 4 روزہ تصادم بھی شامل ہے، جو کئی دہائیوں میں ان کے درمیان سب سے شدید لڑائی تھی۔
پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں اب سے چند گھنٹوں بعد ایشیا کپ گروپ اے کے میچ میں آمنے سامنے ہوں گے جس کے لیے پاکستان کی ممکنہ پلیئنگ الیون کے نام بھی سامنے آ گئے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹیم مینجمنٹ ان ہی 11 کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتی ہے، جنھوں نے عمان کے خلاف پاکستان کو 93 رنز سے فتح دلوائی تھی،ٹیم مینجمنٹ کی میٹنگ کے دوران حارث رؤف کی ٹیم میں شمولیت پر بھی غور کیا گیا، تاہم فہیم اشرف کو بطور آل راؤنڈر ہی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا جو شاہین آفریدی کے ساتھ فاسٹ باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ سنبھالیں گے۔
اس کے علاوہ، قومی ٹیم بھارت کو اسپین جال میں ہی پھنسانے کی کوشش کرے گی جس کے لیے محمد ابرار، صائم ایوب اور محمد نواز اہم ہتھیار ثابت ہوں گے جب کہ صائم ایوب بھی ان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔
ممکنہ پلینگ الیون
سلمان علی آغا (کپتان)، صائم ایوب، صاحبزادہ فرحان، محمد حارث، فخر زمان، حسن نواز، محمد نواز، فہیم اشرف، شاہین شاہ آفریدی، سفیان مقیم اور ابرار احمد شامل ہیں۔
واضح رہے کہ مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر مسلح جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کا کرکٹ کے میدان میں آج پہلا ٹاکرا ہوگا جس کے لیے مودی کا گودی میڈیا مسلسل پروپیگنڈہ کررہا ہےپاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایشیاکپ میں آج اپنا دوسرا میچ کھیلیں گے جو پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 7 بجے دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوگا۔
بھارتی مسلم رہنما اسد الدین اویسی پاکستان دشمنی میں پیچھے نارہے-
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ایشیا کپ میں پاکستان سے میچ کھیلنے پر بھارتی حکومت اور کرکٹ بورڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،اسد الدین اویسی نے پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب دوطرفہ سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا تو کھیل کیوں رہے ہیں،انہوں نے بھارتی حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ پاکستان سے میچ کا بائیکاٹ کرسکو،چند ہزار کروڑ روپوں کے لیے میچ کھیلنے والوں کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ بھارتی حکومت اور بی سی سی آئی نے پاکستان کیخلاف میچ کھیلنے کی منظوری دے دی ہے تاکہ عالمی اداروں کی جانب سے کوئی کارروائی نہ ہو،رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی کے اعلیٰ حکام میچ کے دوران موجود نہیں ہوں گے، صرف قائم مقام صدر راجیو شکلا شرکت کریں گے۔
امریکا نے جی 7 ممالک اور یورپی یونین سے انڈیا پر مزید ٹیرف عائد کرنے کی اپیل،کی،ہے-
جی 7 ممالک کے وزرائے خزانہ نے جمعہ کے روز ایک ورچوئل اجلاس میں روس کے خلاف مزید پابندیوں اور ان ممالک پر ممکنہ محصولات لگانے پر تبادلہ خیال کیا جنہیں وہ یوکرین جنگ میں روس کا معاون سمجھتے ہیں،اس اجلاس کی صدارت کینیڈین وزیر خزانہ فرانسوا فلپ شامپین نے کی۔
اعلامیے کے مطابق وزرائے خزانہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ روس کے منجمد اثاثوں کو یوکرین کے دفاع کے لیے استعمال کرنے پر مذاکرات کو تیز کیا جائے ساتھ ہی روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید معاشی اقدامات، نئی پابندیاں اور تجارتی اقدامات جیسے کہ ان ممالک پر ٹیرف لگانے پر غور کیا گیا جو روس کی جنگی کوششوں کو تقویت دے رہے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اجلاس میں کہا کہ اتحادی ممالک کو چاہیے کہ وہ امریکا کی طرح ان ممالک پر ٹیرف عائد کریں جو روسی تیل خرید رہے ہیں، صرف متحدہ کوشش کے ذریعے جس میں ہم روس کی آمدنی کے ذرائع کو بند کریں، ہی ہم اتنا معاشی دباؤ ڈال سکیں گے کہ یہ بے معنی قتل و غارت رک سکے۔
اسی روز امریکی محکمہ خزانہ کے ایک ترجمان نے جی 7 اور یورپی یونین اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ چین اور بھارت سے آنے والی اشیا پر اہم ٹیرف عائد کریں تاکہ ان ممالک کو روسی تیل کی خریداری روکنے پر مجبور کیا جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر پہلے ہی اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے، جس کے بعد بھارتی مصنوعات پر مجموعی محصولات کی شرح 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اقدام بھارت کو روسی خام تیل کی رعایتی خریداری روکنے پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا، جس کے باعث دونوں جمہوریتوں کے درمیان تجارتی مذاکرات متاثر ہو گئے ہیں۔
اسی دوران، ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کا روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے بارے میں صبر ختم ہوتا جا رہا ہے انہوں نے بینکوں اور تیل پر پابندیوں کو ممکنہ آپشن قرار دیا لیکن یہ بھی کہا کہ یورپی ممالک کو بھی ان اقدامات میں شامل ہونا ہوگا، ہمیں بہت، بہت سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔
بھارتی ریاست تمل ناڈو کے ضلع کڈالور میں ایک افسوسناک اور شرمناک واقعہ پیش آیا جہاں 4 خواتین نے ایک خاتون کو درخت سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے کپڑے اُتارنے کی کوشش کی۔
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس نے عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پیدا کر دیا،وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متاثرہ خاتون کو اس کی اپنی ساڑی سے درخت کے ساتھ باندھا گیا ہے جبکہ خواتین اسے گالیاں دیتے ہوئے لاٹھی اور ہاتھوں سے تشدد کر رہی ہیں،ایک خاتون اس کے بال پکڑ کر کھینچتی ہے جبکہ دوسری اس کا بلاؤز اتارنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ اسے ذلیل کیا جا سکےدورانِ تشدد ایک خاتون کہتی ہے کہ ’تم کتے کے برابر ہو‘۔
https://x.com/ndtv/status/1964558428648722473
ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک عورت واقعہ کی ریکارڈنگ کر رہی ہے اور ملزم خواتین کو خبردار کر رہی ہے کہ وہ سب جیل جا سکتی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ باز نہیں آتیں،پولیس کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گاحکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس بربریت پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ واقعہ زمین کے جھگڑے کے باعث پیش آیا،پولیس نے ایک خاتون کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ دیگر 3 ملزم خواتین تاحال مفرور ہیں،خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں تاکہ باقی ملزمان کو بھی جلد گرفتار کیا جاسکے۔