Baaghi TV

Tag: انڈین فلمز

  • ششی کپور کی 5 ویں برسی کل منائی جائیگی

    ششی کپور کی 5 ویں برسی کل منائی جائیگی

    ششی کپور آج بھی سامعین کے دلوں میں زندہ ہیں، کئی سدا بہار فلموں میں اپنی شاندار اداکاری کے جوہر دکھائے. ششی کپور اداکار پروڈیوسر لیجنڈ اداکار فلمساز پرتھوی راج کپور کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے. ان کا اصل نام بلبیر راج کپور تھا، لیکن بعد میں انہوں نے اپنی اداکاری کا آغاز کرنے کے بعد اسٹیج کا نام ششی راج کپور اپنا لیا۔ وہ ایک مشہور چائلڈ آرٹسٹ تھے اور انہوں نے کئی فلموں میں اپنے بھائی راج کپور کے بچپن کے کردار کئے. ششی کپور کو دنیا سے رخصت ہوئے پانچ سال بیت گئے ہیں کل ان کی پانچویں برسی منائیں جائیگی.

    انہوں نے اپنی بہترین اداکاری کے بل پر قومی فلم ایوارڈز اور دو فلم فیئر ایوارڈز حاصل کئے. انہوں نے انگریزی زبان کی متعدد بین الاقوامی فلموں میں بھی کام کیا. حکومت ہند نے انہیں 2011 میں پدم بھوشن اور 2014 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا۔ ششی کپور نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ ایکٹر اپنے بھائی راج کپور کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم آگ (1948) سے کیا، اور یش چوپڑا کی دھرم پتر (1961) میں بطور ہیرو کام کیا.ششی کپور نے اپنے پورے کیرئیر میں کامیابیاں سمیٹیں. ان کا ایکٹنگ سٹائل ہو یا گانا پکچرائز کرنے کا انداز دونوں ہی دوسروں سے جدا تھے ، ان کا انتقال 79 سال کی عمر میں نمونیا کی وجہ سے ہوا۔

  • پاکستانی فلمیں بھی دنیا کے ممالک میں لگنی چاہیں سہیل احمد

    پاکستانی فلمیں بھی دنیا کے ممالک میں لگنی چاہیں سہیل احمد

    معروف اداکار سہیل احمد جنہوں‌نے اپنے کام کے زریعے اپنا ایسا مقام بنایا ہے کہ ان کی صلاحیتوں‌پر نوجوان نسل بھی آنکھیں بند کرکے یقین رکھتی ہے سہیل احمد نے سٹیج پلیز کئے لیکن اس وقت وہ سٹیج پلیز سے الگ ہو گئے جب وہاں فحش رقص اور ڈائیلاگ بولے جانے لگے. سہیل احمد آج جو سٹیج ہو رہا ہے اسکو سخت ناپسند کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ فیملیاں کیا ہم خود وہ ڈرامے نہیں دیکھ سکتے. سہیل احمد کی حال ہی میں پہلی انڈین پنجابی فلم بابے بھگنڑا پائوندے نے پاکستان میں ریلیز ہوئی ہے ، اس ھوالے سے سہیل احمد کہتے ہیں کہ بہت اچھی بات ہے کہ دوسرے ممالک کی فلمیں

    پاکستان میں ریلیز ہو رہی ہیں لیکن ہماری فلمیں بھی تو دوسرے ممالک میں ریلیز ہونی چاہیں . ہم اچھی فلمیں بنا رہے ہیں اور ہماری فلمیں بھی دوسرے ملکوں میں ریلیز ہونی چاہیے. سہیل احمد کہتے ہیں کہ فنکار چاہے انڈیا کے ہوں یا پاکستان کے دونوں کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتے بلکہ ان کی خواہش ہے کہ ایک دوسرے کی فلموں میں نفرت انگیز مواد نہیں ہونا چاہیے. سہیل احمد نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت بہت اچھا کام ہو رہا ہے وقت کا تقاضا ہے کہ ہمارا کام دنیا میں جانا چاہیے. انہوں نے مزید کہا کہ میں پاکستانی فلمیں بھی کررہا ہوں اپنے ملک کا کام میری پہلی ترجیح ہے.